تحفہ اور ہبہ سے متعلق احکام و مسائل

تحریر : فتاویٰ سعودی فتویٰ کمیٹی

250- تحفہ دینے کی فضیلت

تحفہ دینے کا انسان کو ثواب ملتا ہے کیونکہ یہ احسان ہے اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں، نیز یہ الفت اور محبت کا ذریعہ بھی ہے، اور ہر وہ چیز جو مسلمانوں کے درمیان الفت و مودت کا ذریعہ ہو، وہ شرعاً مطلو ب ہے۔
اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ایک دوسرے کو تحائف دو، تم میں باہمی محبت پیدا ہو جائے گی۔“ [سنن البيهقي 196/6]
بسا اوقات تحفہ صدقے سے افضل ہو جاتا ہے اور کبھی صدقہ تحفے سے بہتر۔ ان دونوں میں یہ فرق ہے کہ صدقے کی نیت آخرت میں ثواب کا حصول ہوتا ہے، جبکہ تحفے کے ذریعے سے کسی شخص کا قرب اور دوستی مطلو ب ہوتی ہے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے ساتھ تمھاری دوستی مسلمانوں کے بہت بڑے مفاد میں ہوتی ہے، مثلاً کوئی شخص مسلمانوں کا کرتا دھرتا ہو، آپ ایسے شخص کو اس کے مرتبے اور مقام کے مناسب کوئی تحفہ دیں تو یہ اس کی محبت کیشی کا ذریہ ہوگا اور پھر وہ شخص آپ کی نصیحت قبول کرے گا، جس سے بہت زیادہ بھلائی اور صدقہ حاصل ہوگا، خصوصاً جب انسان اخلاص کی نیت رکھے تو اس سے ایک تو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا اور دوسرے مسکینوں کو فائدہ پہنچے گا، لہٰذا اپنے اپنے نتائج کے اعتبار سے کبھی تحفہ صدقے سے افضل ہوتا ہے تو کبھی صدقہ تحفے سے۔
[ابن عثيمين: نورعلي الدرب: 2/247]
——————

251- تحفہ قبول کرنے کا حکم

تحفہ قبول کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ جب تحفہ دینے کی شرطیں مکمل ہوں تو تحفہ قبول کرنا واجب ہو جاتا ہے، اور وہ شرطیں یہ ہیں:
(1) تحفہ دینے والا احسان جتلانے والا نہ ہو، کیونکہ احسان جتلانے والوں کا تحفہ قبول کرنا کبھی اذیت ناک بھی ہوتا ہے، ایسا شخص لوگوں میں طرح طرح کی باتیں مشہور کر سکتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کو تحفہ دیا، ایسی صورت حال میں انسان اگر تحفہ قبول نہ کرے تو اس کے لیے عذر خواہی کی گنجائش ہوتی ہے تاکہ ایسے شخص کے احسان سے ایذا نہ اٹھائے۔
(2) دوسری شرط یہ ہے کہ تحفہ دینے والے کا مال حلال ہو، اگر اس کا مال حرام ہو اور آدمی حرام سے بچتے ہوئے اس کا تحفہ واپس کر دے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر اس کا مال حلال و حرام سے مخلوط ہو تو پھر تحفہ قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے تحفہ قبول کیا حالانکہ وہ سود خوری اور حرام کھانے میں مشہور تھے۔
پھر تحفہ وصول کرنے والے کو چاہیے کہ وہ تحفہ دینے والے کو بھی بدلے میں کوئی تحفہ دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول کرتے اور اس کا بدلہ بھی دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”جو تمہارے ساتھ اچھائی کرے اسے اس کا انعام دو، اگر تمہارے پاس اس کو دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو اس کے لیے دعا کرتے رہو، یہاں تک کہ تم خیال کرنے لگو کہ اب تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔“ [سنن أبى داود، رقم الحديث 1672]
[ابن عثيمين: نور على الدرب: 1/247]
——————

252- تحفے کی شرعی شرائط

تحفے کے لیے حسب ذیل شرطیں ہیں:
(1) ایجاب و قبول۔ تحفہ دینے والا کہے: میں نے تجھے فلاں چیز تحفتا دی، تحفہ لینے والا کہے: ”میں قبول کرتا ہوں“ یا کوئی بھی ایسا صیغہ یا فعل اپنایا جائے جو اس معنی پر دلالت کرے تو اس کا بھی یہی حکم ہو گا۔
(2) وہ تحفہ کسی ایسی چیز کی صورت میں ہو جس کی صفات اور مقدار معلوم ہو، مجہول اور نا معلوم چیز کا تحفہ درست نہیں۔
(3) اس چیز کو سونپنا مقدور ہو، جسے سونپنا اختیار سے باہر ہو اسے تحفے میں دینا جائز نہیں۔
(4) وہ (تحفہ) ایسے فروخت شدہ سامان سے نہ ہو جس کو ابھی تک قبضے میں نہ لیا گیا ہو۔
(5) وہ ایسی چیز نہ ہو جو مستقبل کی شرط کے ساتھ معلق ہو۔
(6) اگر وہ اولاد کے لیے ہو تو اس میں عدل کا ہونا ضروری ہے، باپ کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی اولاد میں سے کسی ایک کو ترجیح دے کر کوئی چیز دے اور دوسروں کو نہ دے۔
(7) اس سے رشوت کے کسی مفہوم کا ارادہ نہ ہو، جیسے: سرکاری ملازمین وغیرہ کو تحائف دینا، طلبہ کا ریگولر نظام تعلیم میں اپنے اساتذہ کو تحائف دینا، کسی ملازم کے پاس کسی کام کی غرض سے جانے والے کا اس کو کوئی تحفہ دینا۔
[اللجنة الدائمة: 17627]
——————

253- تحفہ اگر مدد کی نیت سے ہو تو اسے قبول کرنا

اگر نفس اس کی طرف نگاہ نہ اٹھائے اور دل میں اس کا کوئی طمع نہ ہو تو اسے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں اور جب میسر ہو تو اس کے مناسب اس کا بدلہ دیا جائے یا پھر اس کے لیے دعا کی جائے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”جو تمہارے ساتھ اچھائی کرے اسے اس کا انعام دو، اگر تمہارے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو اس کے لیے دعا کرتے رہو، یہاں تک کہ تم خیال کرنے لگو کہ اب تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔“ [سنن أبى داود، رقم الحديث 1672]
[اللجنة الدائمة: 7932]
——————

254- تحفہ لوٹانا

جس کو کوئی چیز تحفہ میں دی جائے تو اس کے لیے اس جیسی یا اس سے بہتر کوئی چیز اس تحفے کے جواب میں دینا مستحب ہے لیکن یہ لازم نہیں کہ اس جیسی چیز ہی لوٹائی جائے بلکہ شرعاً مطلوب یہ ہے کہ ایک مسلمان کو تحفہ دیتے وقت اس کے عوض کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ سے ثواب کا منتظر رہنا چاہیے۔ جس کو کوئی چیز تحفتا دی جائے اس پر تحفہ دینے والے کو بدلے میں کوئی چیز دینا واجب نہیں، لیکن اگر وہ کوئی چیز دے دے تو یہ بہتر ہے۔
[اللجنة الدائمة: 14379]
——————

255- منگیتر کو مخصوص مواقع پر تحائف دینے کا حکم

لوگوں کے مابین تحائف کا تبادلہ ایسا کام ہے جو محبت اور الفت پیدا کرتا ہے، دلوں سے کینے اور خفیہ دشمنیاں نکال باہر کرتا ہے اور شریعت کی نگاہ میں یہ بڑا محبو ب ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تحائف قبول فرماتے اور لوگوں کو ان کا بدلہ بھی دیتے، نیز مسلمانوں کے ہاں اس پر عمل بحمد اللہ جاری ہے۔
لیکن اگر تحفہ کی غیر شرعی سبب کے ساتھ مل جائے تو پھر یہ جائز نہیں رہتا، جیسے: عاشوراء، رجب یا برتھ ڈے کے مواقع پر تحائف دینا کیونکہ یہ بدعات ہیں، نیز ان میں باطل کی معاونت اور بدعت میں مشارکت ہے۔
[اللجنة الدائمة: 19805]
——————

256- تحفے کی ملکیت

جس کو تحفہ دیا جائے، جب وہ اسے اپنے قبضے میں لے لے تو وہ اس کی ملکیت میں ہو جاتا ہے، وہ اس میں شری ضوابط کے مطابق تصرف کر سکتا ہے۔ اگر اس سے کچھ صدقہ کر دے تو اس کو اس کا اجر بھی ملتا ہے کیونکہ یہ اس کی ملکیت ہے۔
[اللجنة الدائمة: 17907]
——————

257- مسلمان کا اپنے کافر بھائی سے تحفہ قبول کرنا

مسلمان کا اپنے کافر یا مشرک بھائی سے تحفہ قبول کرنا جائز ہے کیونکہ اس میں اس کی تالیف قلب کا سامان ہے، شاید اللہ تعالیٰ اس کو اسلام کی راہ سمجھا دے۔
[اللجنة الدائمة: 4172]
——————

258- تحفہ دینے والے کا تحفہ لینے والے سے وہی تحفہ خرید لینا

تحفہ دینے والے کے لیے جائز نہیں کہ اس نے جو چیز اپنے بھائی کو دی تھی، وہ اس سے خرید لے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں: میں نے کسی آدمی کو اللہ کی راہ میں ایک گھوڑے پر سوار کیا، لیکن اس نے اسے ضائع کر دیا، میں سمجھا وہ اسے اونے پونے بیچ دے گا، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اس سے نہ خرید، خواہ وہ مجھے ایک درہم ہی میں کیوں نہ دے دے، یقیناً اپنے صدقے کی طرف لوٹنے والا اس کتے کے مانند ہے جو اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے۔ [صحيح البخاري، رقم الحديث 2623 صحيح مسلم 1620/1]
[اللجنة الدائمة: 10635]
——————

259- تحفہ دینے والے کا کسی دوسرے آدمی سے وہی چیز خرید لینا

سوال: ایک آدمی نے کسی کو ایک گاڑی بغیر کسی عوض کے ہبہ کی، اس نے وہ گاڑی کسی دوسرے آدمی کو بیچ دی، اس پہلے مالک نے، جس کے ہاتھوں سے یہ گاڑی تحفے کی صورت میں نکل گئی تھی، اسے اس دوسرے آدمی سے خریدنا چاہا جس کو اس نے (تحفہ لینے والے نے) بیچ دی تھی، کیا یہ جائز ہے، اور صورت تبدیل ہو جانے کی ضمن میں آتا ہے؟
جواب: اس مذکورہ صورت میں ہبہ خریدنا جائز ہے، کیونکہ ہبہ کرنے والے نے اس سے نہیں خریدی جس کو اس نے ہبہ کی تھی۔
[اللجنة الدائمة: 13491]
——————

260- خاوند کا بیوی کو حسن سلوک کے بدلے میں کچھ ہبہ کرنا

بیوی کے حسن سلوک اور خدمت گزاری کے بدلے میں جس تحفے کا تم نے ذکر کیا ہے جو تمھاری زندگی ہی میں اس کو ملے گا، وہ اس کو دینا جائز ہے۔
[اللجنة الدائمة: 12168]
——————

261- دو بیویوں میں سے صرف ایک کو تحفہ دینا

جس کی دو یا دو سے زائد بیویاں ہوں، اس کے لیے ان کے درمیان عدل کرنا ضروری ہے اور صرف ایک بیوی کو خرچے، رہائش، یا رات بسر کرنے کے لیے خاص کرناجائز نہیں۔
جس کی دو بیویاں ہوں لیکن وہ ان کے درمیان عدل نہ کرے ایسے شخص کے متعلق سخت وعید وارد ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”جس کی دو بیویاں ہوں وہ ایک کی نسبت دوسری کی طرف زیادہ میلان رکھے، وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کے جسم کا ایک حصہ فالج زدہ ہوگا۔“ [سنن ابن ماجه، رقم الحديث 1969]
ایک روایت میں ہے:
”وہ اپنے ایک جھکے ہوئے یا مفلوج پہلو کو گھسیٹتا آئے گا۔“
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف مائل ہو، روز قیامت وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک حصہ جھکا ہوا ہوگا۔“ [سنن النسائي، رقم الحديث 3942]
یہ دلائل سوتنوں کے درمیان عدل قائم کرنے کی تاکید کرتے ہیں، تاہم دل پر زور نہیں چلتا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان مساویانہ تقسیم کرتے اور فرماتے تھے۔
”اے اللہ ! یہ میری تقسیم ہے جس کا میں مالک ہوں، اور اس پر میرا مؤاخذہ نہ کرنا جس کا تو مالک ہے، میں نہیں۔“ [سنن أبى داود، رقم الحديث 2134]
اس بنا پر اس خاوند کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسری بیویوں کے سوا اپنی ایک بیوی کو اپنی ملکیت میں سے کوئی چیز تحفتا دے، اگر ایک بیوی کو گھر وغیرہ دے تو اس پر لازم ہے کہ دوسری بیویوں کے ساتھ بھی مساویانہ سلوک کرے اور ہر ایک کو اس جیسا گھر دے یا اس کی قیمت دے، الا یہ کہ دوسری بیوی اس کی اجازت دے دے۔
[اللجنة الدائمة: 19695]
——————

262- بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان عدل کرنا واجب ہے

تقسیم کرتے وقت بیٹیوں کو چھوڑ کر بیٹوں کا لحاظ رکھنے کے متعلق شریعت طیبہ میں واضح طور پر یہ حکم موجود ہے کہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں، دونوں کے درمیان عدل کرنا واجب ہے۔
صحیحین میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا، پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ بنانے کی خاطر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اس جیسا دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو، اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔“ [صحيح البخاري، رقم الحديث 2587 صحيح مسلم 1622/18]
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔“ [صحيح البخاري، رقم الحديث 2650 صحيح مسلم 1266/14]
[اللجنة الدائمة: 2225]
——————

263- باپ کا اپنے ایک بیٹے کو اس کے باقی بھائیوں کے سوا خدمت کرنے کے مقابلے میں کوئی تحفہ دینا

باپ کے لیے اپنی اولاد میں سے کسی ایک کو اپنی خدمت اور خیال رکھنے کی بنا پر اس خدمت کے بدلے میں کچھ دے دینا جائز ہے۔ اس میں اس کو دوسرے بھائیوں پر ترجیح نہیں لیکن شرط یہ ہے کہ باپ جو کچھ اس کو دے وہ اس کی خدمت کے برابر ہو، چاہے روزانہ دے، یا ماہانہ یا پھر سالانہ۔
[اللجنة الدائمة: 2911]
——————

264- بیٹوں اور بیٹیوں کو ان کے وراثت میں حصے کے مطابق ہبہ دینا

جو اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو کچھ ہبہ کرے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے درمیان عدل کرے، لہٰذا مذکر (مرد) کو دو مؤنثوں (عورتوں) کے حصے کے برابر دے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے وراثت میں تقسیم کی ہے، اسی طرح زندگی میں ہبہ دینا عطا کرنے کی دو حالتوں میں سے ایک حالت ہے اور حضرت عطا کے قول کے مطابق وہ (صحابہ کرام) جو بھی تقسیم کرتے تھے کتاب اللہ کے مطابق کرتے تھے۔
[اللجنة الدائمة: 11087]
——————

265- ماں کا وراثت میں اپنے کسی بیٹے کے حق میں دست بردار ہو جانا

اگر یہ مال تمہارے باپ کی وراثت سے تمھاری ماں کے حصے آئے تو پھر اس کے لیے روا نہیں کہ کچھ کے حق میں وصیت کر دے اور کچھ کو چھوڑ دے، بلکہ اس پر ان کے درمیان عدل کرنا واجب ہے تاکہ وہ اس کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں بھی برابر ہوں۔
صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: میں نے اپنے اس بیٹے کو اپنا ایک غلام تحفتا دیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو اسی طرح دیا ہے؟ وہ کہنے لگے: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کو واپس لے لو۔“ [صحيح مسلم 1622/6]
ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کیا تم نے اپنی تمام اولاد کے ساتھ ایسا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔“ [صحيح البخاري، رقم الحديث 2587 صحيح مسلم 1622/18]
ایک اور حدیث میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ”کیا مجھے اچھا لگتا ہے کہ وہ تمہارے ساتھ حسن سلوک میں برابر ہوں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایسانہیں۔“ [صحيح مسلم 1266/17]
یہ اس صورت میں ہے کہ اگر وہ (ماں) اس کو صحت کی حالت میں دے۔
[اللجنة الدائمة: 14893]
——————

266- وہ اپنے فرمانبردار بیٹے کو دینا چاہتا ہے اور نافرمان کو محروم رکھنا چاہتا ہے

والدین کے لیے اپنی اولاد کو ٹحفہ دیتے وقت انہیں ایک دوسرے پر ترجیح دیناجائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔“ [صحيح البخاري، رقم الحديث 2587 صحيح مسلم 1622/18]
نیز یہ بھائیوں کے درمیان حسد، بغض، عداوت، کینے اور قطع تعلقی کا باعث بن سکتا ہے اور یہ شریعت مطہرہ کے مقاصد کے خلاف ہے، جو اقربا اور رشتے داروں کے درمیان الفت، محبت، روابط پیدا کرنے اور تعلقات مضبوط کرنے پر اکساتی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ اپنی نافرمان اولاد کی اصلاح ایسے طریقوں کے مطابق کریں جو خاندان کی زندگی کے لیے دنیا و آخرت میں نقصان پر مشتمل نہ ہوں اور بکثرت ان کے لیے استقامت اور اصلاح کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔
[اللجنة الدائمة: 20321]
——————

267- بیٹوں کی شا دی کرنا

تمھارا جو بیٹا شادی کا خواہشمند ہو لیکن مالی استطاعت نہ رکھتا ہو، جبکہ تم اس کی قدرت رکھتے ہو تو اس کی شادی کرنا تم پر واجب ہے، پھر تم اس کی شادی کے اخراجات اٹھاتے ہو، لیکن اپنے شادی شدہ بیٹوں کو، یا ان بیٹوں کو جو اپنے مال سے شا دی کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں، اتنا مال نہیں دیتے جتنا تم نے اپنے اس ضرورت مند بیٹے کو دیا ہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہ لازمی اور واجب نفقہ ہے، یہ وہ عطیہ اور تحفہ نہیں جس میں اولاد کے مابین مساویانہ تقسیم واجب ہوتی ہے۔
[اللجنة الدائمة: 17933]
——————

268- تحفہ دے کر واپس لینا

تحفہ دے کر اس سے رجوع کرنا جائز نہیں کیونکہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے:
”اپنے تحفے کی طرف لوٹنے والا اس کتے کے مانند ہے جو قے کر کے اس کی طرف لوٹ کر آتا ہے۔“ [صحيح البخاري، رقم الحديث 2589 صحيح مسلم 1622/8]
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے:
”ہم مسلمانوں کو بری مثال نہیں اختیار کرنی چاہیے، اس شخص کی سی، جو اپنا دیا ہوا ہدیا واپس لے لے، وہ اس کتے کی طرح ہے جو
اپنی قے خود چاٹتا ہے۔“ [سنن النسائي، رقم الحديث 3699]
[اللجنة الدائمة: 6609]
——————

269- و الدین کا اس مال میں تصرف کرنا جو انہوں نے اپنی اولاد کو ہدیتا دیا ہو

ضرورت کے وقت مگر اولاد کو نقصان پہنچائے بغیر، ایسا کرناجائز ہے،
کیونکہ فرمان نبوی ہے:
”پاکیزہ ترین مال جو تم کھاتے ہو وہ تمھاری کمائی ہے اور تمھاری اولا تمھاری کمائی ہے۔“ [سنن الترمذي، رقم الحديث 1358 سنن ابن ماجه، رقم الحديث 22907]
[اللجنة الدائمة: 10896]
——————

270- غیر مسلم کو تحفہ دینا

مسلمان کے لیے اپنے کافر رشتے دار اور پڑوسی وغیرہ کو کھانے کی کوئی چیز اور کپڑے وغیرہ دینا جائز ہے، چاہے قربانی کا گوشت ہی ہو۔ اگر وہ نادار ہوں تو صلہ رحمی، پڑوسی کا حق ادا کرنے اور تالیف قلب کے لیے انہیں صدقہ دینا بھی جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ» [لقمان: 15]
”اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی بات نہ مانو اور دنیا میں اچھے طریقے سے ان کے ساتھ رہ اور اور اس شخص کے راستے پر چل جو میری طرف رجوع کرتا ہے۔“
نیز فرمایا:
«لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ» [الممتحنة: 8]
”اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا، جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا حکم دیا اور وہ تب کافر تھی، اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک کافر رشتے دار کو ایک عمدہ پوشاک تحفے میں دی۔
شریعت میں کوئی ایسی دلیل نہیں جو اس سے منع کرتی ہو اور اصل اباحت اور حلت ہے، لیکن کافر کو، ان کے سوا جن کی تالیف قلب مقصود ہو، زکات دیناجائز نہیں۔
[اللجنة الدائمة: 2618]
——————

271- سودی بنکوں میں عطیات کے لیے بکس رکھنا

سودی بنکوں میں مذکورہ صندو قچے رکھناجائز نہیں کیونکہ یہ ان کی سودی آمدنی سے مدد خواہی ہے جو حرام ہے۔
[اللجنة الدائمة: 8316]
——————

272- بیوی کی رضامندی سے اس کی تنخواہ لینا

اگر تمھاری بیوی سمجھدار اور معاملات میں تصرف کرنے کی اہلیت رکھتی ہے تو اس کی رضامندی سے اس کی تنخواہ لینے میں کوئی حرج نہیں، اسی طرح وہ جو چیز بھی اپنی مرضی سے تجھے مدد کے طور پر دیتی ہے اور وہ سمجھدار ہے تو اسے لینے میں تمہارے لیے کوئی ممانعت نہیں۔
اللہ تعالیٰ سورت نساء کے شروع میں فرماتے ہیں:
«فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا» [النساء: 4]
”پھر اگر وہ اس میں سے کوئی چیز تمہارے لیے چھوڑنے پر دل سے خوش ہو جائیں تو اسے کھا لو، اس حال میں کہ مزے دار، خوشگوار ہے۔“
چاہے یہ رسید اور قانونی کاغذات کے بغیر ہو، لیکن اگر وہ تجھے اس کی رسید وغیرہ بھی دے دے تو اس میں زیادہ احتیاط ہے، خصوصاً جب تمہیں اس کے گھر والوں یا رشتے داروں سے کسی قسم کا خدشہ ہو، یا تجھے یہ خدشہ ہو کہ وہ کہیں اس سے رجوع ہی نہ کر لے۔ واللہ اعلم
[ابن باز: مجموع الفتاوي و المقالات: 44/20]
——————

273- اس حدیث کا معنی: ”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔“

یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام بخاری اور مسلم نے حضرت نعمان بن بشیر سے روایت کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا۔ ان کی والدہ نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی گواہی نہ دیں، لہٰذا بشیر بن سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اپنے اس کام کے متعلق بتایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کیا تم نے اپنی اولاد میں سے ہر ایک کو اس کے مثل دیا ہے، جو نعمان کو دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔“ [صحيح البخاري، رقم الحديث 2587 صحيح مسلم 1622/18]
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تحفہ دیتے وقت اپنی اولاد میں کسی ایک کو ترجیح دینی چاہیے، نہ تخصیص کرنی چاہیے، ساری ہی اس کی اولاد ہے اور ہر ایک سے حسن سلوک کی امید رکھی جاتی ہے، لہٰذا کچھ کو چھوڑ کر کچھ کو تحائف کے لیے خاص کرنا جائز نہیں۔
تا ہم علما کا اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ آیا اولاد کو مساوی قرار دیا جائے اور لڑکا ایک لڑکی کے برابر ہو یا وراثت کی طرح لڑکے کولڑ کی پر ترجیح دی جائے؟
اہل علم کے دو اقوال ہیں، اور راجح قول یہ ہے کہ عطیہ وراثت کی طرح ہے، ایک لڑکے کو دو لڑکیوں کے مساویانہ دے کر برابری کی جائے، کیونکہ وراثت میں اللہ تعالیٰ نے یہی تقسیم رکھی ہے اور اللہ تعالیٰ انصاف پرور ہے، لہٰذا ایک مومن کو اپنی اولاد کو عطیہ دیتے وقت بھی ایسا ہی کرنا چاہیے جس طرح اگر وہ اپنے مرنے کے بعد انہیں پیچھے چھوڑتا تو ایسے ہی کیا جاتا۔
یہ ہے ان کی نسبت اور ان کے والدین کی نسبت عدل کا معاملہ۔ تاہم والدین کی یہی ذمے داری ہے کہ اولاد کو «لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ» ذکر کے لیے دو مؤنثوں کے برابر) کے قانون کے مطابق دیں، اس طرح ان کے درمیان یہ عدل کے ساتھ اور مساویانہ تقسیم ہوگی جس طرح اللہ تعالیٰ نے وراثت میں کی ہے اور وہ ماں باپ سے زیادہ عدل گستر ہے۔
[ابن باز مجموع الفتاوي و المقالات: 48/20]
——————
248- کسی شخص کے ہاں بطور امانت رکھوائے ہوئے مال سے قرض لینے کا حکم

جس شخص کو کسی بھی مال پر یا کسی بھی پروگرام یا منصوبے میں امین بنایا جائے، اس کے لیے اس میں اپنی ذات کے لیے تصرف کرنا جائز نہیں بلکہ اس کی ذمے داری ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرے اور اسے بچا کر رکھے تاکہ وہ صحیح مصرف میں استعمال ہو۔
[ابن باز مجموع الفتاوي و المقالات: 411/19]
——————

249- مالک کی اجازت کے بغیر امانت سے سر مایہ کاری کرنا

جب کوئی شخص تمہارے پاس کوئی چیز امانت رکھے تو تمہارے لیے اس کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف کرنا جائز نہیں، تمھیں اس کی ایسے ہی حفاظت کرنی چاہیے جس طرح اس جیسی چیز کی حفاظت کی جاتی ہے، اگر تم اس کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف کرو تو پھر تمہیں اس سے اجازت لینی چاہیے، اگر وہ اجازت دے دے تو ٹھیک ورنہ اس کو اس کے مال کا نفع دے دو یا آدھے حصے وغیرہ پر اس کے ساتھ مصالحت کر لو، کیونکہ مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے سوائے اس صلح کے جو کسی حلال کو حرام کرے یا حرام کو حلال۔
[ابن باز مجموع الفتاوي و المقالات: 412/19]

یہ تحریر اب تک 67 لوگ پڑھ چکے ہیں، جبکہ صرف آج 1 لوگوں نے یہ تحریر پڑھی۔