کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف میم سے شروع ہونے والی احادیث
«المؤمن من أمنه الناس على أموالهم وأنفسهم والمهاجر من هجر الخطايا والذنوب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے مال و جان کے بارے میں محفوظ رہیں، اور مہاجر وہ ہے جو گناہوں اور خطاؤں کو چھوڑ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6658
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن فضالة بن عبيد. الصحيحة ٥٤٩: حم، حب، ك.
«المؤمن من أهل الإيمان بمنزلة الرأس من الجسد يألم المؤمن لأهل الإيمان كما يألم الجسد لما في الرأس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن اہلِ ایمان میں سر کی طرح ہے، مومن اہلِ ایمان کے لیے ایسے ہی تکلیف محسوس کرتا ہے جیسے جسم سر کی تکلیف محسوس کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6659
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن سهل بن سعد. الصحيحة ١١٣٧.
«المؤمن يأكل في معى واحد والكافر يأكل في سبعة أمعاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن ایک آنت کی گنجائش سے کھاتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں کی گنجائش سے کھاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6660
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن ابن عمر ... [حم م] عن جابر: [حم ق] عن أبي هريرة ... [م هـ] عن أبي موسى. مختصر مسلم ١٣١٢.
«المؤمن يألف ولا خير فيمن لا يألف ولا يؤلف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن گھلنے ملنے والا ہوتا ہے، اور اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ کسی سے گھلے ملے اور نہ کوئی اس سے گھلے ملے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6661
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن سهل بن سعد. الصحيحة ٤٢٦.
"المؤمن يألف ويؤلف ولا خير فيمن لا يألف ولا يؤلف، وخير الناس أنفعهم للناس"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن گھلتا ملتا ہے اور لوگ بھی اس سے گھلتے ملتے ہیں، اور اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ کسی سے گھلے ملے اور نہ کوئی اس سے گھلے ملے، اور سب سے بہتر انسان وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6662
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [قط في الأفراد الضياء] عن جابر. الصحيحة ٤٢٦: طب، هب.
«المؤمن يشرب في معى واحد والكافر يشرب في سبعة أمعاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن ایک آنت کی گنجائش سے پیتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں کی گنجائش سے پیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6663
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٣١٣.
«المؤمن يغار والله أشد غيرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن غیرت کھاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ غیرت مند ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6664
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. م ٨/١٠١: حم ٢/٢٣٥و ٣٠١و ٤٣٨٢.
«المؤمن يموت بعرق الجبين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن پیشانی کے پسینے کے ساتھ مرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6665
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن هـ ك] عن بريدة. المشكاة ١٦١٠، أحكام الجنائز ص ٣٥.
«المؤمنون تكافأ دماؤهم وهم يد على من سواهم ويسعى بذمتهم أدناهم ألا لا يقتل مؤمن بكافر ولا ذوعهد في عهده من أحدث حدثا فعلى نفسه ومن أحدث حدثا أو أوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومنوں کا خون برابر ہے، وہ باہمی طور پر دوسروں کے خلاف ایک ہاتھ ہیں، اور ان میں سے ادنیٰ درجے کا فرد بھی ان کی طرف سے پناہ دے سکتا ہے، خبردار! کسی کافر کے بدلے مومن کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ کسی معاہد کو اس کے عہد کی مدت میں، جس نے کوئی جرم کیا وہ اسی پر ہے، اور جس نے کوئی جرم کیا یا کسی مجرم کو پناہ دی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6666
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن ك] عن علي. الإرواء ٢٢٠٩.
«المؤمنون كرجل واحد إن اشتكى رأسه تداعى له سائر الجسد بالحمى والسهر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن ایک جسم کی مانند ہیں، اگر اس جسم کے سر میں درد ہو تو باقی سارا جسم بخار اور بےخوابی کے ساتھ اس کا ساتھ دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6667
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن النعمان بن بشير. الصحيحة ١١٣٨.
«المؤمنون كرجل واحد إن اشتكى رأسه اشتكى كله وإن اشتكى عينه اشتكى كله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن ایک جسم کی مانند ہیں، اگر اس کے سر میں درد ہو تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے، اور اگر اس کی آنکھ میں درد ہو تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6668
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن النعمان بن بشير. المصدر نفسه.
«المؤمنون هينون لينون كالجمل الأنف إن قيد انقاد وإذا أنيخ على صخرة استناخ»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن نرم اور ملائم طبیعت والے ہوتے ہیں جیسے نکیل والا اونٹ، اگر اسے کھینچا جائے تو وہ چل پڑتا ہے، اور اگر اسے پتھر پر بھی بٹھایا جائے تو بیٹھ جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6669
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن المبارك] عن مكحول مرسلا [هب] عن ابن عمر. الصحيحة ٩٣٦.
«الماهر بالقرآن مع السفرة الكرام البررة والذي يقرؤه ويتعتع فيه وهو عليه شاق له أجران»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن میں ماہر شخص معزز اور نیک لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو اسے اٹک اٹک کر پڑھے اور اس کے لیے مشکل ہو اسے دوہرا اجر ملے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6670
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د هـ] عن عائشة.
«المتباريان لا يجابان ولا يؤكل طعامهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فخر و مقابلے کی نیت سے دعوت کرنے والے دو لوگوں کی دعوت قبول نہ کی جائے اور نہ ان کا کھانا کھایا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6671
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن أبي هريرة. الصحيحة ٦٢٦.
«المتبايعان بالخيار ما لم يتفرقا إلا أن تكون صفقة خيار ولا يحل له أن يفارق صاحبه خشية أن يستقيله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار حاصل ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ سودا شرطِ اختیار پر ہو، اور کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے ساتھی سے اس ڈر سے جدا ہو جائے کہ کہیں وہ سودا فسخ کرنے کا نہ کہہ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6672
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن] عن ابن عمرو. أحاديث البيوع.
«المتبايعان بالخيار ما لم يتفرقا إلا أن يكون البيع كان عن خيار فإن كان البيع عن خيار فقد وجب البيع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار حاصل ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ سودا شرطِ اختیار پر ہو، اور اگر سودا شرطِ اختیار پر ہو تو سودا اس شرط کی تکمیل پر لازم ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6673
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن عمر. المصدر السابق، الإرواء ١٣١٠/١.
«المتبايعان كل واحد منهما بالخيار على صاحبه ما لم يتفرقا إلا بيع الخيار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیچنے اور خریدنے والوں میں سے ہر ایک کو دوسرے پر اس وقت تک اختیار حاصل ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، سوائے شرطِ اختیار والے سودے کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6674
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ن] عن ابن عمر. أحاديث البيوع.
«المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنے پاس نہ ہونے والی چیز کا جھوٹا دعویٰ کرے وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6675
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د] عن أسماء بنت أبي بكر [م] عن عائشة. مختصر مسلم ١٣٨٧، الروض النضير ٨٢٠.
«المتمسك بسنتي عند اختلاف أمتي كالقابض على الجمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے اختلاف کے وقت میری سنت پر مضبوطی سے قائم رہنے والا انگارہ ہاتھ میں پکڑنے والے کی مانند ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6676
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [الحكيم] عن ابن مسعود. الصحيحة ٩٥٧: الكلاباذي.
«المتوفى عنها زوجها لا تلبس المعصفر من الثياب ولا الممشقة ولا الحلي ولا تختضب ولا تكتحل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے وہ عصفر (زرد رنگ) کے کپڑے نہ پہنے، نہ گیرو رنگے کپڑے، نہ زیور، نہ مہندی لگائے اور نہ سرمہ لگائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6677
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن أم سلمة. الإرواء ٢١٢٩.
«المجالس بالأمانة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجلسیں امانت ہیں (ان کی باتیں راز ہیں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6678
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث الأحاديث الضعيفة ١٩٠٩، ٣٢٢٤: حم، د - جابر. الديلمي - ابن مسعود. ابن المبارك - أبي بكر بن حزم مرسلا.
«المجاهد من جاهد نفسه في الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجاہد وہ ہے جو اللہ کی خاطر اپنے نفس سے جہاد کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6679
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت حب] عن فضالة بن عبيد. الترغيب ٢/١٥٠، الصحيحة ٥٤٩: حم.
«المحرمة لا تنتقب ولا تلبس القفازين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”احرام والی عورت نہ نقاب پہنے اور نہ دستانے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6680
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ابن عمر. خ: المناسك.
«المختلعات هن المنافقات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاوجہ خلع لینے والی عورتیں منافق ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6681
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن ثوبان. الصحيحة ٦٣٢.
«المدعى عليه أولى باليمين إلا أن تقوم عليه البينة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مدعا علیہ قسم کھانے کا زیادہ حق دار ہے، سوائے اس کے کہ اس کے خلاف گواہی ثابت ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6682
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن ابن عمرو. الإرواء ٢٦٤١.
«المدينة حرام ما بين عير إلى ثور فمن أحدث فيها حدثا أو أوى فيها محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا وذمة المسلمين واحدة يسعى بها أدناهم فمن أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا ومن ادعى إلى غير أبيه أو انتمى إلى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مدینہ حرم ہے، عیر سے ثور تک، جس نے اس میں کوئی نئی بات پیدا کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض، اور مسلمانوں کی پناہ ایک ہے جسے ان کا ادنیٰ فرد بھی دے سکتا ہے، پس جس نے کسی مسلمان کی پناہ توڑی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض، اور جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنا نسب جوڑا یا اپنے موالی کے سوا کسی اور سے اپنی نسبت جوڑی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت] عن علي [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٧٧٧، نقد الكتاني ٤٢، الإرواء ١٠٥٨: الطيالسي، أبو نعيم، هق.
«المدينة حرام ما بين عير إلى ثور لا يختلى خلاها ولا ينفر صيدها ولا تلتقط لقطتها إلا لمن أشاد بها ولا يصلح لرجل أن يحمل فيها سلاحا لقتال ولا يصلح أن يقطع منها شجرة إلا أن يعلف رجل بعيره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مدینہ حرم ہے، عیر سے ثور تک، اس کی گھاس نہ کاٹی جائے، اس کے شکار کو نہ چھیڑا جائے، اس میں گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے سوائے اس کے جو اس کا اعلان کرے، کسی آدمی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ لڑائی کے لیے اس میں ہتھیار اٹھائے، اور نہ یہ مناسب ہے کہ اس کا کوئی درخت کاٹا جائے سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو کھلانے کے لیے کاٹے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6684
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن علي. الإرواء ١٠٥٨: حم.
«المدينة حرام من كذا إلى كذا لا يقطع شجرها ولا يحدث فيها حدث من أحدث فيها حدثا أو أوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مدینہ فلاں سے فلاں جگہ تک حرم ہے، اس کا درخت نہ کاٹا جائے اور نہ اس میں کوئی نئی بات پیدا کی جائے، جس نے اس میں کوئی نئی بات پیدا کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6685
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أنس.
«المدينة حرم آمن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مدینہ ایک محفوظ حرم ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6686
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [أبوعوانة] عن سهل بن حنيف. حم ٣/٤٨٦، م ٤/١١٨.
«المراء في القرآن كفر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن کے بارے میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6687
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن أبي هريرة. المشكاة ٣٣٦، الروض النضير ١١٢٤و ١١٢٥.
«المرء في صلاة ما انتظرها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انسان اس وقت تک نماز ہی کی حالت میں شمار ہوتا ہے جب تک وہ اس کا انتظار کرتا رہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6688
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عبد بن حميد] عن جابر. الصحيحة ٢٣٦٨: حم.
«المرء مع من أحب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6689
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٣] عن أنس [ق] عن ابن مسعود. الروض النضير ١٠٤ - ١٠٦و ٣٦٠و ٣٦١و ٣٧٠و ١٠٢٨ تخريج فقه السيرة ٢١٤.
«المرأة عورة فإذا خرجت استشرفها الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورت پردے کی چیز ہے، جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اسے تاک لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6690
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن ابن مسعود. المشكاة ٣١٠٩، الإرواء ٢٧٣.
«المرأة لآخر أزواجها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورت آخرت میں اپنے آخری شوہر کے ساتھ ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6691
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي الدرداء [خط] عن عائشة. الصحيحة ١٢٨١، الترغيب ١/١٣٦: ابن خزيمة، ابن حبان.
«المزدلفة كلها موقف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مزدلفہ کی پوری جگہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6692
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث حجة النبي صلى الله عليه وسلم: ص ٧٦؛ حم، د، الدارمي، هـ، ابن الجارود، ك.
«المزر كله حرام.... ... »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مزر (جو کی شراب) ہر قسم کی حرام ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6693
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الضعيفة ٤٦٧٥.
«المسألة أن ترفع يديك حذو منكبيك والاستغفار أن تشير بأصبع واحدة والابتهال تمد يديك جميعا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دعا میں سوال کرنا یہ ہے کہ تم اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر اٹھاؤ، استغفار یہ ہے کہ ایک انگلی سے اشارہ کرو، اور ابتہال (گڑگڑا کر دعا کرنا) یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ پوری طرح پھیلا دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6694
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ابن عباس. صحيح أبي داود ١٣٣٨ - ١٣٤٠: الضياء.
«المسائل كدوح يكدح بها الرجل وجهه فمن شاء أبقى على وجهه ومن شاء ترك إلا أن يسأل الرجل ذا سلطان أو في أمر لا يجد منه بدا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں سے سوال کرنا وہ خراشیں ہیں جو آدمی اپنے چہرے پر ڈالتا ہے، اب جو چاہے اپنے چہرے کو محفوظ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے، سوائے اس کے کہ آدمی کسی حاکم سے سوال کرے یا ایسے معاملے میں سوال کرے جس سے اسے چارہ نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6695
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د حب] عن سمرة. صحيح الترغيب ٧٨٧.
«المستبان شيطانان يتهاتران ويتكاذبان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک دوسرے کو گالیاں دینے والے دونوں شیطان ہیں جو ایک دوسرے پر بےہودہ باتیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6696
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد] عن عياض بن حمار. إيمان أبي عبيد ١١١.
«المستبان ما قالا فعلى البادئ منهما حتى يعتدي المظلوم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک دوسرے کو گالیاں دینے والوں نے جو کچھ کہا اس کا گناہ شروع کرنے والے پر ہے، الا یہ کہ مظلوم حد سے تجاوز کر جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6697
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ت] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٨١٢.