فروخ اور اس کے بیٹے ربیعہ الری کے دلچسپ واقعہ کی حقیقت

تالیف: حافظ محمد انور زاہد حفظ اللہ

فروخ اور اس کے بیٹے ربیعہ الری کے دلچسپ واقعہ کی حقیقت
ہم اپنے قارئین کے سامنے عبدالرحمن رافت الباشاء کی معروف کتاب حیات تابعین کے درخشاں پہلو سے مکمل واقعہ بیان کرتے ہیں انھوں نے اس کو ایک کہانی کے انداز میں لکھا ہے ، لکھتے ہیں:
فروخ جب مدینہ پہنچا اس وقت یہ ابھرتا ہوا کڑیل، خوبصورت اور بہادر جوان تھا۔ اس نے ابھی اپنی زندگی کی تیسویں بہار میں قدم رکھا تھا اس نے سکونت کے لیے ایک گھر اور سکون کے لیے ایک بیوی حاصل کرنے کا ارادہ کیا۔ پہلے اس نے مدینہ منورہ میں متوسط درجے کا ایک گھر خریدا اور اس کے بعد ایک ایسی دانشمند، سلیقہ شعار اور دیگر بہت سی خوبیوں سے متصف بیوی کا انتخاب کیا جو اس کی ہم عمر تھی۔
فروخ وہ گھر دیکھ کر بہت خوش ہوا جو الله تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس سے حاصل ہوا تھا۔ بیوی کی رفاقت میں اسے زندگی کا مزا، حسن معاشرت کی خوشبو، حیات مستعار کی تروتازگی وہم وگمان سے بڑھ کر میسر آئی۔ گھر کے در و دیوار خوشیوں کے نغمے الاپتے ہوئے محسوس ہوئے۔
لیکن وہ چہیتی بیوی جسے اللہ تعالیٰ نے عمدہ صفات اور دلربا عادات سے نوازا تھا، وہ ایک مؤمن بہادر، جنگجو کے معرکوں میں دیوانہ وار شمولیت کے شوق پر غالب نہ آ سکی اور تلواروں کی جھنکار سننے کے شوق پر اور اللہ کی راہ میں جہاد کی والہانہ محبت پر غالب آ سکی۔
جب بھی اسلامی لشکروں کی کامیابی کی خوش کن خبر یں مدینہ منورہ میں گشت کرتیں، تو ان کا جذبہ جہاد نقطہ عروج پر پہنچ جاتا اور شوق شہادت میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا۔
بہادر و نڈر فروخ نے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب کو فضائل جہاد پر خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ حاضرین کو لشکر اسلام کی مید انہائیں جہاد میں کامیابی و کامرانی کی خوشخبری دے رہے تھے اور شہادت کی امنگ پیدا کرنے کے لیے دلوں کو گرما رہے تھے۔ خطبہ کیا تھا ایک ساحرانہ الفاظ کا مجموعہ، رقت انگیز جملوں کا مرقع اور دلآویز خیالات و افکار کا آمیختہ تھا۔ سننے والے نمدیدہ تھے۔ ہر فرد جذبہ جہاد سے سرشار نظر آتا تھا۔ جمعہ سے فارغ ہو کر سیدھے گھر آئے، اسلامی لشکر میں شامل ہو کر میدان جہاد کی طرف جانے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ چہیتی بیوی کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔ اس نے کہا :
سرتاج! مجھے اور میرے پیٹ میں پلنے والی اپنی امانت کو کس کے حوالے کر کے جا رہے ہیں؟ آپ مدینہ میں اجنبی ہیں اور نہ ہی آپ کا یہاں کوئی رشتہ دار ہے۔ اس نے جواب دیا : میں آپ کو اللہ کے سپرد کر کے جا رہا ہوں۔ یہ تیس ہزار دینار اپنے پاس رکھیں۔ یہ مال غنیمت سے میرے حصے میں آئے تھے انھیں سنبھالیں یا تجارت میں لگا دینا خود بھی خرچ کرنا اور معروف انداز میں اپنے ہونے والے بچے پر بھی خرچ کرنا، یہاں تک کہ میں میدان جہاد سے صحیح و سالم واپس آؤں یا اللہ تعالیٰ مجھے شہادت نصیب کر دے جو میری دلی تمنا ہے۔ پھر الوداعی سلام کیا اور اپنی منزل پر روانہ ہو گیا۔
اس معزز، سلیقہ شعار، وفادار اور سگھڑ خاتون نے اپنے خاوند کی روانگی کے چند ماہ بعد ایک خوبرو، خوش اطوار اور جاذب نظر بچے کو جنم دیا، اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئی خیال آیا کہ شاید یہ اپنے باپ کی جدائی کا غم غلط کر دے اور یہ اس کی نشانی اور امانت میرے دل کا سرور دار آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے اس بچے کا نام ربیعہ رکھا گیا، تاکہ اس کا وجود گھر کے آنگن کے لیے سدا بہار کا سماں پیدا کرتا رہے۔
اس ننھے بچے کے روشن چہرے پر شرافت و نجابت کی علامت شروع ہی سے آشکار تھی۔ بچپن ہی سے اس کی باتوں اور کاموں سے ذہانت ٹپکتی تھی۔ ماں نے اس کی تعلیم و تربیت کے لیے ماہر اساتذہ کے سپرد کر دیا اور انھیں اچھی طرح تعلیم دینے کی تلقین کی اور تربیت دینے والوں کی خدمت میں استدعا کی کہ وہ اسے اچھے انداز میں ادب سکھلائیں۔ تھوڑی ہی دیر میں اس نے لکھنے پڑھنے میں مہارت پیدا کر لی۔ قرآن مجید حفظ کر لیا اور ایسی ترتیل، تجوید و خوش الحانی سے پڑھنے لگا جیسا کہ رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل ہوا تھا۔ جس قدر ممکن ہو سکا احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی زبانی یاد کر لیا اور اس طرح کلام عرب کا بھی قابل قدر حصہ زبانی یاد کر لیا۔ علاوہ ازیں دینی احکامات کی معرفت بھی حاصل کر لی۔
ربیعہ کی والدہ اپنے بیٹے کی خاطر اس کے اساتذہ پر مال و دولت نچھاور کر نے لگی اور انھیں انعامات سے نوازنے گی۔ جب بھی یہ دیکھتے کہ اس کا بیٹا میدان علم و ادب میں چند قدم آگے بڑھا ہے۔ وہ اسی قدر انعام و اکرام میں بھی اضافہ کر دیتی۔ وہ اس کے پردیسی باپ کی واپسی کا انتظار کرتی تھی اور اس کوشش میں تھی کہ بیٹا بڑا ہو کر ایسے مقام پر فائز ہو کہ عوام الناس کی رہنمائی کا باعث بنے۔ جس وقت اس کا باپ سفر سے واپس لوٹے وہ اپنا باادب،مہذب تعلیم یافتہ بیٹا دیکھے کر باغ باغ ہو جائے، لیکن اس کے خاوند کی جدائی لمبی ہو گئی۔ دل کے ارمان آنسوؤں میں بہنے لئے مختلف خیال آرائیاں ہونے لگیں کوئی کہتا دشمن کے ہاتھوں قید ہو گیا ہو گا۔ کوئی کہتا نہیں وہ آزاد ہے اور جہاد میں مشغول ہو گا، میدان جہاد سے واپس لوٹنے والے کہتے اس نے اپنی دلی تمنا کے مطابق جام شہادت نوش کرلیا ہو گا۔ ام ربیعہ نے اس تیسری بات کو ترجیح دی، کیونکہ عرصہ دراز سے کوئی اس کی خبر نہ تھی۔ اس جدائی نے اس کے دل کو پژمردہ کر دیا لیکن اس نے صبر و شکر کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ثواب کی نیت کر لیا۔
جب ربیعہ نے جوانی میں قدم رکھا، خیر خواہوں نے اس کی والدہ کو مشورہ دیا ربیعہ اب لکھ پڑھ چکا ہے ضرورت کے مطابق اتنا ہی کافی ہے، بلکہ اپنے ہم عمروں سے کہیں آگے ہے اور اس پر مز ید وہ قرآن و حدیث کا حافظ بھی ہے۔ اگر تو اس کے لیے کوئی پیشہ منتخب کر لے، وہ بہت جلد اس میں مہارت پیدا کر لے گا۔ پھر وہ منافع سے تم پر اور اپنی ذات پر خرچ کرنے کے قابل ہو سکے گا۔ والدہ نے کی تجویز سن کر کہا : میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گی کہ وہ اس کے لیے ایسا کام تجویز کر دے جو اس کی دنیا اور آخرت کے لیے بہتر ہو۔ پھر ربیعہ نے اپنے لیے علم کو منتخب کر لیا اور اس نے مصمم ارادہ کر لیا کہ زندگی بھر متعلم یا معلم کی حیثیت میں رہوں گا۔
ربیعہ اپنے منتخب راستے پر بغیر کسی کوتاہی اور تساہل کے گامزن رہے اور ان علمی حلقوں کی طرف جن کی مسجد نبوی میں چہل پہل تھی، اس طرح لپکے جیسے کوئی پیاسا میٹھے پانی کے چشمے کی طرف لپکتا ہے اور ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دامن پکڑ لیا جو ابھی بقید حیات تھے اور ان میں سرفہرست خادم رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تھے۔ تابعین کے پہلے طبقے سے بھی علم حاصل کیا جن میں سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ مکحول شامی اور سلمہ بن دینار رحمہ اللہ سرفہرست ہیں۔
میدان علم میں دن رات کی مسلسل محنت نے اسے جسمانی طور پر بہت کمزور کر دیا تھا۔ ایک ساتھی نے اسے کہا : پیارے دوست! اپنے آپ پر ذرا رحم کیجیے اس نے جواب میں کہا:
ہم نے اپنے مشائخ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علم اس وقت تک اپنا معمولی سا حصہ بھی تمھارے سپرد نہیں کرے گا جب تک تم مکمل اپنا آپ اس کے سپرد نہیں کر دیتے۔
تھوڑے ہی عرصے بعد اس کا نام بلند ہوا، مقدر کا ستارہ چمکا اور اس کے چاہنے والوں کی تعداد بڑھ گئی۔ شاگرد اس پر فریفتہ ہونے لگے اور قوم نے اسے اپنا سردار بنا لیا۔
دن کا کچھ حصہ اپنے گھر میں گزارتے اور باقی دن مسجد نبوی کے علمی حلقوں میں گزرتا، اس کی زندگی کے دن اسی طرح گزر رہے تھے کہ ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کا اسے وہم و گمان ہی نہ تھا۔
موسم گرما کی چاندنی رات تھی۔ ایک جنگی شهسوار ہتھیاروں سے لیس، چھٹی ہجری کے آخری ایام میں مدینہ منورہ آیا، وہ اپنے گھوڑے پر سوار مدینہ منورہ کی گلیوں میں اپنا گھر تلاش کر رہا تھا۔ وہ بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کا گھر موجود ہے یا حوادثات زمانہ کی نذر ہو چکا ہے کیونکہ اسے اپنا گھر چھوڑ کر گئے، تقریباً تیس سال بیت چکے تھے۔ اس کے نہال خانہ دل میں تصور بھی جاگزیں تھا کہ اس کی جواں سال بیوی پر اس عرصہ میں کیا گزری ہوگی ؟ کن مشکلات کا اسے سامنا کرنا پڑا ہوگا؟ بھلا اس بچے کا کیا بنا ہوگا جو میری روانگی کے وقت پیٹ میں پل رہا تھا؟
خدا جانے لڑکا پیدا ہو یا لڑ کی؟
وہ زندہ ہے یا فوت ہو چکا ہے؟
اگر زندہ ہے تو وہ کس حالت میں ہو گا؟
اور اس خطیر رقم کا کیا بنا ہو ا جو میں نے مال غنیمت سے حاصل کی تھی اور سمرقند و بخارا کو فتح کرنے کے لیے اسلامی لشکر کے ہمراہ روانہ ہوتے وقت میں نے بیوی کے سپرد کی تھی؟
مدینے کی گلیوں میں آنے جانے والوں کی چہل پہل تھی۔ لوگ ابھی نماز عشاء سے فارغ ہوئے ہی تھے لیکن ان آنے جانے والے لوگوں میں سے کوئی بھی اسے پہچانتا نہ تھا اور نہ ہی اسے کوئی اہمیت دیتا تھا، اور نہ ہی کوئی اس کے غبار آلود گھوڑے کی طرف بنظر غائر دیکھتا تھا اور نہ ہی اس کے کندھے پر لٹکنے والی تلوار کی طرف جھانکتا ہی تھا، کیونکہ اسلامی شہروں کے باشندے ان مجاہدین سے مانوس ہو چکے تھے، جو اللہ کی راہ میں جہاد کی غرض سے صبح و شام آتے جاتے رہتے تھے۔
لیکن مدینے کے باسیوں کی بےپروائی دیکھ کر شہسوار کے غم و اندوہ میں اضافہ اور خیالات میں مزید وسوسے پیدا ہوئے، شہسوار اپنے خیالات میں ڈوبا ہوا مدینے کی گلیوں کا راستہ تلاش کرتے ہوئے چلا جا رہا تھا، آخر کار وہ اپنے گھر کے سامنے پہنچا، گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وفور شوق میں اہل خانہ سے اجازت لیے بغیر دروازے سے گزر کر گھر کے صحن میں آ کھڑا ہوا، جب گھر کے مالک نے دروازے پر کسی کے قدموں کی آہٹ سنی تو بالائی منزل سے نیچے جھانکا، کیا دیکھتا ہے کہ چاند کی روشنی میں ایک شخص تلوار لٹکائے، ہاتھ میں نیزا تھامے گھر کے صحن میں کھڑا ہے اور اس کی نوجوان بیوی اس اجنبی شخص کی نگاہوں سے قدرے دور کھڑی ہے۔ یہ نوجوان غصے سے اچھلا اور ننگے پاؤں یہ کہتے ہوئے تیزی سے نیچے اترا۔
ارے اللہ کے دشمن ! تو رات کے وقت اپنے آپ کو چھپائے ہوئے میرے گھر میں داخل ہوا، معلوم ہوتا ہے تیرے ارادے غلط ہیں، وہ اس پر اس طرح جھپٹا جس طرح خونخوار بھوکا شیر اپنے شکار پر جھپٹتا ہے اور اجنبی کو بات کرنے کا موقع ہی نہ دیا۔ دونوں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے، ان کا شور وغوغا سن کر چاروں طرف سے پڑوسی ان کے گھر آ جمع ہوئے سب نے اس اجنبی کو یوں گھیرے میں لے لیا جس طرح کنگھن کلائی کو گھیرے میں لیے ہوتا ہے، اس طرح ان تمام نے اپنے پڑوسی کی مدد کی، نوجوان صاحب خانہ نے مسافر کی گردن کو مضبوطی سے اپنے گرفت میں لے رکھا تھا اور غصے سے یہ کہ رہا تھا، اے دشمن خدا! الله کی قسم، میں تجھے یونہی نہیں چھوڑوں گا، بلکہ تجھے حاکم کے پاس لے جاؤں گا۔
اس شخص نے کہا: میں اللہ کا دشمن نہیں اور نہ ہی میں نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہے، یہ میرا گھر ہے، میں اس کا مالک ہوں، میں نے اس کا دروازہ کھلا ہوا پایا تو اندر آ گیا، کیا اپنے گھر آنا جرم ہے، پھر حاضرین سے مخاطب ہوا اور کہا:
اے قوم! میری بات سنو! گھر میرا ہے۔ میں نے اسے خود خریدا ہے۔ میرا نام فروخ ہے، کیا تم میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اس فروخ کو جانتا ہو، جو آج سے تیس سال پہلے جہاد کے لیے روانہ ہوا تھا۔ نوجوان صاحب خانہ کی والدہ سوئی ہوئی تھی شور و ہنگامہ بن کر بیدار ہوئی۔ بالا خانے کی کھڑکی سے نیچے جھانکا تو اسے اپنا خاوند نظر آیا، جس کی جدائی نے اسے نڈھال کر رکھا تھا۔ اچانک اس منظر کو دیکھ کر ایسی دہشت طاری ہوئی دانتوں میں انگلی دبائے ٹکٹکی لگا کر دیکھتی رہی۔ پھر بلند آواز سے کہا:
لوگو! اسے چھوڑ دو۔ بیٹے ربیعہ ! تم بھی اسے چھوڑ دو۔ یہ تیرا باپ ہے لوگو! اپنے اپنے گھر واپس چلے جاؤ۔ اللہ تمھارا بھلا کرے۔ پھر اپنے خاوند سے مخاطب ہوئی اور کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہ تیرا بیٹا ہے ! تیرا لخت جگر، تیرا نور چشم ہے۔ جب یہ سنا تو فروخ وفور مسرت سے اچھل کر بیٹے سے بغل گیر ہوا اور ہونہار بیٹا محبت سے اپنے باپ کے ہاتھوں، گردن اور سر کو چومنے لگا لوگ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے اور مسکراتے ہوئے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ ام ربیعہ بالا خانے سے نیچے اتری۔ اپنے خاوند کو سلام کیا جس کے متعلق اسے یہ خیال تھا کہ اب روئے زمین پر اس سے ملاقات نہ ہو سکے گی، کیونکہ جدائی کو تیس سال گزر چکے تھے اور اس طویل جدائی میں کوئی خبر بھی تو نہ مل رہی تھی۔
فروخ اپنی بیوی کے پاس بیٹھا اور اس سے بیتے ہوئے دنوں کی روائدار سننے لگا اور اپنے متعلق گھر تک خبر نہ پہنچانے کے اصلی اسباب بیان کرنے لگا لیکن اس کی بیوی یہ سب کچھ بےخیالی میں سن رہی تھی، کیونکہ اس سے ملاقات اور باپ کے اپنے بیٹے کو بچشم خود دیکھ لینے کی خوشی میں اس خوف کی آمیزش بھی شامل ہو چکی تھی کہ کہیں مجھ سے اسی مجلس میں اس خطیر رقوم کے متعلق نہ پوچھ لیں، جو جاتے وقت میرے سپرد کر گئے تھے۔ وہ خیالات کی دنیا میں اپنے دل سے کہ رہی تھی، اگر انھوں نے اس مال کے متعلق پوچھ لیا جو میرے پاس امانت چھوڑ گئے تھے اور یہ تلقین کر گئے تھے کہ میں اسے اچھے انداز میں خرچ کروں، اگر میں نے انہیں یہ بتا دیا کہ اس میں سے کچھ باتی نہیں بچا تو پتا نہیں کیا رد عمل ہوگا ؟ اگر میں انھیں یہ بتا دوں کہ میں نے تمام مال اس کے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خرچ کر دیا ہے تو کیا یہ سن کر انھیں خوشی ہو گی یا تجعب؟ کیا میرا یہ جواب ان کے لیے کافی ہو گا ؟ کہیں یہ غصے میں نہ آ جائیں۔ کہیں یہ دوبارہ جدائی کا صدمہ برداشت کرنے کے لیے مجھے اکیلا چھوڑ کر سفر پر روانہ نہ ہو جائیں۔ کیا وہ اس بات کو بھی مان لیں گے کہ ان کا لخت جگر بادل سے بھی زیادہ سخی ہے؟ اس کے ہاتھ میں درہم و دینار میں سے کچھ باقی نہیں رہتا۔ مدینے کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس نے دائرہ اسلام میں نئے داخل ہونے والوں پر بے دریغ خرچ کیا۔ ام ربیعہ اپنے ان خیالات میں مستغرق تھی۔
خاوند نے اس کی طرف دیکھا اور کہا ام ربیعہ کیا سوچ رہی ہو؟ کن خیالات میں گم ہو؟ کون سی بپتا آن پڑی ہے؟ یہ دیکھو چار ہزار درہم اور لایا ہوں۔ تم بھی وہ درہم لاؤ جو جاتے وقت میں تمھارے سپرد کر گیا تھا، تا کہ اس مال سے ہم باغ اور زمین خرید لیں اور زندگی بھر اس کی آمدن سے آسودگی حاصل کریں۔ وہ یہ سن کر خاموش رہی اور اسے کچھ جواب نہ دیا۔ فروخ نے بیوی سے دوبارہ کہا : لایئے مال کہاں ہے تاکہ اسے ایک ساتھ ملا دوں بیوی نے کہا : میں نے اسے وہاں رکھا ہے، جہاں اس کا رکھنا مناسب تھا۔ ان شاء اللہ چند دن کے بعد آپ اس کے ثمرات دیکھ لیں گئے۔ پھر صبح کی اذان نے ان کا سلسلہ کلام منقطع کر دیا۔ فروخ وضو کرنے کے لیے اٹھا اور پھر جلدی سے دروازے کی طرف گیا۔ آواز دی، ربیعہ کہاں ہے؟ اسے بتایا گیا وہ تہجد کی اذان ہوتے ہی مسجد چلا گیا تھا۔ اہل خانہ نے کہا: ہمارا خیال ہے کہ اب آپ کو جماعت نہیں ملے گی۔
فروخ مسجد پہنچا دیکھا کہ امام ابھی تھوڑی دیر پہلے نماز پڑھا کر فارغ ہوا ہے، انھوں نے فرض نماز ادا کی۔ پھر روضہ رسول پر گئے صلاة و سلام پڑھا پھر ریاض الجنہ کی طرف مڑے۔ دل میں وہاں نماز ادا کرنے کا شوق تھا۔ اس کے معطر اور نورانی ماحول میں دل لگا کر نفلی نماز ادا کی اور گڑ گڑا کر دعائیں مانگیں۔ جب مسجد سے جانے کا ارادہ کیا دیکھا کہ اس کے من میں ایک امی علمی محفل جمی ہوئی ہے، جو مثالی نوعیت کی تھی اور اس سے پہلے اس قسم کے مجلس کہیں نہیں دیکھی تھی۔ لوگ شیخ مجلس کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، رش اتنا تھا کہ تل دھرنے کی جگہ بھی باقی نہ تھی اس نے اہل مجلس پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑائی دیکھا کہ اس میں بڑی عمر والے سروں پر پگڑیاں باندھے با ادب انداز میں بیٹھے ہیں اور ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو بظاہر بڑے معزز دکھائی دیتے ہیں۔ بہت سے سجیلے نوجوان قلم ہاتھ میں لیے دوزانو شیخ کی ہر بات کو کاغذ پر اس طرح قلمبند کر رہے ہیں، جیسے کسی تاج پر قیمتی موتی جڑے جاتے ہیں، وہ اپنی کاپیوں میں شیخ کے ارشادات کو اس طرح قلم بند کر رہے تھے جیسے عمدہ چیزوں کو محفوظ کیا جاتا ہے سبھی شیخ کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھ رہے تھے اس طرح خاموشی، ادب و احترام اور کامل توجہ سے بلاحس و حرکت سن رہے تھے جیسا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں حاضرین میں بات کو دور تک پہنچانے کے لیے مکبر شخص کے بیان کا ایک ایک جملہ بآواز بلند دہرا رہا تھا تاکہ دور بیٹھے ہوئے احباب تک ان کی ہر بات آسانی سے پہنچ جائے اور اہل مجلس میں سے کوئی بھی کسی جملے سے محروم نہ رہے فروخ کے دل میں شیخ مجلس کے دیدار کا شوق پیدا ہوا لیکن زیادہ فاصلہ ہونے کی وجہ سے چہرہ صاف دکھائی نہ دے رہا تھا، شیخ کی خوش بیانی، علمی رفعت، حیرت انگیز قوت حافظہ اور لوگوں کی بے پناہ محبت سے اس کے سامنے عاجزی و انکساری نے اس کے دل پر گویا جادو کر رکھا تھا۔ تھوڑی دیر بعد شیخ مجلس برخواست کر دی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ حاضرین مجلس دیوانہ وار اس کی طرف لپکے ان کے پاس لوگوں کی بہت بھیڑ ہو گئی، محبت بھرے انداز میں انھیں اپنے گھیرے میں لے لیا اور انھیں الوداع کرنے مسجد نبوی کے باہر تک ان کے پیچھے گئے۔ اس موقع پر فروخ نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص سے پوچھا خدارا مجھے یہ تو بتا دیں کہ یہ بلند پایہ شخص کون ہے؟
اس شخص نے تعجب سے کہا: کیا آپ مدینہ منورہ میں نہیں رہتے؟ فروخ نے کہا: کیوں نہیں، میں مدینہ کا باسی ہوں۔ اس شخص نے کہا: مدینے میں ایسا کون ہے جو اس شیخ کو نہیں جانتا۔
فروخ نے کہا: اگر میں اسے نہیں جانتا تو مجھے معذور سمجھیں کیونکہ میں تیس سال قبل جہاد کے لیے مدینہ سے چلا گیا تھا کل ہی واپس لوٹا ہوں۔
اس شخص نے کہا چلو کوئی بات نہیں۔ آیئے میرے پاس بیٹھئے میں آپ کو اس شیخ سے متعلق بتاتا ہوں۔ جس کا بیان آپ نے مجلس میں سنا ہے۔ یہ تابعین کے سردار اور امت مسلمہ کے بہت بڑے عالم اور نوعمری کے باوجود مدینہ کے محدث، فقیہ اور امام ہیں، یہ سن کر فروخ نے کہا: ماشاء الله ! نظر بددور۔ اس شخص نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: اس کی یہ مجلس مالک بن انس، امام ابوحنیفہ، یحییٰ بن سعید انصاری، سفیان ثوری، عبدالرحمن بن عمرو اوزاعی اور لیث بن سعد رحمہ اللہ جیسے اکابرین کی یاد دلاتی ہے۔ فروغ کچھ کہنے لگا، لیکن اس شخص نے اسے بات کرنے کی مہلت نہ دی، بلکہ اس نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ان خوبیوں کے علاوہ خوش اخلاق، فرشتہ سیرت، منکسر المزاج اور سخاوت کا دھنی بھی ہے، اہل مدینہ نے ان سے بڑھ کر کوئی سخی نہیں دیکھا اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کوئی متقی و پرہیزگار۔ فروخ نے کہا : آپ ان کی تعریف ہی کیے جارہے ہیں لیکن ابھی تک ان کا نام نہیں بتایا۔ اس شخص نے بتایا اس کا نام ربیعہ الرائی ہے۔
فروغ نے تعجب سے پوچھا : ربیعہ الرائی !
اس نے کہا: ہاں اس کا نام ربیعہ ہے، لیکن مدینے کے علماء و مشائخ اسے ربیعہ الرائی کے نام سے پکارتے ہیں۔ ان کی علمی شان و شوکت کے کیا کہنے !جب علمائے مدینہ کو کسی درپیش مسئلہ میں قرآن وسنت سے صریح نص نہیں ملتی تو وہ ان سے رجوع کرتے ہیں اور وہ اپنے اجتہاد سے اس کا ایک ایسا حل پیش کرتے ہیں جس سے علما مطمئن ہو جاتے ہیں۔ فروخ نے پوچھا یہ کس کا بیٹا ہے۔ اس نے کہا : یہ اس مجاہد کا بیٹا ہے جس کا نام فروخ ہے۔ یہ اس کے جہاد پر روانہ ہونے سے چند ماہ بعد پیدا ہوا تھا۔
اس کی والدہ نے اس کی تعلیم وتربیت پر پوری توجہ دی۔ میں نے ابھی نماز فجر سے پہلے کچھ لوگوں سے زبانی سنا ہے کہ اس کا باپ تیس سال کے بعد گزشتہ رات مدینہ واپس آیا ہے یہ بات سن کر فروخ کی آنکھوں سے دو آنسو ٹپکے، لیکن یہ شخص ان آنسووں کے گرنے کا سبب نہ جان سکا، پھر فروخ جلدی سے اپنے گھر پہنچا۔ بیوی نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں بھیگی ہوئی ہیں، پوچھا : ابو ربیعہ! الله خیر کرے کیا ہوا؟ آنکھیں آنسوؤں سے تر کیوں ہیں؟ کوئی آفت آن پڑی؟ اس نے کہا گھبرائے نہیں سب خیر ہے۔
آج میں نے اپنے بیٹے ربیعہ کی نرالی شان دیکھی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر بے انتہا خوشی میں میری آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔ آج اس کے علمی مقام، خوش بیانی اور لوگوں کی اس کے ساتھ بے پناہ محبت نے مجھے گھائل کر دیا۔ میں کس قدر خوش نصیب ہوں کہ مجھے بلند مقام بیٹا ملا۔
ام ربیعہ نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے کہا:
میرے سرتاج! آپ کو ان دو چیزوں میں سے کون سی چیز زیاد محبوب و مرغوب ہے، تیس ہزار دینار یا اپنے بیٹے کا علم فضل میں یہ بلند مقام؟
اس نے کہا: الله کی قسم ! مجھے پوری دنیا کے مال سے زیادہ اپنے لخت جگر کا یہ مقام قیمتی اور محبوب دکھائی دیتا ہے۔ بیوی نے کہا: جو مال آپ مجھے بطور امانت دے گئے تھے وہ میں نے اس کی تعلیم و تربیت پر خرچ کر دیا ہے، کیا آپ اس سے خوش ہیں؟
فرمایا: ہاں کیوں نہیں، مجھے اس سے بہت خوشی ہوئی ہے۔ الله تعالیٰ آپ کو میری، میرے بیٹے اور تمام مسلمانوں کی جانب سے جزائے خیر عطاء کرے۔

تحقیق الحدیث :

إسناده ضعيف جدا۔
اس کی سند سخت ضعیف ہے۔
امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو سیر اعلام النبلا اور تاریخ اسلام حوادث [121- 140ه ص 418، 419] میں بیان کیا اور کہا ہے کہ یہ قصہ باطل ہے۔
اس کی سند مشائخ اہل مد مینہ کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ نیز اس میں ایک راوی احمد بن مروان سخت ضعیف اور متہم بالکذب ہے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل