مسئلہ تقلید پر علمائے دیوبند کے دلائل کا جائزہ

یہ تحریرمولانا ابو صحیب داؤد ارشد حفظہ اللہ کی کتاب تحفہ حنفیہ سے ماخوذ ہے۔ یہ کتاب دیوبندی عالم دین ابو بلال جھنگوی کیجانب سے لکھی گئی کتاب تحفہ اہلحدیث کا مدلل جواب ہے۔

مسئلہ تقلید

تقلید کی لغوی تعریف :

لغت میں تقلید معنی گلے میں کسی چیز کو لٹکانا ہے جیسا کہ علامہ زمخشری حنفی نے لکھا ہے۔
(اساس البلا غتہ ص 375)
لیکن جب اس کا استعمال دین کے مفہوم میں آئے تو اس وقت اس کا معنی کسی کی بات کو بغیر دلیل اور غور و فکر کے قبول کر لینا ہے۔ جیسا کہ (لسان العرب ص 367 ج 3) وغیرہ معتبر کتب لغت میں ہے۔
مولانا سر فراز خان صفدر فرماتے ہیں کہ: لغت کی جدید اور معروف کتاب (مصباح اللغات ص 764) میں ہے قلدہ فی کذا اس نے اس کی فلاں بات میں بغیر غور و فکر کے پیروی کی۔
(الکلام المفید ص 30)

اصطلاحی تعریف:

علماء اصول نے تقلید کی تعریف یوں کی ہے۔
((التقليد العمل بقول الغير من غير حجة )) (مسلم الثبوت ص 350 ج 2)

یعنی تقلید ایسے عمل کا نام ہے جو کسی کی بات پر بغیر دلیل کے کیا جائے۔ یہی تعریف علامہ آمدی متوفی 613ھ نے ( الاحکام ص 187 188 ج 3 طبع مصر 1347ھ ) میں بحر العلوم عبد العلی نے‘ فوائح الر حموت ص 400 ج 2 طبع مصر 1324ھ میں علامہ نووی نے ( تہذیب الاسماء واللغات ص 101 ج 4 طبع بیروت ) میں ابن حاجب نے (مختصر 231) میں حضرمی نے ( اصول فقہ ص 457) میں مفتی احمد یار گجراتی نے (جاء الحق ص 15 ج 1) میں اور مولوی غلام رسول سعیدی حنفی بریلوی نے شرح (صحیح مسلم ص 329 ج3) میں کی ہے۔
مولانا سر فراز خان صفدر حنفی دیوبندی فرماتے ہیں کہ :اصطلاحی طور پر تقلید کا یہ مطلب ہے کہ جس کا قول حجت نہیں اس کے قول پر عمل کرنا۔
(الکلام المفید من 35)
اس تعریف سے ثابت ہوا کہ تقلید بلا دلیل اطاعت و اقتداء کا نام ہے جس میں علم و استدلال نظر و فکر کی جگہ حسن ظن کو دی گئی ہے۔ یہ بات کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ انسان میں علم و تحقیق اور جستجو کو ودیعت کیا گیا ہے بلا سوچے سمجھے کسی کے پیچھے محض حسن ظن سے لگنا کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔ ٹھیک اسی طرح غیر معلوم مسائل میں علماء کی طرف رجوع کرنا کوئی بھی معیوب نہیں سمجھتا۔
ظاہر ہے کہ امت سے کسی انسان کو واجب الاتباع اور کامل ترین نمونہ قرار دینا اور اس کی بات کو حرف آخر کہنا عملا اس کی بات کو من وعن قبول کرنا اس سے انحراف کو گمراہی ولادینی وغیرہ جیسے کلمات سے تعبیر کرنا بلکہ اس سے علمی اختلاف کرنے والے کو لامذھب سے مخاطب کرنا شرک ہے۔ کیونکہ واجب الاطاعت صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے اور انبیاء کی اتباع و پیروی در حقیقت اللہ ہی کی اطاعت و فرمان برداری ہے۔
جیسا کہ خالق ارض و سماء کہتا ہے:
(ومن يطع الرسول فقد اطاع الله ) (سورة النساء: 80)
یعنی جس نے اللہ کے رسول کی اطاعت کی اس نے گویا اللہ کی اطاعت کی۔
ہماری اس تمھیدی بات سے ہمارے معاصر کی اس غلط فہمی کا بھی ازالہ ہو گیا کہ تقلید شرک نہیں ہے۔
(مفہوم تحفہ اہل حدیث ص 32)

کیا تقلید شرک نہیں ؟

اس کی تفصیل تو ہم آخر میں درج کریں گے سرے دست مؤلف تحفہ اہل حدیث کے استاذ محترم کا حوالہ درج کر دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ : کوئی بد بخت اور ضدی مقلد دل میں یہ ٹھان لے کہ میرے امام کے قول کے خلاف اگر قرآن و حدیث سے بھی کوئی دلیل قائم ہو جائے تو میں اپنے مذھب کو نہیں چھوڑوں گا تو وہ مشرک ہے ہم بھی کہتے ہیں۔ لاحنفہ فيه (اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں) ( الکلام المفید ص 310) مزید صفحہ 298 میں دیکھئے۔
حنفی:۔ اس حقیقت سے انحراف کے لیے ابو بلال نے ایک چور دروازہ بھی کھولا ہے۔ کہتا ہے یہ تعریف آپ نے کسی حدیث شریف سے اخذ کی ہے۔
( تحفہ اہل حدیث ص 31)
محمدی:۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جرم تو آپ کریں اور دلیل ہم سے طلب کریں۔ عزیز بھائی یہ تعریف آپ کے مقلد علماء اصول نے کی ہے‘ اگر تقلید کوئی حکم شرعی ہوتا اور ہم اس پر عمل بھی کرتے تو جب تو آپ کا سوال درست تھا‘ لیکن ہم تو اسے دین میں بدعت کہتے ہیں جو شرک فی الاطاعت ہے۔ مگر آپ بھولے پن سے اس تعریف پر ہم سے حدیث کا سوال کر رہے ہیں آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ دین میں بدعات کی تعریف مبتدعین کی ہی مسلم ہوتی ہے۔
یہ بات یاد رکھئے کہ ہمارے نزدیک احکام شرعیہ میں قرآن وحدیث ہی کافی ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہر فعل میں قرآن و حدیث ہی کافی ہے۔ مثلاً اگر کوئی جاٹ یہ کہہ دے کہ قرآن وحدیث سے یہ دکھائیے کہ دھان کی فصل کب کاشت کرنی چاہیے ؟ یا آپ سے کوئی یہ کہہ دے کہ گندم کو کب کاشت کرنا چاہیے۔ اس کی دلیل قول امام سے عنایت کیجئے تو یقیناً آپ بھی ایسے سوال کرنے والے کو جواب کی بجائے دماغی آپریشن کا مشورہ دیں گے۔ ہاں اگر ہم آپ سے یہ سوال کریں کہ آپ کے نزدیک تقلید حکم شرعی ہے اور آپ امام ابو حنیفہ کے مقلد بھی ہیں تو جو تقلید کی تعریف آپ نے بیان کی ہے وہ امام صاحب کے قول سے دکھائے ؟ مگر آپ کو شش کے باوجود اس کا جواب قیامت تک نہیں دے سکتے۔

تقلید اور اتباع میں فرق

مذکورہ سطور میں آپ نے پڑھ لیا ہے کسی کی دلیل کے بغیر پیروی کرنے کو تقلید کہتے ہیں جبکہ اتباع بادلیل ہوتی ہے جس کی وجہ سے آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی پیروی کو تقلید نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ دلیل کی پیروی ہے۔
امام ابن قیم نے اعلام الموقعین میں اس پر بڑا جچا تلا تبصرہ کیا ہے۔ فرماتے ہیں:
والاتباع ما ثبت عليه حجة
ص 137 ج 2‘ یعنی تقلید بغیر دلیل کے ہوتی ہے اور اتباع بادلیل ، مولانا غلام رسول سعیدی حنفی بریلوی فرماتے ہیں کہ : تقلید کے معنی ہیں دلائل سے قطع نظر کر کے کسی امام کے قول پر عمل کرنا اور اتباع سے یہ مراد ہے کہ کسی امام کے قول کو کتاب وسنت کے موافق پا کر اور دلائل شرعیہ سے ثابت جان کر اس قول کو اختیار کرنا۔
(شرح صحیح مسلم ص 63 ج 5)
مؤلف تحفہ اہل حدیث کے استاذ مکرم مولانا سر فراز خاں فرماتے ہیں کہ: یہ طے شدہ بات ہے کہ اقتداء واتباع اور چیز ہے اور تقلید اور ہے۔
( راہ سنت ص 35)
اس سے واضح ہو گیا کہ عامی کا عالم کی طرف بوقت ضرورت رجوع کرنا تقلید نہیں کیونکہ عالم اپنے فتویٰ میں قرآن وحدیث درج کرے گا۔ جس کو ماننا مستفتی پر پہلے سے ہی فرض تھا۔ پس عالم نے اسے قرآن وحدیث سے مسئلہ سمجھا دیا ہے۔
فاضل قندھاری نے اور ملا حسن شر نبلالی نے عقد الفرید میں یہی کہا ہے کہ عامی کا مفتی کی طرف رجوع کرنا تقلید نہیں۔
(بحوالہ معیار الحق ص 66)

رد تقلید

قرآن کریم سے: قرآن کریم میں متعدد آیات سے تقلید کی نفی ہوتی ہے ہم اختصار سے قارئین کرام کو چند آیات کی نشان دہی کراتے ہیں۔ سورہ زخرف میں ارشاد ہوتا ہے کہ :
(فاستمسك بالذى اوحى اليك انك على صراط مستقیم ) (ز خرف 43 پ 25)
جو کلام تیری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑے رہ اس میں شک نہیں کہ تو سیدھی راہ پر ہے ( ثنائی)
سورہ ما ئدہ میں ارشاد ہوتا ہے:
(فاحكم بينهم بما انزل الله ولا تتبع اهواء هم ) (المائده 48)
پس تو ان میں خدا کے اتارے ہوئے حکموں سے فیصلہ کیجیے۔ اور جو تیرے پاس سچی تعلیم آئی ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلیے۔
(ثنائی: 5-48)
ان آیات میں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ پیروی صرف اور صرف وحی کی کیجئے اور وحی کی موجودگی میں اھواء و خواہشات کی پیروی نہ کرنا۔
سورہ النحل میں ارشاد ہوتا ہے:
(ولا تقولوا لما تصف السنتكم الكذب هذا حلال و هذا حرام لتفترو ا على الله الكذب ان الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون متاع قليل ولهم عذاب الهم )
(سورہ النحل: 116 تا 116)
اور اپنی زبانوں کے جھوٹ بیان سے نہ کہا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام کہ تم اللہ پر جھوٹ کے بہتان باندھنے لگو جو لوگ اللہ پر جھوٹے افترا کرتے ہیں ہر گز نہ بامراد ہوں گے ان کے لئے تھوڑا سا گذارہ ہے اور ان کے لئے دکھ کا عذاب ہے۔ (ثنائی)
آیت اپنے مقصد میں بالکل واضح ہے کہ کسی چیز کو حلال و حرام قرار دینا اللہ تعالی کا خاصہ ہے اور یہ کہ اپنی طرف سے کسی چیز کو حلال و حرام کہنا مالک حقیقی پر بہتان باندھنا ہے اس بات کا رب رحمٰن نے سورہ یونس آیت ۵۹ میں بھی بیان کیا ہے۔ الغرض کسی چیز کی حلت و حرمت کا تعلق اللہ کی ذات سے خاص ہے اب جو شخص امام ابو حنیفہ کی تقلید کو حلال قرار دے کر اسے فرض و واجب کہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرتا ہے کیونکہ اللہ نے کسی جگہ بھی امام ابو حنیفہ کی تقلید کرنے کا حکم وارشاد نہیں فرمایا۔ اس آیت سے ایک اور بات بھی معلوم ہوئی وہ یہ کہ جب کوئی شخص کسی چیز کو حلال و حرام کہتا ہے تو اس کی حلت و حرمت کی کوئی دلیل قرآن و سنت سے دینا اس پر لازم ہے ورنہ وہ افترا علی اللہ ہو گا اور اس سے بھی بڑھ کر وہ شخص نادان و جاہل اور اللہ کی صفت میں شریک ٹھہرانے والا ہو گا جو انسان اس حلت و حرمت کے فتویٰ کو بلا چون و چراں قبول کر لیتا ہے اور اسے تمام واجبات سے زیادہ اہمیت دیتا ہے بلکہ اس کی طرف دعوت دیتا ہے اور اس سے انحراف اسلام سے بغاوت کے مترادف قرار دیتا ہے اور اس بے دلیل فتویٰ کے منکرین کو گمر اہ و ضال اور مبتدعین میں شمار کرتا ہے۔
ہمارے معاصر نے تحفہ اہلحدیث میں فقہ کی کتاب در مختار کی بڑی دھوم دھام سے تعریف کی ہے اور اسے مدینہ کی تصنیف قرار دیا ہے۔ (صفحہ 79)
ہم نے خاص اسی کتا ب سے حصہ سوم فصل ھشتم میں چند فقہ حنفیہ کے مسائل نقل کیے ہیں اور ان کا مفتی بہ ہونا بھی نقل کیا ہے اور دیگر کتب فقہ حنفیہ سے اس کی تائیدات بھی نقل کی ہیں اگر ان میں اخلاقی جرات ہے تو ان تمام مسائل کو قرآن و سنت سے ثابت کریں ور نہ تسلیم کرلیں کہ در مختار کی طرف ہماری دعوت مذکورہ آیت میں بتائی گئی وعید شدید کے زمرہ میں آتی ہے۔

تقلید کی رسم اہل کتاب میں تھی؟

اصل میں تقلید اہل کتاب اور مشرکین عرب کی رسم بد ہے‘ اس کا دین اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
(الخذوا احبارهم و رهبانهم اربابا من دون الله و المسيح ابن مريم وما أمروا الا ليعبدوا الها واحدا لا اله إلا هو سبحنه عما يشركون) (التوبة : 31)
انہوں نے اپنے پادریوں اور درویشوں اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا معبود بنا رکھا ہے حالانکہ حکم صرف یہی تھا کہ اکیلے معبود کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں عبادت کریں وہ ان کے شرک سے پاک ہے۔
(ثنائی ص 31 ج 9)
اس آیت کی تفسیر نبی کریم ﷺ نے خود فرمائی ہے‘ جسے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ آیت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو تلاوت کرتے ہو سنا تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ ہم نے ان کی کبھی بھی عبادت نہیں کی اور نہ ہم مولویوں اور درویشوں کو رب مانتے تھے تو آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ:
((اما انهم لم يكونوا يعبدونهم ولكن هم اذا احلو الهم شيئا استحلوه واذا حرموا عليهم شيئا حرموه)).
وہ اپنے علماء کی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب ان کے علماء کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تو وہ اسے حلال کر لیتے اور جب وہ کسی چیز کو حرام قرار دیتے تو وہ بھی اسے حرام تسلیم کر لیتے۔
(سنن ترمذی مع تحفہ الاحوذی ص 117 ج 4)
اس آیت کی تفسیر میں علماء دیوبند کا بھی یہی موقف ہے کہ اہل کتاب کا معاملہ ایسے ہی تھا چنانچہ مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ: یہود و نصاریٰ نے خدا کی توحید فی الطاعتہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو باعتبار اطاعت کے رب بنارکھا ہے کہ ان کی اطاعت تحلیل اور تحریم میں مثل اطاعت خدا کے کرتے ہیں کہ نص پر ان کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے۔
(بیان القرآن ص 107 ج 4 منزل نمبر 2 طبع )
اسی صفحہ کے حاشیہ میں مسائل السلوک کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں کہ اس میں نصوص کے مقابلہ میں تقلید کرنے کی مذمت ہے جیسے جاہلوں کی عادت ہے کہ جب رسوم منکرہ سے منع کیا جائے تو اپنے مشائخ سے تمسک کرتے ہیں۔
( حاشیہ بیان القرآن ص 107 ج 4)
مولانا تھانوی نے اس اقتباس میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ نصوص کے بالمقابل تقلید اصل میں علماء و مشائخ کی عبادت ہے اس میں مزید یہ بات بھی داخل کر لیں کہ مقلدین حضرات جب تقلید کرتے ہیں وہ امام کی بعض مسائل میں تقلید کرتے ہیں یا تمام مسائل میں اگر وہ تمام مسائل میں تقلید کرتے ہیں یقیناً کرتے ہیں تو کیا وہ نصوص اور اپنے امام کے تقلیدی مسائل کا تقابل کرتے ہیں؟ اس کا جواب یقیناً نفی میں ملے گا کیونکہ جب امام کے مسائل پر عدم اعتماد ہو گیا اور ان کے مسائل کی تحقیق کرلی جائے تو یہ تقلید نہیں رہے گی کیونکہ تقلید تو کہتے ہی کسی کی بات کو بغیر دلیل کے ماننا جیسا کہ پہلے عرض کر دیا گیا ہے۔ مزید سنئے کہ حافظ ابن حجر بخاری کی شرح میں علامہ آمدی سے تقلید کی تعریف نقل کرتے ہیں که:
((بان المراد بالتقليد اخذ قول الغير بغير حجة ومن قامت عليه حجة لم يكن مقلد لانه لم يا خذ بقول غيره بغير حجة ))
یعنی تقلید سے مراد غیر کے قول کو بغیر دلیل کے قبول کرنا ہے ۔ (فتح الباری ص 299 ج 13) اور جس پر دلیل قائم ہو گی وہ مقلد نہیں اس لیے کہ اس نے غیر کے قول کو دلیل کے بغیر قبول نہیں کیا۔ باب ما جاء فى دعا النبى الله امته الى توحيد الله تبارك و تعالى الغرض مذکورہ آیت میں علماء و مشائخ کے اقوال کو دلیل کے بغیر قبول کرنے کو عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کا ہی دوسرا نام تقلید ہے اور جب ان کے اقوال کو نصوص کے ساتھ تقابل کیا جائے تو اس کا نام ترک تقلید ہے۔
تھوڑا عرصہ قبل دیوبندی مکتب فکر کی طرف سے‘ دفاع امام ابو حنیفہ‘ کے نام سے مولانا عبد الحق حقانی نے کتاب تصنیف کر کے شائع کی ہے اس کے مقدمہ میں قاضی محمد زاہد الحسینی فرماتے ہیں: (حنفی) مسلمان فقہ حنفی سے اس قدر غافل ہو رہے ہیں کہ ان کو حنفیت کا احساس تک نہیں رہا اسی طرح اپنے وطن عزیز پاکستان میں بعض وہ ادارے اور طبقات جن کو منفیت کے فروغ اور تحفظ کے لیے محنت کرنی چاہیے تھی بالارادہ یا بلا ارادہ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔ دینی مدارس میں فقہی نصاب کو مختصر سے مختصر کیا جا رہا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں مفتی حضرات کا فقدان ہے۔ استدلال کے بجائے فقہ حنفی کے لیے قرآن و حدیث کا مطالعہ زوروں پر ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بارہ سو سال سے مرتب شدہ مسائل میں موشگافیاں کی جارہی ہیں۔ کتب حدیث کا اردو زبان میں صرف ترجمہ کر کے عدم تقلید کا دروازہ کھولا جا رہا ہے اس کے نتیجہ میں علماء را سخین کی جگہ صرف اردو خوان اور اردو دان طبقہ لے کر مارقیت (خارجیت) کی اشاعت کر رہا ہے حالانکہ ہر مقلد کے لئے آخری دلیل مجتہد کا قول ہے جیسا کہ مسلم الثبوت میں ہے ((اما المقلد فمستندہ قول المجتھد )) یعنی مقلد کو صرف مجتہد کا قول کافی ہوتا ہے۔
(دفاع نام ابو حنیفہ ص26)
لیجئے قاضی صاحب نے تمام فیصلے کر دیئے کہ مقلد کے لئے صرف اس کے امام کا قول ہی حجت ہے اور جو شخص قرآن و حدیث کو پڑھتا پڑھاتا اور اس کی نشر و اشاعت کرتا ہے وه ترک تقلید کادروازہ کھولتا ہے‘ جس کا نتیجہ خارجیوں کے مسلک کی نشر و اشاعت ہے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
مزید یہ کہ اپنے امام کے قول کی دلیل دریافت کرنے کی غرض سے قرآن و حدیث کو پڑھنا بھی ترک تقلید اور اپنے امام کے مسائل میں موشگافیاں ہیں جب کہ مقلد کے لیے مجتہد کا قول ہی کافی ہوتا ہے اور یہی کچھ اہل کتاب کرتے تھے ان کے لیے دلیل علماء و مشائخ کے اقوال ہی تھے اور اسی موقف و نظریہ کی تردید قرآن کریم نے کی ہے۔

مقلدین کا طرز عمل

اس بات کا شکوہ کرتے ہوئے امام رازی نے تفسیر کبیر میں سورہ توبہ کی آیت ۳۱ کے تحت لکھا ہے کہ :
((قال شيخنا ومولانا خاتمة المحققين و المجتهدين رضى الله عنه قد شاهدت جماعة من مقلدة الفقهاء قرات عليهم آيات كثيرة من كتاب الله تعالى في بعض مسائل وكانت ومذاهبم بخلاف تلك الايات ولم يقبلوا تلك الآيات ولم يلتفتوا اليها وبقوا ينظرون الى كالمتعجب يعني كيف يمكن العمل بظواهر هذه الايات مع ان روأية سلفنا وردت على خلافها ولو تاملت حق لاتامل وجدت هذا الداء ساريا في عروق الاكثرين من أهل الدنيا ))
یعنی ہمارے شیخ اور خاتم المحققين والمجتهدین فرماتے ہیں کہ میں نے فقہاء مقلدین کے ایک گروہ کا مشاہدہ کیا ہے کہ میں نے انہیں کتاب اللہ کی متعدد ایسی آیات پڑھ کر سنائیں جوان کے اسلاف کے خلاف تھیں تو انہوں نے صرف ان کے قبول کرنے سے منہ ہی موڑا بلکہ سرے سے کوئی توجہ ہی نہیں دی اور مجھے تعجب خیز نظروں سے دیکھنے لگے کہ ان آیات کے ظاہر پر عمل کیسے ہو سکتا ہے جب کہ ہمارے اکا بر ان کے خلاف کہہ گئے ہیں امام رازی فرماتے ہیں اے مخاطب! اگر تو ٹھیک ٹھیک طور پر غور و فکر کرے تو یہ بیماری اکثر مقلدین میں گھسی ہوئی پائے گا جو اہل دنیا سے ہیں۔
(بحوالہ حاشیہ تفسیر جامع البیان ص 166 طبع و علی 1344ھ )
حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دھلوی فرماتے ہیں کہ :
((فان شئت ان تدى أموذج اليهود فانظر الى علماء السوء من الذين يطلبون الدنيا وقد اعتادوا تقليد السلف واعرضوا عن نصوص الكتاب والسنة وتمسكوا بتعمق عالم و تشدده واستحسانه فاعرضوا عن كلام الشارع المعصوم وتمسكو بأحاديث موضوعة وتأويلات فاسدة كانت سبب هلاكهم))
یعنی اگر تم یہودیوں کا نمونہ دیکھنا چا ہو تو ان علماء سوء کو دیکھ لوجود نیا طلبی میں مشغول میں جن میں تقلید کی بیماری گھر کر گئی ہے جنہوں نے کتاب وسنت سے منہ موڑ لیا ہے اور ایک ہی امام کے پیچھے لگ گئے ہیں اور معصوم شارع علیہ السلام کے کلام (حدیث کو ترک کر رکھا ہے (اور اقوال امام کو ) من گھڑت روایات اور فضول تاویلوں سے خوب مضبوط بنا کر اسی سے تمسک کیے بیٹھے ہیں۔ بس یہی روش (یہود و نصاریٰ) کی ہلاکت کا سبب بنی۔ ( الفوز الکبیر علی حامش جامع البیان ص 54) اس سے ملتے جلتے الفاظ میں انہوں نے تضھیمات میں کہا ہے جس کی ضروری تفصیل صراط مستقیم ص49 میں حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ نے خوب کی ہے اس سلسلہ میں قاضی ابن ابی العز شارح عقیدہ طحاویہ‘ علامہ محمد حیات سندھی‘ امام عبد الرحمٰن بن اسماعیل، علامہ شعرانی علامہ صالح القلا نی اور علامہ لکھنوی رحمھم اللہ وغیرہ حضرات نے بھی بعض مقلدین کے اسی طرز عمل کی نشان دہی کی ہے کہ وہ تقلید میں نصوص کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کرتے اور امام کے اقوال کی ایسی پابندی کرتے ہیں جیسے نبی ﷺ کے فرمودات کی پابندی ہوتی ہے مولانا اشرف علی تھانوی حنفی دیوبندی اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں کہ اکثر مقلد عوام بلکہ خواص اس قدر جامد ہوتے ہیں کہ اگر قول مجتہد کے خلاف کوئی آیت یا حدیث بھی کان میں پڑتی ہے تو ان کے قلب میں انشراح وانبساط نہیں رہتا بلکہ اول استنکار قلب پیدا ہوتا ہے، پھر تاویل کی فکر ہوتی ہے‘ خواہ کتنی ہی بعید کیوں نہ ہو‘ خواہ دوسری دلیل قوی اس کے معارض ہو بلکہ مجتہد کی دلیل اس مسئلہ میں بجزہ قیاس کے کچھ بھی نہ ہو بلکہ خود دل میں اس تاویل کی وقعت نہ ہو مگر نصرت مذہب (حنفیہ) کے لیے تاویل ضروری سمجھتے ہیں‘ دل یہ نہیں مانتا کہ قول مجتہد کو چھوڑ کر حدیث صحیح صریح پر عمل کریں۔
(تذکرۃ الرشید ص 130,131 ج 1)
مزید فرماتے ہیں کہ
بعض مقلدین نے اپنے امام کو معصوم عن الخطاو مصیبت و جو با مفروض الاطاعتہ تصور کر کے عزم بالجزم کیا کہ خواہ کیسی ہی‘ حدیث صحیح‘ مخالف قول امام کے ہو اور مستند قول امام کا بجز قیاس امر دیگر نہ ہو پھر بھی بہت سے علل اور خلل حدیث میں پیدا کر کے یا اس کی تاویل بعید کر کے حدیث کو رد کر دیں گے‘ ایسی تقلید حرام اور مصداق قولہ تعالی‘ (اتخذوا اخبار هم … الخ ) اور خلاف وصیت ائمہ مرحومین ہے۔
(امداد الفتاویٰ ص 88 ج 4 طبع قدیم و ایضاًص 297 ج 5 طبع جدید کراچی)
مولانا تھانوی کی اس وضاحت کے بعد ضرورت تو نہیں کہ مقلدین کے اس انداز فکر کی شہاد تیں پیش کی جائیں ، تاہم اس بات کی نشان دہی کرنا ہم ضروری خیال کرتے ہیں کہ مقلدین نے بطور اصول لکھا ہے کہ اگر صحیح حدیث کے مخالف بھی قول امام ہو گا تب بھی مقلد پر تقلید اس پر عمل کرنا جائز نہیں، چنانچہ دیوبندی مکتب فکر کے‘ افضل الفضلاء‘ مولوی ارشاد الحسن رامپوری محدث دہلوی رحمہ اللہ کی تالیف ’’میار حق ‘‘ کے جواب میں مجددالف پانی‘ سے نقل کرتے ہیں کہ
ہم مقلدوں کو چھوڑنا مذ ہب اپنے (امام) کا ظاہر احادیث کے جائز نہیں۔
(انتصار الحق ص 255)
ان اقوال سے مؤلف ’’ تحفہ اہل حدیث‘‘ کے اس وہم کا بھی ازالہ ہو جاتا ہے کہ میرے بھائی! آپ نے ہم پر دوسرا الزام لگا دیا کہ ہم حدیث رسول صلى الله عليه وسلم کو چھوڑ کر فقہ کو مانتے ہیں‘ آپ نے احناف کا مؤقف اور مقصد ہی نہیں سمجھا‘ اگر سمجھ لیتے تو ہر گز یہ اعتراض نہ کرتے (ص 34)
بھائی اگر یہ الزام ہے تو لگانے والے ہم نہیں بلکہ اکا بر احناف ہیں، جس میں خیر سے آپ کے حکیم الامت‘ بھی شامل ہیں۔ اگر حکیم صاحب بھی مقصد نہیں سمجھے تو آپ جیسے تقلیدی بیماروں نے خاک سمجھنا ہے، حقیقت وہی ہے جو ہم عرض کر چکے ہیں‘ آپ کا انکار فقط جھوٹ اور دفع الوقتی ہے۔

مقلد کے اصول

پیارے! ہمارے یعنی احناف کے ہاں سب سے پہلے قرآن کو دیکھا جاتا ہے‘ اگر مسئلہ قرآن شریف میں مل جائے تو الحمد للہ ورنہ حدیث رسول کو دیکھتے ہیں، اگر مل جائے تو ٹھیک ورنہ اجماع میں دیکھتے ہیں‘ اگر اجماع میں بھی نہ ملے تو پھر فقہ سے یعنی قیاس شرعی سے مسئلہ حل کیا جاتا ہے۔ فقہ کا تو چوتھا نمبر ہے۔ ہمارے ہاں تو حدیث ضعیف بھی ہو تب بھی اولیت اور فوقیت حدیث کو ہی ہو گی‘ قیاس کو نہیں ہو گی۔
( تحفہ اہل حدیث ص 34)
الجواب : اولا:-
قارئین کرام ! یہ اتنا بڑا جھوٹ مذہب کے نام پر بولا گیا ہے جس کی مثال تلاش کرنے کے باوجود نہیں ملے گی‘ اور بولنے والے بھی ماشاء اللہ دین کے واحد ٹھیکے دار اور ایمان کامل کا دعویٰ کرنے والے ہیں‘ سنیٔے فقہ حنفی کے اصول میں لکھا ہے‘ ادلہ اربعہ سے فقط مجتہدہی فوائد حاصل کر سکتا ہے‘ مقلد کو تو صرف قول امام کی ضرورت ہوتی ہے۔ حنفیوں کے صدر الشریعہ فرماتے ہیں کہ
(فالادلة الاربعة انما يتوصل بها المجتهد لا المقلد فاما المقلد فالدليل عنده قول المجتهد فالمقلد يقول هذا الحكم واقع عندى لانه اوی الیه رای ابی حنيفة وكل ما أوى اليه رايه فهو واقع عندى)
(التوضيح مع التلویح ص 44 طبع نول کشور 1292ھ )
یعنی ادلہ اربعہ (قرآن و حدیث‘ اجماع اور قیاس) سے صرف مجتہد ہی کچھ حاصل کر سکتا ہے‘ مقلد نہیں‘ کیونکہ مقلد کے نزدیک تو دلیل صرف اس کے امام مجتہد کا قول ہوتا ہے‘ مقلد تو فقط یہی کہے کہ میرے نزدیک اس مسئلہ کا یہی حکم ہے اس واسطے کہ میرے امام ابو حنیفہ کی رائے یہی ہے اور جس حکم تک بھی مجھے ان کی رائے نے پہنچایا ہے بس میرے نزدیک وہی صحیح ہے‘ (انتہی)
یہ عبارت کسی حاشیہ آرائی کی محتاج نہیں‘ بلکہ اپنی تفسیر آپ ہے کہ ادلہ اربعہ کی طرف رجوع مجتہد کا کام ہے اور مقلد کی دلیل قول امام ہے‘

ثانیا:-
یہ بھی آپ کی غلط بیانی ہے کہ مقلدین کے نزدیک ضعیف حدیث بھی قیاس پر مقدم ہے‘ ملاجیون اصولی حنفی لکھتا ہے کہ
(وان عرف بالعدالة والضبط دون الفقة كانس وأبي هريرة أن وافق حديثه القياس عمل به و هو أن خالفه لم يترك الا بالضرورة وهي أنه لو عمل بالحديث لانسد باب الراي)
یعنی اگر راوی عادل و ضابط ہو لیکن فقیہ نہ ہو ، جیسے انس بن مالکؓ اور ابوہریرہؓ تو اگر ان کی روایت کردہ حدیث قیاس کے مطابق ہے تو عمل کر لیا جائے گا اور اگر قیاس کے خلاف ہے تو بالضرورۃ چھوڑ دی جائے گی‘ اس لیے کہ اگر خلاف قیاس) حدیث پر عمل کر لیا جائے تو قیاس کا دروازہ بند ہو جائے گا‘۔
(نور الانور ص 179)
مولانا محمد تقی عثمانی حنفی دیوبندی فرماتے ہیں کہ ہر حال میں تقلید ہی واجب ہے اور اپنے امام یا مفتی کے قول سے خروج جائز نہیں ، خواہ اس کا کوئی قول ان کو بظاہر حدیث کے خلاف ہی معلوم ہو تا ہو ۔
(درس ترمذی ص 122 ج 1)
کیوں جناب اب تو معاملہ صاف ہے کہ قیاس کے خلاف حدیث پر عمل کرنا جائز نہیں اور یہ کہ اگر امام کا قول گو حدیث کے خلاف بھی ہو تب بھی قول امام پر ہی عمل کرتا واجب ہے۔
ثالثاً:-
اگر واقعی آپ پہلے قرآن و سنت میں مسئلہ دیکھتے ہیں، تو آپ مبارک باد کے مستحق ہیں اللہ آپ کے اس فعل میں برکت ڈالے۔ آمین
مگر میرے عزیز بھائی یہ تقلید نہیں بلکہ ترک تقلید ہے‘ جیسا کہ ہم مقدمہ دفاع امام ابو حنیفہ کے حوالے سے ایک معتبر حنفی دیوبندی عالم کا اعتراف نہیں کر چکے ہیں مزید ملاحظہ کیجیے‘ دیوبندیوں کے مفتی اعظم اور فقیہ العصر مولوی رشید احمد صاحب فرماتے ہیں کہ رجوع الی الحدیث مقلد کا وظیفہ نہیں۔
(احسن الفتاویٰ ص 55 ج 3)
احناف کے معروف علامہ قاضی محب اللہ بہاری فرماتے ہیں کہ
(وأما المقلد فمستنده قول مجتهده الاظنه ولا ظنه)
(مسلم الثبوت ص 9)
یعنی مقلد کی دلیل صرف اس کے امام مجتہد کا قول ہوتا ہے‘ نہ تو وہ خود تحقیق کر سکتا ہے اور نہ اپنے امام کی تحقیق پر نظر ڈال سکتا ہے۔

منکرین حدیث کے نقش قدم پر کون ہے؟

ہمارے معاصر پہلے اہل حدیث کی طرف سے بن بنائے وکیل صفائی یہ اعتراض نقل کرتے ہیں کہ اگر قرآن وحدیث فقہ کے بغیر مکمل ہیں تو فقہ کی ضرورت کیا ہے‘ پھر اس سوال کا جواب رقم کرتے ہیں کہ یہ سوال منکرین حدیث کا سوال ہے‘ جو انہوں نے حدیث پاک کے متعلق مسلمانوں پر کیا تھا کہ کیا قرآن‘ حدیث شریف کے بغیر مکمل ہے یا نا مکمل ؟ اگر قرآن مکمل ہے تو حدیث مخلوق کا کلام ہے اور لاریب بھی نہیں اور حفاظت کا ذمہ بھی اللہ تعالی نے نہیں لیا تو فرمان خدا کے ہوتے ہوئے فرمان مصطفیٰ کیو نکر مانا جائے ؟ خالق کے کلام کے ہوتے ہوئے مخلوق کی بات کیوں مانی جائے ؟ لاریب کتاب کے ہوتے ہوئے ظنی حدیث خبر واحد کیوں مانی جائے؟ محفوظ کلام کے ہوتے ہوئے غیر محفوظ حدیث جو آپ صلى الله عليه وسلم سے صدیوں بعد لکھی گئی ہے‘ اسے کیوں مانا جائے؟
(تحفہ اہل حدیث ص 35)
الجواب:- اولًا:-
اچھا اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جو بھی یہ کہے کہ دین اسلام کامل و اکمل ہے‘ اس کا یہ دعویٰ منکرین حدیث سے کشید کیا ہوا ہے‘ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ مکرمی خلط مبحث علماء کی شان نہیں‘ کاش آپ نے قرآن پڑھا ہوتا‘ تو آپ کو معلوم ہو تا کہ تکمیل دین کا دعویٰ تو قرآن میں خالق کا ئنات نے کیا ہے‘ ارشاد ہوتا ہے
(الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَالْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا) (سورہ المائدہ: 3)
یعنی آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا‘ اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور اسلام کو تمہارے لیے بطور دین پسند کیا۔ (5-3)
امام راغب‘ مفردات میں فرماتے ہیں کہ
( تمام الشئ انتهاؤه الى حد لا يحتاج الى شيء خارج عنه والناقص ما يحتاج الى شئ خارج عنه )
یعنی کسی چیز کا تمام اس کا اس حد تک پہنچ جانا ہے کہ وہ اپنے سے خارج کسی چیز کی محتاج نہ ر ہے اور وہ چیز جو اپنے سے خارج کسی چیز کی محتاج ہو اسے ناقص کہا جاتا ہے۔
(المفردات فی غریب القرآن ص 75)
دین عبارت ہے قرآن وحدیث سے‘ اور اس کی تعمیل کا دعویٰ رب تعالی نے کیا ہے‘ اب اگر آپ قرآن وحدیث کو خارج میں فقہ حنفی کا محتاج جانتے ہیں تو گویا آپ نے دوسرے لفظوں میں قرآن و حدیث کو نا قص قرار دے دیا ہے‘ اس سوال کا جواب دینا آپ کا اخلاقی فرض تھا‘ مگر آپ نے عوام کو خلط مبحث میں الجھا کر اپنا الو سیدھا کیا ہے‘ اور غالباً آپ نے اسی میں ہی اپنی عافیت جانی ہے۔
ثانیاً:-
منکرین حدیث دین کی تشریح کا حق عملاً عبد اللہ چکڑالوی‘ غلام احمد پرویز وغیرہ کو دیتے ہیں، آپ فقہ حنفی کو‘ فرق کیا رہا؟ وہ سرے سے حدیث کا انکار کرتے ہیں آپ مجتہد کے اقوال کی آڑ میں منکر میں منکر ہیں‘ غور کیجیے آپ میں کتنا گہرا رشتہ ہے۔
مولانا محمود حسن خان سابقہ شیخ الحدیث دارالعلوم دیو بند‘ حديث البيعان بالخيار مالم یتفر قا ( بخاری ص 283 ج1 و مسلم ص 6 ج2) یعنی بائع اور مشتری دونوں کو ( بیع بحال رکھنے اور فسخ کر دینے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہیں ہوتے) کے بارے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی املا ئی تقریر میں فرماتے ہیں کہ
( فالحاصل أن مسئلة الخيار من مهمات المسائل وخالف ابو حنيفة فيه الجمهور وكثير من الناس من المتقدمين والمتاخرين صنفوا رسائل في ترديد مذهبه في هذه المسئلة ورجع مولانا الشاه ولی الله المحدث دهلوی قدس سره في رسائل مذهب الشافعى من جهة الاحاديث والنصوص وكذلك قال شيخنا مدظله يترجع مذهبه وقال الحق والانصاف ان الترجيح للشافعي في هذه المسئلة ونحن مقلدون يجب علينا تقليد أمامنا أبي حنيفة ) (التقرير الترمذی ص 650)
یعنی حاصل کلام یہ ہے کہ بیع بالخیار اہم ترین مسائل میں سے ہے‘ اس مسئلہ میں امام ابو حنیفہ نے جمہور علماء کرام کی مخالفت کی ہے۔ اور اکثر متقدمین اور متاخرین علماء کرام نے اس مسئلہ میں امام ابو حنیفہ کے مذہب کی تردید میں رسائل تصنیف فرمائے ہیں اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے امام شافعیؒ کے مذہب کو احادیث اور نصوص کی رو سے ترجیح دی ہے۔ اور ہمارے شیخ محمود حسن خان صاحب فرماتے ہیں کہ حق وانصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ امام شافعی کے مذہب کو اس مسئلہ میں ترجیح حاصل ہے اور ہم چونکہ امام ابو حنیفہ کے مقلد ہیں اس لیے ہم پر ہمارے امام ابو حنیفہ کی تقلید واجب ہے‘ (انتہی)
باقی جو آپ کے ہاں حدیث کا دورہ کروایا جاتا ہے تو اس کا مطلب سنت سے لگاؤ نہیں بلکہ تاویل و تحریفات کر کے فقہ کے لیے دلائل جمع کرنے ہوتے ہیں، جس کا اعتراف کھلے لفظوں میں مولانا محمد رسول خاں حنفی دیوبندی نے ایک بار‘ انجمن خدام الملت دیو بند کے سالانہ جلسہ میں تقلید کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کیا تھا، جو بعد میں رسالہ قاسم العلوم دیو بند میں شائع ہوا ان کے الفاظ ہیں کہ اہل حدیث اور ہم اتنے امر میں شریک ہیں کہ وہ بھی قرآن و حدیث پڑھتے ہیں اور ہم بھی‘ مگر فرق یہ ہے کہ ہم حدیث اس وجہ سے پڑھتے ہیں کہ امام کے جن اقوال کا منشاء ہمیں معلوم نہیں معلوم ہو جائے یعنی ہم فقہاء کے اقوال کی تائید کے لیے حدیث کا استعمال کرتے ہیں۔
( بحوالہ آئینہ ان کو دکھایا تو بر امان گئے ص 18)
ثالثاً :
چکڑالوی تو حدیث کا سرے سے انکار کرتے ہیں‘ اور ہمارے ہاں حدیث کا منکر کا فر اور کم از کم گمراہ و بے دین ہے اور اس کا مذاق اڑانے والا پکا کا فر ہے۔ کیونکہ حدیث کے بغیر دین ہی ادھورا رہ جاتا ہے۔ قرآن کی صحیح تفہیم ہی حدیث سے ہوتی ہے اور یہ منصب اللہ تعالی نے خود حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کو عطا کیا ہے۔ آپ مولانا عبد الرحمن مرحوم کیلانی کی’’ آئینہ پرویزیت‘‘ مولانا عبد الرؤف جھنڈ نگری کی ’’صیانتہ الحدیث‘‘ اور مولانا اسماعیل سلفی ر حمھم اللہ اجمعین کی ’’حجیت حدیث‘‘ کا مطالعہ کریں۔ ان شاء اللہ الرحمٰن منکرین حدیث کے جو شبہات آپ کے دل میں گھر کر چکے ہیں وہ کافور ہو جائیں گے۔
ہمارا ’’ الدین نصیحتہ‘‘ کے تحت مشورہ ہے کہ آپ پہلے اسلامی علوم میں دسترس حاصل کریں پھر مبتدعین کی کتب کا مطالعہ کریں تاکہ آپ بے راہ روی کا شکار نہ ہوں‘ یہاں آپ کے اوہام کے ازالہ کے لیے مختصر عرض ہے کہ آیت قرآنی (انا له لحافظون) بھی تو ہم کو انہی واسطوں سے پہنچی ہے جو بقول آپ کے غیر محفوظ ہیں، تو اس کی کیا دلیل ہے کہ یہ آیت کسی نے اپنی طرف سے بڑھانہ دی ہو ، پھر اس آیت میں قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا ہے‘ اور قرآن بالا تفاق اصولیین نام ہے ، نظم اور معنی دونوں کا اس لیے یہ آیت الفاظ قرآن اور معانی فرقان کی حفاظت کا بھی ذمہ لیتی ہے۔
(دیکھیے تفسیر عثمانی ص 347)
اور معانی قرآن کی حفاظت حدیث میں ہوئی ہے۔ باقی جو آپ نے حدیث کو علی الاطلاق مخلوق کا کلام کہا ہے یہ بھی آپ کی بھول ہے کیونکہ احادیث میں کلام ربانی بھی ہے جسے اصطلاحاً حدیث قدسی کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے اور جو آنحضرت صلى الله عليه وسلم کا کلام ہے وہ گو الفاظ نبوی ہیں مگر ان کی تقہیم اللہ تعالی کی طرف سے ہوئی تھی ارشاد ربانی ہے کہ
(وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ) (سورہ النجم: 3,4)
یعنی وہ پیغمبر اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کرتا‘ مگر وہی جو اس کی طرف وحی کیا جاتا ہے۔ (463-53)
مولانا عثمانی (جو کہ آپ کے معتمد مفسر قرآن ہیں ( تحفہ اہل حدیث ص 84) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آپ جو کچھ دین کے باب میں فرماتے ہیں وہ اللہ تعالی کی بھیجی ہوئی وحی اور اس کے حکم کے مطابق ہوتا ہے اس میں وحی متلو کو قرآن اور غیر متلو کو‘ حدیث کیا جاتا ہے۔
( تفسیر عثمانی ص 698)
رہا آپ کا حدیث کو ظنی کہنا یہ بھی آپ کے بھولے پن کی دلیل ہے۔ لفظ ظن عربی اور اردو میں مستعمل ہے۔ لیکن اردو میں اس کا استعمال شک‘ وہم کے مفہوم میں آتا ہے اور یہی استعمال ہمارے معاصر کے لیے لغزش کا سبب بنا ہے‘ اور نہ عربی زبان میں یہ لفظ بلا قرینہ اس معنی میں استعمال ہی نہیں ہوا۔ امام راغب فرماتے ہیں کہ
(الظن اسم لما يحمل عن امارة ومتى قويت ادت الى العلم ومتى ضعفت جداً لم يتجاوز حد التوهم)
یعنی کسی چیز کی علامات سے جو نتیجہ حاصل ہوتا ہے اسے ظن کہتے ہیں۔ جب یہ علامات قوی ہوں تو ان سے علم کا درجہ حاصل ہوتا ہے، مگر جب بہت کمزور ہوں تو وہ نتیجہ و ہم کی حد سے آگے تجاوز نہیں کرتا۔
(المفردات ص 317)
یہی وجہ ہے کہ جب نتیجہ قوی ہو تو اس کا معنی علم و یقین ہوتا ہے۔
ارشاد ربانی ہے کہ
(الَّذِيْنَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلقُوا رَبِّهِمْ ) (سورہ البقرہ:46)
یعنی جو یقین کیے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں۔
امام راغب نے اس کے علاوہ تقریباً آٹھ دس آیات کو نقل کیا ہے جس میں’’ ظن ‘‘ کا لفظ علم و یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے‘ مگر ہمارے مہربان اس کو لاریب کے بالمقابل لا کر شک وو ہم کے معنی میں باور کرا کر حدیث کو اوہام کا دفتر قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ پھر اس جہالت بھرے بیان کو تحفہ کے نام سے شائع کر کے اہل حدیث کو بطور گفٹ پیش کر کے دعوت فکر دی جارہی ہے۔ آخر میں منکرین حدیث کی وکالت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
حدیث صدیوں بعد لکھی گئی‘ معلوم نہیں اس فقرہ سے مولانا کی کیا مراد ہے ؟ اگر اس سے مقصود یہ ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے عہد مبارک میں حدیث سرے سے لکھی ہی نہیں گئی تو یہ اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ کسی دین دار سے اس کا صدور ممکن نہیں کیونکہ عہد رسالت میں احادیث کو بھی قلم بند کیا جاتا تھا۔
( بخاری ص 22 ج1)
تفصیل کے لیے مولانا تقی عثمانی کی (درس ترمذی ص 36 ج 1) کا مطالعہ کریں
اگر اس فقرہ سے آپ کا مقصد ‘ مرتب وتر تیب ہے تو بھائی یہ تو آج بھی علماء دین کرتے ہیں۔ کیا ماضی قریب میں صرف دیوبندی مکتب فکر کی طرف سے ہی ’’اعلاء السنن ‘‘ اور’’ اثار السنن ‘‘ کے نام سے احادیث کے دو جدید مجموعے شائع نہیں ہوئے ؟ تو کیا کسی کو ان کے تاخیر زمانی کی وجہ سے ہی بے کار و فضول کہنے کا حق مل گیا ہے ، عقل کے ناخن لو کیا کہہ رہے ہو‘ صحابہ کرام کے آثار‘ تابعین کے اقوال امت مرحومہ کی فتوحات‘ دینی خدمات تمام کی تمام بعد میں مرتب ہوئیں۔ تو کیا ان سب سے انکار کر دیا جائے گا‘ کہ یہ بعد کی پیداوار ہیں، خیر القرون کے تعامل کو یکسر نظر انداز کر کے آپ کون سی دین وملت کی خدمت کر سکتے ہیں؟ آپ یہ واضح ہو کہ منکرین حدیث‘ سرے سے حجیت حدیث کے ہی منکر ہیں۔ اس مؤقف کے بعد سند اور تدوین حدیث کی مباحث کا نفس مسئلہ سے کوئی جوڑ ہی نہیں‘ یا زیادہ سے زیادہ یہ ایک ثانوی بحث ہے۔
حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی مرحوم اسی چیز کا شکوہ کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ مخالفین حدیث کے پورے کیمپ سے ہمیں یہ شکوہ ہے کہ ان حضرات نے ہمیشہ خبط اور خلط مبحث کی کوشش کی، ان کا دعویٰ تو یہ ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے اقوال‘ افعال‘ اجتہادات شرعاً حجت نہیں‘ وہ خدا کا پیغام (قرآن) تو دے سکتے ہیں لیکن اس کی وضاحت کا ان کو حق نہیں اور اگر وہ اس پر عمل کریں تو وہ عمل اُمت کے لیے حجت نہیں‘ ان کی صوابدید ان کی ذات تک محدود ہے‘ ہم ان کی تعمیل کے مکلف نہیں، ظاہر ہے کہ اس میں سند کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ جو لوگ آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے بالمشافہ گفتگو فرماتے تھے ان پر بھی شرعاً اسے قبول کرنا ضروری نہ تھا‘ لہذا اگر یہ احادیث کے ذخائر تواتر نقل سے بھی ہم تک پہنچ جائیں تو بھی بلحاظ اقوال رسول یہ حجت شرعی نہیں ہیں۔ حجت شرعی صرف پیغام کے الفاظ یعنی قرآن ہے‘ اور اسی طرح اگر آنحضرت صلى الله عليه وسلم اپنی زندگی میں احادیث کا مجموعہ لکھوا دیتے اور وہ مجموعہ آج قرآن کی طرح ہمارے ہاتھوں میں ہوتا پھر جب تک وہ قرآن کے موافق نہ ہو تا ہم اسے قطعاً شر عی حجت نہ سمجھتے بلکہ اگر ہماری سمجھ اور ہمارے علم کی رو سے قرآن کے موافق اس کا مفہوم نہ ہوتا تو بھی ہم قرآن کو ترجیح دیتے اور وہ مفہوم جسے ہماری عقل قرآن تصور کرتی ہے اس کو حدیث کے اس مسلم الثبوت مجموعہ پر ترجیح ہوتی‘ اس عقیدہ کے بعد سند یا تدوین حدیث کے اوقات یا حفظ حدیث کے ظرف کی بحث بالکل بے فائدہ ہے۔ یا کم از کم یہ ایک ثانوی بحث ہے۔ جس پر ایک ضمنی دلیل کے طور پر تو بحث کی جاسکتی ہے لیکن انکار حدیث کے لیے اسے مستقل دلیل کا مرتبہ نہیں دیا جاسکتا۔
(حجیت حدیث ص 187)

دین میں فقہ کا مقام

فرماتے ہیں جس طرح منکرین حدیث کا اعتراض حدیث کے خلاف غلط ہے‘ اسی طرح آپ کا سوال فقہ کے خلاف غلط ہے۔ کیونکہ جس طرح حدیث قرآن مقدس کی تشریح ہے بعینہ اسی طرح فقہ قرآن و حدیث کی تشریح و توضیح کا نام ہے، قرآن کی وضاحت جب پیغمبرﷺ اپنے لفظوں میں بیان فرماتے ہیں اسے حدیث کہا جاتا ہے اور جب امام فقیہ‘ مجتہد قرآن وحدیث کو اپنے الفاظ میں بیان فرماتے ہیں تو اسے فقہ کہتے ہیں‘ فقہ قرآن وحدیث سے ہٹ کر کوئی نئی چیز نہیں ہے۔
( تحفہ اہل حدیث ص 36)
الجواب:- اولا:-
ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم دین کے معاملات میں جو کچھ بھی کہتے یا عمل کرتے وہ اللہ تعالی کی طرف سے وحی کے ذریعہ سے ہوتا تھا‘ جسے وحی غیر متلو کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔
مزید سنیٔے ارشاد ربانی ہے کہ
(لَا تُحَرُكَ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ * إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقَرَانَهُ * فَإِذَا قَرَأْنَهُ فَاتَّبِعُ قُرانَهُ لا ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ) (سورہ القٰیمتہ :19-16)
تم اس کے ساتھ اپنی زبان نہ ہلایا کرو تا کہ اسے جلدی یاد کرو‘ اس کا جمع کر دینا اور اس کو پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے، پس جب ہم پڑھیں تو اس کی قرآت کی پیروی کیا کرو پھر بیان کرا دینا ہمارے ذمے ہے‘
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کو قرآن کے علوم و معارف سکھانے کا ذ مہ اللہ تعالی نے لیا تھا‘ مزید سنیٔے
(وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِمُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ) (سوره الخل: 44)
یعنی ہم نے آپ پر یہ ذکر ( قرآن ) اتارا تا کہ تم لوگوں کے سامنے اسے کھول دیں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے‘ تا کہ وہ غور و فکر کریں۔
اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ قرآن کی تشریح و توضیح کا اللہ تعالی کی طرف سے حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کو حق دیا گیا اور نزول قرآن کے وقت امت مرحومہ کے لیے مشکل اور مجمل مقامات کا حل بھی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بیان کرنے کے مکلف تھے۔ جیسا کہ الفاظ لتبین‘‘ کا مقصد ہے۔
اب آپ نے امام و مجتہد کی فقہ کو بعینہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی حدیث کی طرح قرار دیا ہے کہ نبی ﷺ وحی کی تفسیر کریں تو حدیث ہوتی ہے‘ اور امام قرآن وحدیث کی تفسیر کرے تو فقہ ہوتی ہے‘ راقم عرض کرتا ہے کیا مجتہدین پر وحی نازل ہوتی تھی کہ آپ ان کی تفسیر کو بعینہ نبوی تفسیر کی طرح کہہ رہے ہیں، تو پھر مرزا غلام احمد قادیانی کا قصور کیا ہے‘ جب آپ مجتہدین کی طرف ہی وحی کے قائل ہو گئے۔ ثانیا نبی کی توضیح و تشریح بالفاظ دیگر اس کا قول و فعل اور فتویٰ غیر مشروط ہوتا ہے، غیر مشروط سے مراد یہ ہے کہ دین کے معاملہ میں نبویﷺ تفسیر و توضیح حق ہی حق ہوتا ہے جس میں غلطی کا امکان نہیں ہو تا، جس کی وجہ سے نبیﷺ کے تمام اقوال و افعال کو قبول کرنا لازم و ضروری اور تمام فرائض سے اہم فریضہ ہے‘ اس سے انحراف دین وملت سے بغاوت اور کفر محض ہے۔ جبکہ مجتہدین کے اقوال و اجتہادات میں حنفیہ خود بھی صواب و خطاء دونوں احتمال کو تسلیم کرتے ہیں‘ جبکہ نبیﷺ دین کی تبلیغ‘ اس کی نشر و اشاعت بلکہ تمام دینی امور میں معصوم ہوتا ہے‘ تو پھر نبویﷺ تفسیر اور مجتہد کی تشریح ایک کیسے ہوئی؟
آپ کے استاذ محترم مولانا سر فراز خاں صاحب صفدر فرماتے ہیں کسی ایک خاص مجتہد کی ایسی تقلید کہ اس کے قول کو حق و صواب سمجھا جائے اور اس سے خطاء اور غلطی کو نا ممکن تصور کیا جائے‘ ایسی تقلید مفضی الی الشرک ہے۔
(الکلام المفید ص 310)
ثالثاً:-
اگر مجتہد کی تفسیر بعینہ تفسیر نبویﷺ کی طرح ہے، تو آپ حضرات عقائد اور اصول میں تقلید کیوں نہیں کرتے ؟ جیسا کہ آپ کے استاذ محترم نے صراحت کی ہے کہ ہم اصول اور عقائد میں تقلید کو جائز و درست نہیں سمجھتے۔
(الکلام المفيد ص 172‘ 235)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا آپ اقوال رسول اور اسوۃ حبیب صلى الله عليه وسلم کو بھی اصول و عقائد میں غیر معتبر جانتے ہیں؟ اگر نہیں یقیناً نہیں، تو پھر یہ بعینہ ایک کس طرح ہوئے‘ معلوم ہوا کہ آپ بے راہ روی کا شکار ہوئے اور عوام کو گمراہ کرنے کا سبب بنے‘ اس سے تو بہ کر لیں‘ ہمارا برادرانہ مشورہ ہے۔

تشریح کسے کہتے ہیں؟

فرماتے ہیں‘ جیسے ہر ہر حدیث قرآن کی آیت سے ثابت نہ ہو سکنے کے باوجود قرآن کی تفسیر بن سکتی ہے‘ اسی طرح فقہ کی ہر ہر جزئی بھی قرآن وحدیث سے صراحناً ثابت نہ ہونے کے باوجود ان کی تشریح بن سکتی ہے۔ تشریح ہمیشہ اس سے زائد ہوتی ہے جس کی تشریح کی جائے ۔ مثلاً کوئی پوچھے کہ قرآن کیا ہے ؟ ذرا سوال پر غور فرمائیں کہ قرآن کیا ہے؟ تو سمجھانے والا اس طرح تشریح کرے گا کہ یہ ایک کتاب ہے جو حضرت محمد صلى الله عليه وسلم پر اللہ تعالی نے نازل کی ہے‘ یہ کتاب لاشک و لاریب ہے‘ تو دیکھئے جس چیز کی تشریح کی گئی وہ لفظ قرآن ہے اور اس کی تشریح میں بہت سے الفاظ محض بات سمجھانے کے لیے بڑھائے گئے ہیں۔ اور بسا اوقات مزید توضیح کے لیے مثال بھی دینا پڑتی ہے، اگر کوئی یہ کہے کہ تشریح کا ہر ہر لفظ مجھے وہاں دکھاؤ جس کی تشریح کی گئی ہے‘ تو یہ کم عقلی ہو گی، اس لیے جس طرح ہر ہر حدیث کا ثبوت قرآن سے مانگنا کم عقلی ہے‘ بعینہ اسی طرح ہر ہر فقہی جزئی کا ثبوت حدیث سے مانگنا عقل کا قحط عظیم ہے۔
( تحفہ اہل حدیث ص 37)
الجواب:- اولاً:-
تشریح کا مفہوم یہ ہے کہ بات کو کھول کر سمجھانا‘ دیکھیے علمی اردو لغت ص 316‘ کام راغب فرماتے ہیں کہ
(شرح المشكل من الكلام بسطة واظهار ما يخفى من معانيه )
یعنی تشریح کہتے ہیں کلام کے مشکل مقامات کی تفصیل اور مخفی معانی کے اظہار کو‘۔
(المفردات القرآن ص 258)
ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ اس چیز کا دین کے معاملہ میں حق اللہ نے محمد ﷺ کو دیا ہے اگر آپ کے پاس کوئی ایسی آیت یا صحیح حدیث ہے جس میں اللہ نے دین کی تشریح و توضیح کا حق امام ابو حنیفہ کو دیا ہے تو وہ پیش کیجیے‘
ثانیا:-
اوپر معلوم ہو گیا کہ تشریح زائد چیز کا نام نہیں بلکہ مخفی چیز کے اظہار کو شرح کہتے ہیں، پھر آپ نے اپنے مؤقف پر جو دلیل قائم کی ہے وہ نری جہالت ہے، بھائی ہم پہلے سورہ انحل کی آیت 44 نقل کر چکے ہیں اس میں محمد عربی صلى الله عليه وسلم پر نزول قرآن کا ذکر ہے‘ اور اس کے لاریب ہونے کے لیے کلام الہی سے سورہ بقرہ کی آیت 1 کا مطالعہ کریں‘ الغرض یہ چیزیں تو قرآن سے ثابت ہیں مگر آپ ان کو زائد کہتے ہیں‘ واہ رے تیری قرآن دانی اور حدیث فہی‘
ثالثاً:-
رہا آپ کا یہ کہنا کہ تمام احادیث قرآن سے ثابت نہیں ، راقم عرض کرتا ہے آپ منکرین حدیث کی طرح پہلے وحی غیر متلو کا انکار کریں پھر یہ اعتراض کریں۔ اگر آپ محمد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پر قرآن کے علاوہ بھی وحی کے قائل ہیں یقیناً ہیں تو پھر آپ اہل حدیث سے بغض میں اس حد تک نہ جائیں کہ شریعت کے حقائق کا بھی انکار کرتے جائیں۔
آپ ہماری مخالفت ضرور کریں، یہ آپ کا حق ہے جو آپ سے چھینا نہیں جا سکتا مگر خدارا ہمارے ساتھ بغض و تعصب میں آپ دین کا حلیہ مت بگاڑ یئے‘ اس کے سبب سے عوام گمراہ ہوتے ہیں اور قیامت کے روز آپ کو ذ لت اٹھانی پڑے گی‘ اللہ آپ کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
رابعاً:
جو چیزیں حدیث میں زیادۃ علی کتاب اللہ ہیں‘ ان کا تسلیم کرنا اور ان پر عمل کرنا اطاعت رسول میں داخل ہے کہ نہیں! اگر داخل ہے یقیناً ہے‘ تو پھر یہ اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہوئی‘ ار شادر بانی ہے
(مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ) (النساء:80)
یعنی جس نے اللہ کے رسول کی اطاعت کی‘ اس نے اللہ کی اطاعت کی‘
تو کیا آپ قرآن سے کوئی آیت دکھا سکتے ہیں جس میں یہ بیان ہو کہ امام ابو حنیفہ کی ایسے امور میں اطاعت کرنا لازمی و ضروری ہے جس کا ثبوت قرآن وحدیث میں نہیں‘ اور اس سے انحراف کفر ہے کیونکہ یہ اطاعت الہی سے بغاوت ہے ؟ اگر آپ کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ، یقیناً نہیں تو پھر آپ کی مذکورہ تمام تحریر باطل و مردود ہے۔

اہل حدیث کا فقہ سے ناراضگی کا سبب

پہلے اہل حدیث کی طرف سے اعتراض نقل کرتے ہیں کہ فقہ میں چونکہ اختلاف ہے جس کی وجہ سے یہ لائق عمل نہیں، پھر اس کا جواب رقم کرتے ہیں کہ میرے بھائی! آپ نے شاید چوری کا ٹھیکہ لے رکھا ہے، یہ سوال منکرین حدیث کا ہے، انہوں نے کہا تھا کہ ہم حدیث کو اس لیے نہیں مانتے کہ حدیث میں اختلاف ہے شیعہ کا کہنا ہے کہ ہم صحابہ کو نہیں مانتے کیونکہ صحابہ میں اختلاف ہے، پادری فانڈر کا کہنا تھا کہ ہم قرآن کو نہیں مانتے کیونکہ قرآن کی قراتوں میں اختلاف ہے‘ اور جناب! آپ کا فرمان ہے کہ فقہ کو اس واسطے نہیں مانتے کہ اس کے مسائل میں اختلاف ہے‘ تو یہ آپ کا کوئی نیا شگوفہ نہیں ہے، بلکہ یہی اعتراض پادریوں کا قرآن پر‘ پرویزیوں کا حدیث پر‘ شیعہ کا صحابہ کرام پر‘ اور منکرین فقہ کا فقہ پر ہے‘ بلکہ میں تو آپ سے ایک بات اور بھی کہوں گا کہ صحیح حدیث کی تعریف میں بھی اختلاف ہے‘ تو آپ صحیح کو کیوں نہیں چھوڑ دیتے‘ اگر کسی چیز میں اختلاف اس کو چھوڑنے کی وجہ ہو سکتی ہے، تو پھر قرآن و حدیث اور صحابہ کو چھوڑنے والوں پر بھی کوئی ملامت نہیں۔
(تحفہ اہل حدیث ص 37,38)
الجواب: اولاً:-
عیسائی آنحضرت صلى الله عليه وسلم کو اپنے دعویٰ میں صادق نہیں جانتے، منکرین حدیث‘ اقوال الرسول کو حجت نہیں جانتے‘ اور شیعہ عام صحابہ کے ارتداد کے قائل ہیں ‘ان چیزوں میں اختلاف کے سبب وہ منکر نہیں، جیسا کہ مؤلف باور کرانا چاہتا ہے، بلکہ اس کی ان مذاہب کے بارہ میں نادانی اور جہالت کا واضح ثبوت ہے۔
ثانیاً:
مؤلف تحفہ اہل حدیث کا حق تھاوہ پہلے اختلاف کی تعریف کرتا‘ پھر ان میں اختلاف ثابت کرتا‘ تو ہم ان کا جواب بھی ضرور تحریر کرتے مگر مؤلف تحفہ اہل حدیث نے اس میں ہی عافیت جانی کہ اصل بحث کو ادھر اُدھر کی باتوں میں الجھا کر خلط مبحث کر کے اپنا مقصود حاصل کیا جائے۔ یقین جانئے کہ مؤلف نام تو پادریوں اور منکرین حدیث کا لیتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے اپنے ولی خیالات ہی ان پراگندہ افکار و نظریات پر مبنی ہیں، آگے چل کر خود اپنی ذمہ داری سے لکھتا ہے کہ ’’ احادیث مقدسہ میں کافی اختلاف ہے‘‘۔
( تحفہ اہل حدیث ص 57)
ہمیں چوری کا طعنہ دینے والو! خود اپنی حالت پر غور کرو کہ تمہارا حسب و نسب کن لوگوں سے ملتا ہے‘ بہر حال آئیے تحقیق اختلاف کی تحقیق سنیٔے‘ کسی کلام میں تناقض کے لیے آٹھ باتوں میں اتحاد ضروری ہے۔
(1) موضوع (۲) محمول (۳) مکان (۴) شرط (۵) زمانہ (۶) اضافت (۷) جزو کل (۸) بالقوه و بالفعل کے لحاظ سے اگر دو قضیے متفق ہوں مگر ان میں ایجاب وسلب یعنی ہے اور نہیں حکم کے لحاظ سے نیز قضیہ موجہہ میں کیفیت اور محصورہ میں کمیت کا اختلاف ہو تو وہ متناقض کہلائیں گے‘ اہل منطق کا معروف مقولہ ہے۔
در تناقض ہشت و حدت شرط دال
وحدت موضوع و محمول و مکاں
وحدت شرط و اضافت جزو کل
قوت و فعل است در آخر زماں
ان شرائط کو ملحوظ رکھیے اور پوری ذریت دیو بندیت کو ساتھ ملا لیجیے اور منکرین حدیث اور پادریوں کی خدمات بھی حاصل کر لیجیے اور شیعت کی بھی قے خوری کر لیں‘ اور قرآن وحدیث میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تناقض کی نشان دہی کیجیے یہ راقم اپنی بے بضاعتی اور قصور علم کے باوجود یہ ثابت کر دے گا کہ ان دونوں میں قطعاً اختلاف نہیں ہے۔ ان شاء الر حمٰن مختصر یہاں عرض ہے کہ قرآن کا دعویٰ ہے کہ
(وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيراً) (النساء: 82)
یعنی اگر یہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں کثرت سے اختلاف پایا جاتا۔
اب جو شخص قرآن وحدیث میں اختلاف کا قائل ہے‘ وہ یقینا اس آیت فرقانی کا مکذب ہے یا دین اسلام کو غیر اللہ کی طرف سے جانتا ہے۔
ثالثاً:۔
آپ کا یہ کہنا کہ فقہاء و مجتہدین اور فقہ حنفیہ میں قطعاً اختلاف نہیں‘ یہ آپ کی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے‘ اور کتب فقہ سے کم آگاہی کا نتیجہ ہے‘ اہل الرائے نے تو اپنے اختلافات پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک روایت بھی وضع کی ہے کہ ( اختلاف امتی رحمۃ) یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے‘ دیکھیے سبیل الرشاد مندرجہ (مجموعہ رسائل گنگوہی ص 30 و فتاویٰ شامی ص 68 ج 1 )
حالانکہ یہ روایت کذب و افتراء ہے‘ اس کی کوئی صحیح سند تو کجا ضعیف بلکہ من گھڑت بھی موجود نہیں۔
(تفصیل سلسلہ احادیث الضعیفہ نمبر 57 میں دیکھیے )
افسوس روایت گھڑنے والوں کو اتنا شعور بھی نہ تھا کہ اگر امت میں اختلاف رحمت الہی ہے تو کیا اتفاق غضب الہٰی کا سبب ہے‘ اناللہ وانا الیہ راجعون
الغرض فقہ اور مجتہدین حنفیہ میں زبر دست اختلاف ہے‘ اختصار کے پیش نظر ہم مؤلف ’’ تحفہ اہل حدیث‘‘ کے مستند عالم مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی کا حوالہ عرض کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ
قول غیر مقلدین کا کہ فقہ میں بہت اختلاف ہے اور حدیث میں نہیں یہ بالکل غلط ہے‘ شاید ان لوگوں نے مشکوٰۃ بھی نہیں دیکھی محض نام حدیث کا سن لیا ہے، احادیث میں ا اس قدر تعارض ہے کہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے‘ یہ کلام محض دھوکہ دہی (نہیں) ہے۔ جس کا دل چاہے دیکھ لیوے کہ احادیث بخاری کی خود باہم متعارض ہیں اور یہی سبب اختلاف فقہاء و مجتہدین کا ہوا ہے۔ اللہ اکبر کیا غلط قول ہے کہ آفتاب پر خاک ڈالنا اس کو ہی کہتے ہیں‘ پس معلوم ہوا کہ فقہاء کا اختلاف بسبب اختلاف احادیث کے ہوا ہے۔
(سبیل الرشاد مندرجہ مجموعہ رسائل گنگوہی ص 41 طبع گوجرانوالہ)
لیجیے جناب آپ کے امام ربانی فرماتے ہیں کہ احادیث میں زبردست اختلاف ہے‘ اسے پادریوں سے سرقہ کہیں یا منکرین حدیث کے ادھار سے تعبیر کریں‘ یا خالص شیعیت کا نام دیں۔ یہ آپ کی صوابدید پر ہے‘ ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی‘ بہر حال امام ربانی نے احادیث میں اختلاف کی نوعیت کو بتاتے ہوئے اس بات کا بھی کھلے لفظوں میں اعتراف کیا ہے کہ فقہاء احناف میں مسائل کا اختلاف ہے‘ پھر عذر لنگ پیش کیا ہے کہ چونکہ احادیث میں اختلاف ہے۔ اس لئے فقہاء میں بھی اختلاف ہے یعنی احادیث فقہاء کے اختلاف کا سبب بنی ہیں معنی یہ ہوا کہ کلام رسول میں تناقض ہے۔
حالانکہ فقہاء و مجتہدین کے اختلاف کا سبب نصوص کا اختلاف نہیں بلکہ صحیح حدیث کا نہ ملنا‘ منسوخ کا علم نہ ہونا وغیر ہ اسباب ہیں‘ نہ کہ فی نفسہ نصوص میں ہی اختلاف ہے۔
قارئین کرام آپ تقلید پر لکھی ہوئی کوئی بھی کتاب پڑھ لیجیے مقلدین حضرات جب تقلید کے فوائد بیان کرتے ہیں تو ان میں ایک فائدہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ چونکہ قرآن میں بعض آیات محکم و متشابہ ہیں، بعض ناسخ و منسوخ ہیں اور اس طرح احادیث میں زبر دست اختلاف ہے‘ لہذا کسی امام و مجتہد کا دامن پکڑ لیجیے وہ آپ کو ان تمام چیزوں سے بے نیاز کر دے گا اس کے لئے ہمیں باہر سے دلیل لانے کی ضرورت ہی نہیں خود مؤلف ’’ تحفہ اہل حدیث‘‘ اپنے پراگندہ دل سے چند احادیث میں بزعم خود تناقض ثابت کرنے کے بعد کہتا ہے کہ
’’اس قسم کی سینکڑوں احادیث پیش کی جاسکتی ہیں، جن میں کافی تعارض و تخالف موجود ہے۔ پھر آگے رفع تعارض کے لیے امام ابو حنیفہ کی تقلید کی دعوت دی ہے”۔
(تحفہ اہل حدیث ص 57 تا 59)
اب انصاف سے کہنا کہ احادیث میں تعارض بتانا منکرین حدیث کا فعل ہے ؟ یا اس کی ابتداء اہل الرائے نے کی تھی‘ اور منکرین حدیث کے لیے سیٹرھی تو آپ نے فراہم کی ہے ور نہ پرویزی حضرات تو علم حدیث سے اتنا ہی واقف ہیں جتنا ایک جاہل حروف ابجد سے شنا سا ہوتا ہے۔
مولانا اسماعیل سلفی مرحوم فرماتے ہیں کہ
’’ یہ تمام حضرات عموماً اسلامی علوم کو انسائیکلو پیڈیا سے حاصل کرنے کے عادی ہیں۔ یہ قرآن کی تاریخ اور پیغمبر اسلام علیہ السلام کی سیرت کو مسٹر نکلس سے سیکھنا انتہائی تحقیقات تصور کرتے ہیں۔ ان کی اکثریت ایسی ہے جنہوں نے اسلامی علوم کو اسلامی ماخذ سے حاصل نہیں کیا بلکہ اسلامی علوم کو یور پین مستشرقین اور انگریزی زبان کے توسط سے سیکھا ہے۔ ترجمہ قرآن عزیز میں جن حضرات کا مدار مسٹر ولیم میور پر ہے اگر وہ حدیث کا انکار کریں تو انہیں کون روکے اور کیونکر “۔
( حجیت حدیث ص 185)
الغرض مقلدین کے منتشر خیالات سے اس مؤقف نے جنم لیا اور اس کی وجہ اختلاف فقہ پر پردہ ڈالنا تھا‘ اور عوام کو تقلید کی دعوت دینا تھا، مگر افسوس کہ مؤلف یہاں انکاری ہیں۔ مگر چند صفحات آگے چل کر اس کی پر زور تائید و حمایت کرتے ہیں‘ اور عوام کو تقلید کی دعوت دیتے ہیں، لیکن یہاں اُلٹا چور کو توال کو ڈانٹے ہم پر برس رہے ہیں کہ یہ سوال‘ پادریوں منکرین حدیث‘ اور شیعہ کا ہے‘ اس سے بڑھ کر دنیا میں اور جھوٹ کیا ہو سکتا ہے۔ کتب فقہ حنفیہ دنیا سے غائب نہیں ہو گئیں‘ بلکہ موجود ہیں ان کی مراجعت کر لیجیے آپ مولانا گنگوہی کی حرف بحرف تائید پائیں گے۔ چند امثلہ پیش خدمت ہیں ملاحظہ کریں‘
(1) ہدایہ ص 22 ج 1 باب الماء الخ میں ہے کہ (عن ابي حنيفة هو طاهر) یعنی امام ابوحنیفہ کے نزدیک وضو کا مستعمل پانی پاک ہے‘ پھر اس صفحہ میں ہے کہ (وقال ابو حنيفة …. هو نجس) یعنی امام ابو حنیفہ کا فتویٰ ہے کہ وضو کا مستعمل پانی پلید ہے۔
(۲) ہدایہ ص 22 ج 1 باب الماء الخ میں ہے کہ (عن ابي حنيفة نجساسة غليظة) يعني وضو کا مستعمل پانی پیشاب پاخانہ کی طرح نجاست غلیظہ ہے۔ اس صفحہ میں ہے کہ (هو قوله نجاسة خفيفة) یعنی امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس کی نجاست غلیظہ نہیں ہے۔
(۳) ہدایہ ص 23 ج 1 باب الماء الخ میں ہے کہ (عندابی حنفية كلاهما نجسان) یعنی اگر جنبی کنویں میں اتر اتو اس کا غسل نہیں اترا‘ بلکہ کنواں اور جنبی دونوں ہی پلید ہیں‘ اسی صفحہ میں ہے کہ (ان الرجل طاهر) یعنی جنبی پاک ہو جاتا ، جنبی کا غسل اتر جاتا ہے۔
(۴) ہدایہ ص 24 ج 1 باب السمع الخ’ میں ہے کہ (لایجوز المسح على الجوربين عندا بی حنیفة) یعنی جرابوں پر مسح امام ابو حنیفہ کے نزدیک جائز نہیں‘ اسی صفحہ میں ہے (انه رجع الى قولهما) یعنی جرابوں پر مسح جائز ہے امام ابو حنیفہ کا یہی فتویٰ ہے۔
(۵) ہدایہ ص 56 ج 1 باب الانجاس الخ میں ہے کہ ( فاذا جف على الثوب اجزا فيه الفرن) یعنی جب منی کپڑے پر سوکھ جائے تو کھرچنے سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے۔ اسی صفحہ میں ہے کہ ( وعن ابي حنيفة انه لا يطهر ) یعنی صورت مذکورہ میں کپڑا پاک نہیں ہوگا۔
(۶) ہدایہ ص 64 ج 1 باب المواقیت میں ہے کہ (واخر وقتها عند ابي حنيفة اذا صار ظل كل شئ مثلیہ) یعنی امام ابو حنیفہ کے نزدیک ظہر کا وقت ہر چیز کا سایہ دو گنا ہو جانے تک ہے‘ اسی صفحہ میں ہے کہ (اذا صار الظل مثله وهو رواية عن أبي حنيفة ) یعنی ایک روایت میں امام ابو حنیفہ کا قول ہے کہ ظہر کا آخری وقت ہر چیز کا سایہ برابر ہونے تک ہے۔
(۷) ہدایہ ص 64 باب المواقیت میں ہے کہ (واول وقت العصر الخ ) یعنی جب سایہ دو گنا ہو جائے تب عصر کا وقت شروع ہوتا ہے۔ اس صفحہ میں ہے کہ (واول وقت العصر ) یعنی ایک گنا سایہ جب ہو جائے تب عصر کا وقت شروع ہوتا ہے۔
(۸) ہدایہ ص 66 باب الموٰاقیت میں ہے کہ (ثم الشفق هو البياض الذي في الافق بعد الحمرة عند ابي حنيفة) يعنى امام ابو حنیفہ کے نزدیک جب تک شفق غائب نہ ہو‘ مغرب کا وقت ہے‘ اور شفق کہتے ہیں اس سفیدی کو جو آسمان کے کناروں پر سرخی غائب ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ اس صفحہ میں ہے کہ (هو الحمرة وهو رواية عن ابي حنيفة ) یعنی شفق سرخی کو ہی کہتے ہیں۔
(۹) ہدایہ ص 74 ج 1 باب الاذان میں ہے کہ ( يكره ان يقيم على غير وضوء) یعنی وضو کے بغیر اقامت کہنا مکروہ ہے‘ اس صفحہ میں ہے کہ (یروی انه لا تكره الاقامة ايضاً) يعني وضو کے بغیر اقامت کہنا مکروہ نہیں۔
(۱۰) ہدایہ ص 90 باب صفۃ الصلواۃ میں ہے کہ (فان اقتصر على احدهما جاز. عند ابي حنيفة) یعنی اگر سجدہ میں صرف ناک زمین پر ٹکائے ، پیشانی نہ لگائے تو بھی جائز ہے۔ اس صفحہ میں ہے (لایجوز ) ایسا کرنا جائز نہیں۔ تلك عشرة كاملة
یہ دس مسائل ہم نے فقہ حنفی کی معتبر کتاب ہدایہ (جس کے بارے میں مقدمہ ہدایہ ازعلا لکھنوی میں لکھا ہے کہ یہ قرآن کی طرح ہے) نقل کیے ہیں اور ان تمام اقوال کو کہنے والے امام ابو حنیفہ ہیں‘ اب ایمان سے کہنا کہ ان میں تناقض ہے کہ نہیں۔

کیا فقہ کا اختلاف قرات قرآن کی طرح ہے؟

فرماتے ہیں کہ
فقہ میں حقیقتاً کوئی اختلاف نہیں ، صرف آپ کو نظر آتا ہے‘ جیسے قرآن پاک کی قرآتیں دو قسم کی ہیں، شاذ اور متواتر‘ شاذ قراتوں کو قرآن نہیں کہا جاتا بلکہ متواتر قراتوں کا نام قرآن ہے‘ پادری لوگ قرآن پاک کی شاذ قراتوں پر ہمیشہ اعتراض کرتے ہیں‘ اور ہم یہی جواب دیا کرتے ہیں کہ جو آپ پیش کرتے ہیں وہ شاذ قرآئیں ہیں قرآن نہیں۔ اسی طرح احادیث بھی دو قسم کی ہیں، صحیح اور غیر صحیح ، دونوں قسم کی روایتیں کتابوں میں درج ہیں، منکرین حدیث غیر صحیح احادیث اٹھا کر مسلمانوں پر اعتراضات کرتے ہیں، تو ان کا جواب ہم یوں دیتے ہیں کہ صحیح حدیث پر اعتراض کرو۔ جس پر تم اعتراض کر رہے ہو وہ تو حضورﷺ کا فرمان ہی نہیں ہے۔ غیر صحیح احادیث کو صحیح احادیث کے ساتھ ملا کر کہنا کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے فرمان میں تضاد و اختلاف ہے یا ناسخ و منسوخ کا علم نہ ہونے کی وجہ سے دو حدیثوں کا آپس میں تضاد بتا نا غلط ہے۔
اسی طرح فقہ حنفی کے اقوال بھی دو قسم کے ہیں مفتی بہ اقوال اور غیر مفتی بہ اقوال مفتی بہ اقوال کا نام فقہ حنفی ہے‘ ان کے اندر کوئی اختلاف اور تضاد نہیں ہے، یہ تضاد اسی طرح ہے جس طرح پادری کو قرآن میں اور منکرین حدیث کو احادیث میں نظر آتا ہے‘ آپ کو فقہ میں نظر آتا ہے۔
( تحفہ اہل حدیث ص 38,39)
الجواب: اولاً:-
بلاشبہ قرآت شاذ اور ضعیف حدیث حجیت شرعی نہیں ہے‘ کیونکہ شاذ قرآت نہ قرآن ہے اور ضعیف احادیث فرمان مصطفیٰ نہیں ہے اب اس بات پر قائم رہنا‘ کیونکہ آپ کو مکرنے کی عادت ہے۔
ثانیاً:-
ہم متعدد بار عرض کر چکے ہیں کہ پادری اور منکرین حدیث سرے سے قرآن وحدیث کے منکر ہیں‘ اور نہ پادری اسلام قبول کر لیں اور منکرین حدیث صحیح احادیث کو اپنا لائحہ عمل بنالیں‘ مگر ہم نہ تو فقہ کی افادیت کے منکر ہیں‘ نہ اس کو کلی طور پر باطل کہتے ہیں‘ ہاں البتہ ہمارے اور آپ کے نزدیک فقہ کے تعین میں اختلاف ہے، آپ حضرات کتب فقہ حنفیہ کے ابواب الحیل وغیرہ کو فقہ کہتے ہیں اور ہم قرآن و حدیث اور دین میں سمجھ کا نام فقہ رکھتے ہیں، محدثین کرام قرآن و حدیث اور آثار صحابہ کرام سے مسائل استنباط کرتے تھے اور ہیں‘ جبکہ مقلدین کا گروہ اپنے امام کے قواعد و کلیہ سے تخریج مسائل کرتے تھے اور ہیں‘ تفصیل (حجۃ اللہ کے باب الفرق بین اہل الحدیث و اصحاب الرائے) میں موجود ہے۔
ثالثاً:-
آپ کا مفتی بہ اور غیر مفتی بہ کی تقسیم کر کے فقہ کے اختلاف کو مٹانے کا دعویٰ ہی سرے سے باطل ہے کیونکہ جن اقوال کو آپ غیر مفتی بہ کہتے ہیں وہ بہر حال فقہائے احناف کے مجتہدین فی المذاہب یا ارباب ترجیح وغیرہ کے فتاویٰ ہیں جو بہر حال ان کے نزدیک مفتی یہ ہیں، اس سے انکار محض ضد ہے۔ علاوہ ازیں کسی مجتہد فی المذہب کے قول کو محض غیر مفتی بہ کہہ کر رد کر دینا عقل و شعور کا قحط ہے‘ کیا انہوں نے امام ابو حنیفہ کے قواعد واصول سے اس مسئلہ کو استنباط نہیں کیا تھا‘ تو پھر وہ مجتہد فی المذ ہب کیا ہوئے آپ کی طرح رطب و یابس کو جمع کرنے والے اور مقلد اعمیٰ ہوئے۔

فقہ حنفیہ میں کچی اور پکی باتیں

فرماتے ہیں کہ مفتی بہ کا لفظ فتی سے بنا ہے، جس کا معنی ہے مضبوط طاقتور نوجوان‘ تو مفتی بہ اقوال کا معنی ہو گا مضبوط باتیں‘ آپکی باتیں‘ غیر مفتی بہ کچی باتیں ہو نگی‘ میرے دوست! آپ . جب بھی اعتراض کرتے ہیں، کچی باتوں پر اعتراض کرتے ہیں اور انہیں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں‘ یہ بات تو اللہ تعالی نے بھی فرمائی ہے کہ میرے کلام پاک میں دو قسم کی آیات ہیں، محکمات اور متشابہات، فرمایا محکمات کی اتباع کرو اور متشابہات کے پیچھے نہ پڑو‘ فرمایا جس کا دل ٹیڑھا ہو گا وہ ان کے پیچھے پڑے گا‘ میرے بھائی ! آپ کو بھی اعتراض کے لیے صرف شاذ اقوال اور غیر مفتی بہ اقوال ملے ہیں، جن کو ہم فقہ حنفی ہی نہیں مانتے اعتراض کرنا ہے‘ تو فقہ حقی پر کر کے دیکھو۔
( تحفہ اہل حدیث ص 40)
الجواب:- اولاً:-
آپ نے جو غیر مفتی بہ کی وضاحت کی ہے کچی باتیں‘ پھر قرآن کی متشابهات آیات سے مثال دے کر آپ نے کہا ہے کہ ہم غیر مفتی بہ اقوال کو فقہ حنفی تسلیم نہیں کرتے‘ تو کیا آپ متشابہ آیات قرآن کو کلام الہی اور قرآنی آیات بھی تسلیم کرتے ہیں یا نہیں ؟ اگر آپ متشابہات آیات کو قرآن تسلیم نہیں کرتے‘ تو یہ اتنا بڑا کلمہ کفر ہے، اگر بغیر تو بہ مرگئے تو بغیر حساب و کتاب کے سیدھے جہنم میں جاؤ گے۔ اگر آپ متشابہ آیات کو قرآن تسلیم کرتے ہیں ؟ تو مثال کے چہ معنی!
ثانیاً :
آپ نے جو مفتی بہ کے لفظ کی تشریح کی ہے وہ غالباً ماسٹر امین کی تقلید میں کی ہے‘ دیکھئے تجلیات صفدر ص 102 ج 1 حالا نکہ یہ تعریف غلط ہے۔ علامہ شامی فرماتے ہیں کہ
(و مشتقه من الفتى وهو الشاب القوى وسميت به لان المفتى يقوي السائل بحواب حادثته)
یعنی فتویٰ کا لفظ فتی سے مشتق ہے‘ اور وہ مضبوط جو ان کو کہتے ہیں اور اس کا فتویٰ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ مفتی سائل کے جواب میں اسے طاقت دیتا ہے جو اسے حادثہ پیش آگیا ہو۔
( فتاویٰ شامی ص 72 ج 1)
اس تعریف کو ملحوظ رکھیے تو مفتی بہ کا معنی صاف ہو جاتا ہے کہ مفتی کے فتویٰ کو مفتی بہ کہتے ہیں‘ یہ الگ بات ہے کہ اس کا فتویٰ غلط ہے یا صحیح‘ ہمارے اس موقف کی تائید حنفیہ کے طبقات مسائل سے بھی ہوتی ہے‘ ان کا کہنا ہے کہ فتویٰ مطلق قول امام پر ہو گا‘ پھر قاضی ابو یوسف‘ پھر امام محمد ‘ پھر ز فراور حسن کے قول پر فتویٰ ہوگا اگر امام ابو حنیفہ ایک طرف ہوں اور دوسری طرف قاضی ابو یوسف اور امام محمد ہوں تو مجتہد فی المذ ہب کو اختیار ہے کہ جس پر چاہے فتویٰ دے دے۔
(فتاویٰ شامی ص 70 ج 1)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ مطلق قول امام پر فتویٰ دیں گے تو باقی مجتہدین بالخصوص امام محمد اور قاضی ابو یوسف کی باتیں کچی ہونگی اور جب امام محمد اور قاضی ابویوسف کے فتاویٰ پر مفتی فتویٰ دے گا تو امام ابو حنیفہ کی باتیں کچی قرار پائیں گی، جنہیں آپ نے غیر معتبر کہہ کر باطل قرار دے دیا ہے‘ جب آپ کے آئمہ ثلاثہ کے بعض اقوال ہی باطل قرار پائے تو آپ حضرات ان کے اقوال کی نشر واشاعت اور اس کی طرف دعوت کیوں دیتے ہیں جس میں باطل کی آمیزش ہو چکی ہے۔
ثالثاً:-
آپ کا یہ کہنا کہ اہل حدیث ہمیشہ غیر مفتی بہ اقوال پر ہی اعتراض کرتے ہیں‘ جو بقول آپ کے وہ سرے سے فقہ حنفی ہی نہیں، بھائی غصہ تھوک دیجیے ذرا ٹھنڈے دل سے غور کیجیے کہ جب ہمارے اعتراضات ہی فقہ حنفی پر نہیں تو آپ جواب کس بات کا لکھ رہے ہیں‘ علاوہ ازیں حنفیہ کے لیے حقیقت الفقہ از حد تکلیف دہ کتاب ہے‘ اس پر آپ کو صرف یہ اعتراض ہے کہ اس میں فلاں فلاں حوالہ غلط ہے۔
( تحفہ اہل حدیث ص 95)
(جن کی حقیقت آگے آرہی ہے) مگر آپ کو یہ کہنے کی جرات و ہمت نہیں ہوئی کہ اس میں فلاں فلاں قول مفتی بہ نہیں آپ کی یہ روش بتارہی ہے کہ آپ نے محض دفعہ الوقتی سے کام لے کر پلہ چھڑانے کی کوشش کی ہے ورنہ اہل حدیث کے اعتراضات اپنے اند روزن رکھتے ہیں، جن کے جوابات آپ کے پاس بہر حال نہیں ہیں۔
رابعاً:-
حنفیہ نے لکھا ہے کہ کتب فقہ حنفیہ میں سے حسب ذیل کتب غیر معتبر ہیں ‘ جن میں رطب دیا بس اور ضعیف اقوال ہیں۔ مثلاً (۱) جامع الرموز (۲) شرح مختصر الوقايا لابی المکارم (۳) فتاویٰ ابراہیم شاہی (۴) کتب نجم الدین زاہدی (۵) السراج الوہاج شرح مختصر قدوری (۲) الاحکام الفخر الدین رومی (۷) فتاویٰ صوفیہ (۸) فتاویٰ ابن نجم الدین (۹) فتاویٰ طوری (۱۰) خلاصه کیدانی) مقدمه عمدة الرعايتہ ص 12‘ پوری کوشش اور ہمت سے جستجو کر کے ہمیں بتائیے کہ ان کتب سے کس اہل حدیث نے اقوال چن چن کر حنفیہ کا رد کیا ہے۔ راقم پورے جزم و یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ آپ اس کی ایک مثال بھی نہیں دے سکتے‘ ہماری طرف سے جب بھی اعتراض ہوا آپ کی معتبر کتب فقہ اور ان کے مندرجہ اقوال پر ہوا‘ اگر ان معتبر کتب میں بھی غیر معتبر روایات ہیں تو بتائیے پھر آپ کی معتبر کتب میں مفتی بہ اقوال کے معتبر ہونے کی کیا دلیل ہے۔
مفتی بہ اور غیر مفتی بہ قول میں امتیاز کا کس کو حق ہے کیا ان میں احناف ائمہ ثلاثہ نے تمیز کی ہے یا بعد والوں نے اگر خود ائمہ ثلاثہ نے تمیز کی تھی تو ان مردود اقوال کو جمع کیوں کیا گیا اور اگر یہ تمیز بعد والوں نے کی ہے تو وہ تمہارے ائمہ ثلاثہ سے بڑے مجتہد ہوئے جنہوں نے اپنی ذہنی صلاحیتوں سے اکا بر ائمہ کے اقوال میں تمیز کی ہے کہ فلاں امام کا یہ قول مفتی بہ ہے اور فلاں کا یہ قول غیر مفتی بہ ہے تو پھر تم اکابر کو چھوڑ کر ان متاخرین کی تقلید کیوں نہیں کر لیتے ہو۔
در اصل مفتی بہ اور غیر مفتی بہ متاخرین حضرات کی اصطلاح ہے جنہوں نے اپنے ائمہ کے فتووں میں من مرضی کرنے کے لئے یہ اصول وضع کیا۔
خامساً:-
آپ کی اس بات کو اگر تسلیم بھی کر لیا جائے ؟ تو تب بھی مضائقہ نہیں‘ کیونکہ آگے ہم نے بفضلہ تعالی فقہ حنفی پر ایک طائرانہ نظر ڈالی ہے اور ہر ہر قول و فتویٰ کے ساتھ اس کا مفتی بہ ہونا بھی نقل کیا ہے۔ کیسے ان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟

شریعت میں نسخ کس طرح ہوتا ہے

فرماتے ہیں جس طرح جو نوٹ منسوخ ہو جائے‘ اس پر ہر گز نہیں لکھا جاتا کہ یہ سوروپے کا نوٹ منسوخ ہو گیا ہے‘ اس کے منسوخ ہونے کی علامت یہ ہے کہ بازار میں نہیں چلتا‘ حدیث منسوخ ہونے کی علامت بھی خلفاء راشدین کے دور سے معلوم ہوگی، اگر خیر القرون میں اس پر عمل ہوا ہے تو وہ حدیث صحیح اور قابل عمل ہو گی اور اگر خیر القرون میں اس پر عمل نہ ہوا تو وہ روایت منسوخ سمجھی جائے گی۔
( تحفہ اہل حدیث ص 41)
الجواب:- اولاً:-
آپ کا کرنسی سے احکام شریعت کی مثال دینے سے ثابت ہو گیا ہے کہ آپ کو اسلامی علوم میں دسترس نہیں ہے‘ کیونکہ جب حکومت کی طرف سے کرنسی تبدیل ہوتی ہے تو وہ ایک مدت تک مارکیٹ میں چلتی رہتی ہے، حتی کہ بتدریج وہ کرنسی اسٹیٹ بینک میں واپس چلی جاتی ہے، جہاں اسے جلا کر ضائع کر دیا جاتا ہے‘ جبکہ نسخ لغت میں کسی چیز کے ابطال کو کہتے ہیں‘ اور اصطلاح میں شریعت کے کسی حکم کا انتہا بتاتا ہے۔
(مرقاة ص 362 ج 1 و كتاب التعريفات ص 106 للجرجانی )
ارشاد ربانی ہے کہ
(فَيَنْسَحُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيطنُ ثُمَّ يُحْكِمُ الله ایتٰہ ) (الحج : 52)
یعنی اللہ شیطان کے القا کو مٹادیتا ہے اور اپنی آیات کو مضبوط کرتا ہے۔
اس تعریف کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوئی کہ شریعت کا جب کوئی حکم منسوخ ہوتا ہے تو وہ فی الفور منسوخ ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا حکم لے لیتا ہے‘ اس کی واضح مثال کتب حدیث میں تحویل قبلہ کا واقعہ ہے۔ کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نماز کی حالت میں تھے جب بیت المقدس کی بجائے کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا تو آپ علیہ السلام نے نماز کی حالت میں ہی منہ بیت اللہ کی طرف کر لیا، جس کی حکمت بھی اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں بیان کر دی کہ خاص نماز کی حالت میں اس حکم کا نزول اتباع رسول کی پر کھ تھی کہ کون کرتا ہے اور کون نہیں کرتا؟
ثانیا:
کرنسی حکومت کی طرف سے جاری ہوتی ہے اسے منسوخ کرنے کا حق بھی حکومت کے پاس ہوتا ہے‘ اسے مارکیٹ منسوخ نہیں کرتی‘ جیسے آپ سمجھ بیٹھے ہیں، اسی طرح دین میں احکام بھی اللہ کی طرف سے نافذ ہوتے ہیں (خواہ وہ قرآن سے یا نبی صلى الله عليه وسلم کی مبارک زبان سے ) اور انہیں منسوخ کرنے کا حق بھی اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے پاس ہے کوئی مارکیٹ اسے منسوخ نہیں کر سکتی۔
ثالثاً:
اگر آپ کا دور خلافت راشدہ سے یہ مقصود ہے کہ کوئی بھی منسوخ حکم پر عمل نہ کرتا ہو‘ تو یہ پہلے سے بھی بڑھ کر آپ کی لاعلمی ہے‘ کیونکہ متعدد صحابہ کرام بعض منسوخ حکم پر مدت تک عمل کرتے رہے۔ مثلاً حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو رکوع میں تطبیق کے نسخ کا علم نہ تھا‘ ابن عباسؓ ایک مدت تک متعہ کے قائل رہے۔ (بخاری و مسلم)
اگر آپ کی اس سے یہ مراد ہے کہ کسی حکم شرعی کے بارے میں خلفاء راشدین کے دور میں اس وجہ سے عمل نہ ہوا کہ وہ منسوخ ہو چکا تھا‘ اس میں تفصیل ہے۔
(۱) وہ مسئلہ دور خلفاء میں پیش آیا ہو‘ اور انہوں نے منسوخ ہونے کی وجہ سے ناسخ پر عمل کیا ہو۔ اور وہ بلا نکیر نافذ ہو گیا ہو۔
(۲) اگر کسی مسئلہ کی دور خلفاء میں ضرورت ہی پیش نہیں آئی اور قرآن وحدیث سے وہ حکم منسوخ ثابت نہیں ہوتا‘ تو وہ منسوخ نہیں‘ بلکہ وہ دستور شریعت اور آئین اسلام ہے۔ اور اسے بعد کے فقہاء کے اقوال منسوخ نہیں کر سکتے۔ مگر آپ ایسی ایک مثال بھی ہمارے خلاف نہیں دے سکتے‘ یہی وجہ ہے کہ آپ نے ابتداء نام تو دور خلفاء راشدین کا لیا مگر آخر میں اس میں‘ خیر القرون کو بھی شامل کر لیا‘ اور ہو سکتا ہے کہ اس سے آپ کا مقصود امام ابو حنیفہ ہوں کہ وہ جس کو چاہیں منسوخ کر دیں‘ مگر تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں، میرے بھائی! ان عیاریوں سے مسائل کا حل آپ تلاش کر رہے ہیں، مسائل کا حل قرآن وحدیث‘ میں ہے‘ اس کی اتباع کیجیے اللہ توفیق عطا فرمائے۔
رابعاً:
کیا آپ دور خلافت راشدہ بلکہ پورے خیر القرون کے زمانہ میں ایک بھی مثال دے سکتے ہیں کہ محض کسی کے فتویٰ و قول کی بنا پر شریعت کے حکم کو امت مرحومہ نے بلا نکیر منسوخ تسلیم کر لیا ہو‘ حالانکہ قرآن وحدیث میں اس کے نسخ کی کوئی بھی دلیل نہ تھی ہماری ‘ طرف سے دنیا بھر کے مبتد عین دیابنہ کو کھلا چیلنج ہے کہ وہ اس کی ایک ہی مثال پیش کر دیں‘ مگر یا در کھو پوری دنیا سے کوئی اہل الرائے اس کی ایک مثال بھی نہیں دے سکتا۔ ان شاء اللہ

تقلید امام میں اتباع رسول اللہ علی اللہ

فرماتے ہیں کہ امتی کی بات اگر نبی سے ٹکرار ہی ہو تو بات نبی ہی کی مانی جائے گی‘ اگر امتی کی بات پیغمبر سے ٹکرانہ رہی ہو‘ بلکہ ٹکراؤ محض فرض کر لیا جائے تو اس کا علاج آپ خود ہی متعین کرلیں، اس کی وضاحت شاہ ولی اللہؒ نے فرمائی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں
(ما اقتدينا بأمامنا الالعلمنا انه اعلم منا بكتاب الله وسنة رسوله ) (حجة البالغد)
ہم تو اپنے امام کی اقتداء محض اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہم سے زیادہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو جانتے ہیں۔
منکرین حدیث نے خالق اور مخلوق کا چکر دے کر حدیث رسولﷺ چھوڑا دی، آپ نے نبی و امتی کا چکر دے کر فقہاء کی فقہ چھوڑ وادی‘ آپ اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں اور منکر حدیث اپنے آپ کے اہل قرآن کہتے ہیں۔ ( تحفہ اہل حدیث ص 23)
الجواب: اولاً:-
منکرین حدیث کی مشابہت کا تفصیل سے ہم جواب عرض کر چکے ہیں کہ وہ تمہارے ہی اقوال کی روشنی میں معرض وجود میں آئے ہیں، علاوہ ازیں اگر فقہ چھڑوانے سے منکرین حدیث سے تشبیہ ہے تو اس میں ماشاء اللہ آپ بھی شریک ہیں۔ کیونکہ مخالفت احادیث کی صورت میں ترک فقہ حنفیہ کا آپ نے بھی اعتراف کر لیا ہے‘ یہی اہل حدیث کا مؤقف ہے۔
مولانا محمد اسماعیل سلفی مرحوم حسن البیان کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’اس قسم کی سینکڑوں جزئیات مروجہ فقہ کے دفاتر میں موجود ہیں‘ جو عقل و نقل و شعور کے دامن کو بڑے زور سے جھنجھوڑتی ہیں‘ بجز تقلید اور عصبیت کے ان کے قبول کے لیے ذہن آمادہ نہیں ہوتا‘‘۔
ان گزارشات کا یہ مطلب نہیں کہ فقہ حنفیہ کے سارے مسائل سطحی اور عدم احتیاط پر مبنی ہیں بلکہ بعض مقامات میں انتہائی تفقہ اور گہرائی سے کام لیا ہے‘ اور بڑی محتاط روش اختیار فرمائی گئی ہے۔ اس لیے دور اندیش اور محقق علماء کی رائے ہے کہ ان مروجہ مسالک سے کسی مسلک کے ساتھ کلی وابستگی نہیں رکھنی چاہیے ’’ خذ ماصفاء دع ما کدر‘‘ پر عمل ہونا چاہیے۔
(مقدمہ حسن البیان ص 17)
ثانیاً:-
آپ نے ’’حجۃ اللہ البافتہ‘‘ سے جو حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا کلام نقل کیا ہے‘ اسے ہم نے ’’حجۃ اللہ‘‘ کے متعلقہ مباحث‘ تقلید میں دیکھ لیا ہے، ہمیں نہیں ملا‘ اسے کذب وافترا کہنا تو آپ کی شان میں گستاخی ہو گی غالباً آپ نے کسی رسالہ سے نقل کر دیا ہے اور مراجعت نہیں کی ورنہ یہ غلطی نہ ہوتی، بالغرض اگر اس عبارت کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو خود امام ابو حنیفہ نے اپنے سے اعلم امام مالکؒ کی تقلید کیوں نہ کی‘ امام شافعی کے ساتھ مناظرہ میں امام محمد نے تسلیم کر لیا تھا کہ قرآن وحدیث اور آثار صحابہ کا علم امام مالکؒ کے پاس امام ابو حنیفہ سے زیادہ تھا‘ جس پر امام شافعی رحمہ اللہ نے امام محمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ
(قال الشافعي فلم يبق الا القياس والقياس لا يكون الاعلى هذه الاشياء فعلی ای شی نقیس )
( تاریخ ابن خلکان ترجمه امام مالک)
امام شافعیؒ نے کہا کہ اب رہ گیا قیاس‘ اور قیاس تو انہیں چیزوں پر ہوتا ہے تو اب کس بات میں دونوں کا مقابلہ کرو گے‘
امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ نے امام شافعیؒ سے اس طرح نقل کیا ہے کہ
(ما بقى بيننا وبينكم الا القياس ، ونحن نقول بالقياس ولكن من كان بالاصول اعلم كان قياسه اصح)
(صحتہ مذہب اہل المدینہ ص 36)
یعنی اب ہمارے اور تمہارے درمیان رہ گئی قیاس، جس کے ہم بھی قائل ہیں ، لیکن جو اصول ( قرآن وحدیث آثار صحابہ ) کو زیادہ جانتا ہو گا اس کی قیاس بھی بہتر ہو گی۔
ثالثاً:-
رہا آپ کا یہ کہنا کہ ٹکراؤ محض فرض کر لیا جائے الخ اس عبارت سے غالباً آپ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ فقہ حنفی کے جس قدر قرآن وحدیث کے خلاف مسائل ہیں وہ صرف فرضی داستان ہے حالانکہ یہ کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ آئمہ اربعہ میں سے سب سے زیادہ قرآن و سنت کی مخالفت فقہ حنفی میں پائی جاتی ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد فرماتے ہیں کہ
’’نا قابل انکار دلائل سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ فقہ حنفی جس قدر اسرار شریعت کے خلاف ہے کوئی فقہ نہیں‘‘۔
(حواشی ابو الکلام آزاد ص 275)
یہ اس شخص کی گواہی ہے جس کو دیو بندی حنفی قرار دیتے ہیں۔
( قادیانی بٹالوی گٹھ جوڑ ص 81)
خود حضرت امام کے شاگردوں نے ایک ثلث مسائل میں ان سے اختلاف کیا ہے‘ جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ تو کیا یہ ساری فرضی داستانیں ہیں، علاوہ ازیں راقم الحروف نے آگے ایک مستقل باب باندھا ہے، حنفی فقہ کے مفتی بہ اقوال نقل کیے ہیں‘ اگر آپ میں ہمت ہے تو ہر ہر مسئلہ کو قرآن و سنت سے ثابت کیجیے ورنہ ارباب عقل و خرد آپ کے اس دعویٰ کو محض دیوانہ بیکار خویش ہشیار تصور کریں گے۔

کیا تقلید پیش امام کی اقتداء کی طرح ہے؟

فرماتے ہیں ہم اتباع واطاعت تو نبی صلى الله عليه وسلم ہی کی کرتے ہیں لیکن امام اعظم ابو حنیفہ کی راہنمائی میں‘ اس کی مثال اس طرح ہے کہ نماز با جماعت میں ایک امام ہوتا ہے باقی مقتدی‘ امام تکبیر تحریمہ کہتا ہے مقتدی بھی کہتا ہے، لیکن امام کے بعد اور امام کی اتباع میں امام و مقتدی دونوں کی تحریمہ اللہ کے لیے ہوتی ہے‘ امام قیام کرتا ہے‘ مقتدی بھی قیام کرتا ہے‘ مگر دونوں کا قیام اللہ کے لیے ہوتا ہے، لیکن مقتدی کا قیام امام کی اتباع میں ہوتا ہے‘ امام رکوع کرتا ہے‘ مقتدی بھی رکوع کرتا ہے، دونوں کار کوع اللہ کے لیے ہوتا ہے، لیکن مقتدی کار کوع امام کی اتباع میں ہوتا ہے۔ امام سجدہ کرتا ہے‘ مقتدی بھی سجدہ کرتا ہے دونوں کا سجدہ اللہ کے لیے ہے لیکن مقتدی کا سجدہ امام کے پیچھے پیچھے ہوتا ہے اور امام کی اتباع میں ہوتا ہے۔ امام رکوع و سجدہ سے سر اٹھاتا ہے‘ مقتدی بھی اٹھاتا ہے‘ لیکن امام کے بعد اور اتباع امام میں‘ اسی طرح تشہد بھی‘ الغرض نماز با جماعت میں امام ارکان نماز ادا کرتا ہے مقتدی بھی کرتا ہے لیکن مقتدی ہر محل میں امام کے پیچھے رہتا ہے ، آگے نہیں بڑھتا‘ اگر آگے بڑھے گا تو حدیث کے مطابق گدھا ہو گا۔ اب اگر کوئی غیر مسلم کہے کہ
امام کی تحریمہ اللہ کے لیے مقتدی کی امام کے لیے‘ امام کا قیام اللہ کے لیے مقتدی کا قیام امام کے لیے امام کا رکوع اللہ کے لیے مقتدی کار کوع امام کے لیے امام کا سجدہ اللہ کے لیے مقتدی کا سجدہ امام کے لیے امام کا قومہ جلسہ اللہ کے لیے مقتدی کا تشہد امام کے لیے۔ امام کا سلام اللہ کے لیے اور مقتدی کا سلام امام کے لیے۔
( تحفہ اہل حدیث ص 44,45)
الجواب:- اولاً:-
ہمارے بھائی کو یہ وہم اس لیے ہوا ہے کہ وہ تقلید شخصی اور اقتداء امام کو مترادف الفاظ سمجھ بیٹھا ہے۔ حالانکہ ان الفاظ کے معانی میں بعد المشرقین ہے ، تقلید کا معنی پہلے عرض کیا جاچکا ہے۔ ( تقلید ایسے عمل کا نام ہے جو کسی کی بات پر بغیر دلیل کے عمل کیا جائے) جبکہ لفظ اقتداء بمعنی کسی کی پیروی میں اس جیسا کام کرنا آتا ہے۔
(المصباح المنير ص 494)
ارشاد ربانی ہے کہ
(أُولئِكَ الذِينَ هَدَى اللهُ فَيَهْدَهُم الجدة ) (الانعام : 90)
یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی تھی تو تم ان کی ہدایت کی پیروی کرو۔
آئمہ لغت نے صراحت کی ہے کہ لفظ اقتداء بمعنی’’ اسوہ ‘‘ استعمال ہوتا ہے۔
(تاج العروس ص 289 ج 10 ولسان العرب ص 171 ج 15 )
اس معنی کو ملحوظ رکھیے تو آپ کی دلیل کا واضح مقصود یہ ہے کہ جیسے امام ابو حنیفہ نے اجتہاد کیا ویسے ہی تم بھی اجتہاد کرو‘ جیسے انہوں نے کسی کی تقلید نہیں کی ویسے ہی آپ کسی کی تقلید نہ کریں۔
ثانياً:-
تقلید شخصی میں آپ حضرات کا یہ دعوی‘ ہے کہ صرف ایک ہی امام کی لازم و ضروری بلکہ واجب ہے۔ کبھی کسی کی اور کبھی کسی کی تقلید کی تو گمراہ ہو جائے گا اور دین ایک کھلونا بن جائے گا۔
(دیکھئے درس ترمذی ص 120 ج 1‘ للعثمانی‘ )
مولانا محمد اسماعیل سنبھلی حنفی دیوبندی ذرا سنبھل کر فرماتے ہیں کہ
’’اس بے دینی ‘کم عقلی اور نفس پرستی کے دور میں تقلید شخصی ضروری اور واجب ہے‘‘
( تقلید آئمہ اور مقام ابو حنیفہ ص42)
قارئین کرام جب اس بات کو اچھی طرح آپ سمجھ گئے ہیں، تو اب سوال یہ ہے کہ کیا مقلدین پیش امام کے بارے میں بھی یہی موقف رکھتے ہیں کہ صرف ایک ہی امام کے پیچھے نماز ادا کرنی چاہیے اور اس کی اقتداء سے الگ ہو کر دوسرے کی اقتداء میں نماز ادا کرنا بے دینی و گمراہی ہے‘ اگر دیو بندی یہی موقف رکھتے ہیں کہ صرف ایک ہی امام کی اقتداء میں نماز ادا کرنی چاہیے تو پھر سن لیجیے کہ آپ حضرات سے بڑھ کر دنیا میں کوئی ناخواندہ واجڑ‘ نہیں اگر آپ پیش امام کی اقتداء کے متعلق ایسا نظریہ نہیں رکھتے یقیناً نہیں رکھتے تو پھر یہ تقلید شخصی کی دلیل کیسے ہوئی الغرض یہ دلیل آپ کے دعویٰ پر تقریب نام نہیں۔
ثالثاً:-
حضرت محمد مصطفی صلى الله عليه وسلم نے عبدالرحمن بن عوفؓ کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے
مسلم كتاب الصلاة باب تقديم الجماعة من يصلى بهم اذا تاخذ الامامالحديث (۲۷۴/۱۰۵)
اس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ فاضل مفضول کی اقتداء میں نماز ادا کر سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ مجتہد ایک عامی کے پیچھے نماز ادا کر سکتا ہے۔ میرے بھائی جب آپ کے نزدیک اقتداء نماز اور تقلید ایک ہی چیز کا نام ہے تو کیا مجتہد ایک جاہل واجڑ کی بھی تقلید کر سکتا ہے؟
رابعا:-
پیش امام کی اقتداء کا حکم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہے کہ
(انما جعل الامام ليؤتم به ) ( صحیح مسلم ص 177 ج 1 عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ )
یعنی امام اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے‘
مہربانی فرما کر ایسی ہی حدیث آپ بھی پڑھ دیجئے کہ جس کا یہ معنی ہو کہ امام ابو حنیفہ اس لیے پیدا کیے گئے ہیں کہ تم ان کی تقلید کرتے رہو اگر آپ ایسی کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل دکھا دیں تو ہم ماننے کو تیار ہیں‘ اگر نہیں دکھا سکتے تو اس بیمار قیاس کو اپنے پاس ہی رہنے دیں اہل حدیث ایسے فضول تحفوں کو قبول نہیں کرتے۔
خامساً:-
بعض ضعیف احادیث سے ہر فاسق و فاجر کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔
(ابود اور ص 343 ج 1 و دار قطنی ص 56 ج 2 و بیہقی ص 121 ج 3 نصب الرایہ ص 26 ج 2)
یہ روایات ضعیف ہونے کی وجہ سے ہمار ا موقف نہیں مگر حنفیہ اس کے قائل ہیں ، جس کی وضاحت حاشیہ ابوداؤد ص 343 ج 1 نمبر 6 میں مولانا فخر الحسن گنگوہی نے فرمائی ہے‘ ابن ھمام فرماتے ہیں کہ گو یہ روایت منقطع ہے مگر ہمارے نزدیک یہ مقبول اور درجہ حسن کی روایت ہے۔
(فتح القدیر ص 305 ج 1)
الفرض حنفیہ کے نزدیک فاسق و فاجر کی اقتداء جائز ہے۔
(ہدايه مع فتح ص 304 ج 1 و فتاویٰ شامی ص 561 ج 1 و البحر الرائق ص 349 ج او فتاویٰ عالم گیری ص 84 ج 1)
سوال یہ ہے کہ آپ کے نزدیک فاسق و فاجر اور بدعتی کی تقلید بھی جائز ہے ؟ اگر جائز ہے تو مبارک ہو‘ شاید اسی دلیل کے پیش نظر مولانا اشرف علی تھانوی نے ’’احکام اسلام عقل کی نظر میں‘‘ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تقلید کرتے ہوئے اس کی تالیف اسلامی اصول کی فلا سلفی‘ سے احکام کا فلسفہ اخذ کیا‘ بلکہ مرزا قادیانی کی ایک درجن سے زائد کتب میں سے صفحات کے صفحات نقل کئے جس کی تفصیل ہمارے شیخ مولانا محمد یحییٰ گوندلوی حفظہ اللہ نے اپنی ایک نادر تالیف ‘ مطرۃ الحدید‘ میں درج کی ہے‘ اور آپ کے استاذ المکرم مولانا سر فراز خاں صاحب صفدر نے تھانوی صاحب کی اندھی عقیدت ( تقلید) میں تھانوی صاحب کے واسطہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارات کو عقیدہ حیاۃ النبی ﷺ کے اثبات میں پیش کیا‘ ہم یہاں قارئین کی دلچسپی کے لیے دونوں کی عبارات کو نقل کرتے ہیں۔

مولانا صفدر صاحب کی عبارت:

پس یہ امر کہ ارواح کا قبور کے ساتھ تعلق ہوتا ہے‘ اس چشم سے لینا چاہیے جس کو کسی قدر کشفی آنکھ نے بھی بتلایا ہے کہ اس تودہ خاک سے ارواح کا ایک تعلق ہوتا ہے اور السلام علیکم یا اھل القبور کہنے سے جواب ملتا ہے‘ جو آدمی ان قویٰ سے کام لے جن سے کشف قور ہوتا ہے تو وہ ان تعلقات کو دیکھ سکتا ہے۔ غرض روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضروری ہوتا ہے‘ انسان میت سے کلام کر سکتا ہے۔ ارواح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے‘ جہاں اس کے لیے ایک مقام ملتا ہے‘ اور یہ ایک ایسی مسلم بات ہے کہ ہندوؤں کی کتابوں میں بھی اس کی گواہی موجود ہے۔ پس یہ مسئلہ عام طور پر مسلمہ مسئلہ ہے بجز اس گمراہ فرقے کے جو نفی بقائے روح کرتا ہے۔
( تسکین الصدور ص 98 طبع 1986ء)

مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارت:

تو یہ امر کہ ارواح کا قبور کے ساتھ تعلق ہوتا ہے‘ اس چشم سے دیکھنا چاہیے اور کشفی آنکھ نے بتلایا ہے کہ اس تودہ خاک سے روح کا ایک تعلق ہے اور السلام علیکم یا اہل القبور کہنے سے جواب ملتا ہے‘ پس جو آدمی ان قویٰ سے کام لے جن سے کشف قبور ہو سکتا ہے
(غرض روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے‘ انسان میت سے کلام کر سکتا ہے‘ روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے جہاں اس کے لیے ایک مقام ملتا ہے میں پھر کہتا ہوں که یه ایک ثابت شدہ صداقت ہے، ہندوؤں کی کتابوں میں بھی اس کی گواہی موجود ہے۔ یہ مسئلہ عام طور پر مسلمہ مسئلہ ہے بجز اس فرقہ کے جو نفی بقائے روح کرتا ہے)۔
(مرزائی اخبار الحکم جلد 3 شماره 3 مؤرخہ 23 جنوری 1899ء ص 2،3 ملفوظات مرزا ص 191 ج 1‘ طبع جدید)
ان دونوں عبارات کو پڑھئیے یہ ‘کا‘ کی‘ کے علاوہ من و عن ہیں۔ حضرت نے نقل بھی اسے عقیدہ کے اثبات میں کیا ہے‘ معلوم یوں ہوتا ہے کہ دیوبندی مکتب فکر میں‘ حیاة النبی صلى الله عليه وسلم کا عقیدہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تقلید سے آیا ہے‘ یہ تمام تقلیدی آفات ہیں جن سے اللہ تعالی ہر مسلمان کو محفوظ رکھے۔ آمین یاالہ العالمین
سادساً:-
باقی رہا غیر مسلم کا جواب تو جب غیر مسلم اعتراض کرے گا تو ہم خود ہی اسے جواب دے لیں گے‘ آپ نے نہ کبھی پہلے اس سلسلہ میں کوئی قابل ذکر خدمت کی ہے اور نہ ہی اب آپ کو تکلیف دی جائے گی‘ یا پھر ان سے وکالت نامہ لے آیئے کہ اس کی ہار ہماری ہار‘ اور اس کی جیت ہماری جیت ہو گی۔ تو پھر دیکھیے کہ آپ کو کیسے لتاڑا جاتا ہے۔

تقلید اور راہنمائی کا فرق

فرماتے ہیں کہ ہم سنت حضور صلى الله عليه وسلم کی مانتے ہیں، لیکن امام کی اتباع وراہنمائی میں‘ ہم شریعت حضور صلى الله عليه وسلم کی مانتے ہیں مگر امام کی راہنمائی میں‘ ہم طریقہ نماز حضور صلى الله عليه وسلم کا لیتے ہیں لیکن امام کی اتباع ور اہنمائی میں۔
( تحفہ اہل حدیث ص 45)
الجواب: اولاً:-
عربی زبان میں راہنمائی کے لیے تحت‘ قيادة‘ بالار شاد‘ وغیرہ الفاظ آتے میں (قاموس الجدید ص522) مؤلفه مولوی وحید الزمان قاسمی کیرانوالی حنفی دیوبندی‘ مؤلف کا حق تھا کہ وہ لغت عرب سے تقلید بمعنی تحت قيادة ( راہنمائی) ثابت کرتا‘ پھر یہ دعویٰ کرتا‘ مگر یہ کام مشکل بلکہ نا ممکن تھا، تو مؤلف نے بدون دلیل ہی دعویٰ کر دیا‘ اور اسی میں ہی ان کی عافیت تھی‘
ثانیاً:-
اگر آپ کا مقصود سنت‘ شریعت اور طریقہ نماز کو ہی معلوم کرنا تھا تو ان کے متعلق جن بھی معتبر ذرائع سے معلومات حاصل ہو تیں آپ انہیں تسلیم کرتے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ ایک ہی کی تخصیص کرلی‘ خاص کرنے پر آپ کے پاس دلیل تو ہے نہیں۔
ثالثاً:-
جب آپ نے ایک کو خاص کر لیا اور باقی معتبر ذرائع سے منہ پھیر لیا بلکہ انہیں عملاً غیر معتبر قرار دے کر شریعت کے بعض احکام کی تحریف کی حد تک تاویل کی‘ بعض سنن کا انکار کر دیا‘ ملت اسلامیہ میں گروہ بندی کر کے قرآن کے ارشاد کو عملاً ترک کر دیا کہ
(وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً وَلَا تَفَرَّقُو) (آل عمران: 103)
یعنی اللہ کی رسی (قرآن وسنت) کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں فرقہ فرقہ نہ بنو!
مگر آپ نے حنفی شافعی‘ مالکی‘ جنبلی وغیرہ گروہ بندی کر کے جس طرح اس فرمان الہیٰ کا مذاق اڑایا ہے وہ ہر باشعور آدمی پر واضح ہے۔
رابعاً:-
بالفرض اگر آپ کی بات کو درست تسلیم کر لیا جائے تو آپ سے سوال یہ ہے کہ آپ عقائد میں تقلید کو کیوں حرام کہتے ہیں؟ مثلاً مقلدین اللہ کو مانتے ہیں مگر امام کی رہنمائی میں۔ انبیاء کو مانتے ہیں مگر امام کی راہنمائی میں۔ مقلدین قرآن کو مانتے ہیں‘ مگر امام کی راہنمائی میں وغیرہ ایسی ہم بیسیوں مثالیں عرض کر سکتے ہیں۔ مگر ہمارا مقصود صرف عوام کو سمجھنا ہے شمار کرانا نہیں۔
الغرض آپ حضرات عقائد میں تقلید جائز نہیں جانتے یہی وجہ ہے کہ حنفیہ عقائد میں ماتریدی ہیں‘ جس سے یہ بات ہمارے سامنے کھل کر آجاتی ہے کہ آپ سنت اسے مانتے ہیں جسے ابو حنیفہ سنت کہے‘ شریعت وہ مانتے ہیں، جسے امام ابو حنیفہ شریعت کہیں‘ طریقہ نماز آپ کو وہ قبول ہے جو ابو حنیفہ بتلائے‘ اس کے علاوہ آپ کسی کی بات کو قبول نہیں کرتے‘ خواہ اس کے خلاف قرآن ہو یا حدیث‘ اجماع امت ہو یا تعامل اہل مدینہ یا دور خلفاء راشدین کا دستور ہو، آپ قرآن کا ترجمہ کرنا اور کتب احادیث کے تراجم تک کو مارقیت سے تعبیر کرتے ہیں، جیسا کہ ہم دفاع امام ابو حنیفہ ص 26 کے حوالے سے عرض کر چکے ہیں بلکہ امام کے قول پر نظر ثانی کرنے والے کو بے دینی قرار دیتے ہیں‘ اسی کا ہی دوسرے لفظوں میں نام تقلید ہے‘ ایمان سے کہنا کہ اس کا ’’راہنمائی‘‘ سے کیا تعلق‘ مثلاً ایک شخص نے کراچی جانا ہے‘ وہ کراچی جانے کے لیے اور وہاں کے معروف مقامات کے متعلق راہنمائی کا محتاج ہے‘ اسے تو معلومات درکار ہیں خواہ کوئی بھی جاننے والا بتادے‘ اس کا یہ سرے سے مطلب ہی نہیں کہ میں تو صرف ابو بلال سے ہی پوچھوں گا خواہ وہ صحیح بتائے یا غلط‘ اسی پر ہی عمل کرونگا اور اس کے خلاف کوئی بادلیل بات بھی قبول نہیں کرونگا۔ پہلا طریقہ راہنمائی ہے‘ دوسرا طریقہ تقلید ہے‘ جسے کوئی عقل مند قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
خامساً:-
آپ کے استاذ المکرم فرماتے ہیں کہ
’’ تقلید توان پیش آمدہ مسائل میں جائز ہے جو نہ قرآن کریم سے صراحتہ ثابت ہوں اور نہ احادیث صحیحہ صریحہ سے اور نہ اقوال حضرات صحابہ کرام سے ‘‘۔
(الکلام المفید ص 235)
جبکہ آپ نے تقلید کا نام راہنمائی رکھ کر سنت‘ شریعت اور طریقہ نماز وغیرہ کی مثالیں دی ہیں‘ بتائیے یہ پیش آمدہ مسائل ہیں یا ان پر قرآن وسنت اور اقوال صحابہ سے روشنی پڑتی ہے ؟ اگر یہ پیش آمدہ نہیں یقیناً نہیں‘ تو بتائیے آپ کا ذب ہیں یا آپ کے استاد؟

اسناد حدیث اور تقلید

فرماتے ہیں ‘ محدثین بھی تو امتی تھے‘ محد ثین کون سے نبی تھے‘ بات پھر پھر اکر پھر امت شمث پر آگئی، لیکن بخاری شریف یا جتنی بھی حدیث کی کتب ہیں‘ ان میں ہر حدیث سے پہلے سند موجود ہے‘ یہ ناموں کی قطار اسے سند کہتے ہیں‘ اور سند میں سارے امتی ہوتے ہیں‘ امتی کو واسطہ بنانا پڑتا ہے‘ پھر پیغمبرﷺ کی حدیث ملتی ہے۔
(تحفہ اہل حدیث ص 46)
الجواب:- اولاً:-
سند گواہی کے زمرے میں آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب راوی ثقہ نہ ہو بلکہ ضعیف و متروک ہو‘ نیسان کا مریض ہو‘ لقمہ قبول کر لیتا ہو‘ سند اور متن میں گڑبڑ کرتا ہو‘ تو اس کی گواہی غیر معتبر ہو کر روایت ضعیف ہو جاتی ہے‘ معتبر کی گواہی کو قبول کرنا اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کا حکم ہے‘ خود رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے گواہی کی بنا پر فیصلے صادر فرمائے‘ جس سے ثابت ہوا کہ گواہ کی گواہی کو ہم نے قرآن و سنت کی اتباع میں قبول کیا کہ یہ جو کچھ اپنا چشم دید واقعہ بیان کر رہا ہے یہ سچا ہے۔ جبکہ تقلید کہتے ہیں کہ مجتہد کے اجتہاد کو بغیر دلیل کے قبول کرنے کو جبکہ گواہی میں دلیل ہوتی ہے کہ وقوعہ اور کلام کو میں نے دیکھا ہے یا فلاں کی گفت و شنید کو سنا ہے۔
ثانیا:-
گواہ کی گواہی کے لیے مجتہد ہونا شرط نہیں، تو کیا تقلید غیر مجتہد کی بھی جائز ہے؟ جواب یقیناً نفی میں ہے‘ تو پھر یہ تقلید کی دلیل کیسے بن گئی؟
ثالثاً:-
مقلد صرف ایک ہی مجتہد کی تقلید کرتا ہے، تو کیا یہ بھی درست ہے کہ قاضی (جج) بھی صرف ایک ہی گواہی پر فیصلہ صادر کر دے‘ علاوہ ازیں اگر قاضی کہے کہ میں فقط فلاں شخص کی ہی گواہی قبول کرونگا‘ اس کے علاوہ تمام لوگوں کی گواہی غیر معتبر ہے‘ یا ایک شخص کہے کہ روایت مجھے وہی قبول ہے جو فلاں شخص سے مروی ہے تو کیا ایسا جج اور انسان قابل مذمت ہے‘ اگر قابل مذمت ہے تو پھر یہ تقلید کی دلیل کس طرح بن گئی؟
را بعاً:- تقلید میں مجتہد کے قول کو بطور دلیل قبول کیا جاتا ہے‘ جبکہ گواہی میں اور سند حدیث میں راوی کی خبر کو قبول کیا جاتا ہے‘ ظاہر ہے کہ ان دونوں میں فرق واضح ہے۔ کیونکہ تقلید میں امام کے اجتہاد کو بغیر دلیل کے قبول کیا جاتا ہے۔ جبکہ حدیث کی سند میں راوی اپنا حس ظاہر کرتا ہے کہ میں نے آنحضرت صلى الله عليه وسلم کو ایسے کرتے دیکھا۔

کیا اہل حدیث بھی تقلید کی دعوت دیتے ہیں؟

مقلدین حضرات کا مؤقف و نظریہ ہے کہ ابتداء میں صرف تقلید مطلق ہی تھی‘ جو کوئی جس کی چاہتا تقلید کر لیتا تھا‘ آخر اس میں قباحتوں نے جنم لینا شروع کیا یا اس کا خدشہ تھا که اگر مطلق تقلید کی اجازت بدستور رہی تو اس میں قباحتیں پیدا ہو نگی‘ ان کے سدباب کے لیے بقول مولانا عثمانی علماء نے چوتھی صدی ہجری میں تقلید شخصی کو واجب قرار دے یا۔
(درس ترمذی ص 121 ج 1 )
پھر مولانا عثمانی اس کو واجب قرار دینے پر دلائل بھی نقل کرتے ہیں ، مگر یہ دلائل تمام کے تمام نفس مسئلہ سے سرے سے تعلق ہی نہیں رکھتے جس کی وجہ سے بالآخر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ’’ تقلید شخصی کا وجوب کوئی شرعی حکم نہیں بلکہ ایک انتظامی فتویٰ ہے‘‘۔
(درس ترمذی ص 121 ج 1)
الغرض مولانا کی تحریر الجھی ہوئی ہے‘ اسے واجب بھی قرار دینے پر مصر ہیں‘ مگر خود ہی اسے انتظامی فتویٰ کہہ کر تردید بھی کر رہے ہیں‘ بہر حال اگر مولانا اور دیگر مقلدین کے ان پریشان خیالات کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو تب بھی تقلید شخصی ہوائے نفس کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے‘ کیونکہ حنفیہ میں سے ہی‘ مسئلہ خلق قرآن نے جنم لیا‘ اعتزال نے بھی یہاں سے نشو و نما پائی‘ حنفیہ سے ایک کثیر گروہ قبر پرستی اور بدعات کا دلدادہ ہو گیا‘ بلکہ فقہ حنفی کی تقلید کرنے والوں میں اکثریت بے دین اور نماز جیسے اہم رکن اسلامی تک کے ہی تارک ہیں‘ اس خداداد مملکت اسلامیہ پاکستان میں‘ سینما و غیرہ کے مالک عموماً حنفی حضرات ہیں‘ اگر تقلید ہی ہوا پرستی کا علاج تھا تو آج ہوا پر ستوں کے یہ کام ہر جگہ کیوں موجود ہیں؟ پور املک ہوا پرستی کا شکار ہے، اگر تقلید شخصی ہی ان امراض کا علاج اور نسخہ شفا تھا تو ظاہر ہے کہ یہ مفید ثابت نہیں ہوا‘ اور خود ہی انتظامی فتویٰ انتظام میں غیر مؤثر ثابت ہونے کی وجہ سے بے کار ہو گیا۔ لیکن پوری حفیت آج بھی ان فوائد کو گنواتی تھکتی نہیں‘ اور پورے زور و شور سے اس کا پرچار کرتی ہے۔ پھر تقلید شخصی میں بھی ان لوگوں نے آئمہ اربعہ کو مخصوص کر لیا کہ ان کے علاوہ اب کسی اور کی تقلید جائز نہیں “۔
(دیکھیے الکلام المفید ص 116)
پھر ان آئمہ اربعہ میں سے بھی کسی ایک کو ترجیح دیکر منتخب کرنا ہے، ظاہر ہے کہ ان چاروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا اجتہاد ہے، تقلید نہیں‘ (اور اجتہاد قرآن وحدیث میں ہوتا ہے جس کے لیے ان کا علم ہونا ضروری ہے) اور بقول مقلدین اجتہاد فقط مجتہد کا کام ہے۔ اور مجتہد کے لیے تقلید جائز نہیں ، تحفہ اہل حدیث ص 63 اور اگر آئمہ اربعہ میں سے کسی کا انتخاب ( تقلید آگیا ہے ) ہے تو ظاہر ہے کہ اصول میں تقلید ہے اور اصول میں تقلید خود مقلدین کے نزدیک جائز نہیں، جیسا کہ ہم الکلام المفید ص 235 کے حوالے سے عرض کر چکے ہیں۔
یہ بات مؤلف تحفہ اہل حدیث کے دل میں بھی اضطراب کا باعث بنی تو اہل حدیث کے موقف کو نہایت بھونڈے پن سے نقل کرتے ہیں کہ ’’ آپ امام ابو حنیفہ کی بات کو کیوں لیتے ہیں‘‘ دوسرے ائمہ کی بات کو کیوں نہیں لیتے‘‘ پھر ادھر اُدھر کی باتوں میں الجھا کر آخر اپنے راگ کی تان اس پر توڑتے ہیں کہ ’’اگر امام ابوحنیفہ کی تقلید شرک ہے‘ تو چاروں کی تقلید تو بہت بڑا بلکہ چار گنا بڑا شرک بنے گا‘ مجھے شرک سے نکالتے نکالتے بڑے شرک میں پھنسا ر ہے ہو اگر ایک بت کو سجدہ حرام ہے تو چار بتوں کو سجدہ کیسے توحید بن گئی‘ واہ آپ کی منطق صرف ایک امام کی تقلید تو شرک ہے، لیکن چاروں کی تقلید توحید ہو گئی ہے‘‘۔
( بلفظہ تحفہ اہل حدیث ص 47)
ذرا سوال پر غور کیجیے پھر ہمارے بھائی کے جواب کو دیکھئے ان دونوں میں کونسی مناسبت ہے‘ سوال تو امام ابو حنیفہ کی تقلید کو اختیار کرنے میں وجہ ترجیح کے بارے ہے‘ جواب نفس تقلید کے بارے ہے۔ یہ جواب تو تب درست تھا کہ جب ہماری طرف سے صرف امام ابو حنیفہ کی تقلید کو شرک کہا جاتا اور باقی کو عین توحید قرار دیا جاتا‘ مگر ہمارا دامن اس سے پاک ہے‘ ہمارے نزدیک تمام مجتہدین کی تقلید کا حکم ایک ہی ہے‘ ہم امام ابو حنیفہ کی تقلید ترک کروا کر ائمہ ثلاثہ (امام مالکؒ‘ امام شافعیؒ‘ امام احمد بن حنبلؒ) میں سے کسی ایک کی تقلید کے نہ داعی و مبلغ ہیں اور نہ ہی ہمارا یہ موقف ہے ‘ خلط مبحث علماء کی شان نہیں لہذا آپ اصل سوال پر غور کریں پھر اس کا کوئی جواب عنایت کریں۔

امام ابو حنیفہ کی تقلید میں وجہ ترجیح

مولانا فرماتے ہیں کہ ” میرے بھائی اس واسطے کہ امام اعظم ابو حنیفہ بہ نسبت دوسرے ائمہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کے زیادہ قریب ہیں‘ زمانہ کے اعتبار سے نبی علیہ السلام نے فرمایا:
(خیرامتي قرني ثم الذي يلونهم ثم الذين يلونهم)
بہترین میر ازمانہ ہے اس کے بعد تابعین کا اور اسکے بعد تبع تابعین کا‘
تو نبی علیہ السلام سے قریب ترین زمانے میں امام صاحب ہوئے ہیں، ہم ان کی بات کو ترجیح دیتے ہیں۔
( تحفہ اہل حدیث ص 47)
الجواب:-
اولاً:-
معلوم یوں ہوتا ہے کہ مؤلف تحفہ اہل حدیث اس دلیل کو تحریر کرتے ہوئے گھبراہٹ کا شکار تھا، اس کی بے قراری‘ اضطراب اور بد حواسی کی یہ دلیل ہے کہ لفظ قرنی کے بعد ثم الذی‘ نقل کیے ہیں‘ حالانکہ درست الفاظ ثم الذین کے ہیں۔
( بخاری ص 515 ج 1 و مسلم ص 309 ج 2)
ثانیا:۔
اس فضیلت میں کیا امام ابو حنیفہ منفرد ہیں ؟ یا خیر القرون کی پوری امت مرحومہ بھی اس میں داخل ہے؟ یقین داخل ہے۔ تو پھر یہ وجہ ترجیح کیسے ہو گئی ؟ اگر کہو کہ آئمہ اربعہ میں سے یہ عظمت صرف امام ابو حنیفہ کو ملی ہے‘ تو یہ بات دروغ گوئی پر مبنی ہے کیونکہ آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ تبع تابعین تک خیر القرون کا زمانہ ہے‘ اور تبع تابعین کا زمانہ 220ھ میں ختم ہوتا ہے‘ جیسا کہ شارحین حدیث نے صراحت کی ہے۔ (دیکھئے فتح الباری ص 4 ج 7) مولانار شید احمد گنگوہی فرماتے ہیں کہ
’’ اس حدیث خیر القرون میں تابعی اور تبع تابعین دونوں داخل ہیں اور تبع تابعین کا عہد دو سو سال کے بعد تک رہا‘‘۔ (سبیل الرشاد مندرجہ مجموعہ رسائل گنگوہی ص30)
اس بات کو ملحوظ رکھیں تو آئمہ ثلاثہ اس فضیلت میں داخل ہیں ۔ امام مالکؒ ولادت 85 وفات 179ھ‘
عام شافعی ولادت 150ھ وفات 204ھ‘ امام احمد بن حنبلؒ ولادت 164ھ وفات 241ھ‘ زمانہ کے اعتبار سے امام احمدؒ بن حنبل بھی اس میں داخل ہیں گو آپ کی کسی تابعی سے ملاقات ثابت نہیں ، تو پھر بھی کچھ مضائقہ نہیں کیونکہ امام مالک اور امام شافعیؒ کو بہر حال یہ عظمت و بزرگی حاصل ہے۔

تقلید کے فوائد اور ان کی حقیقت

مولانا فرماتے ہیں کہ آئمہ کرام نے کوئی الگ دین نہیں بنالیا‘ امام اعظم ابو حنیفہ جو خیر القرون کے امام ہیں‘ نبی علیہ السلام نے ان کے بارے میں خوشخبری سنائی تھی کہ ایک شخص فارس سے اٹھے گا اگر ایمان ثریا ستارے تک بھی پہنچ چکا ہو گا وہاں سے بھی لا کر لوگوں کے سامنے پیش کر دے گا۔
احادیث مقد سہ میں کافی اختلاف ہے‘ وجہ اختلاف یہ ہے کہ بعض جگہ حضور علیہ السلام ایک حکم صادر فرماتے تھے کچھ مدت کے بعد دوسرا حکم صادر فرماتے‘ اب حدیثیں دونوں ہوتی ہیں ایک کام کے کرنے والی اور دوسری نہ کرنے والی‘ پندرھویں صدی میں ان کے ناسخ و منسوخ کا فیصلہ کس طرح کر سکتے ہیں، دیکھو صحابہ نے آپ کے سامنے گوہ کھائی ہے‘ اور ابو داؤد میں حدیث آتی ہے کہ آپ نے منع فرمایا‘ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ (حدیث) آپ کا عمل اس کے خلاف بھی ہے۔ (حدیث) صحابہ کرام کا شراب پینا ایک وقت میں حدیث سے ثابت ہے۔ بعد میں منع فرمانا بھی حدیث سے ثابت ہے۔ سر کا مسح ایک مرتبہ کرنا‘ سر کا مسح تین مرتبہ کرنا‘ عصر کے بعد آپ نوافل پڑھتے تھے۔ ( حدیث) منع فرماتے تھے کہ عصر کے بعد نکل نہ پڑھو۔ (حدیث) کلی کرنا ناک میں پانی کا ایک ایک مرتبہ کی حدیث ہے۔ تین تین مرتبہ والی حدیث بھی آتی ہے۔ صبح کی نماز روشنی میں پڑھنا‘ اند ھیرے میں پڑھنا دونوں حد یثیں آئی ہیں۔
دیکھیں یہ مختلف قسم کی احادیث آرہی ہیں اس قسم کی سینکڑوں احادیث پیش کی جاسکتی ہیں، جن میں کافی تعارض و تخالف موجود ہے۔ اب ان متعارض روایات میں سے کس حدیث پر عمل جاری رہا کس پر ختم ہو گیا‘ کونسا آپ صلى الله عليه وسلم کا عمل آخری ہے‘ اور کونسا پہلے زمانے کا‘ اس تعارض کو وہی ختم کر سکتا ہے جو ماہر شریعت بھی ہو ساتھ ساتھ صحابہ کرام کا ہم عصر بھی ہو، تو امام ابو حنیفہ تابعی ہیں اور اپنے دور کے امام مسلم ہیں ، ہم ان سے مسائل لیتے ہیں‘ وہ ایسی روایات میں رفع تعارض کر کے ہمیں حضور علیہ السلام کے آخری عمل پر لگاتے ہیں۔ وہ حدیث کے خلاف اپنی بات منوانے پر بضد نہیں ہیں۔
(تحفہ اہل حدیث ص59-57)
الجواب:- اولا:-
ان احادیث کا جن میں آپ کو تعارض نظر آرہا ہے ان کا جواب اپنے مقام پر تفصیل سے موجود ہے‘ اسے وہاں ہی ملاحظہ کریں‘ سرے دست آپ امام ابو حنیفہ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت کریں کہ انہوں نے (جو بقول آپ کے متعارض ہیں) ان تخالف و تناقض کو دور کیا ہے، مجھے میری زندگی کے مالک کی قسم ہے کہ مؤلف تحفہ اہل حدیث اگر ساری زندگی بھی اپنے حواریوں کو ساتھ ملا کر کوشش کرے تب بھی اس کا ثبوت نہیں دے سکتا‘ ان تعارض کو دور کرنا تو کجا کسی صحیح و معتبر اسناد سے یہ بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ ان روایات کا امام ابو حنیفہ کو علم بھی تھا اور واقعی ان کو یہ صحیح اسناد کے ساتھ مل بھی گئی تھیں۔
ثانیا:
آپ کا ناسخ و منسوخ کو بھی متعارض قرار دینا‘ کو تاہ علم کا نتیجہ ہے، آج تک کسی اصولی نے ان کو متعارض قرار نہیں دیا‘ یہ دعویٰ صرف اہل حدیث کی عداوت میں‘ نصرۃ العلوم ‘‘کا تربیت یافتہ کر رہا ہے جسے عقل ہے نہ موت یہ عقل کا دشمن اگر شعور سے’’ حجۃ اللہ البالغہ ص 138 ج 1 ‘‘ کا ہی مطالعہ کر لیتا تو اہل علم کی محفل میں اس پر استہزاء نہ ہوتا مگر اسے محدثین کی عداوت نے اندھا کر دیا ہے۔
ثالثاً:۔
امام صاحب کے تابعی ہونے پر محترم نے کوئی دلیل نقل نہیں کی ورنہ ہم اس کا تفصیلی جائزہ لیتے۔ لیکن پھر بھی مختصر عرض ہے کہ امام صاحب کا تابعی ہونا آپ نے تقلید آکہا ہے یا خود تحقیق کی ہے‘ اگر تقلید اکہا ہے تو یہ دعویٰ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مخالف و معارض ہے کیونکہ آپ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ
(يقول ما رايت فيمن رايت افضل من عطاء ولا لقيت فيمن لقيت اكذب من جابر الجعفي)
(كتاب القرآة للبيہقى ص 134)
یعنی امام ابو حنیفہ فرمایا کرتے تھے کہ جنہیں میں نے دیکھا ہے ان میں سے عطاء بن ابی رباح سے بڑھ کر کسی کو افضل نہیں دیکھا اور جابر جعفی سے بڑھ کر کسی کو جھوٹا نہیں دیکھا۔
امام صاحب کے اس ارشاد سے ثابت ہوا کہ ان کی ملاقات کسی صحابی سے نہیں ہوئی ورنہ وہ اسے ذکر کرتے اور امام عطاء بن ابی رباح غیر صحابی (جو کہ تابعی ہیں) کو ملاقات والوں میں بہتر قرار نہ دیتے کیونکہ صحابی بہر حال تابعی سے افضل ہے‘ مگر مؤلف ’’ تحفہ اہل حدیث ‘‘ اپنے امام کے اس قول پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہا ہے جو کہ ترک تقلید ہے، جسے ہمارا مہربان گمراہی سے تعبیر کرتا ہے۔
( تحفہ اہل حدیث ص 88)
اب اس بات کا فیصلہ تو ہم ان پر چھوڑتے ہیں کہ یہاں انہوں نے تقلید کو ترک کر کے‘ گمراہی‘ کو اختیار کیا ہے یا ترک تقلید کے باوجود راہ ہدایت پر ہیں ؟ اگر آپ نے ترک تقلید میں امام صاحب کو تابعی قرار دے ہی لیا ہے تو اس کی کوئی دلیل تو وہ آپ کے پاس نہیں‘ بھائی بغیر دلیل کے ہم لوگ ’’ تحفہ ‘‘ قبول نہیں کرتے یہ مقلدین کا شیوہ و شعار ہے کہ وہ ہر بے دلیل بات پر ڈر جاتے ہیں‘ اور اگر آپ کے باطن میں کوئی دلیل ہے بھی تو وہ بھی فضول و بے کار اور دلیل بننے کے قابل نہیں۔ علامہ محمد طاہر فتنی حنفی مرحوم فرماتے ہیں:
(وكان في أيامه أربعة صحابة انس وعبدالله بن ابی اوفى وسهل بن سعد وابو الطفيل ولم يلق احداً منهم ولا أخذ منه واصحابه يقولون انه لقي جماعة من الصحابة وروى عنهم ولا يثبت عنداهل النقل)
یعنی امام ابو حنیفہ کے دور میں حضرت انسؓ حضرت عبداللہؓ بن ابی اوفی‘ حضرت سہلؓ ‘ اور حضرت ابوالطفیلؓ چار صحابہ کرام (زندہ) موجود تھے‘ مگر آپ کی کسی سے ملاقات اور کسب علم ثابت نہیں‘ اور امام ابو حنیفہ کے مقلدین کہتے ہیں کہ آپ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت سے ملاقات کی ہے اور ان سے حدیث روایت کی ہے مگر محققین کے نزدیک ان میں سے کوئی چیز بھی ثابت نہیں۔
(مجمع بحار الانوار ص 300-301 ج 5)
یہ ایک معتبر حنفی مقلد کی شہادت ہے، جس کے بعد ہم اس پر مزید کچھ لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے‘ کہاں اگر ضرورت پیش آئی اور ہم مجبور کر دیئے گئے تو اس پر تفصیل سے بھی عرض کر دیں گے۔
رابعا:
مؤلف تحفہ اہل حدیث نے جس حدیث سے امام ابو حنیفہ کی منقبت ثابت کرنے کی بے سود کو شش کی ہے اس کے متعلق مختصر عرض ہے کہ مؤلف کا حق تھا کہ پہلے امام ابو حنیفہ کو‘ فارسی‘ ثابت کرتے اس کے بعد امام کی عظمت ثابت کرتے تو ایک بات تھی۔ مگر ہمارے بھائی نے قسم کھا رکھی ہے کہ سارے کام فقط دعوے ہی دعوے سے چلاؤں گا کوئی ان پر دلیل قائم کرنے کی زحمت گوارہ نہ کرونگا‘ چونکہ یہ خود مقلد اعمیٰ ہے، جس کی وجہ یہ مخاطب کو بھی دلیل کا غیر محتاج اور بن دلیل فقط باتوں سے قائل اور راضی کرنے پر ادھار کھائے بیٹھا‘ جیسے ساون کے اندھے کو ہراہی ہرا نظر آتا ہے ایسے ہی اسے اہل حدیث بھی اپنی طرح کے مقلد دکھائی دے رہے ہیں ، جس کی وجہ سے یہ بے دلیل‘ تحفہ عنایت کر رہا ہے۔
(1) بھائی اس حدیث میں ’’ رجال ‘‘ کا لفظ ہے اور بخاری ص 27 7 ج 2 و مسلم ص 312 ج 2 نے اس لفظ کی تخریج پر اتفاق کیا ہے۔ اور الفاظ ( اور جل من هؤلاء) کہنے میں خود اس کے راوی‘ سلیمان کو شک ہے‘ اور عبد العزیز کی روایت میں تردد نہیں جس کی وجہ سے رجال کے الفاظ معتبر ہیں ، دیکھئے
(فتح الباری ص 521 ج 8)
جب یہ بات متحقق ہو گئی تو واضح رہے کہ رجال جمع ہے رجل سے اور رجال کی پیشگوئی کا تعلق اہل فارس کے محدثین سے ہے نہ کہ کوفہ کے رہنے والے امام ابو حنیفہ کے بارے۔
(۲) یہ بات درست ہی نہیں کہ امام صاحب فارسی الاصل میں، جس کی تفصیل اللمحات‘ جلد دوم میں دیکھی جاسکتی ہے‘ اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ امام ابو حنیفہ‘ فارسی الاصل تھے جیسا کہ مقلدین کا کہنا ہے‘ ( مقام ابی حنیفہ ص 83) تو تب بھی اس سے امام صاحب کی منقبت ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ حدیث میں فارسی الاصل کا ذکر نہیں بلکہ‘ فارسی کی بات ہے اور ان دونوں میں بعد المشرقین ہے‘ کیونکہ فارسی الاصل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ امام صاحب کے آباؤ اجداد فارس سے ہجرت کر کے آئے تھے اور فارسی کا مفہوم یہ ہے کہ فارس میں جس کی رہائش ہو، جیسے پاکستانی‘ وغیرہ کا مفہوم ہے‘ اور فقہا ء نے صراحت کی ہے جس جگہ پر انسان چار برس بود و باش اختیار کر لے‘ اس کا وہی وطن ہوتا ہے۔
(حديث الغاشیہ ص 134)
(۳) اگر بالفرض حنفیہ کا دعویٰ تسلیم کر لیا جائے کہ اس سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا شرف و بزرگی ثابت ہوتی ہے، تو تب بھی یہ تقلید شخصی کی دلیل نہیں کیونکہ اس سے امام صاحب کا ایمان دار ہونا ثابت ہوتا ہے اور ہم ان کے مسلمان اور مؤمن کامل عابد وزاہد ہونے‘ کا کب انکار کرتے ہیں‘ انکار تو ان کی تقلید سے ہے جو اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتی لہذا کوئی ایسی حدیث صحیح پیش کیجیے جس میں رسول اللہ ﷺ نے امام ابو حنیفہ کی تقلید کی تلقین کی ہو‘

مؤلف تحفہ اہل حدیث کی گپ

امام صاحب نے پچپن حج کیے ہیں‘ صحابہ کرام میں جا کر نمازیں پڑھی ہیں ، جو کام صحابہ کرام کو کرتے دیکھا ہے‘ وہ آپ کا آخری عمل سمجھ کر امام صاحب محفوظ فرما لیتے اور جو روایات خیر القرون میں صحابہ نے ترک کر دیں وہ امام صاحب نے بھی ترک کر دیں اگر وہ روایات قابل عمل ہوتی تو آپ کے یار ضرور عمل کرتے۔
(تحفہ اہل حدیث ص 59)
الجواب:- اولاً:-
ہمارا پوری دنیا کے منکرین سنت کو کھلا چیلنج ہے کہ جس بات کا دعویٰ ابو بلال نے کیا ہے اس کا ثبوت کسی صحیح روایت سے ثابت کریں‘ یاد رکھیے پوری دنیا کے مقلدین سر توڑ کوشش کرنے کے باوجود کوئی ایسی روایت ثابت نہیں کر سکتے‘ ان شاء الرحمٰن پہلے حضرت امام ابو حنیفہ کا اقرار نقل کیا جا چکا ہے کہ جس میں ان کے تابعی ہونے کی نفی ہوتی ہے‘ اور علامہ فتنی کی عبارت بھی ہم نقل کر آئے ہیں کہ امام صاحب تا بعی نہیں گو ان کے مقلدین کا یہ دعوٰی ہے مگر ان کے دلائل محققین کے نزدیک غیر معتبر ہیں، لیکن مؤلف تحفہ اہل حدیث ان کی ملاقات ایک گروہ صحابہ سے باور کرارہا ہے جو سرے سے قابل التفات ہی نہیں۔
ثانیاً:-
خود حضرت امام ابو حنیفہ کا اقرار ہے کہ میر اعلم فقہ تمام ترقیاس ورائے پر۔
(وقد روى ابویوسف والحسن بن زياد كلاهما عن أبي حنيفة انه قال علمنا هذا رأى وهو احسن ما قدرنا عليه )
یعنی قاضی ابو یوسف اور حسن بن زیاد کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے کہا کہ ہمارا پورے کا پورا علم فقہ و فتاویٰ سب رائے و قیاس ہی ہے۔ اپنی رائے وقیاس کے مطابق مقدور بھر ہم نے صحیح بات کہی ہے۔
(اعلام الموقعین ص 75 ج 1 و تاریخ بغداد ص 352 ج 13)
امام ابو حنیفہ کے اس قول سے ثابت ہوا کہ ان کا مرتب و مدون کردہ یا بیان کردہ سارا علم فقه و علم کلام و غیرہ محض رائے و قیاس ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اہل الرای اور اہل الحدیث کا فرق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
(لم يكن عندهم من الاحاديث والآثار ما يقدرون به على استناد الفقه على الاصول التي اختار ها اهل الحديث ….. الخ)
یعنی اہل الرای کے پاس احادیث نبویہ اور آثار صحابہ کا اتنا علم نہیں تھا جس سے یہ لوگ اہل حدیث کے اختیار کردہ اصول پر فقہی مسائل استنباط کر سکتے اور نہ ان لوگوں کے دلوں میں اتنی وسعت و ہمت ہی تھی کہ وہ تمام علماء کے اقوال پر نظر کر سکتے اور نہ ان کے سینوں میں اتنی فراخی تھی کہ وہ اقوال اہل علم کو جمع کر کے ان پر بحث و نظر کرتے۔
(حجۃ اللہ البالغہ ص 152 ج 1)
پھر اہل الرای کے طریق کار پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
(بل المراد من اهل الراى قوم توجهوا بعد المسائل المجمع عليها بين المسلمين أو بين جمهور هم الى التخريج على اصل رجل من المتقدمين وكان أكثر أمرهم حمل النظير على النظير والراى اصل من الاصول دون تتبع الاحاديث والاثار الخ ) ( الانصاف فی بیان سبب الاختلاف ص 27)
یعنی اہل الرای سے مراد وہ لوگ ہیں جو متقدمین میں سے کسی آدمی کے وضع کردہ اصول کے مطابق مسائل کا استنباط و استخراج کرتے تھے‘ انہیں احادیث و آثار کی تلاش و جستجو نہیں ہوتی۔ انتہی پھر خاص امام ابو حنیفہ کے طریق کار پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
(وكان ابو حنيفة الزمهم بمذهب ابراهيم واقرانه لا يجاوزه الاماشاء الله وكان عظيم الشان في تخريج على مذهبه دقيق النظر في وجوه التخريجات مقبلاً على الفروع اتم اقبال )
(حجۃ اللہ البالغہ ص 146 ج 1)
یعنی امام ابو حنیفہ ابراہیم نخعی اور ان کے ہم عصر علماء کے مذہب کو لازم پکڑتے تھے‘ اور بہت ہی کم ان سے تجاوز کرتے اور امام نخعی کے مذہب کی تخریج میں بڑی شان رکھتے اور تخریج کی وجوہ میں سے‘ فروغ پر پوری توجہ اور انہماک تھا۔ انتہی
حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی ان تصریحات سے ثابت ہوا کہ اہل الرای کسی شخص کے وضع کردہ اصول پر مسائل کا استنباط قیاس ورائے سے کرتے تھے اور انہیں احادیث نبویہ اور آثار صحابہ کرام سے سرے سے کوئی سروکار ہی نہ تھا اور یہ کہ امام ابو حنیفہ امام ابراہیم نخعی کے اصول پر مسائل کا استنباط کرتے تھے۔
امام صاحب کی مجلس علمی پر تبصرہ کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
(ماكان على ظهر الارض مجلس احب الى من مجلس سفيان الثوري كنت اذا شئت ان تراه مصلیا رايته واذا شئت ان تراه في ذكر الله عزوجل رايته وكنت اذا شئت أن تراه في الغامض من الفقه رايته واما مجلس لا اعلم اني شهدته صلى فيه على النبي قط فمجلس ثم سكت ولم يذكر فقال يعني مجلس أبي حنفية)
یعنی میرے نزدیک کرہ ارض کے اوپر امام سفیان ثوری کی مجلس سے زیادہ محبوب اور کوئی مجلس نہیں، میں نے جب چاہا کہ ان کو نماز کی حالت میں دیکھوں تو میں نے انہیں دیکھا‘ اور جب میں نے چاہا کہ انہیں اللہ کے ذکر میں مشغول پاؤں تو میں نے انہیں دیکھا اور جب میں نے انہیں فقہی مسائل میں غور و خوض کرتے دیکھنا چاہا تو دیکھا لیکن میں جب بھی امام ابو حنیفہ کی مجلس میں گیا تو میں نے وہاں نبی صلى الله عليه وسلم پر درود و سلام پڑھتے نہیں سنا۔
(کتاب السنتہ ص 214 ج 1 لابن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ)
اس روایت کی سند صحیح ہے اور کہنے والے بھی امام عبداللہ بن مبارک ہیں جنہیں مقلدین حضرات حنفی باور کراتے ہیں۔
(طائفہ منصورہ ص60)
مجلس امام ابو حنیفہ میں درود نہ پڑھا جانے کی صرف یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ وہاں حدیث رسول کا کبھی ذکر ہی نہیں آیا‘ اگر وہاں سنت مصطفی صلى الله عليه وسلم کا تذکرہ ہوا کرتا پھر اس کے ناسخ و منسوخ سے بھی بحث ہوتی تو وہاں ذکر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پر درود ضرور پڑھا جاتا‘ یہ ناممکن ہے کہ امام صاحب جیسا عابد وزاہد ذکر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پر درود نہ پڑھتا ہو، الغرض امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے نہایت احسن انداز میں امام صاحب کی مجلس کا حال بیان کر دیا کہ وہاں زیادہ تر مسائل کا حل رائے اور قیاس سے ہو تا تھا۔
ثالثاً:-
مؤلف تخفہ اہل حدیث کا یہ دعویٰ کہ امام صاحب نے خیر القرون میں جو کام صحابہ کرام کو کرتے دیکھا تھا اسے آنحضرت صلى الله عليه وسلم کا آخری عمل سمجھ کر محفوظ فرمالیا‘ دعویٰ بلادلیل ہے‘ اور بے دلیل دعویٰ سے آپ امام ابو حنیفہ کو پوری امت محمد یہ کا وارث اور متاع باور کرانا چاہتے ہیں‘ خاکسار راقم الحروف آواز بلند یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آپ امام صاحب کی صرف ایک حدیث کسی بھی صحابی سے صحیح متصل سند کے ساتھ کتب حدیث سے ثابت کر دیں تو راقم آپ کو اپنی جیب خاص سے دس روپے حق محنت دے گا‘ ان شاء اللہ
ہماری طرف سے آپ کو کھلی چھٹی ہے کہ دیو بند سے مدد حاصل کریں یا بریلی سے کمک منگالیں یا قادیان سے تحقیقات چوری کر کے‘ المصالح العقلیہ کا نام دے لیں۔ مگر یاد رکھئے آپ پوری ذریت خنفیت کو بھی ساتھ ملا لیں تو تب بھی آپ کو یقیناً ناکامی و نامرادی ہی ہو گی۔ ان شاء اللہ

کیا فقہ حنفی خلفاء الراشدین سے ماخوذ ہے

مذکورہ آپ کے بعد اہل حدیث کی طرف سے بن بنائے وکیل سوال نقل کرتے ہیں کہ یہ کس طرح پتہ چلا کہ صحابہ کرام کا عمل ناسخ و منسوخ کے درمیان امتیاز کر سکتا ہے ؟ پھر اس کا جواب رقم کرتے ہیں کہ
’’نبی علیہ السلام کا فرمان ہے میرے بعد بہت سارے اختلاف ہو نگے‘ تم نے میری اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامنا ہے، جب آپ ﷺ نے خود فرمادیا کہ میری اور میرے خلفاء کی سنت کو تھام لینا‘ اب جتنا علم ناسخ و منسوخ کا خلفاء راشدین کو ہے ظاہر ہے کسی اور کو نہیں ہو سکتا، تو ان کا عمل ہمارے واسطے نبی علیہ السلام کا آخری عمل ہی شمار ہوگا اور یہی ضابطہ امام صاحب نے اپنایا ہے۔ اس واسطے ہم امام صاحب سے مسائل لیتے ہیں‘‘۔
( تحفہ اہل حدیث ص 60)
الجواب:- اولاً:-
ہم نقل کر آئے ہیں کہ امام ابو حنیفہ احادیث نبوی آثار صحابہ کرام سے مسائل استنباط نہیں کرتے تھے بلکہ ابراہیم نخعی کے اصول پر مسائل کا قیاس ورائے سے استخراج کرتے تھے‘ ان دلائل کی موجودگی میں آپ کی یہ بات کہ خلفاء راشدین کے نقش قدم پر چلے تھے‘ ایک دیوانے کی بڑ معلوم ہوتی ہے‘ لہذا آپ پر لازم ہے کہ آپ کسی صحیح سند سے امام ابو حنیفہ سے یہ ثابت کریں کہ وہ سنت خلفاء راشدین سے مسائل کا استخراج کرتے تھے‘ مگر یادر ہے کہ اس پر آپ کوئی وزنی دلیل تو کجا کوئی لولی لنگڑی بھی پیش نہیں کرسکتے۔
ثانیاً:
امام ابو حنیفہ کی تقلید کر کے‘ سنت خالفاء راشدین کا نام کس منہ سے لیتے ہو‘ ان کا ہمیشہ طریق کار اسوہ رسول صلى الله عليه وسلم کی پیروی تھا‘ حضرت میمون بن مھران راوی ہیں کہ
(كان أبوبكراذا ورد عليه الخصم نظر في كتاب الله فان وجد فيه ما يقضى بينهم قضى به ، و ان لم يكن فى الكتاب وعلم من رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك الأمر سنة قضى به فان اعياه خرج فسأل المسلمين وقال اثاني كذا وكذا فهل علمتم ان رسول الله لك قضى في ذلك بقضاء ؟ فربما اجتمع اليه النفر كلهم يذكر من رسول الله لك فيه قضا فيقول ابوبكر الحمد لله الذي جعل فينا من يحفظ على نبينا فان إعياء ان يجد فيه سنة من رسول الله به جمع رؤوس الناس وخيارهم فاستشار هم فاذا اجتمع رابهم على امرقضى به)
(سنن دارمی ص 70 ج 1 باب الفتياء ما فيه من الشدة )
یعنی جب حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پاس کوئی مقدمہ آتا تو آپ سب سے پہلے اس کا حل اللہ کی کتاب سے تلاش کرتے‘ اگر اس کا حل کتاب اللہ سے مل جاتا تو اسی کے مطابق فیصلہ کرتے‘ ور نہ سنت رسول ﷺ کی طرف رجوع کرتے اگر اس کے متعلق خود کو علم نہ ہوتا تو گھر سے باہر آکر مسلمانوں سے سوال کرتے کہ میرے پاس ایسا ایسا مقدمہ پیش ہوا ہے اگر آپ کے علم میں ہو کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس کے بارے میں کیا فیصلہ فرمایا ہے کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا آپ کے پاس ایک گروہ جمع ہو جاتا‘ اور وہ تمام اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کا ذکر کرتے ، جس پر ابو بکر صدیقؓ فرماتے کہ اللہ کا شکر ہے کہ جس نے ہم میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا ہے کہ جو اس کے دین کے محافظ ہیں‘ اور اگر سنت کا علم نہ ہوتا تو صحابہ کرام کو جمع کرتے اور جس امر پر وہ متفق ہو جاتے اس کے مطابق فیصلہ فرمادیتے۔
(دارمی حدیث نمبر 161)
یہی طریق کار دیگر خلفاء راشدین کا تھا‘ جس کی تفصیل امام ابن قیمؒ نے ’’ اعلام الموقعین ‘‘ میں درج کی ہے‘ اب بتائیے مقلد کا طریق کار ایسا ہی ہوتا ہے ؟ جواب یقیناً نفی میں ملے گا‘ پھر غور کیجیے اور عقل و شعور سے کام لے کر اپنے دل سے سوال کیجیے کہ امام ابو حنیفہ کا طریقہ کار یہی تھا، نہیں یقیناً نہیں وہ تو ابراہیم نخعی کے اصول پر بلا سبب مسائل کا استنباط کرتے تھے‘ جبکہ خلفاء راشدین غیر پیش آمدہ مسائل میں غور و خوض کو جرم جانتے تھے۔ امام زید المنقری فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن عمرؓ کے پاس آیا اور سوال کیا! تو ابن عمر نے کہا جو مسئلہ ابھی پیش ہی نہیں آیا اس کے متعلق سوال نہ کر‘ میں نے اپنے والد سے سنا کہ
( يلعن من سال عما لم يكن) (سنن دار می ص 62 ج 1 )
آپ اس سائل پر لعنت کرتے تھے جو غیر پیش آمدہ مسئلہ کے بارے سوال کرے۔
الغرض خلفاء راشدین کا طریقہ ، قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنا تھا اور جب کوئی مسئلہ ان سے حل نہ ہو تا تو باہم مشورہ سے اسے طے کیا جاتا‘ مگر تقلید میں قرآن و سنت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور نہ ہی پیش آمدہ مسائل کا حل باہم مشورہ سے طے کیا جاتا ہے‘ زیادہ سے زیادہ اپنے امام کے اصول پر‘ نظائر کو نظائر پر محمول کر کے مسئلہ کا استخراج کیا جاتا ہے‘ اسے طریق خلفاء سے کیا نسبت‘۔
ثالثاً:-
اگر خلفاء راشدین کا کوئی فتویٰ و عمل قرآن وسنت کے خلاف ہو گا تو اسے بھی قبول نہیں کیا جائے گا‘ مثلاً حضرت عثمان غنیؓ نے سفر حج میں مکہ مکرمہ میں پوری نماز ادا کی ہے۔
( صحیح مسلم ص 243 ج 1)
حضرت عثمان کا یہ عمل چونکہ سنت خیر الا نامﷺ اور خلفاء راشدین کے سر کردہ ابو بکر صدیقؓ اور فاروق اعظمؓ کے مخالف ہے جس کی وجہ سے ان کا یہ فتویٰ و عمل قابل قبول نہیں ہے‘ یہی حنفیہ کا بھی موقف ہے‘ اسی دلیل سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ خلفاء کا عمل وہی سنت رسول میں داخل ہے، جو سنت مصطفیٰ صلى الله عليه وسلم کے موافق ہے، خلفاء کا کوئی عمل سنت سے ہٹ کر سنت خیر الانام میں داخل نہیں‘ اس حدیث سے ایک اور بات بھی ثابت ہوئی کہ ۔ خلفاء راشدین کی سنت وہی ہے جس پر وہ متفق ہوں اور اس اتفاقی سنت سے آپ ایک مثال بھی پیش نہیں کر سکتے کہ فلاں صحیح صریح مرفوع متصل حدیث کا حنفیہ نے اس لیے انکار کیا ہے کہ وہ خلفاء اربعہ کے دستور کے مخالف ہونے کی وجہ سے منسوخ ہے۔
یہ ابو بلال کیا اگر پوری ذریت دیو بند بھی جمع ہو کر سر توڑ کوشش کرے تو بھی ایک ایسی مثال نہیں دے سکتے کہ فقہ حنفیہ کا فلاں مسئلہ حدیث کے مخالف اس لیے ہے کہ اس کی مخالفت خلفاء اربعہ سے بسند صحیح ثابت ہے۔ اگر یہ ثابت نہ کر سکے اور یقیناً ثابت نہیں کر سکیں گے تو پھر بھائیو! جان لو کہ ابو بلال نے خلفاء راشدین‘ کا صرف نام استعمال کیا ہے تاکہ عوام فقہ حنفی کے بے کار و فضول بلکہ بعض لچر قسم کے فتاوی پر اندھا اعتماد کر لیں۔

کیا مترجم پر اعتماد اس کی تقلید ہے؟

پہلے سوال نقل کرتے ہیں کہ‘ مجھے کافی ساری احادیث آتی ہیں، میں نے احادیث کا بہت مطالعہ کیا ہے کیا میں بھی تقلید کروں؟
اس کا جواب عنایت کرتے ہیں کہ کیا آپ کو عربی آتی ہے؟ نہیں ترجمے والی کتابیں دیکھتا ہوں ؟ وہ ترجمے بھی تو کسی امتی کے کیے ہوئے ہیں۔ ان کے تراجم پر اعتماد کرنا یہ ان کی تقلید ہی تو ہے۔
( تحفہ اہل حدیث ص 60)
الجواب:- اولا:-
حنفیہ میں سے دیوبندی مکتب فکر کے علماء و مولانا محمود حسنؒ، مولانا اشرف علی تھانوی وغیرہ نے قرآن کے تراجم کیے ہیں جن پر دیوبندی علماء اعتماد کرتے ہیں تو کیا سارے دیوبندی امام ابو حنیفہ کی تقلید کو ترک کر کے محمود الحسنؒ خاں اور اشرف علی تھانوی کے مقلد ہو گئے ہیں‘ جواب یقیناً نفی میں ہے‘ اسی طرح حدیث اور کتب فقہ کے تراجم بھی موجود ہیں‘ جن پر علماء دیو بنداعتماد کرتے ہیں‘ تو کیا وہ ان متر جمین کے مقلد ہو گئے ہیں، عقل کے ناخن لو‘ کیا کہہ رہے ہو‘
ثانیا:-
معتبر مترجم پر اعتماد کرنا تقلید نہیں، آپ لغت سے تقلید اور اعتماد کے الفاظ کو مترادف ثابت کر دیں تو منہ مانگا انعام ور نہ ایسی کچی باتیں کر کے اپنے علم کا حدود اربعہ معلوم نہ کروائیں۔
خودر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ترجمان پر اعتماد کیا ہے صحیح بخاری میں ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار مکہ کے وکیل نے شرائط نامہ کی تحریر میں لفظ رسول اللہ ﷺ پر اعتراض کیا تھا کہ اسے کاٹ کر محمد بن عبداللہ (صلى الله عليه وسلم) لکھا جائے، مگر حضرت علی نے بوجہ نہ کا ٹا آخر حضرت علیؓ نے نشاندہی کی تو آپ علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ کا لفظا اپنے دست مبارک سے کاٹ دیا۔
(الحدیث بخاری ص ۴۵۲ ج ، ومسلم ص ۱۵ ج ۲)
صحیح بخاری و مسلم کتاب الحدود میں اور کتب سیر میں معروف واقع منقول ہے کہ جب یہود نے شادی شدہ زانی کی حد میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو منصف تسلیم کیا تو آپ علیہ السلام نے حکم فرمایا کہ تورات لے آئیں‘ ان کا ایک عالم اس جگہ سے تو رات کو تلاوت کرنے لگا‘ جہاں رجم کی آیات درج تھیں، مگر ان آیات پر اس نے اپنا ہاتھ رکھ لیا تا کہ کسی کی نظر اس پر نہ پڑے۔ حضرت عبد اللہ بن سلامؓ بھی پاس بیٹھے ہوئے تھے اس کی یہ حرکت دیکھ رہے تھے‘ صبر نہ کر سکے‘ اس کا ہاتھ پکڑ کر زور سے پرے پٹخ دیا اور بولے:
(هذه يا نبي الله آية الرجم يابي ان يتلوها عليك)
یعنی اے اللہ کے نبی ﷺ یہ ہے رجم کی آیت یہ شخص اس کو پڑھنے سے انکار کرہا ہے‘
(سیرة النبويه لا بن ہشام ص 215 ج 2)
چنانچہ حکم تو رات کے موافق آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے یہودی کو رجم کرنیکا حکم فرمایا‘ جسے مدینہ میں رجم کر دیا گیا۔ تو رات تو سریانی زبان میں تھی جس کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نہ جانتے تھے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کو حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے سریانی سے عربی میں ترجمہ کر کے آیت رجم کی نشان دہی کی تھی۔ حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ یہودیوں کی زبان سیکھنے کا اور فرمایا
انی والله ما امن يهود لى كتابي فتعلمته فلم يمر بي الا نصف شهر حتى حذقته فكنت اكتب له اذا كتب واقراء له اذا كتب اليه
اللہ کی قسم مجھے یہودیوں پر بھروسہ نہیں کہ وہ میری طرف درست لکھتے ہوں (زید فرماتے کہ ) نصف ماہ نہ گزرا تھا کہ میں نے ان کی تحر یر و زبان خوب سیکھ لی پھر جب آپ کچھ لکھوانا چاہتے تو میں لکھ دیتا اور جب کسی مقام سے کوئی تحریر آتی تو اسے پڑھ دیتا‘
مسند احمد ص 186 ج 5 و ابوداؤد 356/3(3645) و ترمذی 392/3(2715), بیہقی ص 127 ج 10 و مستدرک حاکم ص 75 ج١
امام ترمذی حاکم اور علامہ ذہبی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے‘ اور یہ اپنے معنی و مفہوم میں بالکل واضح ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ترجمانی کیلئے سید نازید کو یہودیوں کی زبان سیکھنے کیلئے حکم فرمایا‘ جو سید نازید رضی اللہ عنہ نے آدھے ماہ میں سیکھ بھی لی۔ جس کے بعد سیدنا زید نبی کریم ﷺ کے لئے بطور ترجمان کام کرتے رہے‘ انہیں چیزوں کو ملحوظ رکھ کر امام ترمذی نے اسے باب السریانیتہ‘ کے تحت لا کر یہ مسئلہ سمجھایا کہ ضرورت کے تحت کفار کی زبان سیکھنی بھی جائز ہے۔ بلکہ امام حاکم نے بھی مستدرک کے کتاب الایمان باب جواز تعلم کتابۃ الیہود‘ میں درج کر کے بھی اسی طرف توجہ دلائی ہے۔ الغرض رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے زید کی ترجمانی پر اعتماد فرمایا ہے۔
اب نصرة العلوم کا تربیت یافتہ ابو بلال ( أجڈ ) شاید اس کا نام ’’ تقلید ‘‘ رکھ کر رسول اللہ ﷺ کو بھی زید بن علی مرتضیٰؓ اور عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہم کا مقلد کہے گا۔ مگر کوئی صاحب علم اسے تقلید نہیں کہتا کیونکہ ترجمان یا مترجم اپنی بات نہیں کہتا بلکہ دوسرے شخص کی بات کا لغوی معنی کرتا ہے‘ لہذا جس کی ترجمانی کی جارہی ہے یا جس شخصیت کے اقوال کو اپنی زبان میں ڈھال رہا ہے‘ اس کی شخصیت اگر دین میں حجت ہے تو یہ دلیل کی پیروی ہو گی‘ اگر حجت نہیں تو تقلید ہو گی‘ اس فرق کو ملحوظ رکھیں تو قرآن وحدیث کے تراجم کی طرف رجوع کرنا تقلید نہیں بلکہ دلیل کی طرف رجوع ہونے کی وجہ سے اتباع رسول اللہ صلى الله عليه وسلم میں داخل ہے‘ اور کتب فقہ کے تراجم کی طرف رجوع کرنا‘ چونکہ دلیل کی پیروی نہیں بلکہ فقہ مرتب کرنے والے پر حسن ظن کی بنا پر اسے قبول کر لیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ تقلید ہے‘ کہیے کیا کہتے ہو۔
آنحضرت ﷺ خود دینی اور دنیاوی امور میں اعتماد فرماتے‘ جبریل امین علیہ السلام وحی لے کر آتے‘ اسے قبول کرتے‘ کاتب وحی صحابہ کرام سے قرآن کو ضبط تحریر میں کرواتے ، بعض صحابہ کو حدیث و سنن لکھوا کر دیں، بادشاہوں کے نام خطوط تحریر کروائے‘ وغیرہ یہ تمام کام اعتماد کی بنا پر ہوتے تھے ، مگر آج تک کسی نے اس کو تقلید کا نام نہیں دیا‘ اہل علم اس کو شہادت و گواہی کے زمرے میں لاتے ہیں کیونکہ معتبر پر اعتماد کر کے اس کی گواہی کو قبول کرنا دستور اسلام ہے۔ اسے تقلید کا نام صرف آپ نے دیا ہے‘ شاید آپ کو قرآن وحدیث کے علاوہ لغت پر بھی عبور نہیں اور اصول کی مبادی کتب بھی زیر مطالعہ نہیں‘ اور متقدمین پر بھی آپ کو اعتماد نہیں‘ ورنہ ایسے بے کار دلائل آپ تقلید پر نہ دیتے‘ آپ دعویٰ تو تقلید کا کرتے ہیں مگر اس کی دلیل تجد یدی دیتے ہیں۔

کیا مؤ لفین صحاح ستہ مقلد تھے ؟

فرماتے ہیں‘ کہ امام بخاری‘ امام مسلم‘ امام ترمذی‘ امام نسائی‘ امام ابن ماجہ‘ امام شافعی کے مقلد تھے اور امام ابوداؤد امام احمد بن حنبل کے مقلد تھے۔
( ملخصاً تحفہ اہل حدیث ص 61)
الجواب:- اولا:-
اگر آپ کے اس قول میں صداقت ہے تو ان آئمہ کرام سے ثابت کیجیے کہ ہم مقلد ہیں‘ ور نہ لعنتہ اللہ علی الکند بین کی وعید شدید سے ڈریئے اور خوف خدا کیجیے کہ آپ مذہب کے نام پر جھوٹ بولنے کے عادی ہو چکے ہیں۔
ثانیا:-
ہم التوضیح ص 44 کے حوالے سے ذکر کر آئے ہیں کہ ادلہ اربعہ سے صرف مجتہد ہی کچھ حاصل کر سکتا ہے‘ مقلد نہیں کیونکہ مقلد کے نزدیک تو دلیل صرف قول مجتہد ہوتا ہے‘ اس کے بر عکس آپ صحاح ستہ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ تمام اپنی اپنی سنن اور صحاح میں باب باندھتے ہیں‘ پھر حدیث رسول نقل کرتے ہیں، آثار صحابہ کا تذکرہ کرتے ہیں، قرآنی آیات سے استدلال کرتے ہیں‘ فقہ الحدیث سمجھاتے ہیں، بعض مقام پر علماء امت کے اقوال کا تذکرہ بھی کرتے ہیں، بعض کی موافقت اور بعض کا رد تحریر کرتے ہیں، مثلا امام بخاری کو ہی لیجیے انہوں نے بخاری ص 99 ج 1 ص 194 ج 1 و ص 211 ج 1 ص 248 ج 1 وغیرہ میں امام شافعی سے اختلاف کر کے حنفیہ کی موافقت کی ہے‘ امام ترمذی نے تو باب تا خیر الظہر في شدة الحر میں امام شافعی کا نام لے کر تردید کی ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ
(وكان صاحب الحديث ايضاً قد ينسب الى احد المذاهب لكثرة موافقته له كالنسائي والبيهقي ينسبان الى الشافعي) (حجتہ الله ص 153 ج 1)
یعنی کبھی اہل حدیث کو کثرت موافقت کی وجہ سے کسی ایک مذہب کی طرف منسوب کر لیا جاتا ہے جیسے نسائی اور بیہقی کو شافعیت کی طرف منسوب کیا گیا ہے، حالانکہ یہ مقلد نہ تھے
محدث مبارکپوری نے‘ مقدمہ تحفہ الاحوذی ص 174 میں اس کی پر زور تردید کی ہے کہ مؤلفین صحاح مقلد تھے۔
آپ مقلدین حنفیہ کی احادیث پر لکھی ہوئی کتب کا طحاوی سے لے کر آثار السنن تک مطالعہ کریں پھر صحاح ستہ میں سے کوئی کتاب اٹھائیے اور ان کو گہری نظر سے بغض و تعصب اور خالی الذہن ہو کر مطالعہ کریں تو ان کے انداز فکر اور مقلدین کے طور طریقے کے درمیان زمین و آسمان کا فرق پائیں گے۔ امام محمد کی موطا‘ یا‘ طحاوی کی‘ شرح معانی الا ثار‘ ہو ان میں آپ دیکھیں گے کہ صحیح حدیث کو رد کرنے کے لیے کیسے بودے اور کمزور بلکہ لایعنی قسم کے فضول بہانے تلاش کیے گئے ہیں، امام کے اقوال کی نصرت میں تو جیہات پر تو جیہات کرتے ہوئے تھکتے نہیں‘ اس کے برعکس مؤلفین صحاح‘ باب باندھ کر حدیث درج کرتے ہیں، بعض مقامات پر صحت حدیث اور معانی حدیث پر بھی بحث کرتے ہیں‘ اور ترمذی مذاہب کو بھی بیان کرتے ہیں۔ بعض کی موافقت کرتے ہیں تو بعض کی تردید کرتے ہیں، مگر طحاوی کی طرح صحیح حدیث کے رد کے لیے ضعیف و کمزور روایات کا سہارا نہیں لیتے۔ آپ اس کی ایک مثال بھی پیش نہیں کر سکتے۔
ثالثا:-
باعتراف مؤلف تحفہ اہل حدیث ص 63 مجتہد مقلد نہیں ہوتا اور مولفین صحاح ستہ تمام کے تمام مجتہد تھے ، تفصیل کے لیے مقدمہ تحفۃ الاحوذی ص 174 کا مطالعہ کریں۔
ہم یہاں صرف امام بخاری رحمہ اللہ کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔ شیخ ابراہیم بن عبد اللطیف حنفی مرحوم سندھی فرماتے ہیں کہ
(البخاری امام مجتهد براسه كابي حنيفة والشافعي ومالك واحمد وسفيان الثوري و محمد بن الحسن )
( مقدمه لامع الدراری ص 68 ج 1 و ما تمس الیہ الحاجتہ ص 26)
یعنی امام بخاری‘ امام ابو حنیفہ‘ امام شافعی‘ امام مالک‘ امام احمد بن حنبل‘ سفیان ثوری اور محمد کی طرح چوٹی کے مجتہد تھے۔
ملا علی القاری حنفی فرماتے ہیں کہ
(امير المؤمنين في الحديث وناصر الاحاديث النبوية وناشر المواريث المحمدية قيل لم ير في زمانه مثله من جهة حفظ الحديث واتقانه وفهم معاني كتاب الله وسنة رسوله ومن حيثية حدة ذهنه ودقة نظره و وفور فقهه وكمال زهده وغاية ورعه وكثرة اطلاعه على طرق الحديث وعلله وقوة اجتهاده و استنباطه ) (مرقاة ص 13 ج 1)
یعنی امام بخاری حدیث میں امیر المومنین ہیں، احادیث نبویہ کے ناصر‘ اور وراثت محمد یہ کے ناشر ہیں‘ زمانے نے ان جیسا حافظ الحدیث نہیں دیکھا اور نہ ہی اتقاء میں اور نہ ہی قرآن کے معانی اور سنت رسول کے فہم میں‘ اور اس حیثیت سے بھی کہ ان جیسا زمانے نے پختہ ذہن اور باریک بین اور فقہ کی مضبوطی میں‘ بلکہ زہد و تقویٰ کے کمال میں ان جیسا کوئی نہ تھا‘ طرق حدیث اور اس کی علل کی معرفت اور اجتہاد و استنباط مسائل میں (اپنی نظیر آپ تھے)
آگے چل کر فرماتے ہیں کہ
(كثر ثناء الائمة عليه حتى صح عن احمد بن حنبل انه قال ما اخرجت خراسان مثله وقال غير واحد هو فقيه هذه الامة وقال اسحاق بن راهويه يا معشر اصحاب الحديث انظروا الى هذا الشاب واكتبوا عنه فانه لوكان في زمن الحسن البصرى لاحتاج اليه لمعرفته بالحديث وفقهه وقد فضله بعضهم فى الفقه والحديث على احمد واسحاق وقال ابن خزيمة ماتحت اديم السماء اعلم بالحديث منه ) (مرقاة ص 15 ج 1)
یعنی کثرت سے آئمہ کرام نے آپ (بخاریؒ) کی تعریف و توصیف کی ہے یہاں تک کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے صحیح سند سے مروی ہے کہ خراسان میں ان جیسا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔ اور متعدد آئمہ نے انہیں اس امت مرحومہ کا فقہی کہا ہے‘ اور امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں کہ اے جماعت اہل حدیث کے لوگو! اس نوجوان کی طرف دھیان کرو اور اس سے احادیث لکھو‘ کیونکہ یہ اگر حسن بصری کے زمانہ میں بھی ہوتا تو وہ بھی اس کے محتاج ہوتے۔ احادیث کی معرفت اور فقہ کی وجہ سے اور بعض نے تو امام بخاری کو امام احمدؒ بن حنبل اور اسحاقؒ پر بھی فقہ وحدیث میں ترجیح دی ہے، امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے نیچے ان سے زیادہ کوئی حدیث کو جاننے والا نہیں (انتہی)
اگر ہم ان اقوال کا استیعاب کریں جنہوں نے امام بخاری کو مجتہد کہا ہے، تو ایک کتابچہ تیار ہو سکتا ہے‘ مگر ہمارا مقصود ڈھیر سے مٹھی بھر کی نشان دہی کرنا ہے‘ اور آخری قول کو نقل کر کے ہم اس مضمون کو ختم کرتے ہیں ماضی قریب میں دیوبندی مکتب فکر کی طرف سے’’ انوار الباری ‘‘ کے نام سے مولانا انور شاہ کشمیری شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کے افادات کو ان کے شاگرد سید احمد رضا بجنوری نے شائع کیا ہے‘ اس میں فرماتے ہیں کہ
’’امام بخاری چونکہ خود درجہ اجتہاد رکھتے تھے اس لیے انہوں نے جمع احادیث کا کام اپنے نقطہ نظر سے قائم کیے ہوئے تراجم وابواب کے مطابق کیا‘‘۔
(مقدمہ انوار الباری ص 31 ج 2)

غیر مقلد کی تعریف

فرماتے ہیں کہ‘ غیر مقلد تو وہ ہوتا ہے جو خود بھی اجتہاد نہ کر سکے اور مجتہد کی تقلید بھی نہ کرے‘ بلکہ فقہاء کو گالیاں دے اور ان کے مقلدین کو مشرک کہے۔
( تحفہ اہل حدیث ص 63)
الجواب:-
اولا:-
آپ کی بیان کی ہوئی تعریف کی روسے مقلد کی یہ تعریف ہو گی کہ جو مجتہد ہو کر تقلید کرے‘ حالانکہ مجتہد عالم ہوتا ہے اور اہل علم کا اتفاق ہے کہ مقلد کا شمار اہل علم میں نہیں ہو تا۔
(اعلام الموقعین ص 7 ج 1)
مولانا اشرف علی تھانوی حنفی دیوبندی فرماتے ہیں کہ ہم خود ایک غیر مقلد کے معتقد اور مقلد ہیں کیونکہ امام اعظم کا غیر مقلد ہونا یقینی ہے، مجالس حکیم الامت ص 345 مرتب مفتی محمد شفیع صاحب مزید دیکھئے حاشیہ الطحطا وی علی الدر المختار ص 51 ج 1 جھنگوی صاحب اپنی بیان کردہ تعریف کی رو سے صراحت کریں کہ امام ابو حنیفہ مجتہد تھے یا نہیں؟ اور آیا وہ ائمہ دین اور بزرگان ملت کو گالیاں دیا کرتے تھے کہ نہیں ؟
ثانیا:-
آپ نے جو غیر مقلد کی تعریف کی ہے یہ فقہ اور اصول فقہ حنفیہ کی کس کتاب میں درج ہے‘ بمع حوالہ صراحت کریں‘ ورنہ کذب و افتراء سے باز آجائیے قیامت کے روزان کے متعلق سوال ہو گا۔
ثالثاً:-
راقم الحروف نے آج تک اپنے کسی استاد سے بحق آئمہ کرام گالی نہیں سنی‘ اگر آپ کے قول میں صداقت ہے تو ثبوت دیجیے ورنہ لعنتہ اللہ علی الکذبین کی وعید سے ڈر جائیے‘ یہ لعنت کا طوق آپ کے گلے میں پڑ کر آپ کو ڈبو دے گا۔
ہم اللہ کو گواہ بنا کر حلفیہ کہتے ہیں کہ اہل حدیث تمام بزرگان دین آئمہ کرام‘ فقہاء عظام کا دل سے احترام کرتے ہیں۔ ہاں البتہ ان کے قول واقوال کو وحی آسمانی کی طرح نہیں جانتے کہ جس میں نظر ثانی کرنا کفر ہو‘ اور نہ ہی ان کو معصوم عن الخطا تصور کرتے ہیں‘ بلکہ ان کے قرآن و سنت کے خلاف اقوال کو ان کی بشری کمزوریاں اور بھول چوک سے تعبیر کرتے ہیں‘ اور ان کے درست اجتہادات کی قدر کرتے ہیں‘ پوری امت مرحومہ کے بزرگان سے ہماری خصوصی محبت ہے‘ ان سے عداوت کو سلب ایمان قرار دیتے ہیں اور گالیاں دینے والے کو بحکم رسول فاسق تصور کرتے ہیں۔
( سباب المسلم فسوق‘ الحدیث‘ بخاری و مسلم بحوالہ مشکوٰۃ ص 411)
اس بات کا اظہار ہم نے صرف آج ہی نہیں کیا بلکہ آج سے کئی برس قبل ہم دین الحق ص 516 ج1 میں کر چکے ہیں، مگر ابو بلال شرم وحیا کو بالائے طاق رکھ کر جھوٹ وفریب کے ساتھ ساتھ ہماری غیبت بھی کر رہا ہے۔ جو بہر حال گالیاں دینے سے زیادہ گناہ ہے۔
رابعا:-
ادب و احترام کی ٹھیکے داری کا دعویٰ کرنے والو! حنفیہ سے بڑھ کر کوئی گستاخ وبے ادب نہیں۔ آپ کے اکابر نے ہر مخالف کی وہ خبر لی ہے کہ اللہ کی پناہ‘ اصول شاشی اور نورالانور ص 179 میں حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت انسؓ کو غیر فقیہ لکھا ہے‘ اور اصول شاشی کے بین السطور میں حضرت عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ اور آس پاس کے دیہات کے تمام صحابہ کرام کو غیر فقیہ لکھا ہے‘ اردو زبان میں غیر فقیہ کا ٹھیک معنی بے وقوف کے ہوتے ہیں‘ آپ کے امام ابو حنیفہ نے حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث کو اعرابی ( جنگلی و بدو) مسند ابوحنیفه مترجم ص 88‘ کہہ کر ٹھکرا دی تھی۔ نور الانوار ص …. اور التوضیح ص 411 میں امام شافعی کو جاہل اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بدعتی لکھا ہے۔
شاید آپ ان کو ادب واحترام اور بڑے اچھے القاب قرار دیتے ہوں تو ذرا ہمت کر کے جب نصرۃ العلوم کی تقریب بخاری کا اشتہار شائع کریں تو انہیں القاب سے اشتہار میں اپنے استاذ کا نام لکھنا کہ فلاں شیخ الحدیث‘ جو غیر فقیہ‘ اعرابی جاہل و بدعتی ہیں ان کا بخاری کی آخری حدیث پر درس ہو گا‘ اٹھیے اور ہمت کیجیے اور ان القاب سے ایک دیوبندی عالم کو مخاطب کیجیے پھر قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ چاروں اطراف سے آپ کے حق میں دیوبندی وہ دعا خیر کریں گے کہ آپ کو جان کے لالے پڑ جائیں گے۔
افسوس آپ اپنے اکابر کے لیے تو جاہل‘ بدعتی‘ غیر فقیہ اور اعرابی کا لفظ پسند نہیں کرتے مگر صحابہ کرام اور حامی سنت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق اسے بڑے شوق سے گوارہ کرتے ہیں بلکہ اسے معرفت کا نام دیتے ہیں‘ یہ ہیں ادب کے واحد ٹھیکے دار۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

تحریک اہل حدیث کا اصل قصور

ہمارے مخالفین ، ہمیں وہابی‘ غیر مقلد‘ لا مذ ہب‘ خارجی، حشوی، شیعہ کے مینی بھائی وغیرہ القاب سے نوازتے ہیں‘ تانیب الخطیب ص 21 وار شاد الشیعه ص 149 و فتح المبین ص 442 ص 455 و ص 453 و غیره
اس پرو پیگنڈا کو اس قدر ہوادی گئی ہے کہ آج غیر مقلد وہابی و غیر ہ کا لفظ ایک گالی بن کر رہ گیا ہے آخر ہم لوگوں نے ان کا کیا بگاڑا ہے۔ کسی جائداد پر قبضہ کیا ہے یا عزت نفس مجروح کی ہے؟ نہیں ہر گز نہیں، تو پھر ہمارے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے، حالانکہ تعلیم قرآن ہے کہ
(وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ) (الانعام: 108)
یعنی مشرکین کے معبودان باطلہ کو گالیاں مت دو۔
قابل غور بات ہے کہ کیا ہمارا اتنا ہی نا قابل معافی جرم ہے کہ ہمیں چڑانے کے لیے برے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، بعض فرقہ ضالہ کی طرف ہماری نسبت کی جاتی ہے‘ خشیت الہی کو بالائے طاق رکھ کر ہماری طرف وہ چیزیں منسوب کی جاتی ہیں، جن کو ہم بھی کفر و گمراہی سمجھتے ہیں، بزرگوں کے گستاخ آئمہ دین کی توہین کرنے والے تو ہمیں عام کہا جاتا ہے‘ حالانکہ ہم بر ملا کہہ رہے ہیں کہ ہم امت مرحومہ میں سے کسی بھی بزرگ کی شان میں گستاخی کرنے والے نہیں، جن ناموں سے آپ ہمیں مخاطب کرتے ہیں ان کے ساتھ ہمارا سرے سے کوئی مذ ہبی رشتہ و تعلق ہی نہیں‘ مگر ان لوگوں کو ہماری قسمیں جھوٹی دکھائی دیتی ہیں‘ نمازیں ریا معلوم ہوتی ہیں، اتباع سنت کا جذ بہ ان کو نمائش معلوم ہوتا ہے، قرآن و سنت کی خدمت کو یہ لوگ ہوائے نفس کا نام دیتے ہیں۔
خاکسار راقم الحروف نے متعدد بار غور کیا کہ آخر ہمارا جرم کیا ہے ؟ جس کی اتنی سنگین سزا ہمیں سنائی جارہی ہے۔ بھائیو جہاں تک میری عقل و فکر نے کام کیا تو مجھے یہ قصور نظر آیا کہ ہم نے تقلید کی بجائے اتباع رسول کو اوڑھنا بچھونا بنایا‘ ہدایہ کی بجائے قرآن کی طرف بلایا، کنز قدوری کی بجائے احادیث رسول پڑھنے کے لیے لوگوں کو تحفہ دیا‘ تراجم فقہ کی بجائے قرآن وحدیث کے تراجم کیے۔ انگریز کی غلامی کی بجائے جہاد فی سبیل اللہ کو فروغ دیا‘ ملک میں فتاوی عالم گیری کی بجائے قرآن و سنت کے نفاذ کا مطالبہ کیا‘ بدعات کی بجائے سنت کی آبیاری کی شرک کی بجائے تو حید کا درس دیا۔ یہی قصور ان لوگوں کی نگاہ میں ناقابل معافی جرم بن گیا، جیسے ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو صابی کہا گیا‘ اسی طرح ہمیں لامذہب کا لقب دیا گیا۔ جیسے آپ علیہ السلام کو مذمم کہا گیا‘ ویسے ہی ہمیں مال کا لقب دیا گیا‘ جیسے آنحضرت ﷺ کو توحید کے درس پر معبودان باطلہ کا گستاخ کہا گیا ویسے ہی ہمیں درس توحید پر اولیاء کا گستاخ قرار دیا گیا۔ جیسے صحابہ کرام کو اتباع رسول کی وجہ سے سفہاء کہا گیا (سورہ البقرہ:13) اسی طرح ہمیں بھی غیر فقہی کہا گیا‘ جیسے صحابہ کرام کو اسوہ رسول کی پیروی کی وجہ سے صابی(شتر بے مہار) کہا گیا اسی طرح اتباع رسول کی وجہ سے ہمیں آوارہ (غیر مقلد کا لفظ انہیں معنوں میں یہ لوگ استعمال کرتے ہیں) کہا گیا، افسوس صد افسوس کہ اگر عامی کو ہدا یہ پڑھنے کے لیے دیا جائے تو وہ راہ ہدایت پر رہے گا اگر قرآن اور بخاری دی جائے تو ضال گمر اہ اور آوارہ ہو جائے گا اس زیادتی کی کوئی انتہا ہے۔
مگر کان کھول کر سن لو ان فتاویٰ کی اللہ کے ہاں پر کاہ کی بھی حیثیت نہیں‘ دین تمہارے امام اور فقہاء کا نہیں‘ اللہ اور اس کے رسول کا ہے ، ہمیں خوشی ہے کہ ہمیں ہمارے آقا کی طرح سب کچھ سننا پڑا اور ہم نے صبر کیا اللہ تعالیٰ ہمارے اسلاف اور ہمارے لئے ان چیزوں کو توشہ آخرت اور کفارہ سیات بنائے‘ اور اس عمل حسنہ کے وسیلہ سے ہمیں اپنے پیارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ صلى الله عليه وسلم کی شفاعت اور جنت میں رفاقت نصیب فرمائے‘ اور ان لوگوں کو ہدایت عطاء فرمائے۔ آمین یا رب العلمین خیر ان لوگوں کی ایسی حرکات سے علماء حق بد دل نہ ہوئے‘ اور اپنے مشن کو جاری رکھا، جس کے نتیجہ میں جلد ہی تقلید وغیرہ مسائل اہل علم کی محفل سے نکل کر عوامی بن گئے‘ اور فقہ حنفی کے بعض غلط اور قرآن و سنت کے خلاف فتاویٰ کا مذاق اڑایا جانے لگا‘ حنفیہ نے اپنے انداز فکر پر غور کیا اور اہل حدیث کو مطعون کرنے کے لیے نصوص پر حرف گیری اور تاویل و تحریف کا راستہ اختیار کیا‘ ان لوگوں میں سے بعض نام کے علامہ و فہامہ اور مناظرین نے سنت رسول پر مذاق کرنا اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا‘ ہمارے معاصر نے بھی‘ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا دوران نماز بچے کو اٹھانا‘ نماز میں کنڈی کھولنے کی احادیث کا مذاق اڑایا ہے۔
(دیکھیے تحفہ اہل حدیث ص 10)
اہل حدیث کی عداوت میں بخاری و مسلم کی روایات پر اعتراض ہوا‘ تو کبھی حجیت حدیث پر حرف گیری کی گئی‘ تو کبھی تدوین حدیث کے نام سے حدیث میں شکوک و شبہات پیش کیے‘ جب یہ اعتراضات مارکیٹ میں آئے جہلاء اور بابو ٹائپ لوگوں کو ان اعتراضات میں معقولیت نظر آئی‘ جس کا نتیجہ واضح تھا کہ انہوں نے سرے سے حجیت حدیث سے ہی انکار کر دیا‘ اور ملت اسلامیہ کے اجتماعی موقف کے بر عکس اطاعت رسول کا ہی انکار کر دیا۔

مؤلف تحفہ اہل حدیث کو کھلا چیلنج

ہماری طرف سے ابو بلال کو کھلا چیلنج ہے کہ وہ ہمارے اس مؤقف کی دلائل سے تردید کرے اور کم از کم منکرین حدیث کے دس ایسے اعتراضات کی نشان دہی کرے جس کے موجد فقط منکرین حدیث ہوں اور ان اعتراضات کو اہل حدیث کی عداوت میں علماء احناف نے ان سے پہلے ہم پر نہ کیے ہوں‘ مگر یاد رہے کہ دس تو کجا ان کا نصف بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا، راقم یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہے کہ اگر کسی حنفی یا ابو بلال نے بزعم خود ایسے اعتراضات کی نشان دہی کی تو یہ خاکسار دلائل سے ثابت کر دے گا کہ ان کے موجد اور علمی مواد فراہم کرنے والے بر صغیر کے حنفی مولوی ہیں‘ ان شا الرحمٰن
یہاں سے ان لوگوں کے زہد و تقویٰ اور پارسی کا بھی پتہ لگ گیا کہ ان میں خشیت الٰہی ہوتی تو مشترک چیز ( قرآن و حدیث) پر اعتراض نہ کرتے بلکہ متنازع فیہ تقلید اور فقہ حنفی کا د فارع ہی کرتے‘ مگر ان لوگوں نے ہماری عداوت اور بغض میں حلال و حرام کا فرق ہی نہ رکھا سب کو ہی رگڑد یا‘ اناللہ وانا الیہ راجعون

ائمہ اربعہ نے تقلید کیوں نہ کی؟

فرماتے ہیں‘ نہ معلوم آپ نے یہ جملہ کہاں سے سن رکھا ہے کہ ائمہ اربعہ غیر مقلد تھے ، آپ کا سوال اسی طرح ہے جس طرح کوئی یوں کہے میں کسی نام کا مقتدی بن کر نماز نہیں پڑھوں گا‘ یہی رٹ لگا تا چلا جائے ہم اس سے پوچھیں گے کیوں نہیں مقتدی بنتا؟ وہ کہے پہلے دکھاؤ یہ امام کس کا مقتدی ہے ؟ یا یوں کہے کہ میں کسی نبی کا امتی نہیں‘ اس لیے کہ ہمارے پیغمبر کسی کے امتی نہیں ہیں، پہلے حضور علیہ السلام کا امتی ہونا ثابت کرو میں بعد میں امتی بنوں گا۔ پہلے اہم کا مقتدی ہونا دکھلاؤ میں بعد میں مقتدی بنوں گا‘ یا میں اس بادشاہ کی رعایا نہیں ہوں کیونکہ یہ بادشاہ کس کی رعایا ہے؟ میں مقلد نہیں ہوں کیونکہ ائمہ اربعہ کسی کے مقلد نہیں تھے۔ ہم بڑے پیار سے عرض کریں گے کہ امام امام ہی ہوتا ہے باد شاہ رعایا میں شمار نہیں ہو تا‘ رعایا بادشاہ نہیں ہوتی، پیغمبر امتی نہیں ہوتے‘ مجتہد تو مجتہد ہے وہ مقلد کیسے ہو‘ تقلید تو غیر مجتہد کرے گا جو درجہ اجتہاد پر فائز نہیں ہے۔
( تحفہ اہل حدیث ص 63)
الجواب:- اولا:-
بھائی اقتداء اور تقلید کا ہم فرق بیان کر چکے ہیں، اگر اس کا کوئی معقول جواب آپ کے پاس ہے تو وہ عنایت کیجیے۔
ثانیا:- بھائی جان بادشاہ اور تقلید کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟ بادشاہ تو غیر مجتہد بھی ہو سکتا ہے‘ بلکہ دین سے بے بہرہ اور اجڈ بھی ہو سکتا ہے‘ غالباً آپ نے تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا ورنہ ایسی حرکت نہ کرتے‘ کسی ایف اے یا بی اے کے طالب علم سے پوچھنا کہ اکبر کا دین الٰہی کیا چیز تھی‘ اور اس کا موجد بادشاہ تھا کہ نہیں ؟ یہ بھی خوب کہا کہ بادشاور عایا نہیں الخ شاید آپ کو قرآن کا مطالعہ نہیں ارشاد ربانی ہے کہ
ول اللهُم مِلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ) (آل عمران: 26)
اے اللہ بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے چھین لیتا ہے۔
لیجیے جناب اس آیت میں آپ کے دو مطالبے پورے ہوتے ہیں‘
(1) اللہ حکمرانی کو چھین بھی لیتا ہے‘ جب چھین لیتا ہے تو وہ بادشاہ نہیں رہتا اس کا شمار رعایا میں ہوتا ہے۔
(۲) بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے اور حقیقی شہنشاہ وہی ہے۔
ثالثاً:-
آپ نے لفظ‘ لمتہ پر غور نہیں کیا‘ جس کی وجہ سے آپ کو غلطی لگی ہے‘ یا جان بوجھ کر مغالطہ دیا ہے، سنئے کہ امتہ بمعنی جماعت آتا ہے خواہ وہ انسانوں کی ہو یا جانوروں یا پرندوں کی‘ ارشاد ربانی ہے کہ
(وَمَا مِن دَآبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالَكُمْ )
(سوره الانعام :38)
یعنی زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والے جانور ہیں ان کی تمہاری ہی طرح جماعتیں ہیں۔
اور جب اس لفظ کا اطلاق انسانوں کے لیے ہو تو اس سے مراد ہم عقیدہ لوگ ہوتے ہیں۔
ارشاد باری تعالی ہے۔
(كَانَ النَّاسُ أُمَّةٍ وَاحِدَةً )
(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا۔
(2-213)
اور عرف عام میں امت ان ہم عقیدہ لوگوں کی جماعت کو کہتے ہیں، جسے کوئی نبی یا رسول تشکیل دیتا ہے اور ارشاد ربانی ہے
(كنتم خير امةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ )
(آل عمران: 110)
(مومنو) جتنی امتیں بھی لوگوں کے لیے پیدا ہوئیں تم ان میں سے بہتر ہو۔
(مترادفات القرآن ص 390)
ان معانی کو ملحوظ رکھیے تو ایسا سوال کرنے والا ( پہلے یہ بتایا جائے کہ نبی کس کا امتی ہے) جاہل و نادان ہی ہو سکتا ہے‘ کوئی ذی علم اور باشعور انسان نہیں ہو سکتا‘ جب کہ تقلید کا یہ معنی نہیں ہے، جس کی وجہ سے آپ کی توجہ ہی غلط اور مثال اغلط ہے‘ آپ جیسے لوگوں کی نادانیوں کی وجہ سے ہی منکرین حدیث کا گروہ پیدا ہوا ہے۔ اب بالفرض اگر کوئی جاہل و نادان اور علم دین سے کورا اس کو پلے باندھ لے تو آپ کے لیے یہی ایصال گناہ کافی ہے، آپ ہمارے ساتھ اختلاف ضرور رکھیے بلکہ بغض و تعصب بھی ترک نہ کیجیے، مگر فرضی اعتراضات کو درمیان میں لاکر دین کا حلیہ مت بگاڑ یئے اور جہلاء کو دین سے برگشتہ نہ کیجیے‘ اگر ان کی حالت کو سنوار نہیں سکتے تو مزید خراب بھی نہ کریں‘ پھر آپ پہ واضح ہونا چاہیے کہ اگر کوئی یوں کہے کہ ان کے موجد آپ ہی ہیں‘ ور نہ یہ الزامی جواب کہلانے کا سرے سے مستحق ہی نہیں‘ کیونکہ الزامی جواب میں فریق ثانی کا مسلم ہونا شرط ہوتا ہے۔ غیر مسلم کو آپ کے دل کی بھڑاس تو کہا جاسکتا ہے مگر اسے جواب کوئی دانا نہیں کہے گا‘ غور کیجیے کہ سوال تو آپ یہ نقل کرتے ہیں کہ ائمہ اربعہ نے کسی کی تقلید ہی نہیں کی‘ یہ سوال آپ کے مسلمات سے ہے‘ اس کا جواب آپ ہمیں غیر مسلم عنایت کرتے ہیں‘ بھائی ان چیزوں کی جہلا میں تو شاید قدر ہو مگر اہل علم کے نزدیک آپ کا یہ جواب کم از کم خلط مبحث کی بدترین مثال ہے۔
رابعا:
آپ کا یہ جواب کہ ائمہ اربعہ چونکہ مجتہد تھے‘ اور مجتہد کے لیے تقلید جائز نہیں، یہ بھی سوال کا جواب نہیں! اس جواب پر متعدد اعتراض ہیں‘ بتایا جائے کہ ائمہ اربعہ پیدائشی مجتہد تھے یا ایک زمانہ تک انہوں نے کسب کیا جس کے نتیجہ میں وہ درجہ اجتہاد کو پہنچ گئے۔ اگر آپ کہیں کہ وہ پیدائشی مجتہد تھے‘ تو اس کا ثبوت قرآن و حدیث سے دیجیے۔ اگر آپ ثبوت نہ دے سکے تو ماننا پڑے گا کہ وہ ابتدائی زمانہ میں مجتہد نہ تھے‘ اور ایک مدت تک انہوں نے علم دین حاصل کیا‘ پھر درجہ اجتہاد پایا‘ لہذا آپ پر لازم ہے کہ ثابت کریں کہ اجتہاد کا درجہ پانے سے پہلے انہوں نے کس کی تقلید کی ؟ اگر آپ ان سے صحیح اسناد کے ساتھ یہ ثابت کر دیں کہ ہم پہلے تو فلاں فلاں کی تقلید کرتے تھے مگر اب چونکہ مجتہد ہو گئے ہیں لہذا ہم نے تقلید کو بھی ترک کر دیا ہے۔ اگر آپ یہ ثابت کر دیں تو ہم آپ کو منہ مانگا انعام دیں گے مگر یادرکھیے پوری دنیا کے مقلدین سر توڑ کوشش کرنے کے باوجود اس میں بری طرح ناکام رہیں گے۔ ان شاء الله
بالفرض اگر آپ علماء دیو بند کی تقلید میں یہ کہہ دیں کہ اجتہاد کوئی اکتسابی چیز یافن نہیں ہے جسے محنت سے حاصل کر لیا جائے بلکہ وہ ملکہ عطاء الٰہی ہے۔
(دفاع امام ابو حنیفہ ص 340)
تو اس کے جواب میں ہم عرض کرتے ہیں کہ اجتہاد کیا پورا دین کا علم بلکہ انسان کی ہر چیز عطاء الٰہی ہے، مگر کوئی چیز موہسبت نازل نہیں ہوتی جب تک انسان کی طرف سے اس کے حصول کی کوشش اور کسب نہ کیا جائے ارشاد ربانی ہے کہ
(يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يُشَاءُ الذُّكُورَ ) (الشورىٰ:50)
یعنی ہم جسے چاہتے ہیں لڑکے عطا کرتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں لڑکیاں موہسبت کرتے ہیں۔
اسی طرح سورہ مریم آیت 50 میں کہا ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب موہبست کیے‘ جس سے معلوم ہوا کہ اولاد اللہ کی عطا ہے تو کیا اس کا یہ معنی ہے کہ اولاد کے حصول کے لیے کسی انسانی عمل کی ضرورت نہیں۔
قرآن گواہ ہے کہ ساری دنیا کو رزق اللہ دیتا ہے۔ تو کیا اس کا یہ معنی ہے کہ حصول رزق کے لیے محنت کی ضرورت نہیں‘ یا یہ حدیث کہ تمام لوگ اللہ کی رحمت سے جنت میں جائیں گے ۔ ( بخاری کتاب الرقاق باب القصد والمداومة… مسلم کتاب صفات المنافقين) (باب لن يدخل احد الجنة بعمله) تو کیا اس کا یہ معنی ہے کہ اللہ کی رحمت کو حاصل کرنے کے لیے کسی عمل صالحہ کی ضرورت نہیں‘ الغرض اس ساری تقریر سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ ایک مدت تک ائمہ اربعہ غیر مجتہد تھے‘ لہذا اس دور میں ان سے تقلید ثابت کریں‘ اور نہ ہمارا یہ لاجواب اعتراض لا جواب ہی رہے گا۔ ان شاء اللہ
جب کوئی ثبوت ہی آپ کے پاس نہیں تو پھر اللہ کا خوف کیجیے خلط مبحث علماء کی شان نہیں، علاوہ ازیں اگر تقلید شخصی واجب یا مستحسن فعل ہو تا یا امت مرحومہ پر ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید ضروری ہوتی تو یہ چاروں بزرگ اپنی تقلید سے منع نہ کرتے۔
(۱) امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ
(لا يحل لاحد ان ياخذ يقولى مالم يعلم من أين قلت ونهى من التقليد وندب إلى معرفة الدليل )
اس شخص کو میرا قول لینا حلال نہیں جو یہ نہیں جانتا کہ میں نے کس دلیل سے کہا ہے اور امام صاحب نے تقلید سے منع کیا اور دلیل معلوم کرنے کی ترغیب دلائی۔
(مقدمہ ہدایہ ص 93 ج 1)
(۲) امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ
(انما انا بشر اخطى واصيب فانظروا في رائي فكلما وافق الكتاب والسنة فخذوه وكلما لم يوافق فاتركوه ).
یعنی میں تو ایک انسان ہوں درست اور غلطی (اجتہاد میں ) دونوں کرتا ہوں‘ آپ میری رائے میں دیکھا کریں کہ جو بات قرآن وحدیث کے موافق ہو اس کو لے لو اور جو خلاف ہو اسے چھوڑ دو۔
(۳) عام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ
( جلب المنفعة ص 68 و اعلام الموقعین ص 2).
( نهى عن التقليده وتقليد غيره )
(حجۃ اللہ الباللہ ص 155 ج 1)
یعنی امام شافعی نے اپنی اور کسی اور کی تقلید سے منع کیا ہے۔
(۴) نام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ
(لا تقلدوني ولا تقلدن مالكا ولا الاوزاعي ولا النخعي ولا غيرهم وخذ الاحكام من حيث اخذوا من الكتاب والسنة ) (حجۃ اللہ الباللہ ص 157 ج 1 ) یعنی میری تقلید کرنانہ ہی مالک و اوزاعی و شخصی و غیرہ کی کرنا اور احکام کو وہاں سے لینا جہاں سے انہوں نے اخذ کیے ہیں یعنی قرآن و سنت سے۔

کیا اسلام میں فرقہ بندی جائز ہے؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب قرآن سے نفی میں ملتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ
(وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ) (آل عمران: 103)
اور سب مل کر اللہ تعالٰی کی (ہدایت ) رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور فرقوں میں تقسیم نہ ہو۔
(وان اقیمو اقیمو الذين وَلَا تَتَفَرَّقُوا)
(الشورىٰ:13)
دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالتا۔
ان ارشادربانی کے باوجود مسلمانوں میں تفرقے قائم ہوئے‘ مگر ان گروہوں اور دھڑے بندیوں نے تکمیل دین کے بعد جنم لیا‘ کیونکہ جب تک ائمہ اربعہ پیدا نہیں ہوئے تھے‘ تب تک ان کے مقلدین کا وجود نہ تھا‘ اور فرقہ پرستی کی ابتداء نصوص سے اعراض اور تاویل سے ہوتی ہے‘ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے کہ
(وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أوتُو الْكِتَبَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ لَهُمُ الْبَيِّنَةُ) (البینتہ:4)
اور اہل کتاب جو فرقوں میں تقسیم ہوئے ہیں تو دلیل واضح کے آجانے کے بعد ہوئے ہیں۔
اس سے واضح ہے کہ اہل کتاب میں دلائل کے نزول (وحی) کے زمانہ میں اختلاف نہ تھا‘ اختلاف اس کے بعد ہوا جب انہوں نے خواہش و ہوائے نفس کی پیروی کی ار شادر بانی ہے کہ
(فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلُّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ) (ص: 26)
تو لوگوں کے درمیان انصاف کے فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکادے گی۔
خواہش کی پیروی نہ کرنا‘ کیا مراد آیت کا مطلب واضح ہے کہ انسان اپنے دل میں پہلے سے ایک مؤقف باندھ لے پھر اس کی پیروی کرے اور قرآن وسنت سے دو اذکار دلائل کی تلاش کرے جیسے خفیہ ہمیشہ قرآن وحدیث میں تاویل بلکہ تحریف تو کرتے ہیں مگر فقہ حنفی میں تاویل نہیں کرتے‘ یہی خواہش کی پیروی ہے اور اسی چیز سے فرقہ جنم لیتا ہے‘ مگر ہمارے مہربان ان تمام چیزوں سے چشم پوشی اختیار کر کے کہتے ہیں کہ کیا یہ حنفی شافعی‘ اگر اسلام کی قسمیں نہیں تو کیا کفر کی اقسام ہیں؟
( تحفہ اہل حدیث ص 64)
الجواب:- اولاً:-
کیا آپ کے نزدیک نا جائز و ممنوع صرف وہی اشیاء ہیں جو کفر کی اقسام میں سے ہیں‘ اگر نہیں یقینا نہیں تو پھر اس سوال کی معقولیت پر مکرر غور کیجیے کہ آپ کیا ارشاد فرما رہے ہیں۔
(۲) آپ نے جن مسائل پر گفتگو کی ہے یا جن مسائل میں آپ نے اہل حدیث میں اختلاف ثابت کرنے کی کوشش کی ہے تو کیا یہ کفر کی قسمیں ہیں ، اگر نہیں یقینا نہیں تو پھر آپ کے پاس اس کے رد کا کیا جواز ہے؟
(۳) ہم صاف اور دو ٹوک کہتے ہیں کہ تقلید دین اسلام میں ایک خطرناک بدعت ہے‘ اور یہ چاروں طریق بدعی ہیں۔ اللہ اللہ خیر سلا
(۴) رہا آپ کا یہ کہنا کہ تقلید کے رد میں سعودیہ میں بھی ایک اشتہار الخ
بھائی اس کی ہمیں ضرورت نہیں کیونکہ تقلید کے رد میں متعدد عربی کتب ہیں جو شائع ہو چکی ہیں‘ اور خصوصاً سعودیہ میں بھی تقلید کا رد کرنے والے موجود ہیں، علاوہ ازیں آپ یہ واضح ہو کہ حنبلی مکتب فکر صرف تقلید کا نام ہی لیتا ہے مگر حقیقت میں یہ لوگ قرآن و سنت کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنے امام کے اقوال کو نصوص کے تابع رکھتے ہیں‘ اگر اعتبار نہ ہو تو مولوی حسین احمد مدنی کی تالیف۔ شہاب ثاقب ص 62 کا مطالعہ کر لینا۔
الغرض مقلدین میں سے سب سے زیادہ سنت سے محبت حنبلی مکتب فکر کو ہے‘ وہ کسی نص میں نہ تاویل کرتے ہیں اور نہ ہی عقائد میں مؤول ہیں۔

یہ تحریر اب تک 1 لوگ پڑھ چکے ہیں، جبکہ صرف آج 1 لوگوں نے یہ تحریر پڑھی۔