کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«أولياء الله تعالى: الذين إذا رءوا ذكر الله تعالى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ کے دوست وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ یاد آ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2557
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [الحكيم] عن ابن عباس. الصحيحة ١٧٣٢: المروزي، طب، أبو نعيم، الضياء. ابن المبارك سعيد بن جبير مرسلا.
«أوما علمت ما أصاب صاحب بني إسرائيل؟ كانوا إذا أصابهم شيء من البول قرضوه بالمقاريض فنهاهم صاحبهم فعذب في قبره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم نہیں جانتے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کو کیا مصیبت پہنچی؟ وہ ایسے لوگ تھے کہ جب ان پر پیشاب کے چھینٹے پڑ جاتے تو وہ اس حصے کو قینچیوں سے کاٹ ڈالتے تھے۔ پس ان کے ایک ساتھی نے انہیں اس عمل سے منع کیا، تو اسے (پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے) اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2558
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن عبد الرحمن بن حسنة. صحيح الترغيب ١٥٦: ابن ماجه، حب، ك، ابن أبي شيبة، الحميدي، ع.
«أوما علمت ما شارطت عليه ربي؟ قلت: اللهم إنما أنا بشر فأي المسلمين لعنته أو سببته فاجعله له زكاة وأجرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم نہیں جانتیں کہ میں نے اپنے رب سے کیا عہد کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا تھا: اے اللہ! بلاشبہ میں ایک انسان ہوں، پس میں جس بھی مسلمان پر لعنت کروں یا اسے برا بھلا کہوں، تو اس (الفاظ) کو اس کے لیے باعثِ پاکیزگی اور باعثِ اجر بنا دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2559
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عائشة. الصحيحة ٨٣، مختصر مسلم ١٨٢٥.
«أول الآيات طلوع الشمس من مغربها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(قیامت کی بڑی) نشانیوں میں سب سے پہلی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2560
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. مختصر مسلم ٢٠٥٣، م – عبد الله بن عمرو١.
«أول الناس هلاكا: قريش وأول قريش هلاكا: أهل بيتي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے پہلے قریش ہلاک ہوں گے، اور قریش میں سب سے پہلے میرے اہل بیت ہلاک ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2561
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عمرو بن العاص. الصحيحة ١٧٣٧: إبراهيم بن طهمان في [مشيخته] – عمرو، وعائشة. ابن عساكر - أبي ذر.
«أول جيش من أمتي يركبون البحر قد أوجبوا وأول جيش من أمتي يغزون مدينة قيصر مغفور لهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کا پہلا لشکر جو سمندر میں سوار ہو کر جہاد کرے گا، اس نے اپنے لیے جنت واجب کر لی، اور میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) میں غزوۂ کرے گا، اس کی مغفرت کر دی گئی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2562
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أم حرام بنت ملحان. الصحيحة ٢٦٨.
«أول خصمين يوم القيامة جاران»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن سب سے پہلے مقدمہ پیش کرنے والے دو پڑوسی ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2563
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن عقبة بن عامر. المشكاة ٥٠٠٠، حم، ابن أبي عاصم.
«أول زمرة تدخل الجنة على صورة القمر ليلة البدر والثانية على لون أحسن من كوكب دري في السماء لكل رجل منهم زوجتان على كل زوجة سبعون حلة يبدو مخ ساقها من ورائها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت میں داخل ہونے والا پہلا گروہ چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوگا، اور دوسرا گروہ آسمان میں چمکنے والے خوبصورت ترین ستارے کی طرح دمکتا ہوگا۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ہوں گی، اور ہر بیوی نے ستر لباس پہنے ہوں گے جن کے پار سے اس کی پنڈلی کا گودا نظر آتا ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2564
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن أبي سعيد. الصحيحة ١٧٣٦: شرح السنة ٤٣٧٤ للبغوي في [حديث ابن جعدة] . طب – ابن مسعود.
"أول زمرة تدخل الجنة على صورة القمر ليلة البدر والذين على أثرهم كأشد كوكب دري في السماء إضاءة قلوبهم على قلب رجل واحد لا اختلاف بينهم ولا تباغض ولا تحاسد لكل امرئ منهم زوجتان كل واحدة منهما يرى مخ سوقها من وراء
لحمها من الحسن يسبحون الله بكرة وعشيا لايسقمون ولا يمتخطون ولا يبصقون آنيتهم الذهب والفضة وأمشاطهم الذهب ووقود مجامرهم الألوة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت میں داخل ہونے والا پہلا گروہ چودھویں رات کے چاند کی صورت میں ہوگا، اور جو لوگ ان کے پیچھے آئیں گے وہ آسمان میں چمکنے والے سب سے روشن ستارے کی مانند ہوں گے۔ ان سب کے دل ایک آدمی کے دل کی طرح ہوں گے، ان کے درمیان کوئی اختلاف، بغض اور حسد نہیں ہوگا۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ہوں گی، ان کی خوبصورتی کا یہ عالم ہوگا کہ گوشت کے پار سے ان کی پنڈلیوں کا گودا نظر آ رہا ہوگا۔ وہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں گے۔ وہ نہ بیمار ہوں گے، نہ ناک سنکیں گے اور نہ تھوکیں گے۔ ان کے برتن سونے اور چاندی کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن (خوشبودار) عود ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2565
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٩٥٧.
«أول زمرة تلج الجنة صورتهم على صورة القمر ليلة البدر لا يبصقون فيها ولا يمتخطون ولا يتغوطون آنيتهم فيها الذهب وأمشاطهم من الذهب والفضة ومجامرهم الألوة ورشحهم المسك ولكل واحد منهم زوجتان يرى مخ سوقها من وراء اللحم من الحسن لا اختلاف بينهم ولا تباغض قلوبهم قلب واحد يسبحون الله بكرة وعشيا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کی صورتیں چودھویں رات کے چاند جیسی ہوں گی۔ وہ جنت میں نہ تھوکیں گے، نہ ناک سنکیں گے اور نہ انہیں رفع حاجت ہوگی۔ وہاں ان کے برتن سونے کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیوں کی خوشبو عود ہوگی اور ان کا پسینہ کستوری جیسا ہوگا۔ ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی جن کے حسن و جمال کے باعث گوشت کے پار سے ان کی پنڈلیوں کا گودا نظر آتا ہوگا۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف اور بغض نہیں ہوگا، ان سب کے دل ایک دل کی مانند ہوں گے اور وہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2566
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٩٥٧.
«أول شيء يأكله أهل الجنة زيادة كبد الحوت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنتی لوگ سب سے پہلی جو چیز کھائیں گے، وہ مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا (مزیدار) حصہ ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2567
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي] عن أنس. حم ٣/١٠٨، ١٨٩، ٢٧١، خ ٢/٣٣١.
«أول شيء يحشر الناس نار تحشرهم من المشرق إلى المغرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے پہلی چیز جو لوگوں کو (میدانِ حشر میں) اکٹھا کرے گی، وہ ایک آگ ہوگی جو انہیں مشرق سے مغرب کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2568
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي] عن أنس. حم ٣/١٠٨، ١٨٩، ٢١٧، خ ٢/٣٣١.
«أول شيء يرفع من هذه الأمة الخشوع حتى لا ترى فيها خاشعا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس امت سے جو چیز سب سے پہلے اٹھا لی جائے گی وہ (نماز کا) خشوع ہے، یہاں تک کہ تم اس میں خشوع و خضوع اختیار کرنے والا کوئی شخص نہیں دیکھو گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2569
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي الدرداء. صحيح الترغيب ٥٤٣.
«أول ما تفتقدون من دينكم الأمانة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم اپنے دین میں سے سب سے پہلے جس چیز سے محروم ہو جاؤ گے، وہ امانت داری ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2570
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن شداد بن أوس. الصحيحة ١٧٣٩: الخرائطي، تمام، الضياء – أنس.
«أول ما يحاسب الناس به يوم القيامة من أعمالهم الصلاة يقول ربنا عز وجل لملائكته وهو أعلم: انظروا في صلاة عبدي أتمها أم نقصها؟ فإن كانت تامة كتبت له تامة وإن كان انتقص منها شيئا قال: انظروا هل لعبدي من تطوع؟ فإن كان له تطوع قال: أتموا لعبدي فريضته ثم تؤخذ الأعمال على ذاكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن لوگوں کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا، ہمارا پروردگار عزوجل اپنے فرشتوں سے فرمائے گا، حالانکہ وہ خوب جانتا ہے: میرے بندے کی نماز کو دیکھو، کیا اس نے اسے پورا ادا کیا ہے یا اس میں کوئی کمی چھوڑی ہے؟ پس اگر وہ پوری ہوگی تو اس کے لیے پوری لکھی جائے گی، اور اگر اس نے اس میں کچھ کمی کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو، کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفلی نماز ہے؟ پس اگر اس کی کوئی نفلی نماز ہوگی تو فرمائے گا: میرے بندے کے فرض کو (اس کے نوافل سے) پورا کر دو، پھر باقی اعمال کا حساب بھی اسی انداز سے لیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2571
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن ك] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٨١٠: هق.
«أول ما يحاسب به العبد الصلاة وأول ما يقضى بين الناس في الدماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بندے سے (اس کے اعمال میں) سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا، اور لوگوں کے حقوق کے درمیان سب سے پہلے خون (یعنی ناحق قتل و غارت) کے مقدمات کا فیصلہ کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2572
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن مسعود. صحيح أبي داود ٨١١، الصحيحة ١٧٤٨.
«أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة الصلاة فإن صلحت صلح له سائر عمله وإن فسدت فسد سائر عمله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا، پس اگر وہ درست نکلی تو اس کے باقی تمام اعمال بھی درست ہو جائیں گے، اور اگر وہ خراب نکلی تو اس کے باقی تمام اعمال بھی خراب ہو جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2573
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس الضياء] عن أنس. الصحيحة ١٣٥٨.
«أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة صلاته فإن كان أتمها كتبت له تامة وإن لم يكن أتمها قال الله لملائكته: انظروا هل تجدون لعبدي من تطوع فتكملون بها فريضته؟ ثم الزكاة كذلك ثم تؤخذ الأعمال على حسب ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا، پس اگر اس نے اسے پورا ادا کیا ہوگا تو اس کے لیے پوری لکھی جائے گی، اور اگر اس نے اسے پورا ادا نہیں کیا ہوگا تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرمائے گا: دیکھو، کیا تم میرے بندے کے اعمال میں کوئی نفل پاتے ہو تاکہ تم اس سے اس کے فریضے کو مکمل کر دو؟ پھر زکوٰۃ کا معاملہ بھی اسی طرح ہوگا، اور پھر باقی اعمال کا حساب بھی اسی اصول کے مطابق لیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2574
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ ك] عن تميم الداري. صحيح أبي داود ٨١٢، إيمان ابن أبي شيبة ١١٢.
«أول ما يرفع من الناس الأمانة وآخر ما يبقى من دينهم الصلاة ورب مصل لا خلاق له عند الله تعالى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں سے سب سے پہلے امانت اٹھا لی جائے گی اور ان کے دین میں سے سب سے آخر میں جو چیز باقی رہے گی وہ نماز ہے، اور بہت سے نمازی ایسے ہوں گے جن کا اللہ تعالیٰ کے ہاں (نیکیوں کا) کوئی حصہ اور نصیب نہیں ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2575
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [الحكيم] عن زيد بن ثابت. الروض النضير ٧٢٧.
«أول ما يرفع من الناس الخشوع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں سے (ان کی عبادت میں سے) جو چیز سب سے پہلے اٹھا لی جائے گی وہ خشوع ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2576
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن شداد بن أوس. صحيح الترغيب ٥٤٤: عد، أبو نعيم. طب أيضا –أبي الدرداء.
«أول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون (ناحق قتل) کے مقدمات کا فیصلہ کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2577
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن ابن مسعود١. الصحيحة ١٧٤٨: ابن أبي عاصم، مختصر مسلم ١٠٢٢.
«أول ما يهراق من دم الشهيد يغفر له ذنبه كله إلا الدين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شہید کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، سوائے قرض کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2578
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب ك] عن سهل بن حنيف. الصحيحة ١٧٤٢: هق.
«أول مسجد وضع في الأرض المسجد الحرام ثم المسجد الأقصى وبينهما أربعون سنة ثم أينما أدركتك الصلاة بعد فصل فإن الفضل فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”روئے زمین پر سب سے پہلے مسجد حرام بنائی گئی، پھر مسجد اقصیٰ تعمیر کی گئی، اور ان دونوں (کی تعمیر) کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہے۔ پھر اس کے بعد تمہیں جہاں بھی نماز کا وقت مل جائے وہیں نماز پڑھ لو، کیونکہ فضیلت اسی میں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2579
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن أبي ذر. فقه السيرة ٨٢.
«أول من غير دين إبراهيم عمرو بن لحي بن قمعة بن خندف أبو خزاعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے پہلا شخص جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین تبدیل کیا، وہ عمرو بن لُحَیّ بن قَمَعَہ بن خِندِف ابو خُزاعہ تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2580
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الصحيحة ١٦٧٧: ابن أبي عاصم. ابن إسحاق، ك – أبي هريرة.
«أول من فتق لسانه بالعربية المبينة إسماعيل وهو ابن أربع عشرة سنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے پہلے جس شخص کی زبان سے فصیح و مبین عربی جاری ہوئی، وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تھے اور اس وقت ان کی عمر چودہ سال تھی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2581
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الشيرازي في الألقاب] عن علي. فيض القدير: الزبير بن بكار – علي. طب، الديلمي – ابن عباس.
«أول من يبدل سنتي رجل من بني أمية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری سنت کو سب سے پہلے تبدیل کرنے والا بنو امیہ کا ایک شخص ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2582
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ع] عن أبي ذر. الصحيحة ١٧٤٩: ابن أبي عاصم.
"أول من يدعى يوم القيامة: آدم فتتراءى له ذريته فيقال: هذا أبوكم آدم فيقول: لبيك وسعديك فيقول: أخرج بعث جهنم من ذريتك: فيقول: يا رب كم أخرج؟ فيقول: أخرج من كل مائة تسعة وتسعين قالوا: يا رسول الله إذا أخذ منا من كل مائة تسعة
وتسعون فماذا يبقي منا؟ قال: إن أمتي في الأمم كالشعرة البيضاء في الثور الأسود"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پکارا جائے گا، تو ان کی اولاد کو ان کے سامنے پیش کیا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ تمہارے باپ آدم ہیں۔ وہ عرض کریں گے: میں حاضر ہوں اور تیری فرماں برداری کے لیے تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اپنی اولاد میں سے جہنمیوں کی کھیپ الگ کرو۔ وہ عرض کریں گے: اے میرے رب! میں کتنے لوگوں کو نکالوں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر سو میں سے ننانوے کو نکالو۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے ہر سو میں سے ننانوے نکال لیے جائیں گے تو ہم میں سے کیا باقی بچے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ تمام امتوں کے درمیان میری امت کی مثال ایسے ہے جیسے کالے بیل کے جسم پر ایک سفید بال ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2583
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. خ ٤/٢٣٧.
«أول من يكسى من الخلائق إبراهيم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمام مخلوقات میں سب سے پہلے جنہیں (میدانِ حشر میں) لباس پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2584
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن عائشة. الصحيحة ١١٢٩: ابن عساكر.
«أول نبي أرسل نوح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے پہلے نبی جو (بطور رسول) بھیجے گئے وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2585
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن أنس. الصحيحة ١٢٨٩: الديلمي.
«أولاد المشركين خدم أهل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مشرکین کی (نابالغ فوت ہونے والی) اولاد اہل جنت کے خادم ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2586
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن سمرة وعن أنس٢. الصحيحة ١٤٦٨.
«أولياء الله تعالى الذين إذا رءوا ذكر الله تعالى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ کے دوست وہ ہیں جنہیں دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ یاد آ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2587
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الحكيم] عن ابن عباس. الصحيحة ١٦٤٦: ابن صاعد، أبو نعيم، الديلمي.
«أوليس قد جعل الله لكم ما تصدقون به؟ إن بكل تسبيحة صدقة وبكل تكبيرة صدقة وبكل تحميدة صدقة وبكل تهليلة صدقة وأمر بالمعروف صدقة ونهى عن المنكر صدقة وفي بضع أحدكم صدقة قالوا: يا رسول الله أيأتي أحدنا شهوته ويكون له فيها أجر؟ قال: أرأيتم لو وضعها في الحرام أليس كان يكون عليه وزر؟ فكذلك إذا وضعها في الحلال يكون له أجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایسی چیزیں نہیں بنائیں جنہیں تم صدقہ کر سکو؟ بلاشبہ ہر مرتبہ «سُبْحَانَ اللَّهِ» کہنا صدقہ ہے، ہر بار «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہنا صدقہ ہے، ہر مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہنا صدقہ ہے، ہر بار «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے، اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی سے جسمانی تعلق قائم کرنا بھی صدقہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرتا ہے تو کیا اس میں بھی اسے اجر ملتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ذرا مجھے بتاؤ، اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو کیا اس پر گناہ نہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال طریقے سے استعمال کرتا ہے تو اس کے لیے اجر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2588
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي ذر. مختصر مسلم ٥٤٥.
«ألا أحدثكم بأشقى الناس رجلين؟ أحيمر ثمود الذي عقر الناقة والذي يضربك يا علي على هذه حتى يبل منها هذه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں لوگوں میں سے دو سب سے زیادہ بدبخت آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ایک قوم ثمود کا سرخ رنگت والا شخص جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں، اور دوسرا وہ شخص جو اے علی! تمہارے اس (سر) پر ضرب لگائے گا یہاں تک کہ اس (خون) سے یہ (داڑھی) تر ہو جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2589
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب ك] عن عمار بن ياسر. الصحيحة ١٧٤٣: حم، ن، في [الخصائص] ، الطحاوي.
«ألا أحدثكم بأمر إن أخذتم به أدركتم من قبلكم ولم يدرككم من بعدكم وكنتم خير من أنتم بين ظهرانيه إلا من عمل مثله؟ تسبحون وتحمدون وتكبرون خلف كل صلاة ثلاثا وثلاثين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے اپنا لو تو ان لوگوں کو پا لو گے جو تم سے آگے بڑھ چکے ہیں، اور تمہارے بعد آنے والا کوئی شخص تم تک نہیں پہنچ سکے گا، اور تم ان لوگوں میں سب سے بہتر ہو جاؤ گے جن کے درمیان تم رہتے ہو، سوائے اس شخص کے جو بالکل اسی جیسا عمل کرے؟ وہ عمل یہ ہے کہ تم ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سُبْحَانَ اللَّهِ»، تینتیس بار «الْحَمْدُ لِلَّهِ» اور تینتیس بار «اللَّهُ أَكْبَرُ» پڑھا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2590
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٣١٤ نحوه.
«ألا أحدثكم حديثا عن الدجال ما حدث به نبي قبلي قومه؟ إنه أعور يجيء معه تمثال الجنة والنار فالتي يقول إنها الجنة هي النار وإني أنذركم به كما أنذر به نوح قومه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں دجال کے بارے میں ایسی بات نہ بتاؤں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی؟ یقیناً وہ کانا ہوگا اور اس کے ساتھ جنت اور دوزخ کی شبیہ (مثال) لائی جائے گی، پس جسے وہ جنت کہے گا وہ درحقیقت آگ ہوگی، اور میں تمہیں اس سے اسی طرح ڈراتا ہوں جس طرح نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2591
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة. خ ٢/٣٣٤، م ٨/١٩٦.
«ألا أخبرك بأخير سورة في القرآن {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں قرآن مجید کی سب سے بہترین سورت کی خبر نہ دوں؟ وہ ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ ہے۔“ [سورة الفاتحة: 2]
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2592
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن عبد الله بن جابر البياضي. خ: تفسير –أبي سعيد بن المعلمي.
«ألا أخبرك بأفضل ما تعوذ به المتعوذون: {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} و {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ان بہترین کلمات کے بارے میں نہ بتاؤں جن کے ذریعے پناہ مانگنے والے پناہ مانگتے ہیں؟ وہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2593
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عقبة بن عامر. الترغيب ٢/٢٢٦: د.
«ألا أخبرك بأهل النار؟ كل جعظري جواظ مستكبر جماع منوع ألا أخبرك بأهل الجنة؟ كل مسكين لو أقسم على الله تعالى لأبره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر درشت مزاج، پیٹو، تکبر کرنے والا، اور مال جمع کر کے اسے خرچ کرنے سے روکنے والا۔ کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ مسکین و عاجز شخص کہ اگر وہ (کسی بات پر) اللہ کی قسم کھا لے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور پورا فرما دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2594
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي الدرداء. تخريج مشكلة الفقر ١٢٥: ق –حارثة بن وهب١ الصحيحة ١٧٤١: حم، ك - ابن عمرو. ك – سراقة٢.
«ألا أخبركم بأفضل من درجة الصيام والصلاة والصدقة؟ إصلاح ذات البين فإن فساد ذات البين هي الحالقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جس کا درجہ (نفلی) روزے، نماز اور صدقے سے بھی افضل ہے؟ وہ آپس کے تعلقات کو درست کرنا (صلح کروانا) ہے، کیونکہ آپس کے تعلقات کا بگاڑ (دین کو) مونڈ دینے والی چیز ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2595
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت] عن أبي الدرداء. المشكاة ٥٠٣٨، غاية المرام ٤١٤: حب.
«ألا أخبركم بالتيس المستعار؟ هو المحل فلعن الله المحل والمحلل له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ادھار مانگے ہوئے سانڈ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ حلالہ کرنے والا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2596
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ ك] عن عقبة بن عامر. الإرواء ١٨٩٧.