حدیث نمبر: 2571
«أول ما يحاسب الناس به يوم القيامة من أعمالهم الصلاة يقول ربنا عز وجل لملائكته وهو أعلم: انظروا في صلاة عبدي أتمها أم نقصها؟ فإن كانت تامة كتبت له تامة وإن كان انتقص منها شيئا قال: انظروا هل لعبدي من تطوع؟ فإن كان له تطوع قال: أتموا لعبدي فريضته ثم تؤخذ الأعمال على ذاكم»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن لوگوں کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا، ہمارا پروردگار عزوجل اپنے فرشتوں سے فرمائے گا، حالانکہ وہ خوب جانتا ہے: میرے بندے کی نماز کو دیکھو، کیا اس نے اسے پورا ادا کیا ہے یا اس میں کوئی کمی چھوڑی ہے؟ پس اگر وہ پوری ہوگی تو اس کے لیے پوری لکھی جائے گی، اور اگر اس نے اس میں کچھ کمی کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو، کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفلی نماز ہے؟ پس اگر اس کی کوئی نفلی نماز ہوگی تو فرمائے گا: میرے بندے کے فرض کو (اس کے نوافل سے) پورا کر دو، پھر باقی اعمال کا حساب بھی اسی انداز سے لیا جائے گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2571
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن ك] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٨١٠: هق.