صدفہ فطر کے احکام قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں

 تحریر: قاری اسامہ بن عبد السلام حفظہ اللہ

صدفہ فطر سے مراد

➊ صدفہ فطر سے مراد ماہ رمضان کے اختتام پر نماز عید سے پہلے فطرانہ ادا کرنا ہے ۔
صحيح البخاري: كِتَابُ الزَّكَاةِ
1504. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ
جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے صدفہ فطر لوگوں پر ایک صاع کجھور یا ایک صاع جو ہر آزاد ، غلام ، مرد اور پر مرد اور پر مسلمانوں میں سے فرض قرار دیا ہے۔ [صحيح البخاري حديث 1504]
نوٹ:
اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ہے۔
[المؤلف: أبو بكر محمد بن إبراهيم بن المنذر النيسابوري ت ٣١٩هـ]
[الأوسط فى السنن والإجماع والاختلاف]
تنبیہ:
اس سے معلوم ہؤا کہ فطرانہ غلام ، آزاد ، مرد ، عورت ، اور بچے۔ اور بوڑھے سب پر فرض ہے

صدقہ فطر کی مقدار اور اشیاء

یعنی (کون سی چیزوں کا فطرانہ دینا چاہیے)۔
صدقہ فطر میں گندم,کجھور, پنیر، منقی، نقدی کی صورت میں بھی دے سکتے ہیں فطرانہ جیسا کہ مسند الحميدي ۔ ۔ ۔
759 – حدثنا الحميدي قال: ثنا سفيان، قال: ثنا ابن عجلان، انه سمع عياض بن عبد الله، يقول: سمعت ابا سعيد الخدري، يقول: ما كنا نخرج على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فى زكاة الفطر إلا صاعا من تمر، او صاعا من شعير، او صاعا من اقط
759- سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم صدقہ فطر میں کھجور کاایک صاع یا پنیر کا ایک صاع دیا کرتے تھے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے زمانے میں ایک صاع گندم سے یا ایک صاع کشمش یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع کجھوروں یا ایک صاع جو سے صدقہ فطر دیا کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: إسناده حسن
وأخرجه البخاري فى صحيحه برقم: 1505، 1506، 1508، 1510،
ومسلم فى صحيحه برقم: 985، وابن حبان فى صحيحه برقم: 3305، 3306، 3307،
والحاكم فى مستدركه برقم: 1500،
والنسائي فى المجتبیٰ برقم: 2510، 2511،
وأبو داود فى سننه برقم: 1616، 1618،
والترمذي فى جامعه برقم: 673،
والدارمي فى مسنده برقم: 1704، 1705، 1706،
وابن ماجه فى سننه برقم: 1829،
والبيهقي فى سننه الكبير برقم: 7766، 7792،
وأحمد فى مسنده ، برقم: 11249 برقم: 11352
(٣)
نوٹ:
① یہ صدقہ فطر مسلمانوں پر فرض ہے۔ دیکھئے [ح 211]
② ایک روایت میں آیا ہے کہ ہم صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔ ۔ ۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم: 985 2284] معلوم ہوا کہ درج بالا حدیث مرفوع ہے۔
③ صاع کے وزان کے بارے میں اختلاف ہے – راجح یہی ہے کہ ڈھائی کلووزن کے مطابق صاع نکالا جائے تاکہ آدمی کسی شک میں نہ رہے۔
④ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے گندم کا آدھا صاع ثابت ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ وغیرہ سے پورا صاع ثابت ہے لہٰذا راجح یہی ہے کہ پورا صاع ادا کیا جائے۔
⑤ بہتر اور افضل یہی ہے کہ گندم، جو، کھجور اور انگور وغیرہ پھلوں، غلے اور کھانے سے صاع نکالا جائے لیکن اگر مجبوری یا کوئی شرعی عذر ہو تو صاع کی مروجہ رقم سے ادائیگی بھی جائز ہے۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بصرہ میں عدی کی طرف حکم لکھ کر بھیجا تھا کہ اہلِ دیوان کے عطیات میں سے ہر انسان کے بدلے آدھا درہم لیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 3/174 ح10368، وسنده صحيح]
◈ ابواسحاق السبیعی فرماتے تھے کہ میں نے لوگوں کو رمضان میں صدقہ فطر میں طعام (کھانے) کے بدلے دراہم دیتے ہوئے پایا ہے [ابن ابئ شيبه ح 10371، و سنده صحيح]
⑥ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ صدقۂ فطر صرف کھجور میں سے دیتے تھے سوائے ایک دفعہ کے (جب کھجوریں نہ ملیں تو) آپ نے جَو دیئے۔ [الموطأ 1/284 ح635، وسنده صحيح]
⑦ صدقۂ فطر صرف مساکین کا حق ہے۔ [ديكهئے سنن ابي داؤد: 1609، وسنده حسن]
لہٰذا اسے آٹھ قسم کے مستحقین زکوٰۃ میں تقسیم کرنا غلط ہے۔ دیکھئے زاد المعاد [2/22] اور ”عبادات میں بدعات اور سنت نبوی سے ان کا رد“ [ص212]
(11) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: حِينَ فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، وَكَانَ لَا يُخْرَجُ إِلَّا التَّمْرُ ” هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ فِيهِ: إِلَّا التَّمْرَ
عبدالله بن عمر رضى الله عنه كا بىان هے کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم خود کجھوریں ھی صدقہ فطر میں دیا کرتے تھے۔
[مستدرك حاكم حديث 1490 ، صحيح ابن خزيمه حديث 2392]
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُخْرِجُونَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ سُلْتٍ، أَوْ زَبِيبٍ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رَوَّادٍ ثِقَةٌ عَابِدٌ وَاسْمُ أَبِي رَوَّادٍ أَيْمَنُ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ “
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا خشک انگور یا بغیر چھلکے کے جو صدقۂ فطر دیا کرتے تھے ۔ ٭٭
یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔ عبدالعزیز بن رواد ثقہ ہیں ، عابد ہیں اور ابوداؤد کا نام ’’ ایمن ‘‘ ہے۔
[سنن الكبري للبيهقي حديث 7489، مستدرك حاكم حديث 1489 ، صحيح]

أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَامِدٍ التِّرْمِذِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جِبَالٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، أَنَّهُمْ كَانُوا يُخْرِجُونَ زَكَاةَ الْفِطْرِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُدِّ الَّذِي يَقْتَاتُ بِهِ أَهْلُ الْبَيْتِ، أَوِ الصَّاعِ الَّذِي يَقْتَاتُونَ بِهِ، يَفْعَلُ ذَلِكَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ كُلُّهُمْ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَهِيَ الْحُجَّةُ لِمُنَاظَرَةِ مَالِكٍ وَأَبِي يُوسُفَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا “
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ جس چیز کو گھر میں بطورِ خوراک استعمال کرتے تھے اسی کا مُد یا صاع صدقہ دیا کرتے تھے ۔ اور تمام اہلِ مدینہ کا یہی طریقہ کار تھا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور یہ حدیث امام مالک اور امام ابویوسف کے مناظرہ کی دلیل ہے ۔ ”
[مستدرك حاكم حديث 1499، ابن خزيمه حديث 2401]
نوٹ:
عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللّٰہ علیہ کا مکتوب لایا گیا جس میں صدقہ الفطر سے متعلق تحریر تھا کے صدقہ الفطر ہر شخص سے اس کی قیمت درھم وصول کی جائے گی۔
[مصنف ابن أبى شيبة حديث 10470]
حسن بصری رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صدقہ الفطر میں دراہم دے دئیے جائیے اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے ۔
[مصنف ابن أبى شيبة حديث 10471]
ابو اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ پہلے والوں کو پایا یعنی ( ( (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) كہ وہ صدقہ الفطر میں گندم کی قیمت دراہم دیا کرتے تھے۔
[مصنف ابن أبى شيبة حديث 10472]
خلاصه کلام یہ ہے کہ تمام ایسی اجناس جولوگوں کا طعام (یعنی خوراک ) ھیں جیسا کہ روایت میں ہے صَاعاً مِنْ طَعَامِِ ان سب سے ایک صاع صدقہ فطر نکالا جائے گا۔
تنبیہ:
یاد رہے کہ ایک صاع چار مد کا ہوتا ہے علاوہ ازیں صاع کی مقدار پانچ رطل اور ایک رطل کا تیسرا حصہ بھی بیان ہوئی ہے۔
[مغني لابن قدامه ج-4-285 ، روضة الطالبين ج-2-301]
جدید وزن کے مطابق ایک صاع اڑھائی کلو گرام کے قریب ھوتا ہے۔
نوٹ:
اگر کوئی صدقہ فطر کی ادائیگی نقدی کی صورت میں کرتا ھے تو یہ بھی جائز ھے ۔

صدقہ فطر کس کو دینا چاہیے

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ھے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا صدقہ فطر روزہ دار کی لغویات اور فحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کیلئے اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لئے مقرر کیا ہے۔
[مسند ابويعلي الموصلي حديث 2499]

صدقہ فطر کب دیا جائے

عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کا بیان ھے کہ وہ صدقہ فطر جمع کرنے والے کے پاس عیدالفطر سے دو یا تین دن پہلے بھیج دیتے تھے۔
[معرفة السنن والآثار حديث 2420 ، مسندشافعى 671]

صدقہ فطر کس کو دینا چاہیے

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ھے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا صدقہ فطر روزہ دار کی لغویات اور فحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کیلئے اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لئے مقرر کیا ہے۔
[مسند ابويعلي الموصلي حديث 2499]
تنبیہ:
آٹھ قسم کے مستحقین میں صدقہ فطر تقسیمِ کرنا اس غلط رواج میں سے یہ بھی ھے کہ بعض لوگ ان آ ٹھ اقسام کے مستحقین میں صدقہ فطر تقسیمِ کر دیتے ہیں جنہیں زکوٰۃ دینا جائز ھے
ابن القیم فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا طریقہ تھا کہ مساکین کو خاص طور پر یہ صدقہ دیتے تھے اسے (مستحقین کی) ان اقسام پر تقسیم نہیں کرتے تھے اور نہ اس کا آپ نے حکم دیا ھے نہ اس پر کسی صحابی یا بعد والے تابعی نے عمل کیا ھے بلکہ ہمارا ایک قول یہ بھی ھے کہ مساکین کے علاوہ صدقہ فطر دینا جائز ھی نہیں ھے اور یہ قول اس قول سے راجح ہے جس میں آٹھ اقسام پر صدقہ فطر کی تقسیم کو لازم قرار دیا گیا ھے۔
نوٹ:
آج کل بعض تنظیمیں جہاد کے نام پر صدقہ فطر (سب کچھ لیں) جاتی ہیں۔
اِنَّا لِلّـٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ

سوال: کیا رشتہ داروں کو صدقہ فطر دینا جائز ہے؟

جواب:
جی ہاں! رشتہ داروں مثلاً بھائی، بہن، چچا، ماموں، خالہ وغیرہ کو صدقہ فطر دینا جائز ہے لیکن اپنی اولاد کو یا ماں باپ، نانا، نانی اور دادا، دادی کو زکوٰۃ اور صدقہ فطر نہیں دے سکتے۔ علاوہ ازیں شوہر بیوی کو یا بیوی شوہر کو بھی صدقہ فطر نہیں دے سکتی۔ واللہ اعلم

صدقہ فطر کب دیا جائے

عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کا بیان ھے کہ وہ صدقہ فطر جمع کرنے والے کے پاس عیدالفطر سے دو یا تین دن پہلے بھیج دیتے تھے۔
[معرفة السنن والآثار حديث 2420 ، مسندشافعى 671]
حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي صَفَرٍ سَنَةَ سِتٍّ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مَائَةٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيِّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ وَكَانَ شَيْخَ صِدْقٍ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ يُحَدِّثُ عَنْهُ ثنا سَيَّارُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّدَفِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصِّيَامِ مِنَ اللَّغْوِ، وَالرَّفَثِ، وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ، مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ “” [التعليق – من تلخيص الذهبي] 1488 – على شرط البخاري
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر لازم کیا ہے ، یہ روزوں کو لغو اور فضول باتوں سے (اگر روزے کے دوران ہو گئی ہوں ) پاک کرتا ہے اور یہ مسکینوں کا رزق ہے ۔ جو اس کو نمازِ (عید ) سے پہلے ادا کر دے اس کا صدقہ فطر قبول ہے اور جو اس کو نماز کے بعد ادا کرے تو یہ عام صدقوں میں سے ایک صدقہ ہو گا ۔ (لیکن بہرحال یہ بھی ادا ہی ہو گا ۔ ) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ [مستدرك حاكم حديث 1488]
ابن شهاب رضى الله عنه سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے صدقہ فطر عید کی نماز پڑھنے سے پہلے ادا کرنے کا حکم دیا ھے۔
[مسند ابن الجعد حديث 2787]
معلوم هو ا کہ یہ صدقہ نماز عید کے لئے روانگی سے پہلے ادا کر دینا ضروری ھے اور اگر عید سے ایک دو دن پہلے ادا کر دیا جائے تو بھی اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
[مغني لابن قدامه ج4-300]
تنبیہ:
اگر کوئی بعد میں دے گا تو وہ قبول نہیں ہو گا۔

صدقہ فطر نصف صاع دینا جائز نھیں

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور آپ کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک صاع ہی صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔
باقی رہا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ نصف صاع کا فطرانہ دیا جائے گا ان کا یہ موقف نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف ہونے کی وجہ سے قبول نہیں ہے۔
اسی وجہ سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے بھی اس مسئلہ میں معاویہ رضی اللہ عنہ سے اتفاق نہیں کیا تھا۔
دیکھئے: [صحيح البخاري حديث 1507 ، صحيح مسلم حديث 984]
لہذا جو بات عہد نبوی میں رائج رہی اور جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عمل پیرا رھے وہ رائج ہے یعنی صدقہ فطر ایک صاع ہی ادا کیا جائے گا ۔

جو آدمی حرام مال کی زکاۃ یا صدقہ فطر دے گا تو وہ قبول نہیں ھوگا

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب تو زکوٰۃ ادا کردے تو تو نے اپنی ذمہ داری پوری کردی اور جو آدمی مال حرام جمع کریں پھر اس کا صدقہ کردے اس کو اس میں کوئی ثواب نہیں ملے گا بلکہ اس پر الٹا اس کا وبال ہوگا۔
[مستدرك حاكم حديث 1440، سنن الكبر ى بيهقي حديث 7032]

امیر آدمی کے لئے صدقہ لینا جائز نھیں ہے

جیسا کے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بیان ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا غنی اور طاقت والے کے لئے صدقہ لینا جائز نھیں ہے۔
[مستدرك حاكم حديث 1478]

صرف ان افراد کو صدقہ دینا جائز ہے

جیسا کے سنن ابن ماجہ میں بایں الفاظ میں باب قائم کیا ہے
بَابُ: مَنْ تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ

باب: جن لوگوں کے لیے زکاۃ حلال ہے ان کا بیان۔

(مرفوع) حدثنا محمد بن يحيى ، حدثنا عبد الرزاق ، انبانا معمر ، عن زيد بن اسلم ، عن عطاء بن يسار ، عن ابي سعيد الخدري ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “
لا تحل الصدقة لغني،
إلا لخمسة لعامل عليها،
او لغاز فى سبيل الله، او لغني اشتراها بماله، او فقير تصدق عليه فاهداها لغني، او غارم”.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار کے لیے زکاۃ حلال نہیں ہے مگر پانچ آدمیوں کے لیے: زکاۃ وصول کرنے والے کے لیے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے، یا ایسے مالدار کے لیے جس نے اپنے پیسے سے اسے خرید لیا ہو، یا کوئی فقیر ہو جس پر صدقہ کیا گیا ہو، پھر وہ کسی مالدار کو اسے ہدیہ کر دے، (تو اس مالدار کے لیے وہ زکاۃ حلال ہے) یا وہ جو مقروض ہو۔
تخریج الحدیث:
‏‏‏‏سنن ابی داود/الزکاة 24 (1635)، (تحفة الأشراف: 4177)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 17 (29)، مسند احمد (3/4، 31، 40، 56، 97) (صحیح)
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ لِغَارِمٍ، أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ فَتُصُدِّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ فَأَهْدَى الْمِسْكِينُ الْغَنِيَّ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِإِرْسَالِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ إِيَّاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ
” حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 5 آدمیوں کے سوا کسی غنی کو صدقہ لینا جائز نہیں ہے: (1 ) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ۔ (2 ) زکوۃ جمع کرنے پر مقرر آدمی ۔ (3 ) مقروض ۔ (4 ) ایسا آدمی جس کا ہمسایہ مسکین ہو تو مسکین پر صدقہ کر دیا جائے اور مسکین غنی کو ہدیہ دے دے ۔
٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس لیے روایت نہیں کیا کیونکہ مالک بن انس نے اس میں زید بن اسلم سے ارسال کیا ہے ۔
[ مستدرك حاكم حديث 1480 ، صحيح ابن خزيمه حديث 2374 حسن ]

یہ تحریر اب تک 1 لوگ پڑھ چکے ہیں، جبکہ صرف آج 1 لوگوں نے یہ تحریر پڑھی۔