آپکے شہر میں آج سحری اور افطار کے اوقات

City Name

City Name

Sehri Time

Aftar Time

دیگر شہروں اور ملکوں کے اوقات سحری و افطار جاننے کے لیئے مطلوبہ شہر اور ملک کا انتخاب کیجیے:

DateSehriAftari
سحری سے متعلق احکام :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تسحروافإن فى السحور بركة [صحيح البخاري و صحيح مسلم : كتاب الصيام، باب فضل السحور ] ’’ سحری کھایا کرو سحری کھانے میں برکت ہے۔ “ دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فصل مابين صيامناو صيام أهل الكتاب أكلة السحر [صحيح مسلم : كتاب الصيام، باب فضل السحور ] ’’ ہمارے اور اہل کتاب کے صوم میں فرق یہ ہے کہ وہ سحری کھائے بغیر صوم رکھتے ہیں اور ہم سحری کھا کر رکھتے ہیں۔ “ سحری کا مسنون وقت اور طریقہ یہ ہے کہ صبح صادق کے طلوع ہونے سے پہلے ہلکا کھاناکھا لیاجائے۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تسحرنامع النبى صلى الله عليه وسلم ثم قام إلى الصلوٰة قلت : كم كان بين الأذان و السحور قال قدر خمسين آية [صحيح البخاري : كتاب الصيام، باب9 ] ’’ اللہ کے رسول کی سحری اور صلاۃ فجر کے درمیان فاصلہ پچاس آیات کے بقدر ہوا کرتا تھا۔ “

افطار سے متعلق احکام :

سورج غروب ہو جانے کے بعد بلا کسی تاخیر کے افطار کر لینا چاہئے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لايزال الناس بخير ماعجلوا الفطر [صحيح البخاري : كتاب الصوم، باب45، صحيح مسلم كتاب الصيام باب تعجيل الفطر ] ’’ جب تک لوگ افطار میں جلدی کریں گے، بھلائی میں رہیں گے۔ “ حدیث قدسی میں ہے : أحب عبادي إلى أعجلهم فطرا . [سنن الترمذي : كتاب الصيام، باب 13 ] ’’ میرے بندوں میں میرا سب سے محبوب وہ ہے جو صوم افطار کرنے میں جلدی کرتا ہے “۔ یعنی آفتاب غروب ہوتے ہی افطار کر لیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈوبتے ہی صلاۃ مغرب سے پہلے تازہ کھجور سے افطار کرتے، اگر تازہ کھجور نہ ملتی تو خشک سے افطار کرتے اور خشک نہ پاتے تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ سلمان بن عامر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کے متعلق ارشاد فرمایا : إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإنه بركة فإن لم يجد فليفطر على ماء فإنه طهور [سنن الترمذي : كتاب الصيام، باب 10 ] ’’ جب کوئی افطار کرنا چاہے تو کھجور سے افطار کرے کیوں کہ وہ باعثِ خیر و برکت ہے، اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے کرے کیوں کہ وہ طاہر و مطہر ہے۔ “

افطار کی دعا :

افطار کے وقت یہ دعا پڑھنا چاہئے : ذهب الظمأ و ابتلت العروق و ثبت الأجر إن شاء الله [أبوداؤد : كتاب الصوم، باب القول عند الإفطار ] ’’ پیاس جاتی رہی، رگیں تر ہو گئیں اور ثواب لازم و ثابت ہو گیا اگر اللہ نے چاہا۔ “

افطار کرانے کا ثواب :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : من فطر صائماكان له مثل أجره غير أنه لاينقص من اجر الصائم شيئا [سنن ترمذي : كتاب الصيام باب 82 ] ’’ جو شخص کسی صائم کو افطار کرائے گا اسے اس کے برابر اجر ملے گا بغیر اس کے کہ صائم کے اجر میں کچھ کمی واقع ہو۔ “

وہ امور جن سے صوم ٹوٹ جاتا ہے :

➊ دانستہ قصداً کھانا، پینا، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔ ➋ دانستہ جماع کرنا۔ ➌ قصداً قے کرنا تھوڑی ہو یا زیادہ۔ ➍ حقہ، بیڑی، سگریٹ پینا۔ ➎ پان کھانا۔ ➏ مبالغہ کے ساتھ ناک میں پانی یا دوا چڑھانا، یہاں تک کہ حلق کے نیچے اتر جائے۔ ➐ کھانا پینا یا جماع کرنا یہ خیال کر کے کہ آفتاب غروب ہو گیا ہے حالانکہ آفتاب غروب نہیں ہوا تھا۔ ➑ کھانا، پینا یا جماع کرنا یہ سمجھ کر کہ ابھی صبح نہیں ہوئی ہے حالانکہ صبح ہو چکی تھی۔ ➒ منہ کے علاوہ کسی زخم کے راستہ سے نلکی کے ذریعہ غذا یا دوا پہنچانی۔ ➓ حقنہ کرنا (ENAEMA) (پیٹ صاف کرنے کے لیے پاخانہ کے سوراخ (مقعد) سے پیٹ میں دوا چڑھانا۔ ) ان سب صورتوں میں ٹوٹے ہوئے صوم کی قضا ضروری ہے اور بیوی سے دانستہ صحبت (جماع) کر لینے کی صورت میں قضا کے ساتھ کفارہ دینا بھی ضروری ہے، کفارہ ایک مسلمان لونڈی یا غلام کا آزاد کرنا ہے، اگر اس کی قدرت نہ ہو یا اس کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو پے در پے ساٹھ صوم رکھے اور اگر اس کی طاقت بھی نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔

وہ امور جن سے صوم نہیں ٹوٹتا :

1۔ تر یا خشک مسواک دن کے کسی حصہ میں بھی کرنا۔ 2۔ سرمہ لگانا اور آنکھ میں دوا ڈالنی۔ 3۔ سر یا بدن میں تیل ملنا۔ 4۔ خوشبو لگانا۔ 5۔ سر پر کپڑا تر کر کے رکھنا۔ 6۔ فصد کرانا۔ رگ کھول کر اس سے طبی ضرورت کے تحت خون نکلوانا۔ 7۔ پچھنا لگوانا، بشرطیکہ کمزوری کا خوف نہ ہو۔ 8۔ انجکشن لگوانا، جو قوت اور غذا کا کام نہ دے۔ 9۔ ضرورت کے وقت ہنڈیا کا نمک چکھ کر فوراً تھوک دینا اور کلی کرنا۔ 10۔ صبح صادق کے بعد جنابت کا غسل کرنا۔ 11۔ مرد کا بیوی سے صرف بوس و کنار کرنا بشرطیکہ اپنے کو قابو میں رکھ سکتا ہو اور جماع واقع ہو جانے کا خوف نہ ہو۔ 12۔ دن میں احتلام ہو جانا۔ 13۔ عورت کو دیکھ کر منی کا انزال ہو جانا۔ 14۔ خود بخود قے ہو جانا خواہ تھوڑی ہو یازیادہ۔ 15۔ تالاب وغیرہ میں غسل کرنا بشرطیکہ غوطہ لگانے کی صورت میں ناک یامنہ کے ذریعہ حلق کے اندر پانی نہ جائے۔ 16۔ ناک میں پانی ڈالنا بغیر مبالغہ کے، ناک کے رینٹھ کا اندر ہی اندر حلق کے راستہ اندر چلا جانا۔ 17۔ کلی کرنا بشرطیکہ مبالغہ نہ کرے۔ 18۔ کلی کرنے کے بعد منہ میں پانی کی تری کا تھوک کے ساتھ اندر چلا جانا۔ 19۔ مکھی کا حلق میں چلا جانا۔ 20۔ بلامبالغہ استنشاق (ناک صاف کرنے کے لیے ناک میں پانی ڈال کر اسے اندر پہنچانا) کی صورت میں بغیر قصد و ارادہ پانی کا ناک سے حلق کے اندر اتر جانا۔ 21۔ منہ میں جمع شدہ تھوک کو پی جانا مگر ایسا نہ کرنا بہتر ہے۔ 22۔ مسوڑھے کے خون کا تھوک کے ساتھ اندر چلا جانا۔ 23۔ کلی کرتے وقت بلا قصد و ارادہ پانی کا حلق میں اتر جانا۔ 24۔ ذَکر (پیشاب کے راستہ) میں پچکاری کے ذریعہ دوا وغیرہ داخل کرنا۔ 25۔ بھول کر کھا پی لینا اور بیوی سے صحبت کر لینا۔ (الف) من نسي وهوصائم فأكل أو شرب فليتم صومه فإنما أطعمه الله و سقاه [صحيحين ] ’’ جو صائم بھول کر کھا پی لے وہ اپنا صوم پورا کرے۔ اللہ نے اس کو کھلایا پلایا ہے۔ “ یعنی بھول کر کھاپی لینے سے صوم نہیں ٹوٹے گا اور نہ اس کی قضا کرنی ہو گی۔ (ب) من أفطر فى شهر رمضان ناسيافلاقضاء عليه و لاكفارة [ابن خزيمه، حاكم، ابن حبان ] ’’ جس نے رمضان کے مہینہ میں بھول کر افطار کر لیا اس کے اوپر نہ قضا ہے نہ کفارہ۔ “ مگر بھول کر جماع یا کھانے کی صورت میں جب یاد آ جائے فوراً چھوڑ دینا چاہئے۔ 26۔ غبار، دھوئیں یا آٹے کا اڑ کر حلق کے اندر چلا جانا۔ 27۔ موچھوں پر تیل لگانا۔ 28۔ کان میں تیل یا پانی ڈالنا اور سلائی داخل کرنا۔ 29۔ دانت میں اٹکے ہوئے گوشت یا کھانے کا ٹکڑا جو محسوس نہ ہو اور منتشر ہو کر رہ جائے حلق کے اندر چلا جانا۔
روزوں کی فضیلت :

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَسْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ "، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ ”ابن آدم کے تمام اعمال اسی کے لئے ہوتے ہیں مگر روزہ، یہ محض میرے لئے ہوتا ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، روزہ ڈھال ہے، تو جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو بےہودہ فحش کلامی سے بچے، شور نہ کرے، اگر کوئی اس کے ساتھ گالی گلوچ پر بھی اتر آئے یا لڑائی کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ اسے بتا دے کہ میں روزے سے ہوں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزے دار کی منہ کی بو قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی عمدہ ہوگی۔ روزے دار کو دو خوشیاں ملتی ہیں ایک تو جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو کھانے پینے سے خوش ہوتا ہے اور دوسرے جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے رکھنے سے خوش ہو گا۔“ [صحيح مسلم 2706 ]

”باب الریان “ روزہ داروں کے لئے جنت کا خصوصی دروازہ

حضرت سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا، يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَدْخُلُ مَعَهُمْ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَيَدْخُلُونَ مِنْهُ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ ”جنت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے جس میں سے قیامت کے روز صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے اور دوسرے لوگ ان کے ساتھ شامل نہ ہوں گے،کہا جائے گا، کہاں ہیں روزے دار ؟ تو انہیں اس میں سے داخل کیا جائے گا، اور جب سب داخل ہو چکیں گے تو دروازہ بند کر دیا جائے گا اور کوئی دوسرا اس میں سے داخل نہیں ہو سکے گا۔ “ [صحيح مسلم 2710] ”ریان “ کا لفظی معنی ”سیراب کرنے والا“ ہے۔۔۔ یعنی روزے دار جو پیاس وغیرہ کی مشقت برداشت کرتا رہا تو جزا کے طور پر اسے سیراب کرنے والی نعمتوں سے نوازا جائے گا اور اسی مناسبت سے اس دروازے کا نام ہی ”ریان“ رکھا گیا ہے۔

ایک دن کا روزہ بھی جہنم سے بچاو اور دوری کا باعث ہے

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ”جو بندہ اللہ کی راہ میں ایک دن کا بھی روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اس کے چہرے کو جہنم سے 70 سال کی مسافت پر دور فرما دے گا۔“ [صحيح مسلم 2711 ]

محرم کے رازوں کی فضیلت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نقل فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ صِيَامُ شَهْرِ اللَّهِ الْمُحَرَّمِ ”ماہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے حرمت والے مہینے محرم کے ہیں۔“ [صحيح مسلم 2756 ]

عاشوراء کے روزے

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دسویں محرم ( عاشوراء ) کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضیلت کے اعتبار سے عاشوراء کے علاوہ کسی اور دن کا انتخاب کیا ہو ؟ یا رمضان کے بعد محرم کے علاوہ کسی اور مہینے کو ترجیح دی ہو۔ [متفق عليه] اور صحیح مسلم میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت وارد ہے جس میں یوم عاشوراء کی فضیلت کا بیان ہے۔ مزید یہ بھی ہے کی یہ سال گزشتہ کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔

شعبان کے روزوں کا بیان

صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت بیان ہوئی ہے کہ: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں روزے رکھنا شروع کرتے تو ہم سمجھتے کہ اب تو مسلسل روزے ہی رکھتے جائیں گے اور جب کبھی چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب تو روزے نہ رکھیں گے۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ) میں نہیں جانتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں۔ البتہ ماہ شعبان میں سب سے زیادہ روزے رکھتے تھے۔“ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے الفاظ یوں ہیں : لَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِنْ شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے میں زیادہ روزے رکھتے نہیں پایا۔ گویا آپ پورا شعبان روزے رکھتے سوائے چند دنوں کے۔“ [صحيح مسلم2722] حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے دریافت فرمایا، کیا تو نے اس مہینہ شعبان میں کوئی روزے رکھے ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا کہ رمضان گزر جانے کے بعد (اس کے عوض) دو روزے رکھ لینا “۔ [متفق عليه]

فضائل رمضان

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ ”جب رمضان شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطیں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ “ [ صحيح مسلم 2495]حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، إِيمَانًا، وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ”جو شخص بموجب ایمان اور حصول اجر کے لئے رمضان کے روزے رکھے گا اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔“ [صحيح مسلم 1781]

شوال کے چھ روزوں کا بیان

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے کہ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوّالٍ. كَانَ كَصِيَامِ الدّهْرِ ”جس نے رمضان کے روزے رکھے اور بعد ازاں شوال میں چھ روزے رکھ لئے تو گویا اس نے سدا روزے رکھے۔“ [صحيح مسلم 2758 ]

ذوالحج کے پہلے دس دنوں میں عمل کی فضیلت

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ما من ايام العمل الصالح فيهن احب إلى الله من هذه الايام العشر ” فقالوا : يا رسول الله ولا الجهاد فى سبيل الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ” ولا الجهاد فى سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء . عام دنوں کی بہ نسبت ان دس دنوں میں کیا جانے والا کوئی بھی عمل صالح، اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ محبوب ہوتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا : کیا (عام دنوں کا ) جہاد بھی (یہ فضیلت نہں پاتا) ؟ فرمایا : ہاں جہاد بھی ! الا یہ کی کوئی شخص اپنی جان اور مال لے کے نکلا اور پھر کچھ واپس لے کہ نہ لوٹا۔ [سنن ترمذي 757]

عرفہ (نو ذوالحج ) سوموار اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کی فضیلت

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے روزوں کی تفصیل پوچھی گئی۔۔۔ تو آپ خفا ہو گئے۔۔۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ، فَقَالَ: ” لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ، أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ "، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ، قَالَ: ” وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ، قَالَ: ” لَيْتَ أَنَّ اللَّهَ قَوَّانَا لِذَلِكَ "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ، قَالَ: ” ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ، قَالَ: ” ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ "، قَالَ: فَقَالَ: ” صَوْمُ ثَلَاثَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَقَالَ: ” يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: ” يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ "، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَسَكَتْنَا عَنْ ذِكْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نُرَاهُ وَهْمًا ”ہم راضی ہیں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر، اسلام کو بطور دین قبول کرنے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول تسلیم کرنے پر اور اپنی بیعت کے حقیقی بیعت ہونے پر ! “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صوم دہر (ہمیشہ، مسلسل روزے رکھنے ) کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایسے شخض نے نہ روزہ رکھا نہ افطار کیا۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ دو دن روزہ رکھنا اور ایک دن چھوڑ دینا کیسا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کون ہے جو اس کی ہمت پاتا ہو ؟ ! “ پھر مزید پوچھا گیا کہ ایک دن روزہ رکھنا اور دو دن افطار کرناکیسا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”کاش کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی طاقت دے دے۔ “ پھر پوچھا گیا : ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کیسا ہے ؟ فرمایا : ”یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔ “ پھر سوموار کے روزے کا پوچھا گیا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ :” میں اسی دن پیدا ہوا، اسی دن مبعوث کیا گیا، اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ”ہر مہینے میں تین دن اور رمضان کے رمضان روزہ صوم دہر (سدا روزہ رکھنا) ہے۔“ پھر آپ سے عاشورا (دسویں محرم ) کے روزے کے متعلق پوچھا گیا۔۔۔ تو فرمایا کہ :” یہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔“ [صحيح مسلم2747]

ہر ماہ میں تین دن روزے رکھنے کی ترغیب

حضرت معاذہ نے حضرت عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے پوچھا،کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین روزے رکھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : کہ ”ہاں “وہ کہتی ہیں کی میں نے پوچھا کہ مہینے کے کن دنوں میں روزہ رکھتے تھے، تو بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھنے میں دنوں کی تعین کا اہتمام نہ فرما تے تھے۔ [صحيح مسلم] اور گزشتہ باب نماز چاشت کے بیان میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل ہو چکی ہے کہ ”میرے خلیل علیہ السلام نے مجھے ہدایت فرمائی تھی کہ ہر مہینے تین دن روزے رکھا کروں۔“ [صحيح بخاري و مسلم] (صحیح مسلم میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کی روایت وارد ہے )

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں: