حدیث نمبر: 8096
«يصبح على كل سلامى من ابن آدم صدقة تسليمه على من لقي صدقة وأمره بالمعروف صدقة ونهيه عن المنكر صدقة وإماطة الأذى عن الطريق صدقة وبضعه أهله صدقة ويجزي من ذلك كله ركعتان من الضحى قالوا: يا رسول الله أحدنا يقضي شهوته وتكون له صدقة؟ قال: أرأيت لووضعها في غير حلها ألم يكن يأثم»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن آدم کے ہر جوڑ پر ہر صبح صدقہ لازم ہے: کسی سے ملاقات پر سلام کرنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے، اور اپنی بیوی سے مباشرت کرنا بھی صدقہ ہے۔ اور یہ سب چاشت کی دو رکعتوں سے پورا ہو جاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرے تو اسے بھی صدقے کا ثواب ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بتاؤ اگر وہ اسے ناجائز جگہ استعمال کرتا تو کیا اسے گناہ نہ ہوتا؟“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8096
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي ذر. صحيح الترغيب ٦٦٣، صحيح أبي داود ١١٦٤: م، حم.