کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إن الله تعالى يمهل حتى إذا كان ثلث الليل الآخر نزل إلى سماء الدنيا فنادى: هل من مستغفر؟ هل من تائب؟ هل من سائل؟ هل من داع؟ حتى ينفجر الفجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو وہ آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور ندا دیتا ہے: کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے؟ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے؟ (یہ ندا کا سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1918
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي سعيد وأبي هريرة معا. الإرواء ٤٥٠.
«إن الله تعالى ينزل المعونة على قدر المؤنة وينزل الصبر على قدر البلاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک اللہ تعالیٰ اخراجات اور ضروریات کے بقدر مدد نازل فرماتا ہے، اور آزمائش و مصیبت کے بقدر صبر نازل فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1919
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عد ابن لال] عن أبي هريرة. الترغيب ٣/١٨، الصحيحة ١٦٦٤: البزار، ابن شاهين.
«إن الله ينشئ السحاب فينطق أحسن النطق ويضحك أحسن الضحك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک اللہ تعالیٰ بادلوں کو پیدا فرماتا ہے، تو وہ بہترین گفتگو کرتے ہیں (یعنی گرجتے ہیں) اور بہترین انداز میں ہنستے ہیں (یعنی ان میں بجلی چمکتی ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1920
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هق في الأسماء] عن شيخ من بني غفار. الصحيحة ١٦٦٥: عق، الرامهرمزي في [الأمثال] .
«إن الله ينهاكم أن تأتوا النساء في أدبارهن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے منع فرماتا ہے کہ تم عورتوں کے پاس ان کی پچھلی شرمگاہوں (دبر) سے آؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1921
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن خزيمة بن ثابت. آداب الزفاف ٢٧، الإرواء ٢٠٠٥.
«إن الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے منع فرماتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسمیں کھاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1922
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن ابن عمر. مختصر مسلم ١٠١٠.
"إن الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم فمن كان حالفا فليحلف بالله وإلا فليصمت"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسمیں کھانے سے منع فرماتا ہے، پس جسے قسم کھانا ہی ہو تو وہ اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1923
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق د ت] عن عمر. الإرواء ٢٥٦٠.
«إن الله يوصيكم بأمهاتكم ثلاثا إن الله تعالى يوصيكم بآبائكم مرتين إن الله تعالى يوصيكم بالأقرب فالأقرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرماتا ہے (یہ تین مرتبہ فرمایا)، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرماتا ہے (یہ دو مرتبہ فرمایا)، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے قریبی رشتہ داروں اور پھر جو ان کے بعد قریبی ہوں ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1924
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خد هـ طب ك] عن المقدام. الصحيحة ١٦٦٦.
«إن الماء طهور لا ينجسه شيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک پانی پاک کرنے والا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1925
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٣ قط هق١] عن أبي سعيد. صحيح أبي داود ٢٢٥، المشكاة ٢٨٨.
«إن الماء ليس عليه جنابة ولا ينجسه شيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک پانی کو جنابت لاحق نہیں ہوتی اور اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1926
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن ميمونة. صحيح أبي داود ٦١: قط.
«إن الماء لا يجنب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک پانی کو جنابت نہیں لگتی (یعنی وہ جنبی کے استعمال سے ناپاک نہیں ہوتا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1927
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت هـ حب ك هق] عن ابن عباس. المشكاة ٤٥٧، صحيح أبي داود ٦١.
«إن الماء لا ينجسه شيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1928
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن جابر [حم ن] عن ابن عباس. التعليق على إزالة الدهش رقم ٢: الضياء.
«إن المؤذن يغفر له مدى صوته ويصدقه كل رطب ويابس سمع صوته والشاهد عليه خمس وعشرون درجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے وہاں تک اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، اور ہر خشک و تر چیز جو اس کی آواز سنتی ہے وہ اس کی تصدیق کرتی ہے، اور اس پر گواہی دینے والے (یعنی اس کے ساتھ نماز میں حاضر ہونے والے) کے لیے پچیس درجات کا ثواب ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1929
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن أبي هريرة. تخريج الترغيب ٢/١٠٧: حب.
"إن المؤمن إذا وضع في قبره أتاه ملك فيقول له:
ما كنت تعبد؟ فإن الله هداه قال: كنت أعبد الله فيقول له: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: هو عبد الله ورسوله فما يسأل عن شيء غيرها فينطلق به إلى بيت كان في النار فيقال له: هذا بيتك كان في النار ولكن الله عصمك ورحمك فأبدلك به بيتا في الجنة فيقول: دعوني حتى أذهب فأبشر أهلي فيقال له: اسكن; وإن الكافر إذا وضع في قبره أتاه ملك فينتهره فيقول له: ما كنت تعبد؟ فيقول: لا أدري فيقال له: لا دريت ولا تليت فيقال: فما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: كنت أقول ما تقول الناس فيضربه بمطراق من حديد بين أذنيه فيصيح صيحة يسمعها الخلق غير الثقلين"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک جب مومن کو اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ اگر اللہ نے اسے ہدایت دی ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ کی عبادت کرتا تھا۔ پھر فرشتہ اس سے پوچھتا ہے: تو اس شخص (یعنی محمد ﷺ) کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پس اس کے علاوہ اس سے کسی اور چیز کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا۔ پھر اسے آگ میں موجود ایک گھر کی طرف لے جایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ جہنم میں تیرا ٹھکانہ تھا، لیکن اللہ نے تجھے بچا لیا اور تجھ پر رحم فرمایا، پس اس نے تیرے لیے اسے جنت کے ایک گھر سے بدل دیا ہے۔ تو وہ کہتا ہے: مجھے چھوڑو تاکہ میں جا کر اپنے گھر والوں کو یہ خوشخبری سناؤں۔ اس سے کہا جاتا ہے: تو یہیں سکون سے رہ۔ اور بیشک جب کافر کو اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اسے جھڑک کر پوچھتا ہے: تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا۔ اس سے کہا جاتا ہے: نہ تو نے خود جانا اور نہ ہی پڑھنے والوں کے پیچھے چلا۔ پھر اس سے پوچھا جاتا ہے: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ وہ کہتا ہے: میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ پس فرشتہ اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کا ایک ہتھوڑا مارتا ہے جس سے وہ ایسی چیخ مارتا ہے جسے جنوں اور انسانوں کے سوا تمام مخلوقات سنتی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1930
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أنس. الصحيحة ١٣٤٤: حم.
«إن المؤمن تخرج نفسه من بين جنبيه وهو يحمد الله تعالى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک مومن کی روح اس کے پہلوؤں کے درمیان سے اس حال میں پرواز کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر رہا ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1931
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن ابن عباس. الصحيحة ١٦٣٢: حم، ن، الضياء.
«إن المؤمن ليدرك بحسن الخلق درجة القائم الصائم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک مومن اپنے حسنِ اخلاق کے ذریعے مسلسل روزہ رکھنے والے اور رات بھر قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1932
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د حب] عن عائشة. المشكاة ٥٠٨٢.
«إن المؤمن لا ينجس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک مومن ناپاک نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1933
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ٤] عن أبي هريرة [حم م د ن هـ] عن حذيفة [ن] عن ابن مسعود [طب] عن أبي موسى. صحيح أبي داود ٢٢٥، الإرواء ١٧٤.
«إن المؤمن يجاهد بسيفه ولسانه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان (دونوں) سے جہاد کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1934
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن كعب بن مالك. المشكاة ٤٧٩٥، الصحيحة ١٦٣: ابن عساكر.
«إن المؤمنين يشدد عليهم لأنه لا تصيب المؤمن نكبة من شوكة فما فوقها ولا وجع إلا رفع الله له بها درجة وحط عنه خطيئة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک مومنوں پر سختیاں (آزمائشیں) اس لیے ڈالی جاتی ہیں کیونکہ مومن کو کانٹا چبھنے یا اس سے بڑھ کر کوئی بھی مصیبت اور کوئی تکلیف نہیں پہنچتی، مگر اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1935
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن سعد ك هب] عن عائشة.
«إن المتبايعين بالخيار في بيعهما ما لم يتفرقا أو يكون البيع خيارا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک خریدار اور بیچنے والے کو اپنی خرید و فروخت میں اس وقت تک اختیار حاصل ہے جب تک وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، یا یہ کہ بیع ہی اختیار کی شرط پر ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1936
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن ابن عمر. أحاديث البيوع: مالك، حم م د ق الطحاوي، هق.
«إن المتحابين بالله في ظل العرش»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک اللہ کی رضا کے لیے آپس میں محبت کرنے والے (قیامت کے دن) عرش کے سائے میں ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1937
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن معاذ. الترغيب ٤/٤٧: ابن المبارك، حم حب ك.
«إن المختلعات والمنتزعات هن المنافقات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک (بغیر شرعی عذر کے) خلع لینے والی اور طلاق مانگنے والی عورتیں منافق ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1938
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عقبة بن عامر. الصحيحة ١٦٣٣: الطبري.
«إن المرأة إذا أقبلت أقبلت في صورة شيطان فإذا رأى أحدكم امرأة فأعجبته فليأت أهله فإن الذي معها مثل الذي معها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک عورت جب سامنے آتی ہے تو شیطان کی صورت میں آتی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے، تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس چلا جائے، کیونکہ جو کچھ اس (اجنبی عورت) کے پاس ہے، ویسا ہی اس کی بیوی کے پاس بھی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1939
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت حب] عن جابر. الصحيحة ٢٣٥.
«إن المرأة تقبل في صورة شيطان وتدبر في صورة شيطان فإذا رأى أحدكم امرأة أعجبته فليأت أهله فإن ذلك يرد ما في نفسه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک عورت جب سامنے آتی ہے تو شیطان کی صورت میں آتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تب بھی شیطان کی صورت میں ہوتی ہے، پس جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے بھلی لگے، تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس چلا جائے، کیونکہ یہ عمل اس کے دل کے وسوسے کو دور کر دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1940
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د] عن جابر. الصحيحة ٢٣٥.
«إن المرأة تنكح لدينها ومالها وجمالها فعليك بذات الدين تربت يداك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک عورت سے اس کے دین، اس کے مال اور اس کے حسن کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، لہٰذا تم دین دار عورت کو لازم پکڑو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں (یعنی تمہیں بھلائی نصیب ہو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1941
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت ن] عن جابر.
«إن المرأة خلقت من ضلع فإن ذهبت تقومها كسرتها وإن تدعها ففيها أود وبلغة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنے جاؤ گے تو اسے توڑ دو گے، اور اگر تم اسے اسی حال پر چھوڑ دو گے تو اس میں ٹیڑھ رہے گی اور اسی سے تمہارا گزارہ ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1942
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ن] أبي ذر. الترغيب ٣/٧٣: خد، الدارمي.
«إن المرأة خلقت من ضلع لن تستقيم لك على طريقة فإن استمتعت بها استمتعت بها وبها عوج وإن ذهبت تقيمها كسرتها وكسرها طلاقها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، وہ تمہارے لیے کبھی کسی ایک طریقے پر سیدھی نہیں ہو سکتی، پس اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اسی ٹیڑھ کے ساتھ فائدہ اٹھا سکتے ہو، اور اگر تم اسے سیدھا کرنے جاؤ گے تو اسے توڑ دو گے، اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1943
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت] عن أبي هريرة.
«إن المرأة خلقت من ضلع وإنك إن ترد إقامة الضلع تكسرها فدارها تعش بها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اگر تم پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے، لہٰذا اس کے ساتھ مدارات (نرمی اور حکمت) سے پیش آؤ، تم اس کے ساتھ بخوشی زندگی گزار لو گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1944
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب ك] عن سمرة. الترغيب ٣/٧٢.
«إن المرأة لتأخذ على القوم - يعني تجير على المسلمين -»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک عورت بھی قوم کی طرف سے امان دے سکتی ہے۔“ یعنی وہ مسلمانوں کی طرف سے پناہ دے سکتی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1945
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. المشكاة ٣٩٧٨.
«إن المرد إلى الله إلى جنة أو نار خلود بلا موت وإقامة بلا ظعن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک لوٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے، جنت میں یا جہنم میں، جہاں موت کے بغیر ہمیشہ رہنا ہے اور بغیر کوچ کیے قیام کرنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1946
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن معاذ. الصحيحة ١٦٦٨: ك.
«إن المسألة كد يكد بها الرجل وجهه إلا أن يسأل الرجل سلطانا أو في أمر لا بد منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک سوال کرنا (مانگنا) ایک زخم ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے، سوائے اس کے کہ آدمی بادشاہ (حاکم) سے سوال کرے یا کسی ایسے معاملے میں مانگے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1947
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن] عن سمرة. مختصر مسلم ١٤٦٤.
«إن المسلم إذا عاد أخاه المسلم لم يزل في مخرفة الجنة حتى يرجع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس لوٹنے تک جنت کے باغات میں رہتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1948
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن ثوبان. مختصر مسلم ١٤٦٤.
«إن المسلم المسدد ليدرك درجة الصوام القوام بآيات الله بحسن خلقه وكرم ضريبته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک سیدھی راہ پر چلنے والا مسلمان اپنے حسنِ اخلاق اور عمدہ خصلت کی بدولت کثرت سے روزے رکھنے والے اور اللہ کی آیات کے ساتھ راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1949
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن ابن عمرو. الصحيحة ٥٢٢.
«إن المسلم ليؤجر في كل شيء ينفقه إلا في شيء يجعله في هذا التراب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک مسلمان کو ہر اس چیز پر اجر دیا جاتا ہے جو وہ خرچ کرتا ہے، سوائے اس چیز کے جسے وہ اس مٹی (یعنی غیر ضروری تعمیرات) میں لگاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1950
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن خباب. المشكاة ٥١٨٢.
«إن المصلي يناجي ربه فلينظر بم يناجيه ولا يجهر بعضكم على بعض بالقرآن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک نمازی اپنے پروردگار سے مناجات (سرگوشی) کرتا ہے، لہٰذا اسے غور کرنا چاہیے کہ وہ اس سے کیا مناجات کر رہا ہے، اور تم تلاوتِ قرآن میں ایک دوسرے پر آواز بلند نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1951
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي هريرة وعائشة. صحيح أبي داود ١٢٠٣.
«إن المعونة تأتي من الله للعبد على قدر المؤنة وإن الصبر يأتي من الله على قدر المصيبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اس کے اخراجات (اور بوجھ) کے بقدر آتی ہے، اور اللہ کی طرف سے صبر مصیبت کے بقدر نازل ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1952
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الحكيم البزار الحاكم في الكنى هب] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٦٦٤: ابن شاهين، عد.
«إن المقسطين عند الله يوم القيامة على منابر من نور عن يمين الرحمن وكلتا يديه يمين الذين يعدلون في حكمهم وأهليهم وما ولوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک انصاف کرنے والے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں نور کے منبروں پر رحمٰن کے دائیں جانب ہوں گے، اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں، اپنے اہل و عیال اور جن چیزوں کی انہیں ذمہ داری سونپی گئی ہے، ان میں عدل سے کام لیتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1953
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن ابن عمرو. مختصر مسلم ١٢٠٧.
«إن المكثرين هم المقلون يوم القيامة إلا من أعطاه الله تعالى خيرا فنفح فيه بيمينه وشماله وبين يديه وورائه وعمل فيه خيرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک (دنیا میں) مال کی کثرت والے ہی قیامت کے دن (ثواب کے لحاظ سے) کم تر ہوں گے، سوائے اس شخص کے جسے اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا ہو اور وہ اسے اپنے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے (راہِ خدا میں) خرچ کرے اور اس مال کے ذریعے نیک اعمال کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1954
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي ذر.
«إن الملائكة تنزل في العنان فتذكر الأمر قضي في السماء فتسترق الشياطين السمع فتسمعه فتوحيه إلى الكهان فيكذبون معها مائة كذبة من عند أنفسهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک فرشتے بادلوں میں اترتے ہیں اور اس حکم کا تذکرہ کرتے ہیں جس کا آسمان میں فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے، تو شیاطین چوری چھپے اس بات کو سن لیتے ہیں اور پھر اسے کاہنوں (نجومیوں) کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں، پھر وہ کاہن اپنی طرف سے اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1955
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن عائشة.
«إن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا بما يطلب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک فرشتے طالبِ علم کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1956
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي] عن صفوان بن عسال. صحيح الترغيب ٦٨.
«إن الملائكة لتلعن أحدكم إذا أشار إلى أخيه بحديدة وإن كان أخاه لأبيه وأمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک فرشتے تم میں سے اس شخص پر لعنت بھیجتے ہیں جو اپنے بھائی کی طرف کسی لوہے (یعنی ہتھیار وغیرہ) سے اشارہ کرے، خواہ وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1957
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حل] أبي هريرة. غاية المرام ٤٤٦: م، ت.