کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف میم سے شروع ہونے والی احادیث
«ما كرهت أن يراه الناس منك فلا تفعله بنفسك إذا خلوت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کام تمہیں یہ پسند نہ ہو کہ لوگ تم سے دیکھیں تو جب تم تنہائی میں ہو تو وہ کام خود سے بھی نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5659
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حب ت١] عن أسامة بن شريك. الصحيحة ١٠٥٥.
«ما كسب الرجل كسبا أطيب من عمل يده وما أنفق الرجل على نفسه وأهله وولده وخادمه فهو صدقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کوئی کمائی نہیں کی، اور آدمی جو کچھ اپنے آپ پر، اپنے گھر والوں پر، اپنی اولاد پر اور اپنے خادم پر خرچ کرے وہ صدقہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5660
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن المقدام. الترغيب ٣/٢.
«ما لأحد عندنا يد إلا وقد كافأناه ما خلا أبا بكر فإن له عندنا يدا يكافئه الله بها يوم القيامة وما نفعني مال أحد قط ما نفعني مال أبي بكر ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا ألا وإن صاحبكم خليل الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابوبکر کے سوا کسی کا ہم پر کوئی احسان نہیں مگر ہم نے اس کا بدلہ چکا دیا، رہے ابوبکر تو ان کا ہم پر ایسا احسان ہے جس کا بدلہ اللہ انہیں قیامت کے دن دے گا، اور مجھے کبھی کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے پہنچایا، اور اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا، سن لو! تمہارا ساتھی اللہ کا خلیل ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5661
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. تخريج مشكلة الفقر ١٣: م - ابن مسعود.
«ما لصبيكم هذا يبكي؟ هلا استرقيتم له من العين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے اس بچے کو کیا ہو گیا ہے کہ رو رہا ہے؟ تم نے اس کے لیے نظرِ بد کا دم کیوں نہیں کروایا؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5662
«ما لكم والمجالس الصعدات اجتنبوا مجالس الصعدات أما لا فأدوا حقها: غض البصر ورد السلام وإهداء السبيل وحسن الكلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہیں راستوں میں بیٹھنے سے کیا فائدہ؟ راستوں میں بیٹھنے سے بچو، اور اگر بیٹھنا ہی ہے تو ان کا حق ادا کرو: نگاہ نیچی رکھنا، سلام کا جواب دینا، راستہ بتانا اور اچھی بات کرنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5663
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن أبي طلحة. م ٧/٢.
«ما لي أرى عليك حلية أهل النار» - يعني خاتم الحديد -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے کیا ہو گیا کہ میں تجھ پر جہنم والوں کا زیور (یعنی لوہے کی انگوٹھی) دیکھ رہا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5664
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [٣] عن بريدة. المشكاة ٤٣٩٦، آداب الزفاف ١٢٧ - ١٢٨: حب.
«ما لي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس اسكنوا في الصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے کیا ہو گیا کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم اپنے ہاتھ اس طرح اٹھاتے ہو گویا وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، نماز میں سکون سے رہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5665
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مختصر مسلم ٣٣١، صحيح أبي داود ٩١٨.
«ما لي أراكم عزين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے کیا ہو گیا کہ میں تمہیں الگ الگ ٹولیوں میں دیکھتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5666
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن] عن جابر بن سمرة. مختصر مسلم ٣٣١، صحيح أبي داود ٩١٨.
«ما لي رأيتكم أكثرتم التصفيق من نابه شيء في صلاته فليسبح فإنه إذا سبح التفت إليه وإنما التصفيق للنساء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے کیا ہو گیا کہ میں نے تمہیں دیکھا کہ تم نے بہت تالیاں بجائیں، جس کو اس کی نماز میں کچھ پیش آئے تو وہ 'سبحان اللہ' کہے، کیونکہ جب وہ 'سبحان اللہ' کہے گا تو امام اس کی طرف متوجہ ہوگا، تالی بجانا تو صرف عورتوں کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5667
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن سهل بن سعد. صحيح أبي داود ٨٦٨، الإرواء ٤٩٥.
«ما لي وللدنيا! ما أنا في الدنيا إلا كراكب استظل تحت شجرة ثم راح وتركها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے دنیا سے کیا تعلق! میں دنیا میں تو بس اس مسافر کی طرح ہوں جو کسی درخت کے نیچے سایہ حاصل کرے، پھر چل پڑے اور اسے چھوڑ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5668
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت هـ ك الضياء] عن ابن مسعود. الصحيحة ٤٣٨: فقه السيرة ٤٧٨.
«ما لي وللدنيا وما للدنيا وما لي! والذي نفسي بيده ما مثلي ومثل الدنيا إلا كراكب سار في يوم صائف فاستظل تحت شجرة ساعة من النهار ثم راح وتركها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے دنیا سے کیا تعلق اور دنیا کو مجھ سے کیا تعلق! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری اور دنیا کی مثال تو بس اس مسافر کی طرح ہے جو گرمی کے دن میں سفر کرے، پھر دن کی ایک گھڑی کے لیے کسی درخت کے نیچے سایہ حاصل کرے، پھر چل پڑے اور اسے چھوڑ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5669
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك] عن ابن عباس. فقه السيرة ٤٧٨، الصحيحة ٤٣٩.
«ما مات نبي إلا دفن حيث يقبض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو نبی بھی فوت ہوا اسے وہیں دفن کیا گیا جہاں اس کی روح قبض کی گئی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5670
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي بكر. أحكام الجنائز ٣٣٧.
«ما مررت ليلة أسري بي بملأ من الملائكة إلا قالوا: يا محمد مر أمتك بالحجامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا انہوں نے کہا: اے محمد! اپنی امت کو پچھنے لگوانے کا حکم دیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5671
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أنس [ت] عن ابن مسعود. المشكاة ٤٥٤٤.
«ما مررت ليلة أسري بي بملأ من الملائكة إلا كلهم يقول لي: عليك يا محمد بالحجامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا وہ سب مجھ سے کہتے: اے محمد! پچھنے لگوانا لازم پکڑیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5672
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ] عن ابن عباس. المشكاة ٤٥٤٤، الصحيحة ٢٢٦٤.
«ما مسخ الله تعالى من شيء فكان له عقب ولا نسل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو بھی مسخ کیا اس کی کوئی نسل اور اولاد نہیں چلی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5673
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أم سلمة. الصحيحة ٢٢٦٤: ع، طس - ابن عمر، حم، م - ابن مسعود.
«ما ملأ آدمي وعاء شرا من بطنه بحسب ابن آدم أكلات يقمن صلبه فإن كان لا محالة فثلث لطعامه وثلث لشرابه وثلث لنفسه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی نے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا، ابنِ آدم کے لیے اتنے ہی لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں، پھر اگر ناگزیر ہی ہو تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے چھوڑ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5674
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت هـ ك] عن المقدام بن معد يكرب. الإرواء ١٩٨٣، الصحيحة ٢٢٦٥: ابن المبارك، ابن سعد، ابن عساكر.
«ما من آدمي إلا في رأسه حكمة بيد ملك فإذا تواضع قيل للملك ارفع حكمته وإذا تكبر قيل للملك: دع حكمته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں مگر اس کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے جو ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے، پس جب وہ عاجزی اختیار کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے: اس کی لگام بلند کر دو، اور جب وہ تکبر کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے: اس کی لگام چھوڑ دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5675
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس [البزار] عن أبي هريرة. الصحيحة ٥٣٨.
«ما من أحد لا يؤدي زكاة ماله إلا مثل له يوم القيامة شجاعا أقرع حتى يطوق عنقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص بھی اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کے لیے ایک گنجا سانپ بنا کر پیش کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5676
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن مسعود. صحيح الترغيب ٧٥٤: ابن خزيمة.
«ما من أحد يدان دينا يعلم الله منه أنه يريد قضاءه إلا أداه الله عنه في الدنيا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص بھی قرض لیتا ہے اور اللہ کو معلوم ہو کہ وہ اسے ادا کرنا چاہتا ہے تو اللہ اسے دنیا ہی میں اس کی طرف سے ادا کروا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5677
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن حب] عن ميمونة. الترغيب ٣/٣٢.
«ما من أحد يدعوبدعاء إلا آتاه الله ما سأل أو كف عنه من السوء مثله ما لم يدع بإثم أو قطيعة رحم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص بھی کوئی دعا کرے تو اللہ اسے وہ چیز دے دیتا ہے جو اس نے مانگی یا اس سے اتنی ہی برائی روک دیتا ہے، جب تک وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5678
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت] عن جابر. المشكاة ٢٢٣٦.
«ما من أحد يسلم علي إلا رد الله علي روحي حتى أرد عليه السلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص بھی مجھے سلام کرتا ہے اللہ میری روح مجھ پر لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اسے سلام کا جواب دیتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5679
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة. الضعيفة ٢٠١، نقد الكتاني ٤٧، الصحيحة ٢٢٦٦.
«ما من أربعين من مؤمن يستغفرون لمؤمن إلا شفعهم الله فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چالیس مومنوں میں سے جو بھی کسی مومن کے لیے مغفرت مانگیں تو اللہ ان کی سفارش قبول فرما لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5680
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عباس. الصحيحة ٢٢٦٧: م١.
«ما من الأنبياء من نبي إلا وقد أعطي من الآيات ما مثله آمن عليه البشر وإنما كان الذي أوتيته وحيا أوحاه الله إلي فأرجوأن أكون أكثرهم تابعا يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انبیاء میں سے کوئی نبی ایسا نہیں مگر اسے ایسی نشانیاں دی گئیں جن جیسی نشانیوں پر لوگ ایمان لائے، اور جو کچھ مجھے دیا گیا وہ وحی ہے جو اللہ نے مجھ پر نازل کی، پس مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے پیروکار ان سب سے زیادہ ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5681
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٩.
«ما من القلوب قلب إلا وله سحابة كسحابة القمر بينما القمر يضيء إذ علته سحابة فأظلم إذ تجلت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دلوں میں کوئی دل ایسا نہیں مگر اس پر چاند کے بادل جیسا ایک بادل چھایا رہتا ہے، جیسے چاند روشن ہوتا ہے پھر اچانک اس پر بادل چھا جاتا ہے تو وہ تاریک ہو جاتا ہے، پھر بادل چھٹ جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5682
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث الصحيحة ٢٢٦٨: حل، الديلمي.
«ما من الناس من مسلم يتوفى له ثلاثة لم يبلغوا الحنث إلا أدخله الله الجنة بفضل رحمته إياهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سے جس مسلمان کے تین بچے بلوغت سے پہلے فوت ہو جائیں تو اللہ اسے ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کر دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن أنس [خ] عن أبي هريرة وأبي سعيد.
«ما من الناس من نفس مسلمة يقبضها ربها تحب أن ترجع إليكم وأن لها الدنيا وما فيها غير الشهداء ولأن أقتل في سبيل الله أحب إلي من أن يكون لي أهل الوبر والمدر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سے کوئی مسلمان جان ایسی نہیں جسے اس کا رب قبض کرے اور وہ یہ پسند کرے کہ وہ تمہاری طرف واپس آئے، خواہ اسے دنیا اور اس کی ہر چیز دے دی جائے، سوائے شہداء کے، اور یہ کہ میں اللہ کی راہ میں قتل ہو جاؤں یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میرے پاس خیمے اور مکان والوں کی دولت ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5684
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ن] عن محمد بن أبي عميرة وما له غيره١. الترغيب ٢/١٩٠.
«ما من إمام أو وال يغلق بابه دون ذوي الحاجة والخلة والمسكنة إلا أغلق الله أبواب السماء دون خلته وحاجته ومسكنته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی حکمران یا والی ایسا نہیں جو حاجت مندوں، ضرورت مندوں اور مسکینوں کے لیے اپنا دروازہ بند کر دے مگر اللہ بھی اس کی ضرورت، اس کی حاجت اور اس کی مسکینی کے لیے آسمان کے دروازے بند کر دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5685
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن عمروبن مرة. الصحيحة ٦٢٩.
«ما من امرئ مسلم تحضره صلاة مكتوبة فيحسن وضوءها وخشوعها وركوعها إلا كانت كفارة لما قبلها من الذنوب ما لم تؤت كبيرة وذلك الدهر كله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی مسلمان آدمی ایسا نہیں جس کا فرض نماز کا وقت آئے اور وہ اس کا وضو، اس کا خشوع اور اس کا رکوع اچھی طرح ادا کرے مگر یہ اس سے پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے، جب تک کوئی کبیرہ گناہ نہ کیا جائے، اور یہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5686
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عثمان. المشكاة ٢٨٦.
«ما من امرئ مسلم يعود مسلما إلا ابتعث الله سبعين ألف ملك يصلون عليه في أي ساعات النهار كان حتى يمسي وأي ساعات الليل كان حتى يصبح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی مسلمان آدمی ایسا نہیں جو کسی مسلمان کی عیادت کرے مگر اللہ ستر ہزار فرشتے بھیج دیتا ہے جو اس پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں، اگر یہ دن کی کسی گھڑی میں ہو تو شام تک، اور اگر رات کی کسی گھڑی میں ہو تو صبح تک۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5687
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب] عن علي. الصحيحة ١٣٦٧: حم.
«ما من امرئ مسلم ينقي لفرسه شعيرا ثم يعلقه عليه إلا كتب الله له بكل حبة حسنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی مسلمان آدمی ایسا نہیں جو اپنے گھوڑے کے لیے جو صاف کرے پھر اسے اس پر لٹکائے مگر اللہ اسے ہر دانے کے بدلے ایک نیکی لکھتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5688
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هب] عن تميم. الصحيحة ٢٢٦٩.
«ما من امرئ يتوضأ فيحسن وضوءه ثم يصلي الصلاة إلا غفر له ما بينه وبين الصلاة الأخرى حتى يصليها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جو وضو کرے اور اسے اچھی طرح مکمل کرے، پھر نماز پڑھے مگر اسے اس نماز اور اگلی نماز کے درمیان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اگلی نماز پڑھ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5689
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن حب] عن عثمان. صحيح الترغيب ١٧٧: مالك، حم.
"ما من امرئ يخذل امرءا مسلما في موطن ينتقص فيه من عرضه وينتهك فيه من حرمته إلا خذله الله تعالى في موطن يحب فيه نصرته، وما من أحد ينصر مسلما في موطن ينتقص فيه من عرضه وينتهك فيه من حرمته إلا نصره الله في موطن يحب فيه نصرته"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جو کسی مسلمان کو ایسے موقع پر بے یار و مددگار چھوڑ دے جہاں اس کی عزت پر حملہ ہو رہا ہو اور اس کی حرمت پامال ہو رہی ہو مگر اللہ تعالیٰ بھی اسے ایسے موقع پر بے یار و مددگار چھوڑ دے گا جہاں وہ چاہے گا کہ اس کی مدد کی جائے، اور کوئی آدمی ایسا نہیں جو کسی مسلمان کی ایسے موقع پر مدد کرے جہاں اس کی عزت پر حملہ ہو رہا ہو اور اس کی حرمت پامال ہو رہی ہو مگر اللہ بھی اس کی ایسے موقع پر مدد کرے گا جہاں وہ چاہے گا کہ اس کی مدد کی جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5690
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د الضياء] عن جابر وأبي طلحة بن سهل. المشكاة ٤٩٨٣: طس - جابر وأبي أيوب الأنصاري.
«ما من امرئ يكون له صلاة بالليل فيغلبه عليها النوم إلا كتب الله تعالى له أجر صلاته وكان نومه عليه صدقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جس کی رات کو کوئی مقررہ نماز ہو اور نیند اس پر غالب آ جائے مگر اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیتا ہے اور اس کی نیند اس پر صدقہ بن جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5691
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن] عن عائشة. الإرواء ٤٥٤، صحيح الترغيب ٥٩٩: مالك، ابن نصر.
«ما من امرأة تخلع ثيابها في غير بيتها إلا هتكت ما بينها وبين الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی عورت ایسی نہیں جو اپنے گھر کے سوا کہیں اور اپنے کپڑے اتارے مگر اس نے اپنے اور اللہ کے درمیان کا پردہ چاک کر دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5692
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث آداب الزفاف ٦٠ - ٦١ صحيح الترغيب ١٦٥: الطيالسي، حم، الدارمي.
«ما من أمة إلا وبعضها في النار وبعضها في الجنة إلا أمتي فإنها كلها في الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی امت ایسی نہیں جس کا کچھ حصہ جہنم میں اور کچھ جنت میں نہ ہو، سوائے میری امت کے، کہ وہ ساری کی ساری جنت میں ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5693
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خط] عن ابن عمر. الروض النضير ٥٥١.
«ما من أمير إلا وله بطانتان من أهله بطانة تأمره بالمعروف وتنهاه عن المنكر وبطانة لا تألوه خبالا فمن وقي شرها فقد وقي وهو من التي تغلب عليه منهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی حکمران ایسا نہیں مگر اس کے اپنوں میں سے اس کے دو قریبی حلقے ہوتے ہیں: ایک حلقہ جو اسے نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے، اور ایک حلقہ جو اسے نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا، پس جو اس کے شر سے بچا لیا گیا وہ واقعی بچ گیا، اور وہ ان دونوں میں سے جس کا غلبہ ہو اسی کی طرح ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5694
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٢٧٠: حم، ت.
«ما من أمير عشرة إلا وهو يؤتى به يوم القيامة مغلولا حتى يفكه العدل أو يوبقه الجور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دس آدمیوں پر مقرر کوئی امیر ایسا نہیں مگر اسے قیامت کے دن باندھ کر لایا جائے گا، پھر اس کا انصاف اسے کھول دے گا یا اس کا ظلم اسے ہلاک کر دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5695
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن أبي هريرة. المشكاة ٣٦٩٧: الصحيحة ٣٤٩.
«ما من أمير عشرة إلا يؤتى به يوم القيامة ويده مغلولة إلى عنقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دس آدمیوں پر مقرر کوئی امیر ایسا نہیں مگر اسے قیامت کے دن اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوا ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5696
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن أبي هريرة. المشكاة ٣٦٩٧.
«ما من أمير يلي أمر المسلمين ثم لا يجهد لهم وينصح إلا لم يدخل معهم الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی حکمران ایسا نہیں جو مسلمانوں کے معاملات کا ذمہ دار بنے پھر ان کے لیے کوشش اور خیرخواہی نہ کرے مگر وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5697
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن معقل بن يسار. م ١/٨٨.
«ما من أهل بيت يغدوعليهم فدان إلا ذلوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی گھر والے ایسے نہیں جن کے پاس ہل صبح آ جائے مگر وہ ذلیل ہو جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5698
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. الصحيحة ١/١٤.