حدیث نمبر: 8095
«يصاح برجل من أمتي يوم القيامة على رءوس الخلائق فينشر له تسعة وتسعون سجلا كل سجل مد البصر ثم يقول الله تبارك وتعالى: هل تنكر من هذا شيئا؟ فيقول: لا يا رب فيقول: أظلمك كتبتي الحافظون؟ فيقول: لا يا رب ثم يقول: ألك عذر ألك حسنة؟ فيهاب الرجل فيقول: لا فيقول: بلى إن لك عندنا حسنة وإنه لا ظلم عليك اليوم فتخرج له بطاقة فيها: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله فيقول: يا رب ما هذه البطاقة مع هذه السجلات؟ فيقول: إنك لا تظلم فتوضع السجلات في كفة والبطاقة في كفة فطاشت السجلات وثقلت البطاقة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں سے ایک آدمی کو قیامت کے دن سب مخلوقات کے سامنے بلایا جائے گا، تو اس کے سامنے ننانوے رجسٹر کھولے جائیں گے، ہر رجسٹر حد نگاہ تک پھیلا ہوا ہو گا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے ان میں سے کوئی چیز نامنظور ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، اے رب۔ اللہ فرمائے گا: کیا میرے حفاظت کرنے والے فرشتوں نے تجھ پر ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، اے رب۔ پھر اللہ فرمائے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ کیا تیرے پاس کوئی نیکی ہے؟ تو وہ آدمی گھبرا کر کہے گا: نہیں۔ اللہ فرمائے گا: کیوں نہیں، ہمارے پاس تیری ایک نیکی موجود ہے، اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ تو اس کے لیے ایک پرچی نکالی جائے گی جس پر لکھا ہو گا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں)۔ وہ کہے گا: اے رب! ان رجسٹروں کے مقابلے میں اس پرچی کی کیا حیثیت ہے؟ اللہ فرمائے گا: تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ تو ترازو کے ایک پلڑے میں رجسٹر رکھے جائیں گے اور دوسرے پلڑے میں وہ پرچی، تو رجسٹر ہلکے پڑ جائیں گے اور پرچی بھاری ہو جائے گی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 8095
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ك] عن ابن عمرو. الترغيب ٢/٢٤٠ - ٢٤١.