حدیث نمبر: 1036
«أظنكم قد سمعتم أن أبا عبيدة قدم بشيء من البحرين فأبشروا وأملوا ما يسركم فوالله ما الفقر أخشى عليكم ولكن أخشى عليكم أن تبسط عليكم الدنيا كما بسطت على من كان قبلكم فتنافسوها كما تنافسوها فتهلككم كما أهلكتهم»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرا خیال ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابو عبیدہ بحرین سے کچھ مال لے کر آئے ہیں، پس تم خوش ہو جاؤ اور اس چیز کی امید رکھو جو تمہیں خوش کر دے گی۔ اللہ کی قسم! مجھے تم پر فقر و فاقہ کا ڈر نہیں ہے، بلکہ مجھے تم پر اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم پر دنیا اسی طرح کشادہ کر دی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی تھی، پھر تم بھی اس کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو گے جیسے انہوں نے کی تھی، اور یہ (دنیا کی حرص) تمہیں اسی طرح ہلاک کر دے گی جس طرح اس نے انہیں ہلاک کر دیا تھا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1036
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن عمرو بن عوف الأنصاري. الإرواء ١٢٤٩.