کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
«يشرب ناس من أمتي الخمر باسم يسمونها إياه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے مگر اسے کسی اور نام سے پکاریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8091
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن عبادة بن الصامت. الصحيحة ١/١٣٨.
«يشرب ناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے اور اسے اس کے اصل نام کے علاوہ کسی اور نام سے پکاریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8092
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن رجل. الصحيحة ١/١٣٨.
«يشفع الشهيد في سبعين من أهل بيته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شہید اپنے اہلِ خانہ میں سے ستر افراد کی سفارش کرے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8093
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي الدرداء. الترغيب ٢/١٩٢.
«يشمت العاطس ثلاثا فما زاد فهو مزكوم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چھینکنے والے کے لیے دعا تین بار دی جائے، اس سے زیادہ ہو تو وہ زکام کا مریض ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8094
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن سلمة بن الأكوع. المشكاة ٤٧٤٣.
«يصاح برجل من أمتي يوم القيامة على رءوس الخلائق فينشر له تسعة وتسعون سجلا كل سجل مد البصر ثم يقول الله تبارك وتعالى: هل تنكر من هذا شيئا؟ فيقول: لا يا رب فيقول: أظلمك كتبتي الحافظون؟ فيقول: لا يا رب ثم يقول: ألك عذر ألك حسنة؟ فيهاب الرجل فيقول: لا فيقول: بلى إن لك عندنا حسنة وإنه لا ظلم عليك اليوم فتخرج له بطاقة فيها: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله فيقول: يا رب ما هذه البطاقة مع هذه السجلات؟ فيقول: إنك لا تظلم فتوضع السجلات في كفة والبطاقة في كفة فطاشت السجلات وثقلت البطاقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں سے ایک آدمی کو قیامت کے دن سب مخلوقات کے سامنے بلایا جائے گا، تو اس کے سامنے ننانوے رجسٹر کھولے جائیں گے، ہر رجسٹر حد نگاہ تک پھیلا ہوا ہو گا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے ان میں سے کوئی چیز نامنظور ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، اے رب۔ اللہ فرمائے گا: کیا میرے حفاظت کرنے والے فرشتوں نے تجھ پر ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، اے رب۔ پھر اللہ فرمائے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ کیا تیرے پاس کوئی نیکی ہے؟ تو وہ آدمی گھبرا کر کہے گا: نہیں۔ اللہ فرمائے گا: کیوں نہیں، ہمارے پاس تیری ایک نیکی موجود ہے، اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ تو اس کے لیے ایک پرچی نکالی جائے گی جس پر لکھا ہو گا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں)۔ وہ کہے گا: اے رب! ان رجسٹروں کے مقابلے میں اس پرچی کی کیا حیثیت ہے؟ اللہ فرمائے گا: تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ تو ترازو کے ایک پلڑے میں رجسٹر رکھے جائیں گے اور دوسرے پلڑے میں وہ پرچی، تو رجسٹر ہلکے پڑ جائیں گے اور پرچی بھاری ہو جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8095
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ك] عن ابن عمرو. الترغيب ٢/٢٤٠ - ٢٤١.
«يصبح على كل سلامى من ابن آدم صدقة تسليمه على من لقي صدقة وأمره بالمعروف صدقة ونهيه عن المنكر صدقة وإماطة الأذى عن الطريق صدقة وبضعه أهله صدقة ويجزي من ذلك كله ركعتان من الضحى قالوا: يا رسول الله أحدنا يقضي شهوته وتكون له صدقة؟ قال: أرأيت لووضعها في غير حلها ألم يكن يأثم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن آدم کے ہر جوڑ پر ہر صبح صدقہ لازم ہے: کسی سے ملاقات پر سلام کرنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے، اور اپنی بیوی سے مباشرت کرنا بھی صدقہ ہے۔ اور یہ سب چاشت کی دو رکعتوں سے پورا ہو جاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرے تو اسے بھی صدقے کا ثواب ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بتاؤ اگر وہ اسے ناجائز جگہ استعمال کرتا تو کیا اسے گناہ نہ ہوتا؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8096
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي ذر. صحيح الترغيب ٦٦٣، صحيح أبي داود ١١٦٤: م، حم.
«يصبح على كل سلامى من أحدكم صدقة فكل تسبيحة صدقة وكل تحميدة صدقة وكل تهليلة صدقة وكل تكبيرة صدقة وأمر بالمعروف صدقة ونهي عن المنكر صدقة ويجزي من ذلك ركعتان تركعهما من الضحى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر ہر صبح صدقہ لازم ہے، ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تحمید صدقہ ہے، ہر تہلیل صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے، اور یہ سب چاشت کی دو رکعتوں سے پورا ہو جاتا ہے جو تم پڑھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8097
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن أبي ذر. مختصر مسلم ٣٦٤، الصحيحة ٥٧٧، صحيح أبي داود ١١٦٤: حم.
«يصبح على كل سلامى من أحدكم في كل يوم صدقة فله بكل صلاة صدقة وصيام صدقة وحج صدقة وتسبيح صدقة وتكبير صدقة وتحميد صدقة ويجزي أحدكم من ذلك ركعتا الضحى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر ہر روز صدقہ لازم ہے، تو ہر نماز پر اسے صدقے کا ثواب ملتا ہے، ہر روزے پر صدقے کا ثواب، ہر حج پر صدقے کا ثواب، ہر تسبیح پر صدقے کا ثواب، ہر تکبیر پر صدقے کا ثواب اور ہر تحمید پر صدقے کا ثواب، اور یہ سب تم میں سے ہر ایک کے لیے چاشت کی دو رکعتوں سے پورا ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8098
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي ذر. صحيح أبي داود ١١٦٥، الصحيحة ٥٧٧، الإرواء ٤٦١.
«يصلون لكم فإن أصابوا فلكم وإن أخطئوا فلكم وعليهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وہ حکمران تمہاری امامت کریں گے، پس اگر وہ درست کریں تو اس کا ثواب تمہارے لیے ہے، اور اگر وہ غلطی کریں تو اس کا ثواب تمہارے لیے ہے اور اس کا وبال ان پر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8099
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. مختصر البخاري ٣٨٣، تعليق على العقيدة الطحاوية فقرة ٦٩: حم، ع شرح الطحاوية ٤٨١، ٤٨٦.
«يضحك الله إلى رجلين يقتل أحدهما الآخر يدخلان الجنة يقاتل هذا في سبيل الله فيقتل ثم يتوب الله على القاتل فيسلم فيقاتل في سبيل الله فيستشهد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ دو ایسے آدمیوں پر مسکراتا ہے جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، پھر دونوں جنت میں داخل ہوتے ہیں: یہ پہلا اللہ کی راہ میں لڑتا ہے تو مارا جاتا ہے، پھر اللہ قاتل کی توبہ قبول کر لیتا ہے تو وہ مسلمان ہو جاتا ہے، پھر وہ اللہ کی راہ میں لڑتا ہے تو شہید ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8100
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٠٩٨، الصحيحة ١٠٧٤: مالك، ابن خزيمة، البيهقي.
«يطوي الله السموات يوم القيامة ثم يأخذهن بيده اليمنى ثم يقول: أنا الملك أين الجبارون؟ أين المتكبرون؟ ثم يطوي الأرضين ثم يأخذهن بشماله ثم يقول: أنا الملك أين الجبارون؟ أين المتكبرون؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹ لے گا، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، جابر لوگ کہاں ہیں؟ متکبر لوگ کہاں ہیں؟ پھر زمینوں کو لپیٹ لے گا، پھر انہیں اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، جابر لوگ کہاں ہیں؟ متکبر لوگ کہاں ہیں؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8101
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د] عن ابن عمر. مختصر مسلم ١٩٤٦، السنة ٥٤٨، ٥٤٩: ابن أبي عاصم، هق. حم، ق، ن، الدارمي ابن خزيمة، ابن أبي عاصم - أبي هريرة١.
"يعجب ربك من راعي غنم في رأس شظية بجبل يؤذن للصلاة ويصلي فيقول الله عز وجل: انظروا إلى عبدي هذا يؤذن ويقيم الصلاة يخاف مني قد غفرت لعبدي وأدخلته الجنة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے رب کو ایک بکریوں کے چرواہے پر تعجب ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر نماز کے لیے اذان دیتا اور نماز پڑھتا ہے، تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو، یہ اذان دیتا اور نماز قائم کرتا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8102
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن] عن عقبة بن عامر. صحيح أبي داود ١٠٨٦، الصحيحة ٤١، الإرواء ٢١٤.
«يعذب ناس من أهل التوحيد فيطرحون في النار حتى يكونوا فيها حمما ثم تدركهم الرحمة فيخرجون ويطرحون على أبواب الجنة فيرش عليهم أهل الجنة الماء فينبتون كما ينبت الغثاء في حمالة السيل ثم يدخلون الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”موحدین میں سے کچھ لوگوں کو عذاب دیا جائے گا، تو انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اس میں کوئلہ بن جائیں گے، پھر انہیں رحمت آ لے گی، تو وہ نکالے جائیں گے اور جنت کے دروازوں پر ڈال دیے جائیں گے، تو جنت والے ان پر پانی چھڑکیں گے، تو وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے میں کوئی چیز اگ آتی ہے، پھر وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8103
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن جابر. الصحيحة ٢٤٥١.
«يعرق الناس يوم القيامة حتى يذهب عرقهم في الأرض سبعين ذراعا يلجمهم حتى يبلغ آذانهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگ قیامت کے دن اتنا پسینہ بہائیں گے کہ ان کا پسینہ زمین میں ستر ہاتھ گہرا اتر جائے گا، اور وہ ان کے کانوں تک پہنچ کر انہیں لگام کی طرح جکڑ لے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8104
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. المشكاة ٥٥٣٩.
«يعض أحدكم أخاه كما يعض الفحل؟! لا دية له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو نر اونٹ کی طرح کاٹتا ہے؟! اس کے لیے کوئی دیت نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8105
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن هـ] عن عمران بن حصين ... [ن] عن يعلى بن منية وأخيه مسلمة.
«يعطى المؤمن في الجنة قوة مائة في النساء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کو جنت میں عورتوں کے معاملے میں سو آدمیوں کی طاقت دی جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8106
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت حب] عن أنس. المشكاة ٥٦٣٦.
«يعقد الشيطان على قافية رأس أحدكم إذا هونام ثلاث عقد يضرب مكان كل عقدة: عليك ليل طويل فارقد فإن استيقظ فذكر الله انحلت عقدة فإن توضأ انحلت عقدة فإن صلى انحلت عقده كلها فأصبح نشيطا طيب النفس وإلا أصبح خبيث النفس كسلان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شیطان تم میں سے کسی کے سوتے وقت اس کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے، ہر گرہ پر یہ کہتا ہے: تیرے لیے لمبی رات ہے، سوتا رہ۔ پس اگر وہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، اگر وہ وضو کرے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے، اگر وہ نماز پڑھے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں، تو وہ چست اور خوش دل ہو کر صبح کرتا ہے، ورنہ وہ بدمزاج اور سست ہو کر صبح کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8107
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٣٨٧، صحيح أبي داود ١١٧٩.
«يعق عن الغلام ولا يمس رأسه بدم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لڑکے کی طرف سے عقیقہ کیا جائے، اور اس کے سر کو خون سے نہ لگایا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8108
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن يزيد بن عبد المزني. الصحيحة ٢٤٥٢.
«يعمد أحدكم إلى جمرة من نار فيجعلها في يده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم میں سے کوئی جان بوجھ کر آگ کا انگارہ لے کر اپنے ہاتھ میں رکھ لے گا؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8109
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عباس. مختصر مسلم ١٣٧٢، آداب الزفاف ١٢٦: حب، طب.
«يعمد أحدكم فيبرك في صلاته كما يبرك الجمل؟!»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم میں سے کوئی اپنی نماز میں اس طرح بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے؟!“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8110
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [٣] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٧٨٩.
«يعمد أحدكم فيجلد امرأته جلد العبد ولعله يضاجعها في آخر يومه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح مارتا ہے، پھر شاید اسی دن کے آخر میں اس کے ساتھ ہم بستر بھی ہو جاتا ہے؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8111
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن عبد الله بن زمعة. المشكاة ٣٢٤٢.
«يعمد الشيطان إلى أحدكم فيتهول له ثم يغدو يخبر الناس؟!»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا شیطان تم میں سے کسی کے پاس آ کر اسے (خواب میں) ڈراتا ہے، پھر وہ صبح اٹھ کر لوگوں کو (وہ خواب) بتاتا پھرتا ہے؟!“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8112
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٢٥٣: حم. م - جابر.
«يعوذ عائذ بالبيت فيبعث إليه بعث فإذا كانوا ببيداء من الأرض خسف بهم قيل: يا رسول الله! فكيف بمن كان كارها؟ قال: يخسف به معهم ولكنه يبعث يوم القيامة على نيته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک پناہ لینے والا بیت اللہ کی پناہ لے گا، تو اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا، پس جب وہ زمین کے ایک میدان میں پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! جو شخص ناپسند کرتا ہو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، لیکن قیامت کے دن اسے اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8113
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أم سلمة. مختصر مسلم ٢٠٣٠، الصحيحة ١٩٢٤: ك.
«يغزوجيش الكعبة فإذا كانوا ببيداء من الأرض خسف بأولهم وآخرهم ثم يبعثون على نياتهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کعبہ پر ایک لشکر چڑھائی کرے گا، پس جب وہ زمین کے ایک میدان میں پہنچیں گے تو ان کے اگلوں اور پچھلوں سب کو دھنسا دیا جائے گا، پھر انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8114
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن عائشة. الصحيحة ١٦٢٢: حل.
«يغزوهذا البيت جيش فيخسف بهم بالبيداء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس گھر (کعبہ) پر ایک لشکر چڑھائی کرے گا تو انہیں میدان میں دھنسا دیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8115
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٤٣٢.
«يغسل الإناء إذا ولغ فيه الكلب سبع مرات أخراهن أو أولاهن بالتراب وإذا ولغت فيه الهرة غسل مرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھویا جائے، ان میں سے آخری یا پہلی بار مٹی سے، اور جب بلی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے ایک بار دھویا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8116
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٦٥.
«يغسل من بول الجارية ويرش من بول الغلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لڑکی کے پیشاب سے (کپڑا) دھویا جائے اور لڑکے کے پیشاب پر (پانی) چھڑکا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8117
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن هـ ك] عن أبي عبد السمح [د هـ] عن علي. صحيح أبي داود ٤٠٠ - ٤٠١.
«يغضب علي أن لا أجد ما أعطيه! من سأل منكم وله أوقية أو عدلها فقد سأل إلحافا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے اس بات پر غصہ آتا ہے کہ میں کسی کو دینے کے لیے کچھ نہ پاؤں! تم میں سے جس کے پاس ایک اوقیہ یا اس کے برابر مال ہو اور وہ (پھر بھی) سوال کرے تو اس نے اصرار سے سوال کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8118
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن رجل١. صحيح أبي داود ١٤٣٩، الصحيحة ١٧١٩: مالك.
«يغفر للشهيد كل ذنب إلا الدين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شہید کا ہر گناہ بخش دیا جاتا ہے سوائے قرض کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8119
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن ابن عمرو. مختصر مسلم ١٠٨٤، تخريج مشكلة الفقر ٦٨، غاية المرام ٣٥١، الإرواء ١١٨٢.
«يقال لأهل الجنة: يا أهل الجنة! خلود لا موت ولأهل النار: يا أهل النار! خلود لا موت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت والوں سے کہا جائے گا: اے جنت والو! (اب) ہمیشگی ہے، موت نہیں، اور جہنم والوں سے کہا جائے گا: اے جہنم والو! (اب) ہمیشگی ہے، موت نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8120
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة.
«يقال لصاحب القرآن إذا دخل الجنة: اقرأ واصعد فيقرأ ويصعد لكل آية درجة حتى يقرأ آخر شيء معه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن پڑھنے والے سے جب وہ جنت میں داخل ہو گا کہا جائے گا: پڑھو اور چڑھو، پس وہ پڑھے گا اور چڑھے گا، ہر آیت پر ایک درجہ (بلند ہو گا) یہاں تک کہ وہ اپنے پاس موجود آخری چیز (آخری آیت) پڑھ لے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8121
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن أبي سعيد. صحيح أبي داود ١٣١٧.
«يقال لصاحب القرآن: اقرأ وارق ورتل كما كنت ترتل في دار الدنيا فإن منزلتك عند آخر آية كنت تقرؤها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن پڑھنے والے سے کہا جائے گا: پڑھو اور چڑھو اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسے تم دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، کیونکہ تمہارا مقام اس آخری آیت کے مطابق ہو گا جو تم پڑھا کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8122
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٣ حب ك] عن ابن عمرو. المشكاة ٢١٣٤، الترغيب ٢/٢٠٨، صحيح أبي داود ١٣١٧.
«يقال للرجل من أهل النار يوم القيامة: أرأيت لو كان لك ما على الأرض من شيء أكنت مفتديا به؟ فيقول: نعم؟ فيقول الله: كذبت قد أردت منك أهون من ذلك قد أخذت عليك في ظهر آدم أن لا تشرك بي شيئا فأبيت إلا أن تشرك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن جہنم والے شخص سے کہا جائے گا: بتاؤ اگر تمہارے پاس زمین کی ہر چیز ہوتی تو کیا تم اسے (اپنی نجات کے) فدیے میں دے دیتے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم نے جھوٹ کہا، میں نے تو تم سے اس سے بھی آسان بات کا مطالبہ کیا تھا، میں نے آدم علیہ السلام کی پشت میں تم سے یہ عہد لیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، لیکن تم نے شرک کیے بغیر نہ مانا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8123
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أنس. تخريج السنة ٩٩: ابن أبي عاصم١.
«يقبض العلم ويظهر الجهل والفتن ويكثر الهرج»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت اور فتنے ظاہر ہو جائیں گے اور قتل و غارت بڑھ جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8124
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة.
«يقبض الله الأرض يوم القيامة ويطوي السموات بيمينه ثم يقول: أنا الملك أين ملوك الأرض؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8125
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن هـ] عن أبي هريرة [خ] عن ابن عمر. المشكاة ٥٥٢٢، تخريج السنة ٥٤٨و٥٤٩: حم، الدارمي، ابن أبي عاصم - أبي هريرة. م، د، ابن أبي عاصم، هق - ابن عمر.
«يقتل ابن مريم الدجال بباب لد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن مریم (عیسیٰ علیہ السلام) دجال کو لد کے دروازے پر قتل کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8126
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن مجمع بن جارية. الصحيحة ٢٤٥٧.
«يقتل المحرم ... الكلب العقور والفأرة والعقرب والحدأة والغراب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”محرم کاٹنے والے کتے، چوہے، بچھو، چیل اور کوے کو قتل کر سکتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8127
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ] عن أبي سعيد. المشكاة ٢٧٠٢، الإرواء ١٠٣٦.
«يقطع الصلاة الحمار والمرأة والكلب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”گدھا، عورت اور کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8128
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن أبي هريرة وعبد الله بن مغفل. يشهد له ما بعده.
«يقطع الصلاة المرأة الحائض والكلب الأسود»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حائضہ عورت اور کالا کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8129
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د هـ] عن ابن عباس. صحيح أبي داود ٧٠٠.
«يقطع الصلاة المرأة والحمار والكلب ويقي من ذلك مثل مؤخرة الرحل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورت، گدھا اور کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں، اور کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر (کوئی چیز سترہ کے طور پر رکھنا) اس سے بچا لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8130
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.