حدیث نمبر: 2588
«أوليس قد جعل الله لكم ما تصدقون به؟ إن بكل تسبيحة صدقة وبكل تكبيرة صدقة وبكل تحميدة صدقة وبكل تهليلة صدقة وأمر بالمعروف صدقة ونهى عن المنكر صدقة وفي بضع أحدكم صدقة قالوا: يا رسول الله أيأتي أحدنا شهوته ويكون له فيها أجر؟ قال: أرأيتم لو وضعها في الحرام أليس كان يكون عليه وزر؟ فكذلك إذا وضعها في الحلال يكون له أجر»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایسی چیزیں نہیں بنائیں جنہیں تم صدقہ کر سکو؟ بلاشبہ ہر مرتبہ «سُبْحَانَ اللَّهِ» کہنا صدقہ ہے، ہر بار «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہنا صدقہ ہے، ہر مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہنا صدقہ ہے، ہر بار «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے، اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی سے جسمانی تعلق قائم کرنا بھی صدقہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرتا ہے تو کیا اس میں بھی اسے اجر ملتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ذرا مجھے بتاؤ، اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو کیا اس پر گناہ نہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال طریقے سے استعمال کرتا ہے تو اس کے لیے اجر ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2588
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي ذر. مختصر مسلم ٥٤٥.