حدیث نمبر: 3823
«صلاة الرجل في جماعة تزيد على صلاته في بيته وصلاته في سوقه خمسا وعشرين درجة وذلك أن أحدكم إذا توضأ فأحسن الوضوء ثم أتى المسجد لا يريد إلا الصلاة لم يخط خطوة إلا رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة حتى يدخل المسجد فإذا دخل المسجد كان في صلاة ما كانت الصلاة تحبسه وتصلي الملائكة عليه ما دام في مجلسه الذي يصلي فيه يقولون: اللهم اغفر له اللهم ارحمه اللهم تب عليه ما لم يؤذ فيه أو يحدث فيه»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کی باجماعت نماز اس کے گھر میں پڑھی گئی نماز اور بازار میں پڑھی گئی نماز پر پچیس درجے زیادہ ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف صرف نماز کے ارادے سے آتا ہے، تو وہ جو بھی قدم اٹھاتا ہے اس کے بدلے اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر جب وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے وہ نماز ہی میں شمار ہوتا ہے، اور فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما، جب تک وہ وہاں کسی کو تکلیف نہ دے یا اپنا وضو نہ توڑ دے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3823
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مختصر مسلم ٣٢٣ب, صحيح أبي داود ٥٦٨.