حدیث نمبر: 6683
«المدينة حرام ما بين عير إلى ثور فمن أحدث فيها حدثا أو أوى فيها محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا وذمة المسلمين واحدة يسعى بها أدناهم فمن أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا ومن ادعى إلى غير أبيه أو انتمى إلى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مدینہ حرم ہے، عیر سے ثور تک، جس نے اس میں کوئی نئی بات پیدا کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض، اور مسلمانوں کی پناہ ایک ہے جسے ان کا ادنیٰ فرد بھی دے سکتا ہے، پس جس نے کسی مسلمان کی پناہ توڑی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض، اور جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنا نسب جوڑا یا اپنے موالی کے سوا کسی اور سے اپنی نسبت جوڑی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت] عن علي [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٧٧٧، نقد الكتاني ٤٢، الإرواء ١٠٥٨: الطيالسي، أبو نعيم، هق.