کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«أربعة من الدواب لا يقتلن: النملة والنحلة والهدهد والصرد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جانوروں (اور پرندوں) میں سے چار کو قتل نہ کیا جائے (کیونکہ ان کا مارنا منع ہے): چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور صرد (ایک قسم کا شکاری پرندہ)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 879
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن ابن عباس. الإرواء ٢٤٩٠.
«أربعة يبغضهم الله تعالى: البياع الحلاف والفقير المختال والشيخ الزاني والإمام الجائر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ سخت بغض (اور ناپسندیدگی) رکھتا ہے: بہت زیادہ قسمیں کھا کر مال بیچنے والا تاجر، تکبر کرنے والا محتاج (فقیر)، زنا کرنے والا بوڑھا شخص اور ظالم حکمران۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 880
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هب] عن أبي هريرة. الصحيحة ٣٦٣.
"أربعة يحتجون يوم القيامة: رجل أصم لا يسمع شيئا ورجل أحمق ورجل هرم ورجل مات في فترة: فأما الأصم فيقول: رب لقد جاء الإسلام وما أسمع شيئا وأما الأحمق فيقول: رب جاء الإسلام وما أعقل شيئا والصبيان يحذفونني بالبعر، وأما الهرم فيقول: رب لقد جاء الإسلام وما أعقل شيئا، وأما الذي مات في الفترة فيقول: رب ما أتاني لك رسول فيأخذ مواثيقهم ليطيعنه، فيرسل إليهم أن ادخلوا النار فمن
دخلها كانت عليه بردا وسلاما ومن لم يدخلها سحب إليها"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار لوگ قیامت کے دن حجت (عذر) پیش کریں گے: ایک وہ بہرا شخص جو کچھ نہ سنتا ہو، ایک احمق (پاگل) شخص، ایک انتہائی بوڑھا شخص، اور ایک وہ شخص جو فترت (دو رسولوں کے درمیانی وقفے) میں فوت ہوا۔ بہرا کہے گا: اے رب! اسلام آیا لیکن میں کچھ نہیں سن سکتا تھا۔ احمق کہے گا: اے رب! اسلام آیا لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں تھی اور بچے مجھ پر مینگنیاں پھینکتے تھے۔ انتہائی بوڑھا کہے گا: اے رب! اسلام آیا لیکن میری عقل کام نہیں کرتی تھی۔ اور فترت میں مرنے والا کہے گا: اے رب! میرے پاس تیرا کوئی رسول نہیں آیا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان سے عہد لے گا کہ وہ ضرور اس کی اطاعت کریں گے، چنانچہ وہ ان کی طرف پیغام بھیجے گا کہ آگ میں داخل ہو جاؤ۔ تو جو اس میں داخل ہو جائے گا وہ اس کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی اور جو اس میں داخل نہیں ہوگا اسے گھسیٹ کر اس میں ڈال دیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 881
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب] عن الأسود بن سريع وأبي هريرة. الصحيحة ١٤٣٤: ابن أبي عاصم طب، الضياء.
«أربع ركعات قبل الظهر يعدلن بصلاة السحر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ظہر سے پہلے چار رکعتیں (ثواب میں) سحری کے وقت کی نماز (تہجد) کے برابر ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 882
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ش] عن أبي صالح مرسلا.
«أربع في أمتي من أمر الجاهلية لا يتركوهن: الفخر في الأحساب والطعن في الأنساب والاستسقاء بالنجوم والنياحة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں جاہلیت کے چار کام ایسے ہیں جنہیں لوگ نہیں چھوڑیں گے: حسب و نسب پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب پر طعنہ زنی کرنا، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور (میت پر) نوحہ کرنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 883
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي مالك الأشعري. الصحيحة ٧٣٤، أحكام الجنائز ص٢٧: هق، مختصر مسلم ٤٦٣.
«أربع في أمتي من أمر الجاهلية لم يدعهن الناس: الطعن في الأنساب والنياحة على الميت والأنواء مطرنا بنوء كذا وكذا والإعداء جرب بعير فأجرب مئة بعير فمن أجرب البعير الأول» ؟!
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں جاہلیت کی چار باتیں ایسی ہیں جنہیں لوگ ترک نہیں کریں گے: نسب پر طعنہ زنی کرنا، میت پر نوحہ کرنا، ستاروں سے بارش منسوب کرنا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی، اور بیماری لگنے کا عقیدہ کہ ایک اونٹ کو خارش ہوتی ہے تو وہ سو اونٹوں کو خارش زدہ کر دیتا ہے، (اگر ایسا ہے تو) پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ کیا تھا؟!“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 884
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت] عن أبي هريرة. الصحيحة ٧٣٥.
«أربع قبل الظهر ليس فيهن تسليم تفتح لهن أبواب السماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ظہر سے پہلے کی وہ چار رکعتیں جن کے درمیان میں سلام نہ پھیرا جائے (یعنی اکٹھی پڑھی جائیں)، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 885
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د الترمذي في الشمائل ابن خزيمة] عن أبي أيوب. المشكاة ١١٦٨، صحيح أبي داود ١١٣٥.
«أربع لا يجزين في الأضاحي: العوراء البين عورها والمريضة البين مرضها والعرجاء البين ظلعها والعجفاء التي لا تنقي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں: ایسا کانا جس کا کانا پن واضح ہو، ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو، ایسا لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، اور ایسا لاغر (کمزور) جس کی ہڈیوں میں گودا تک نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 886
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ٤ حب ك هق] عن البراء. الإرواء ١١٤٨.
«أربع من السعادة: المرأة الصالحة والمسكن الواسع والجار الصالح والمركب الهنيء، وأربع من الشقاء: المرأة السوء والجار السوء والمركب السوء والمسكن الضيق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار چیزیں خوش بختی میں سے ہیں: نیک بیوی، کشادہ گھر، نیک پڑوسی اور آرام دہ سواری۔ اور چار چیزیں بدبختی میں سے ہیں: بری بیوی، برا پڑوسی، بری سواری اور تنگ گھر۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 887
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك حل هب] عن سعد. الصحيحة ٢٨٢.
«أربع من عمل الأحياء تجري للأموات: رجل ترك عقبا صالحا يدعو له ينفعه دعاؤهم ورجل تصدق بصدقة جارية من بعده له أجرها ما جرت بعده ورجل علم علما فعمل به من بعده له مثل أجر من عمل به من غير أن ينقص من أجر من يعمل به شيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”زندوں کے اعمال میں سے چار (ایسے عمل ہیں جن کا ثواب) مردوں کے لیے جاری رہتا ہے: وہ آدمی جس نے نیک اولاد چھوڑی جو اس کے لیے دعا کرتی ہے تو ان کی دعا اسے فائدہ دیتی ہے، وہ آدمی جس نے اپنے پیچھے کوئی صدقہ جاریہ کیا تو جب تک وہ جاری رہے گا اسے اس کا اجر ملتا رہے گا، اور وہ آدمی جس نے علم سکھایا پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اسے عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا جبکہ عمل کرنے والے کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہیں کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 888
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن سلمان.
«أربع من كن فيه كان منافقا خالصا ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا ائتمن خان وإذا حدث كذب وإذا عاهد غدر وإذا خاصم فجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا، اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب عہد کرے تو دھوکہ دے، اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 889
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن عمر. مختصر مسلم ٢٦.
«أربع من كن فيه كان منافقا خالصا ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا حدث كذب وإذا وعد أخلف وإذا عاهد غدر وإذا خاصم فجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا، اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، جب عہد کرے تو دھوکہ دے، اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 890
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٣] عن ابن عمرو. مختصر مسلم ٢٦.
«أربعون خصلة أعلاهن منحة العنز لا يعمل عبد بخصلة منها رجاء ثوابها وتصديق موعودها إلا أدخله الله تعالى بها الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چالیس نیک خصلتیں ہیں جن میں سب سے اعلیٰ کسی کو دودھ پینے کے لیے بکری کا عطیہ دینا ہے، جو بندہ بھی ان خصلتوں میں سے کسی ایک پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے اور اس پر کیے گئے وعدے کو سچا مانتے ہوئے عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی بدولت اسے جنت میں داخل فرما دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 891
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ د] عن ابن عمرو.
«ارجع إلى أبويك فاستأذنهما فإن أذنا لك فجاهد وإلا فبرهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے والدین کے پاس واپس جاؤ اور ان سے (جہاد میں جانے کی) اجازت طلب کرو، پس اگر وہ تمہیں اجازت دے دیں تو جہاد کرو، ورنہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 892
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ك] عن أبي سعيد. الإرواء ١١٩.
«ارجعوا إلى أهليكم فكونوا فيهم وعلموهم ومروهم وصلوا كما رأيتموني أصلي فإذا حضرت الصلاة فليؤذن لكم أحدكم وليؤمكم أكبركم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ اور ان کے درمیان قیام کرو، انہیں (دین) سکھاؤ اور انہیں (نیک باتوں کا) حکم دو، اور تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، پھر جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 893
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن مالك بن الحويرث. الإرواء ٢١٣.
«أرحامكم أرحامكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے قریبی رشتہ داروں کا خیال رکھو، اپنے قریبی رشتہ داروں کا خیال رکھو (یعنی صلہ رحمی کی پابندی کرو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 894
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب] عن أنس. الأحاديث الصحيحة ١٥٣٨.
«أرحم أمتي بأمتي أبو بكر وأشدهم في أمر الله عمر وأصدقهم حياء عثمان وأقرؤهم لكتاب الله أبي بن كعب وأفرضهم زيد بن ثابت وأعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل ولكل أمة أمين وأمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے حق میں میری امت کے سب سے زیادہ مہربان شخص ابوبکر ہیں، اللہ کے معاملے (دین) میں ان میں سب سے زیادہ سخت (مضبوط) عمر ہیں، ان میں سب سے سچی حیا والے عثمان ہیں، ان میں کتاب اللہ کے سب سے بہترین قاری ابی بن کعب ہیں، علمِ فرائض (وراثت) کے سب سے بڑے ماہر زید بن ثابت ہیں اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں۔ اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 895
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن هـ حب ك هق] عن أنس. الصحيحة ١٢٢٤.
«ارحم من في الأرض يرحمك من في السماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو زمین میں ہے اس پر رحم کرو، وہ تم پر رحم کرے گا جو آسمان میں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 896
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن جرير [طب ك] عن ابن مسعود. الروض ٦٠٠، الصحيحة ٩٢٥: الطيالسي، طس، طص، أبو نعيم، خط.
«ارحموا ترحموا واغفروا يغفر لكم، ويل لأقماع القول ويل للمصرين الذين يصرون على ما فعلوا وهم يعلمون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(لوگوں پر) رحم کرو تم پر (بھی) رحم کیا جائے گا، اور معاف کرو تمہیں (بھی) معاف کیا جائے گا۔ تباہی ہے بات کو محض سن کر نکال دینے والوں کے لیے، اور ہلاکت ہے ان اڑ جانے والوں (ضد کرنے والوں) کے لیے جو اپنے کیے (گناہوں) پر جان بوجھ کر اصرار کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 897
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد هب] عن ابن عمرو. الصحيحة ٤٨٢.
"أرسل ملك الموت إلى موسى فلما جاءه صكه ففقأ
عينه فرجع إلى ربه فقال: أرسلتني إلى عبد لا يريد الموت فرد الله إليه عينه، وقال ارجع إليه وقل له: يضع يده على متن ثور فله بما غطت يده بكل شعرة سنة. قال: أي رب! ثم ماذا؟ قال: ثم الموت. قال: فالآن، فسأل الله أن يدنيه من الأرض المقدسة رمية بحجر فلو كنت ثم لأريتكم قبره إلى جانب الطريق تحت الكثيب الأحمر"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”موت کا فرشتہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بھیجا گیا، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ وہ اپنے رب کے پاس واپس گیا اور عرض کیا: تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو موت نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ ٹھیک کر دی اور فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پیٹھ پر رکھیں، پس جتنے بالوں کو ان کا ہاتھ ڈھانپ لے گا، ہر بال کے بدلے انہیں ایک سال کی عمر ملے گی۔ انہوں نے پوچھا: اے میرے رب! پھر کیا ہوگا؟ اللہ نے فرمایا: پھر موت ہے۔ انہوں نے عرض کیا: تو پھر ابھی (موت دے دے)۔ چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں ارضِ مقدس (بیت المقدس) کے اتنا قریب کر دے جتنا پتھر پھینکنے کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کے کنارے سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر ضرور دکھاتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 898
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن أبي هريرة.
«أرض الجنة خبزة بيضاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت کی زمین سفید روٹی (کی طرح) ہوگی (یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو ایک بہت بڑی روٹی بنا دے گا جسے اہل جنت کھائیں گے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 899
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [أبو الشيخ في العظمة] عن جابر. الصحيحة ١٤٣٨: حم.
«ارضخي ما استطعت ولا توعي فيوعي الله عليك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جتنا ہو سکے تھوڑا تھوڑا کر کے (اللہ کی راہ میں) دیتی رہو اور (مال کو) گن گن کر نہ رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر بند کر دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 900
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن أسماء بنت أبي بكر. مختصر مسلم ٥٥١.
«أرضوا مصدقيكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے صدقات (زکوٰۃ) وصول کرنے والوں کو راضی رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 901
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن] عن جرير. مختصر مسلم ٥٠٩.
«ارفع إزارك واتق الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی ازار (تہبند یا شلوار) کو (ٹخنوں سے) اونچا رکھو اور اللہ سے ڈرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 902
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن الشريد بن سويد. الصحيحة ١٤٤١: حم، الطحاوي.
«ارفعوا عن بطن عرنة وارفعوا عن بطن محسر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وادی عرنہ کے نشیبی حصے سے ہٹ کر رہو اور وادی محسر کے نشیبی حصے سے بھی ہٹ کر رہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 903
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك هق] عن ابن عباس. الصحيحة ١٥٣٤: ابن خزيمة، الطحاوي.
«ارفعوا عن بطن محسر وعليكم بمثل حصا الخذف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وادی محسر کے نشیبی حصے سے ہٹ کر رہو اور (رمی کے لیے) چٹکی سے پھینکی جانے والی چھوٹی کنکریاں استعمال کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 904
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هق] عن ابن عباس. الصحيحة ١٥٣٤: الطحاوي.
«أرقاءكم أرقاءكم فأطعموهم مما تأكلون وألبسوهم مما تلبسون وإن جاءوا بذنب لا تريدون أن تغفروه فبيعوا عباد الله ولا تعذبوهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے ماتحتوں (غلاموں) کا خیال رکھو، اپنے ماتحتوں کا خیال رکھو! انہیں وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو، اور اگر وہ کوئی ایسا گناہ (یا غلطی) کر بیٹھیں جسے تم معاف نہیں کرنا چاہتے تو اللہ کے ان بندوں کو فروخت کر دو، لیکن انہیں سزائیں (تکلیفیں) نہ دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 905
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ابن سعد] عن زيد بن الخطاب١. الصحيحة ٧٤٠.
«ارقي ما لم يكن شرك بالله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم (علاج کے لیے) دم کر سکتے ہو جب تک کہ اس میں اللہ کے ساتھ شرک نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 906
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن الشفاء٢ بنت عبد الله. الصحيحة ١٧٨: حب.
«اركبوا الهدي بالمعروف حتى تجدوا ظهرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم قربانی کے جانوروں پر حسبِ ضرورت مناسب طریقے سے سواری کر لیا کرو، یہاں تک کہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 907
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب] عن جابر. مسلم ٤/٩٢٣.
«اركبوا هذه الدواب سالمة واتدعوها سالمة ولا تتخذوها كراسي لأحاديثكم في الطرق والأسواق فرب مركوبة خير من راكبها وأكثر ذكرا منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ان سواری کے جانوروں پر ان کے صحیح سلامت ہونے کی حالت میں سواری کیا کرو اور انہیں صحیح سلامت حالت میں ہی چھوڑا کرو، اور راستوں اور بازاروں میں اپنی گفتگو کے دوران انہیں کرسیاں مت بناؤ (یعنی ان پر بیٹھ کر طویل باتیں نہ کیا کرو)، کیونکہ بسا اوقات جس جانور پر سواری کی جا رہی ہوتی ہے وہ اپنے سوار سے بہتر ہوتا ہے اور اس سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 908
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ع طب ك] عن معاذ بن أنس. الصحيحة ٢١.
«اركعوا هاتين الركعتين في بيوتكم: السبحة بعد المغرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ان دو رکعتوں یعنی مغرب کے بعد کی سنتوں کو اپنے گھروں میں ادا کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 909
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن رافع بن خديج. صحيح أبي داود: حم، ابن خزيمة.
«ارموا الجمرة بمثل حصى الخذف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جمرہ پر (رمی کے لیے) چٹکی سے پھینکی جانے والی چھوٹی کنکریوں جیسی کنکریاں مارا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 910
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ابن خزيمة الضياء] عن رجل من الصحابة. الصحيحة ١٤٣٧: حم، ابن سعد – سنان بن سنة. حم، الدارمي، هق – عبد الرحمن بن معاذ التيمي. حم، د، هق – أم سليمان بن عمرو. الدارمي، هق – عثمان بن عبيد الله التيمي. د، الدارمي، هق، جابر.
«ارموا بني إسماعيل فإن أباكم كان راميا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کیا کرو، کیونکہ بلاشبہ تمہارے باپ (سیدنا اسماعیل علیہ السلام) بھی بہترین تیر انداز تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 911
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن سلمة بن الأكوع [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٤٣٩: ك - سلمة. حب - أبي هريرة. حم، ابن ماجه، ك - ابن عباس.
«أرواح المؤمنين في أجواف طير خضر تعلق في أشجار الجنة حتى يردها الله إلى أجسادها يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومنوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹ میں ہوتی ہیں جو جنت کے درختوں کا پھل کھاتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان روحوں کو ان کے جسموں کی طرف لوٹا دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 912
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن كعب بن مالك وأم مبشر. المشكاة ١٦٣١: حم، ابن ماجه.
«أريت الجنة فرأيت امرأة أبي طلحة ثم سمعت خشخشة أمامي فإذا بلال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے اس میں ابوطلحہ کی زوجہ محترمہ کو دیکھا، پھر میں نے اپنے آگے چلنے کی آہٹ سنی تو وہ بلال تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 913
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جابر. الصحيحة ١٤٠٥.
«أريت قوما من أمتي يركبون ظهر البحر كالملوك على الأسرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے جو سمندر کی سطح پر اس طرح سوار ہو کر سفر کر رہے تھے جیسے بادشاہ اپنے تختوں پر جلوہ افروز ہوتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 914
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أم حرام.
«أريتك في المنام مرتين يحملك الملك في سرقة من حرير فيقول: هذه امرأتك فأكشف عنها فإذا أنت هي فأقول: إن يكن هذا من عند الله يمضه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے تم دو مرتبہ خواب میں دکھائی گئی ہو۔ ایک فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھا کر لاتا اور کہتا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں۔ جب میں اس سے پردہ ہٹاتا تو وہ تم ہی ہوتیں۔ اس پر میں کہتا کہ اگر یہ (خواب) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور پورا فرمائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 915
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن عائشة. مختصر مسلم ١٦٥٨.
«أريت ليلة القدر ثم أنسيتها وأراني صبيحتها أسجد في ماء وطين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے شبِ قدر دکھائی گئی لیکن پھر وہ مجھے بھلا دی گئی، البتہ میں نے خود کو اس کی صبح پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 916
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عبد الله بن أنيس. مسلم ٣/١٧٣، مختصر مسلم ٦٣٦.
«أريت ليلة القدر ثم أيقظني بعض أهلي فنسيتها فالتمسوها في العشر الغوابر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے شبِ قدر دکھائی گئی تھی، پھر میرے گھر والوں میں سے کسی نے مجھے جگا دیا تو میں اسے بھول گیا، لہٰذا اب تم اسے (رمضان کی) بقیہ آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 917
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي هريرة. مسلم ٣/١٧٠، المختصر ٦٣٦.
«أريت ما تلقى أمتي من بعدي وسفك بعضهم دماء بعض وكان ذلك سابقا من الله كما سبق في الأمم قبلهم فسألته أن يوليني شفاعة فيهم يوم القيامة ففعل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے وہ حالات دکھائے گئے جن سے میرے بعد میری امت دوچار ہوگی اور وہ آپس میں ایک دوسرے کا خون بہائیں گے، اور یہ اللہ کی طرف سے پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا جیسا کہ ان سے پہلی امتوں کے معاملے میں ہوا۔ چنانچہ میں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ قیامت کے دن مجھے ان کے حق میں شفاعت کا اختیار عطا فرمائے، تو اس نے میری یہ التجا قبول فرما لی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 918
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طس ك] عن أم حبيبة. الصحيحة ١٤٤٠: السنة ٨٠٠ و٨٠١، ابن بشران، ابن عساكر.