اولیاء اللہ کے عطائی اختیارات

تحریر : عثمان احمد، بانی توحید ڈاٹ کام اولیاء اللہ کے بارے میں عطائی اختیارات ماننے والوں کو دعوت فکر ✿ بزرگوں کے بارے میں دعویٰ کرنا کہ اللہ نے انہیں بعد از وفات اختیارات و نعمتیں عطا کی ہیں اور وہ اللہ کی عطا سے ہمیں نوازتے ہیں یہ ایک بہتان عظیم ہے۔ مخلوق کا تو کچھ بھی زاتی نہیں ہاتھ، پاؤں، بازو، آنکھیں اور جسم کے سارے اعضاء، سوچنے سمجھنے کی قوت یہ سب عطائی ہی تو ہے ذاتی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مخلوقات کے پاس جو کچھ بھی ہے سب عطائی ہی ہے لھذا یہ کہنا غلط ہو گا کہ فلاں چیز عطائی ہے، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی کی چیزیں زاتی ہیں؟ مخلوقات کے پاس کچھ ہے تو عطائی طور پر ہے اور اگر مخلوقات کے پاس کچھ نہیں ہے تو عطائی طور…

Continue Reading

قبر پرستی دنیا میں کیسے پھیلی

تالیف: سید محمد داود غزنوی حفظ اللہ قبر پرستی دنیا میں کیونکر پھیلی اسباب و وجوه اس فتنہ عظیمہ سے روکنے کے وسائل و ذرائع آج اگر کوئی مسلمان کی تمام موجودہ تباہ حالیوں اور بدبختیوں کو دیکھنے کے بعد یہ سوال کرے کہ ان کا کیا علاج ہو سکتا ہے تو اس کو امام مالک رحمہ اللہ کے الفاظ میں ایک جملہ کے اندر جواب ملنا چاہئے کہ : لا يصلح اٰخر هذه الأمة الا بما صلح به اولها یعنی امت کے آخری عہد کی اصلاح کبھی نہ ہو سکے گی، تاوقتیکہ وہی طریقہ اختیار نہ کیا جائے جس سے اس کے ابتدائی عہد نے اصلاح پائی تھی۔ اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ کتاب وسنت کی طرف رجوع کیا جائے اور ہر اس دعوت کو جو الله تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف…

Continue Reading

فقہ حنفی اور حدیث ’’ لولاک ‘‘

حنفی مذہب کی معتبر کتب میں لکھا ہے : 
وفي جواهر الفتاوى: هل يجوز أن يقال: لولا نبينا محمد صلى الله تعالى عليه وسلم لما خلق الله آدم ؟ قال : هذا شيء يذكره الوعاظ على رءوس المنابر، يريدون به تعظيم نبينا محمد صلى الله تعالى عليه وسلم، والأولى أن يحترزوا عن مثال هذا، فإن النبي عليه الصلاة والسلام، وإن كان عظيم المنزلة والرتبة عند الله، فان لكل نبي من الأنبياء عليھ الصلاة والسلام منزلة ومرتبة، وخاصه ليست لغيره، فيكون كل نبي أصلا بنفسه.
’’ جواہر الفتاویٰ میں سوال ہے : کیا یہ کہنا جائز ہے کہ اگر ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پیدا نہ کرتا ؟ جواب یہ دیا گیا : یہ ایسی چیز ہے جو واعظیں منبروں پر بیان کرتے ہیں۔ اس سے ان کا مقصد ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرنا ہوتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ایسی باتوں سے احتراز کیا جائے کیونکہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام اگرچہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بلند مقام اور مرتبہ رکھتے تھے لیکن ہر نبی کو بھی ایک مقام اور مرتبہ حاصل تھا اور ہر نبی کے پاس کوئی نہ کوئی ایسی خصوصیت تھی جو دوسرے کسی کے پاس نہ تھی۔ لہٰذا ہر نبی کا اپنا ایک مستقل مقام ہے۔ “ (الفتاوي التاتار خانية:485/5)  

(more…)

Continue Reading

اگر تو نہ ہوتا۔۔۔

 تحریر: ابن الحسن محمدی کائنات کی تخلیق کس لیے ہوئی ؟ اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ عبادت الٰہی کے لیے، جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے : ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ (الذاريات:56) ’’ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ “ معلوم ہوا کہ نظام کائنات کو خالق کائنات نے اپنے ہی لیے پیدا کیا ہے۔   اس قرآنی بیان کے خلاف گمراہ صوفیوں نے ایک جھوٹی اور من گھڑت روایت مشہور کر رکھی ہے کہ کائنات کی تخلیق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، آپ کے طفیل اور آپ کے صدقے ہوئی۔ اگر آپ نہ ہوتے تو کائنات تخلیق نہ ہوتی۔ یہ نظریہ قرآن کریم کے بھی خلاف ہے اور اس سلسلے میں بیان کردہ روایات بھی جھوٹی، جعلی اور ضعیف ہیں۔   اس خود ساختہ عقیدے کے بارے…

Continue Reading

آدم علیہ السلام کا وسیلہ

تحریر: ابو عبداللہ صارم

سیدنا آدم و حواء علیہا السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کے ایک درخت کا پھل کھانے سے منع کیا گیا تھا۔ شیطان کے بہکاوے میں آ کر دونوں نے وہ پھل کھا لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوا اور انہیں جنت سے نکال دیا۔ دونوں اپنے اس کیے پر بہت نادم ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کو ان پر ترس آیا اور انہیں وہ کلمات سکھا دیے جنہیں پڑھنے پر ان کی توبہ قبول ہوئی۔
فرمان الٰہی ہے :
﴿فَتَلَقَّى آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ﴾ (البقره:37:2)
’’آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ “ یہ کلمات کیا تھے؟ خود اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ان کو بیان فرما دیا ہے :
﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ (الاعراف:37:2)
’’ان دونوں نے کہا : اے ہمارے رب ! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے ہیں۔ اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔ “

یعنی آدم و حواء علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ کو اس کی صفت مغفرت و رحمت کا واسطہ دیا یہ تو تھا قرآن کریم کا بیان۔ لیکن بعض لوگ اس قرآنی بیان کے خلاف جھوٹے، بدکردار، بدعقیدہ، بددین اور نامعلوم و مجہول لوگوں کی بیان کردہ نامعقول اور باہم متصادم داستانیں بیان کرتے اور ان پر اپنے عقیدے کی بنیاد رکھتے نظر آتے ہیں۔ کسی داستان میں بتایا گیا ہے کہ آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ دیا، کسی میں ہے کہ انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد کا واسطہ دیا اور کسی میں مذکور ہے کہ ان کو سیدنا علی و سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کے طفیل معافی ملی۔

یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت کی شان میں غلوّ ہے، جو کہ سخت منع ہے۔ یہی بات نصاریٰ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہتے ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ آدم علیہ السلام کی غلطی عیسیٰ علیہ السلام کے طفیل معاف ہوئی۔

علامہ ابوالفتح محمد بن عبدالکریم شہرستانی (م : ۵۴۸ھ) نصاریٰ سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
والمسيح عليه السلام درجته فوق ذلك، لأنه الإبن الوحيد، فلا نظير له، ولا قياس له إلی غيره من الأنبياء، وھو الذي به غفرت زلة آدم عليه السلام.
’’مسیح علیہ السلام کا مقام و مرتبہ اس سے بہت بلند ہے، کیونکہ وہ اکلوتے بیٹے ہیں۔ ان کی کوئی مثال نہیں، نہ انہیں دیگر انبیائے کرام پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔ انہی کی بدولت آدم علیہ السلام کی خطا معاف ہوئی تھی۔ “ (الملل والنحل:62/2، وفي نسخة:524/1)

ہماری سب لوگوں سے ناصحانہ اپیل ہے کہ وہ ان روایات کی حقیقت ملاحظہ فرمائیں اور پھر فیصلہ کریں کہ کیا قرآن کریم کے خلاف ان پر اعتماد کرنا کسی مسلمان کو زیب دیتا ہے؟

(more…)

Continue Reading

وسیلے کی ممنوع اقسام کےدلائل کا تحقیقی جائزہ

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری یہ تو بیان ہو چکا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں تین قسم کا وسیلہ جائز ہے، اس کے علاوہ ہر قسم کا وسیلہ، مثلاً کسی مخلوق کی ذات یا فوت شدگان کا وسیلہ ناجائز و حرام ہے۔ بعض حضرات ناجائز وسیلے پر مبنی اپنے خود ساختہ عقائد کو ثابت کرنے کے لیے من گھڑت، جعلی، بناوٹی اور ضعیف روایات پیش کرتے ہیں۔ آئیے ان روایات کا اصول محدثین کی روشنی میں تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں : دلیل نمبر ۱   عن مالك الدار، قال : وكان خازن عمر على الطعام، قال : أصاب الناس قحط في زمن عمر، فجاء رجل إلى قبر النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله، استسق لأمتك فإنهم قد هلكوا، فأتى الرجل في المنام فقيل له : ائت عمر فأقرئه السلام، وأخبره أنكم مستقيمون وقل له :…

Continue Reading

اقسام علی اللہ اور توسل

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری

عالم عرب کے مشہور عالم، محمد بن صالح عثمین رحمہ اللہ (۱۳۴۷۔۱۴۲۱ھ) فرماتے ہیں : 
والإقسام على الله: أن تحلف على الله أن يفعل، أو تحلف عليه أن لا يفعل، مثل: والله; ليفعلن الله كذا، أو والله; لا يفعل الله كذا. والقسم على الله ينقسم إلى أقسام: الأول: أن يقسم بما أخبر الله به ورسوله من نفي أو إثبات; فهذا لا بأس به، وهذا دليل على يقينه بما أخبر الله به ورسوله، مثل: والله; ليشفعن الله نبيه في الخلق يوم القيامة، ومثل: والله! لا يغفر الله لمن أشرك به، الثاني: أن يقسم على ربه لقوة رجائه وحسن الظن بربه، فهذا جائز لإقرار النبي صلى الله عليه وسلم ذلك في قصة الربيع بنت النضر عمة أنس بن مالك رضي الله عنهما، حينما كسرت ثنية جارية من الأنصار، فاحتكموا إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بالقصاص، فعرضوا عليهم الصلح، فأبوا، فقام أنس بن النضر، فقال: أتكسر ثنية الربيع؟ والله ! يا رسول الله، لا تكسر ثنية الربيع، وهو لا يريد به رد الحكم الشرعي، فقال الرسول صلى الله عليه وسلم يا أنس! كتاب الله القصاص يعني: السن بالسن. قال: والله ! لا تكسر ثنية الربيع، وغرضه بذلك أنه لقوة ما عنده من التصميم على أن لا تكسر، ولو بذل كل غال ورخيص، أقسم على ذلك، فلما عرفوا أنه مصمم ألقى الله في قلوب الأنصار العفو، فعفوا; فقال النبي صلى الله عليه وسلم : إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبره، فهو لقوة رجائه بالله وحسن ظنه أقسم على الله أن لا تكسر ثنية الربيع، فألقى الله العفو في قلوب هؤلاء الذين صمموا أمام الرسول صلى الله عليه وسلم على القصاص، فعفوا وأخذوا الأرش، فثناء الرسول صلى الله عليه وسلم عليه شهادة بأن الرجل من عباد الله، وأن الله أبر قسمه ولين له هذه القلوب، وكيف لا وهو الذي قال: بأنه يجد ريح الجنة دون أحد، ولما استشهد وجد به بضع وثمانون ما بين ضربة بسيف أو طعنة برمح، ولم يعرفه إلا أخته ببنانه، وهي الربيع هذه، رضي الله عن الجميع وعنا معهم. ويدل أيضا لهذا القسم قوله صلى الله عليه وسلم: رب أشعث مدفوع بالأبواب، لو أقسم على الله لأبره .القسم الثالث: أن يكون الحامل له هو الإعجاب بالنفس، وتحجر فضل الله عز وجل، وسوء الظن به تعالى، فهذا محرم، وهو وشيك بأن يحبط الله عمل هذا المقسم. 

’’اقسام علی اللہ کا معنی یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بارے میں قسم اٹھائیں کہ وہ یہ کام کرے گا یا نہیں کرے گا، مثلاً اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ ضرور ایسا کرے گا، یا اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں قسم کی کئی قسمیں ہیں۔  

(more…)

Continue Reading

بریلوی مقلدین اور ممنوع توسل

جناب احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب (1324۔1391 ھ) سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 89 کے تحت لکھتے ہیں : ”معلوم ہوا کہ حضور کے توسل سے دعائیں مانگنا بڑی پرانی سنت ہے اور ان کے وسیلے کا منکر یہود و نصاریٰ سے بدتر ہے۔ اور حضور کے وسیلے سے پہلے ہی سے خلق کی حاجت روائی ہوتی تھی۔“ (تفسیر نور العرفان،ص:21) اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مفتی صاحب خود اہل کتاب کی رَوَش پر چل نکلے ہیں اور اپنے باطل اور فاسد نظریات کے دفاع میں قرآن مجید میں تحریف معنوی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے بارے میں انہوں نے وہ بات کہہ دی ہے جو سلف میں سے کسی نے نہیں کہی۔ اصل بیان یہ تھا کہ یہود جو اہل کتاب تھے، دو قبیلوں اوس اور خزرج جو اہل کتاب نہیں تھے، سے لڑتے تھے۔ یہود کے…

Continue Reading

وسیلہ اور اسلاف امت کا طریقہ کار

تحریر: حافظ ابو یحیٰی نورپوری کسی نیک شخص کے وسیلے کی کئی صورتیں ہیں۔ بعض جائز ہیں اور بعض ناجائز۔ ان میں سے جس صورت کی تائید سلف صالحین سے ہوتی ہے، وہ ہی جائز اور مشروع ہو گی۔ آئیے صحابہ و تابعین کے دور میں چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ نیک لوگوں کے وسیلے کا کیا مفہوم سمجھتے تھے، نیز ان کا وسیلہ بالذات والاموات کے بارے میں کیا نظریہ تھا۔۔۔   دلیل نمبر ۱ صحابی رسول سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں بارش کے لیے ایک بہت ہی نیک تابعی یزید بن الاسود رحمہ اللہ کا وسیلہ پکڑا تھا۔  ایک روایت کے الفاظ ہیں :  إن الناس قحطو ابد مشق، فخرج معاوية يستسقي بيزيد بن الأسود...  ”دمشق میں لوگ قحط زدہ ہو گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یزید بن الاسود رحمہ اللہ کے وسیلے…

Continue Reading

وسیلہ صحیح احادیث کی روشنی میں

تحریر : حافظ ابو یحیٰی نورپوری قرآن کریم اور صحیح احادیث سے تین طرح کا وسیلہ ثابت ہے۔ ایک اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا، دوسرے اپنے نیک اعمال کا اور تیسرے کسی زندہ نیک شخص کی دعا کا۔ لہٰذا وسیلے کی صرف یہی قسمیں جائز اور مشروع ہیں۔ باقی جتنی بھی اقسام ہیں، وہ غیر مشروع اور ناجائز و حرام ہیں۔ قرآن کریم سے کون سا وسیلہ ثابت ہے؟ اس بارے میں تو قارئین ’’وسیلہ اور قرآن کریم‘‘ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ صحیح احادیث اور فہم سلف کی روشنی میں بھی جائز وسیلے کے بارے میں یہی کچھ ثابت ہے، نیز وسیلے کی ممنوع اقسام کے بارے میں صریح ممانعت و نفی بھی موجود ہے۔ آئیے ملاحظہ فرمائیں : زندہ نیک شخص کی دعا کے وسیلے کا جواز ❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: أن عمر بن…

Continue Reading

قبر نبوی سے توسل والی روایات کا تجزیہ

روایت نمبر ۱

ابوحرب ہلالی کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے فریضہ حج ادا کیا، پھر وہ مسجد نبوی کے دروازے پر آیا، وہاں اپنی اونٹنی بٹھا کر اسے باندھنے کے بعد مسجد میں داخل ہو گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس آیا اور آپ کے پاؤں مبارک کی جانب کھڑا ہو گیا اور کہا: السلام عليك يا رسول الله ! پھر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو سلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف بڑھا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں گناہگار ہوں، اس لیے آیا ہوں تاکہ اللہ کے ہاں آپ کو وسیلہ بنا سکوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن کريم میں فرمایا ہے: ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّـهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّـهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا﴾ (النساء 4 :64 )
” (اے نبی !) اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو آپ کے پاس آئیں، پھر اللہ سے معافی مانگیں اور ان کے لیے اللہ کا رسول بھی معافی مانگے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحیم پائیں گے.“ (شعب الإيمان للبيھقي:495/3، ح:4178، وفي نسخة:3880)

تبصره : یہ سخت قسم کی ’’ضعیف ‘‘ روایت ہے، کیونکہ :
(1) محمد بن روح بن یزید مصری راوی کے حالات نہیں مل سکے۔
(2) ابوحرب ہلالی کون ہے؟ معلوم نہیں۔
(3) عمرو بن محمد بن عمرو بن الحسین کے نہ حالات ملے ہیں، نہ توثیق۔
یہ ’’مجہول ‘‘ راویوں میں سے کسی کی کارستانی ہے۔ ایسی روایت سے دلیل لینا اہل حق کا وطیرہ نہیں۔
حافظ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ (م :
۷۰۵۔۷۴۴ ھ) فرماتے ہیں : باسناد مظلم۔
”یہ واقعہ سخت مجہول سند سے مروی ہے۔“ (الصارم المنكي في الرد علي السبكي، ص : 384)

 

روایت نمبر ۲

ابوالجوزاء اوس بن عبداللہ تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :

(more…)

Continue Reading

جائز و ناجائز وسیلہ اور قرآنی دلائل

تحریر: ابن جلال دین، ابن شہاب سلفی وسیلہ کا معنی و مفہوم: لغوی طور پر وسیلہ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کے ذریعے کسی ذات تک رسائی یا قرب حاصل کیا جا سکتا ہو۔ لغت  عرب کی قدیم اور معروف کتاب ’’الصحاح‘‘ میں ہے: الوسيلة : ما يتقرب به إلی الغير. ’’وسیلہ اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی کا قرب حاصل کیا جائے۔‘‘ (الصحاح تاج اللغة و صحاح العربية لأبي نصر إسماعيل بن حماد الجوهري المتوفیٰ 393ھ، باب اللام، فصل الواو، مادة وسل : 1841/5، دارالعلم للملايين، بيروت، 1407ھ) مشہور لغوی اور اصولی، علامہ مبارک بن محمد المعروف بہ ابن الاثیر جزری ( 544 – 606 ھ ) لکھتے ہیں : في حديث الأذان : اللھم آت محمدا الوسيلة، ھي في الأصل : ما يتوصل به إلی الشيء ويتقرب به، وجمعھا : وسائل، يقال : وسل إليه وسيلة…

Continue Reading

لولاک ما خلقت الأفلاک اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمان (و زمین) پیدا نہ کرتا!

سوال : محترم حافط زبیر علی زئی صاحب کیا یہ بات صحیح ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا نہ کیا جاتا تو اللہ تعالیٰ کائنات کو پیدا نہ کرتا۔ وضاحت فرمائیں۔ (محمد ندیم سلفی، سرکلر روڈ راولپنڈی) الجواب : بعض الناس یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لولاك ما خلقت الأفلاك ” (اے نبی ! ) اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمان (و زمین) پیدا نہ کرتا۔“ اس جملے کا کوئی ثبوت حدیث کی کسی کتاب میں باسند موجود نہیں ہے۔ اس بے سند جملے کو شیخ حسن بن محمد الصغانی (متوفی 650؁ھ) نے ”موضوع“ یعنی من گھڑت قرار دیا۔ دیکھئے : موضوعات الصغانی [78] و تذکرۃ الموضوعات [ص 86] لمحمد طاہر الفتنی الہندی (متوفی 986؁ھ) الفوائد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ للشوکانی [ص 326] الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ لملا علی القاری الحنفی [385]…

Continue Reading

سیدنا آدم علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا کرنا

سوال :ایک روایت میں آیا ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام نے نبی کریم سیدنا محمد ﷺ کے وسیلے سے دعا کی تھی۔ (المستدرک للحاکم ۲؍۲۱۵ح۴۲۲۸دلائل النبوۃ للبیہقی ۵؍۴۸۹) یہ روایت نقل کر کے ڈاکٹر محمد طاہر القادری(بریلوی)صاحب لکھتے ہیں کہ : ‘‘امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح الإسناد کہا ہے۔امام بیہقی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے’’ (الاربعین فی فضائل النبی الامین ص ۵۵طبع چہارم۲۰۰۲ء) کیا واقعی امام بیہقی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے؟ اور کیا واقعی یہ روایت صحیح ہے؟ (سائل : ابو ثاقت محمد صفدر حضروی) طاھر القادری صاحب کا ایک حوالہ الجواب: عرض ہے کہ امام بیہقی نے اس روایت کو ہرگز صحیح نہیں قرار دیا۔ بلکہ امام بیہقی رحمہ اللہ یہ روایت لکھ کر فرماتے ہیں کہ:‘‘تفرد بہ عبدالرحمن بن یزید بن أسلم من ھذا الوجہ عنہ وھو ضعیف’’اس سند کے ساتھ عبدالرحمن…

Continue Reading

End of content

No more pages to load

Close Menu

ہمارا فیس بک پیج جوائن کریں

واٹس اپ پر چیٹ کریں
1
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ

ہمارا فیس بک پیج ضرور فالو کریں

https://www.facebook.com/pukar01

اس کے علاوہ اگر آپ ویب سائٹ سے متعلق فیڈبیک دینا چاہیں تو ہمیں واٹس اپ کر سکتے ہیں

جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا كَثِيْرًا وَجَزَاكُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء