صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"إن المؤمن إذا وضع في قبره أتاه ملك فيقول له:
ما كنت تعبد؟ فإن الله هداه قال: كنت أعبد الله فيقول له: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: هو عبد الله ورسوله فما يسأل عن شيء غيرها فينطلق به إلى بيت كان في النار فيقال له: هذا بيتك كان في النار ولكن الله عصمك ورحمك فأبدلك به بيتا في الجنة فيقول: دعوني حتى أذهب فأبشر أهلي فيقال له: اسكن; وإن الكافر إذا وضع في قبره أتاه ملك فينتهره فيقول له: ما كنت تعبد؟ فيقول: لا أدري فيقال له: لا دريت ولا تليت فيقال: فما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: كنت أقول ما تقول الناس فيضربه بمطراق من حديد بين أذنيه فيصيح صيحة يسمعها الخلق غير الثقلين"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیشک جب مومن کو اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ اگر اللہ نے اسے ہدایت دی ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ کی عبادت کرتا تھا۔ پھر فرشتہ اس سے پوچھتا ہے: تو اس شخص (یعنی محمد ﷺ) کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پس اس کے علاوہ اس سے کسی اور چیز کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا۔ پھر اسے آگ میں موجود ایک گھر کی طرف لے جایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ جہنم میں تیرا ٹھکانہ تھا، لیکن اللہ نے تجھے بچا لیا اور تجھ پر رحم فرمایا، پس اس نے تیرے لیے اسے جنت کے ایک گھر سے بدل دیا ہے۔ تو وہ کہتا ہے: مجھے چھوڑو تاکہ میں جا کر اپنے گھر والوں کو یہ خوشخبری سناؤں۔ اس سے کہا جاتا ہے: تو یہیں سکون سے رہ۔ اور بیشک جب کافر کو اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اسے جھڑک کر پوچھتا ہے: تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا۔ اس سے کہا جاتا ہے: نہ تو نے خود جانا اور نہ ہی پڑھنے والوں کے پیچھے چلا۔ پھر اس سے پوچھا جاتا ہے: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ وہ کہتا ہے: میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ پس فرشتہ اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کا ایک ہتھوڑا مارتا ہے جس سے وہ ایسی چیخ مارتا ہے جسے جنوں اور انسانوں کے سوا تمام مخلوقات سنتی ہیں۔“