کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف صاد سے شروع ہونے والی احادیث
«صلوا في نعالكم ولا تشبهوا باليهود»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے جوتوں سمیت نماز پڑھو اور یہود کی مشابہت اختیار نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3790
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن شداد بن أوس. صفة الصلاة ٦١
«صلوا قبل المغرب ركعتين صلوا قبل المغرب ركعتين لمن شاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو، مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو، جو چاہے (پڑھ لے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3791
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الصحيحة ٢٣٣, المشكاة ١١٦٥, صحيح أبي داود ١١٦١: خ
«صلي في الحجر إن أردت دخول البيت فإنما هوقطعة من البيت ولكن قومك استقصروه حين بنوا الكعبة فأخرجوه من البيت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہتی ہو تو حِجر (اسماعیل) میں نماز پڑھ لو، کیونکہ وہ بیت اللہ ہی کا ایک حصہ ہے، لیکن تمہاری قوم نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسے مختصر کر دیا اور اسے بیت اللہ سے نکال دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3792
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن عائشة. الصحيحة ٤٣.
«صم أفضل الصيام صيام داود صوم يوم وفطر يوم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے افضل روزے رکھو، اور وہ داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں: ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3793
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن عمرو. صحيح الترغيب ١٠٤٢: م
«صم شهر الصبر رمضان صم شهر الصبر وثلاثة أيام من كل شهر..... ... »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صبر کے مہینے رمضان کا روزہ رکھو، صبر کے مہینے کا روزہ رکھو اور ہر مہینے کے تین دن (کا روزہ رکھو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3794
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د هـ] عن الباهلي. صحيح الترغيب ٢/٨٢
«صنائع المعروف تقي مصارع السوء والآفات والهلكات وأهل المعروف في الدنيا هم أهل المعروف في الآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نیکی کے کام بری موتوں، آفتوں اور ہلاکتوں سے بچاتے ہیں، اور دنیا میں نیکی کرنے والے ہی آخرت میں بھی نیکی والے (شمار) ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3795
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أنس. الصحيحة ١٩٠٨
«صنائع المعروف تقي مصارع السوء والصدقة خفيا تطفئ غضب الرب وصلة الرحم زيادة في العمر وكل معروف صدقة وأهل المعروف في الدنيا هم أهل المعروف في الآخرة وأهل المنكر في الدنيا هم أهل المنكر في الآخرة,........ ... »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نیکی کے کام بری موتوں سے بچاتے ہیں، پوشیدہ صدقہ رب کے غضب کو بجھا دیتا ہے، صلہ رحمی عمر میں اضافہ کرتی ہے، اور ہر نیکی صدقہ ہے، دنیا میں نیکی کرنے والے ہی آخرت میں بھی نیکی والے ہوں گے، اور دنیا میں برائی کرنے والے ہی آخرت میں بھی برائی والے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3796
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن أم سلمة. صحيح الترغيب ٨٨١
«صنائع المعروف تقي مصارع السوء وصدقة السر تطفئ غضب الرب وصلة الرحم تزيد في العمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نیکی کے کام بری موتوں سے بچاتے ہیں، پوشیدہ صدقہ رب کے غضب کو بجھا دیتا ہے، اور صلہ رحمی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3797
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. صحيح الترغيب ٨٨٠
«صنفان من أمتي لن تنالهما شفاعتي: إمام ظلوم غشوم وكل غال مارق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کی دو قسموں کے لوگوں کو میری شفاعت کبھی نہیں پہنچے گی: ظالم و جابر حکمران، اور ہر وہ غالی جو دین سے نکل گیا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3798
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. الصحيحة ٤٧١, السنة ٣٥.
«صنفان من أهل النار لم أرهما بعد: قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات رءوسهن كأسنمة البخت المائلة لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جہنمیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جو میں نے ابھی تک نہیں دیکھیں: ایک وہ لوگ جن کے پاس گائے کی دموں جیسے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے، اور دوسری وہ عورتیں جو کپڑے پہن کر بھی ننگی ہوں گی، دوسروں کو مائل کرنے والی اور خود مائل ہونے والی، ان کے سر بختی اونٹوں کے جھکے ہوئے کوہانوں جیسے ہوں گے، یہ عورتیں نہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی دور سے محسوس کی جا سکتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3799
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث غاية المرام ٨٥, الصحيحة ١٣٢٦, مختصر مسلم ١٣٨٨
«صوت أبي طلحة في الجيش خير من ألف رجل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابو طلحہ کی آواز لشکر میں ہزار آدمیوں سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3800
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [سمويه] عن أنس. الصحيحة ١٩١٦: حم, ابن سعد, ك, حل, خط, ابن عساكر
«صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة: مزمار عند نعمة. ورنة عند مصيبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دو آوازیں دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں: خوشی کے موقع پر باجا (ساز) بجانا، اور مصیبت کے وقت چیخ و پکار (نوحہ) کرنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3801
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [البزار الضياء] عن أنس. الصحيحة ٤٢٨
«صوم ثلاثة أيام من كل شهر ورمضان إلى رمضان صوم الدهر وإفطاره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہر مہینے تین دن کا روزہ اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کا روزہ، یہ ہمیشہ کے روزے اور اس کے افطار کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3802
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي قتادة.
«صوم شهر الصبر وثلاثة أيام من كل شهر صوم الدهر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صبر کے مہینے کا روزہ اور ہر مہینے کے تین دن کا روزہ ہمیشہ کے روزوں کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3803
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هق] عن أبي هريرة. الإرواء ٩٤٦
«صوم شهر الصبر وثلاثة أيام من كل شهر يذهبن وحر الصدر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صبر کے مہینے کا روزہ اور ہر مہینے کے تین دن کا روزہ سینے کی جلن (کینہ) کو دور کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3804
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن علي وابن عباس [البغوي البأوردي طب] عن النمر بن تولب. صحيح الترغيب ١٠٢٢: حب
«صوم يوم عرفة كفارة السنة الماضية والسنة المستقبلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ سال کے (گناہوں کے) کفارہ کا سبب ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3805
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن أبي سعيد. م - أبي قتادة
«صوم يوم عرفة يكفر سنتين ماضية ومستقبلة وصوم عاشوراء يكفر سنة ماضية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ، دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے، اور عاشوراء کے دن کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3806
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الضعيفة ٢٨٦, الإرواء ٩٥٥, صحيح الترغيب ٢/٧٦
«صومكم يوم تصومون وأضحاكم يوم تضحون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے روزے کا دن وہی ہے جس دن تم (سب) روزہ رکھو، اور تمہاری قربانی کا دن وہی ہے جس دن تم (سب) قربانی کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3807
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن أبي هريرة. الإرواء ٩٠٥
«صوموا الشهر وسرره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مہینے کا روزہ رکھو اور اس کی آخری تاریکی والی راتوں کا بھی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3808
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن معاوية. صحيح أبي داود ١١٥
«صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن حال بينكم وبينه سحاب فأكملوا عدة شعبان ولا تستقبلوا الشهر استقبالا ولا تصلوا رمضان بيوم من شعبان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو، اور اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو شعبان کی گنتی پوری کر لو، اور مہینے (رمضان) کا استقبال پیشگی نہ کرو، اور شعبان کے کسی دن کو رمضان سے نہ ملاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3809
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن هق] عن ابن عباس. الصحيحة ١٩٧: أبو عبيد
«صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غم عليكم فأكملوا شعبان ثلاثين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو، اور اگر (چاند) تم پر مخفی ہو جائے تو شعبان کے تیس دن پورے کر لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3810
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الروض النضير ١٠٩٩
«صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته وانسكوا لها فإن غم عليكم فأتموا ثلاثين فإن شهد شاهدان مسلمان فصوموا وأفطروا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چاند دیکھ کر روزہ رکھو، چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو اور اسی کے مطابق قربانی کرو، اور اگر (چاند) تم پر مخفی ہو جائے تو تیس دن پورے کر لو، اور اگر دو مسلمان گواہی دے دیں تو (اسی کے مطابق) روزہ رکھو اور روزہ چھوڑو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3811
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن رجال من الصحابة. الإرواء ٩٠٢
«صوموا من وضح إلى وضح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک روشن (چاند/دن) سے دوسرے روشن (چاند/دن) تک روزہ رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3812
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن والد أبي المليح. الصحيحة ١٩١٨
«صومي عن أختك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی بہن کی طرف سے روزہ رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3813
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي] عن ابن عباس. الصحيحة ١٩٤٦: حم
«صلاة أحدكم في بيته أفضل من صلاته في مسجدي هذا إلا المكتوبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی کی اپنے گھر میں پڑھی گئی نماز میری اس مسجد میں پڑھی گئی نماز سے بہتر ہے، سوائے فرض نماز کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3814
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن زيد بن ثابت [ابن عساكر] عن ابن عمر. الروض النضير ٣١٨, صحيح أبي داود ٩٥٩: ابن نصر. [صحيح الترغيب ٤٤١ عن رجل - البيهقي] الطحاوي, تمام؛ عد, ابن عساكر.
«صلاة الأوابين حين ترمض الفصال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اَوّابین کی نماز (چاشت کی نماز) وہ ہے جب اونٹ کے بچے (دھوپ کی تپش سے) گرمی محسوس کرنے لگیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3815
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن زيد بن أرقم [عبد بن حميد وسمويه] عن عبد الله بن أبي أوفى. مختصر مسلم ٣٦٨, الروض النضير ٣١٢, الإرواء ٤٦٦, الصحيحة ١١٦٤: أبو عوانة,
«صلاة الجالس على النصف من صلاة القائم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیٹھ کر پڑھی گئی نماز، کھڑے ہو کر پڑھی گئی نماز کا آدھا (ثواب) رکھتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3816
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن عائشة. صفة الصلاة ٥٩: ابن ماجه
«صلاة الجماعة أفضل من صلاة أحدكم وحده خمسة وعشرين جزءا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”باجماعت نماز تم میں سے کسی کی اکیلے پڑھی گئی نماز سے پچیس گنا افضل ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3817
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ] عن أبي هريرة. خ ١/١٦٩, مختصر مسلم ٣٢٢
«صلاة الجماعة تعدل خمسا وعشرين من صلاة الفذ»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”باجماعت نماز اکیلے پڑھی گئی نماز کے پچیس گنا کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3818
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.
«صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بخمس وعشرين درجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”باجماعت نماز اکیلے پڑھی گئی نماز سے پچیس درجے زیادہ افضل ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3819
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ هـ] عن أبي سعيد. صحيح الترغيب ٣٩٩ - ٤٠٠
«صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”باجماعت نماز اکیلے پڑھی گئی نماز سے ستائیس درجے زیادہ افضل ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3820
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق ت ن هـ] عن ابن عمر. الروض النضير ٤٩٩
«صلاة الرجل تطوعا حيث لا يراه الناس تعدل صلاته على أعين الناس خمسا وعشرين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کی نفل نماز جہاں لوگ اسے نہ دیکھیں، لوگوں کی نظروں کے سامنے پڑھی گئی نماز کے پچیس گنا کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3821
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع] عن صهيب. الترغيب ١/١٥٩: الديلمي
«صلاة الرجل في جماعة تزيد على صلاة الرجل وحده....... خمسا وعشرين درجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کی باجماعت نماز اس کی اکیلے پڑھی گئی نماز پر پچیس درجے زیادہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3822
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي. صحيح أبي داود ٥٦٣
«صلاة الرجل في جماعة تزيد على صلاته في بيته وصلاته في سوقه خمسا وعشرين درجة وذلك أن أحدكم إذا توضأ فأحسن الوضوء ثم أتى المسجد لا يريد إلا الصلاة لم يخط خطوة إلا رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة حتى يدخل المسجد فإذا دخل المسجد كان في صلاة ما كانت الصلاة تحبسه وتصلي الملائكة عليه ما دام في مجلسه الذي يصلي فيه يقولون: اللهم اغفر له اللهم ارحمه اللهم تب عليه ما لم يؤذ فيه أو يحدث فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کی باجماعت نماز اس کے گھر میں پڑھی گئی نماز اور بازار میں پڑھی گئی نماز پر پچیس درجے زیادہ ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف صرف نماز کے ارادے سے آتا ہے، تو وہ جو بھی قدم اٹھاتا ہے اس کے بدلے اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر جب وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے وہ نماز ہی میں شمار ہوتا ہے، اور فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما، جب تک وہ وہاں کسی کو تکلیف نہ دے یا اپنا وضو نہ توڑ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3823
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مختصر مسلم ٣٢٣ب, صحيح أبي داود ٥٦٨.
"صلاة الرجل في جماعة تزيد على صلاته وحده خمسا وعشرين درجة فإذا صلاها بأرض فلاة فأتم وضوءها وركوعها وسجودها بلغت صلاته خمسين درجة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کی باجماعت نماز اس کی اکیلے پڑھی گئی نماز پر پچیس درجے زیادہ ہے، اور اگر وہ کسی ویران جگہ میں نماز پڑھے اور اس کے وضو، رکوع اور سجدے کو مکمل کرے تو اس کی نماز پچاس درجے تک پہنچ جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3824
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عبد بن حميد ع حب ك] عن أبي سعيد. صحيح أبي داود ٥٦٩, الترغيب ٢/١٥٢
«صلاة الرجل قائما أفضل من صلاته قاعدا وصلاته قاعدا على النصف من صلاته قائما وصلاته نائما على النصف من صلاته قاعدا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کی کھڑے ہو کر پڑھی گئی نماز اس کی بیٹھ کر پڑھی گئی نماز سے افضل ہے، اور اس کی بیٹھ کر پڑھی گئی نماز اس کی کھڑے ہو کر پڑھی گئی نماز کا آدھا (ثواب) رکھتی ہے، اور اس کی لیٹ کر پڑھی گئی نماز اس کی بیٹھ کر پڑھی گئی نماز کا آدھا (ثواب) رکھتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3825
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن عمران بن حصين. صفة الصلاة ٥٨ - ٥٩: خ
«صلاة الرجل قاعدا نصف الصلاة ولكني لست كأحد منكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کی بیٹھ کر پڑھی گئی نماز آدھی نماز (کے برابر) ہے، لیکن میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3826
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د ن] عن ابن عمرو.
«صلاة الضحى صلاة الأوابين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چاشت کی نماز اَوّابین کی نماز ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3827
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [فر] عن أبي هريرة. [صحيح الترغيب ٦٧٦ وزاد: الطبراني. وابن خزيمة في صحيحه ١٢٢٤, والصحيحة ١٩٩٤] صحيح أبي داود ١٢٨٦: حم.
«صلاة القاعد نصف صلاة القائم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیٹھ کر پڑھی گئی نماز کھڑے ہو کر پڑھی گئی نماز کا آدھا (ثواب) رکھتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3828
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن هـ] عن أنس [هـ] عن ابن عمرو [طب] عن ابن عمر وعبد الله بن السائب وعبد المطلب بن أبي وداعة. الروض النضير ٥٨٥ و٧٧٦
«صلاة الليل مثنى مثنى فإذا خشي أحدكم الصبح صلى ركعة واحدة توتر له ما قد صلى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پس جب تم میں سے کسی کو صبح ہونے کا خطرہ ہو تو وہ ایک رکعت پڑھ لے، یہ اس کی پہلے پڑھی گئی نمازوں کو وتر بنا دے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3829
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق ٤] عن ابن عمر. الروض النضير ٥١٩, صحيح أبي داود ١١٩٧, مختصر مسام ٣٨٣