«أربعة من الدواب لا يقتلن: النملة والنحلة والهدهد والصرد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جانوروں (اور پرندوں) میں سے چار کو قتل نہ کیا جائے (کیونکہ ان کا مارنا منع ہے): چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور صرد (ایک قسم کا شکاری پرندہ)۔“
”جانوروں (اور پرندوں) میں سے چار کو قتل نہ کیا جائے (کیونکہ ان کا مارنا منع ہے): چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور صرد (ایک قسم کا شکاری پرندہ)۔“
«أربعة يبغضهم الله تعالى: البياع الحلاف والفقير المختال والشيخ الزاني والإمام الجائر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ سخت بغض (اور ناپسندیدگی) رکھتا ہے: بہت زیادہ قسمیں کھا کر مال بیچنے والا تاجر، تکبر کرنے والا محتاج (فقیر)، زنا کرنے والا بوڑھا شخص اور ظالم حکمران۔“
”چار قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ سخت بغض (اور ناپسندیدگی) رکھتا ہے: بہت زیادہ قسمیں کھا کر مال بیچنے والا تاجر، تکبر کرنے والا محتاج (فقیر)، زنا کرنے والا بوڑھا شخص اور ظالم حکمران۔“
"أربعة يحتجون يوم القيامة: رجل أصم لا يسمع شيئا ورجل أحمق ورجل هرم ورجل مات في فترة: فأما الأصم فيقول: رب لقد جاء الإسلام وما أسمع شيئا وأما الأحمق فيقول: رب جاء الإسلام وما أعقل شيئا والصبيان يحذفونني بالبعر، وأما الهرم فيقول: رب لقد جاء الإسلام وما أعقل شيئا، وأما الذي مات في الفترة فيقول: رب ما أتاني لك رسول فيأخذ مواثيقهم ليطيعنه، فيرسل إليهم أن ادخلوا النار فمن
دخلها كانت عليه بردا وسلاما ومن لم يدخلها سحب إليها"
دخلها كانت عليه بردا وسلاما ومن لم يدخلها سحب إليها"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار لوگ قیامت کے دن حجت (عذر) پیش کریں گے: ایک وہ بہرا شخص جو کچھ نہ سنتا ہو، ایک احمق (پاگل) شخص، ایک انتہائی بوڑھا شخص، اور ایک وہ شخص جو فترت (دو رسولوں کے درمیانی وقفے) میں فوت ہوا۔ بہرا کہے گا: اے رب! اسلام آیا لیکن میں کچھ نہیں سن سکتا تھا۔ احمق کہے گا: اے رب! اسلام آیا لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں تھی اور بچے مجھ پر مینگنیاں پھینکتے تھے۔ انتہائی بوڑھا کہے گا: اے رب! اسلام آیا لیکن میری عقل کام نہیں کرتی تھی۔ اور فترت میں مرنے والا کہے گا: اے رب! میرے پاس تیرا کوئی رسول نہیں آیا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان سے عہد لے گا کہ وہ ضرور اس کی اطاعت کریں گے، چنانچہ وہ ان کی طرف پیغام بھیجے گا کہ آگ میں داخل ہو جاؤ۔ تو جو اس میں داخل ہو جائے گا وہ اس کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی اور جو اس میں داخل نہیں ہوگا اسے گھسیٹ کر اس میں ڈال دیا جائے گا۔“
”چار لوگ قیامت کے دن حجت (عذر) پیش کریں گے: ایک وہ بہرا شخص جو کچھ نہ سنتا ہو، ایک احمق (پاگل) شخص، ایک انتہائی بوڑھا شخص، اور ایک وہ شخص جو فترت (دو رسولوں کے درمیانی وقفے) میں فوت ہوا۔ بہرا کہے گا: اے رب! اسلام آیا لیکن میں کچھ نہیں سن سکتا تھا۔ احمق کہے گا: اے رب! اسلام آیا لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں تھی اور بچے مجھ پر مینگنیاں پھینکتے تھے۔ انتہائی بوڑھا کہے گا: اے رب! اسلام آیا لیکن میری عقل کام نہیں کرتی تھی۔ اور فترت میں مرنے والا کہے گا: اے رب! میرے پاس تیرا کوئی رسول نہیں آیا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان سے عہد لے گا کہ وہ ضرور اس کی اطاعت کریں گے، چنانچہ وہ ان کی طرف پیغام بھیجے گا کہ آگ میں داخل ہو جاؤ۔ تو جو اس میں داخل ہو جائے گا وہ اس کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی اور جو اس میں داخل نہیں ہوگا اسے گھسیٹ کر اس میں ڈال دیا جائے گا۔“
«أربع ركعات قبل الظهر يعدلن بصلاة السحر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ظہر سے پہلے چار رکعتیں (ثواب میں) سحری کے وقت کی نماز (تہجد) کے برابر ہیں۔“
”ظہر سے پہلے چار رکعتیں (ثواب میں) سحری کے وقت کی نماز (تہجد) کے برابر ہیں۔“
«أربع في أمتي من أمر الجاهلية لا يتركوهن: الفخر في الأحساب والطعن في الأنساب والاستسقاء بالنجوم والنياحة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں جاہلیت کے چار کام ایسے ہیں جنہیں لوگ نہیں چھوڑیں گے: حسب و نسب پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب پر طعنہ زنی کرنا، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور (میت پر) نوحہ کرنا۔“
”میری امت میں جاہلیت کے چار کام ایسے ہیں جنہیں لوگ نہیں چھوڑیں گے: حسب و نسب پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب پر طعنہ زنی کرنا، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور (میت پر) نوحہ کرنا۔“
«أربع في أمتي من أمر الجاهلية لم يدعهن الناس: الطعن في الأنساب والنياحة على الميت والأنواء مطرنا بنوء كذا وكذا والإعداء جرب بعير فأجرب مئة بعير فمن أجرب البعير الأول» ؟!
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں جاہلیت کی چار باتیں ایسی ہیں جنہیں لوگ ترک نہیں کریں گے: نسب پر طعنہ زنی کرنا، میت پر نوحہ کرنا، ستاروں سے بارش منسوب کرنا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی، اور بیماری لگنے کا عقیدہ کہ ایک اونٹ کو خارش ہوتی ہے تو وہ سو اونٹوں کو خارش زدہ کر دیتا ہے، (اگر ایسا ہے تو) پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ کیا تھا؟!“
”میری امت میں جاہلیت کی چار باتیں ایسی ہیں جنہیں لوگ ترک نہیں کریں گے: نسب پر طعنہ زنی کرنا، میت پر نوحہ کرنا، ستاروں سے بارش منسوب کرنا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی، اور بیماری لگنے کا عقیدہ کہ ایک اونٹ کو خارش ہوتی ہے تو وہ سو اونٹوں کو خارش زدہ کر دیتا ہے، (اگر ایسا ہے تو) پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ کیا تھا؟!“
«أربع قبل الظهر ليس فيهن تسليم تفتح لهن أبواب السماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ظہر سے پہلے کی وہ چار رکعتیں جن کے درمیان میں سلام نہ پھیرا جائے (یعنی اکٹھی پڑھی جائیں)، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔“
”ظہر سے پہلے کی وہ چار رکعتیں جن کے درمیان میں سلام نہ پھیرا جائے (یعنی اکٹھی پڑھی جائیں)، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔“
«أربع لا يجزين في الأضاحي: العوراء البين عورها والمريضة البين مرضها والعرجاء البين ظلعها والعجفاء التي لا تنقي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں: ایسا کانا جس کا کانا پن واضح ہو، ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو، ایسا لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، اور ایسا لاغر (کمزور) جس کی ہڈیوں میں گودا تک نہ ہو۔“
”چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں: ایسا کانا جس کا کانا پن واضح ہو، ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو، ایسا لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، اور ایسا لاغر (کمزور) جس کی ہڈیوں میں گودا تک نہ ہو۔“
«أربع من السعادة: المرأة الصالحة والمسكن الواسع والجار الصالح والمركب الهنيء، وأربع من الشقاء: المرأة السوء والجار السوء والمركب السوء والمسكن الضيق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار چیزیں خوش بختی میں سے ہیں: نیک بیوی، کشادہ گھر، نیک پڑوسی اور آرام دہ سواری۔ اور چار چیزیں بدبختی میں سے ہیں: بری بیوی، برا پڑوسی، بری سواری اور تنگ گھر۔“
”چار چیزیں خوش بختی میں سے ہیں: نیک بیوی، کشادہ گھر، نیک پڑوسی اور آرام دہ سواری۔ اور چار چیزیں بدبختی میں سے ہیں: بری بیوی، برا پڑوسی، بری سواری اور تنگ گھر۔“
«أربع من عمل الأحياء تجري للأموات: رجل ترك عقبا صالحا يدعو له ينفعه دعاؤهم ورجل تصدق بصدقة جارية من بعده له أجرها ما جرت بعده ورجل علم علما فعمل به من بعده له مثل أجر من عمل به من غير أن ينقص من أجر من يعمل به شيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”زندوں کے اعمال میں سے چار (ایسے عمل ہیں جن کا ثواب) مردوں کے لیے جاری رہتا ہے: وہ آدمی جس نے نیک اولاد چھوڑی جو اس کے لیے دعا کرتی ہے تو ان کی دعا اسے فائدہ دیتی ہے، وہ آدمی جس نے اپنے پیچھے کوئی صدقہ جاریہ کیا تو جب تک وہ جاری رہے گا اسے اس کا اجر ملتا رہے گا، اور وہ آدمی جس نے علم سکھایا پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اسے عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا جبکہ عمل کرنے والے کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہیں کیا جائے گا۔“
”زندوں کے اعمال میں سے چار (ایسے عمل ہیں جن کا ثواب) مردوں کے لیے جاری رہتا ہے: وہ آدمی جس نے نیک اولاد چھوڑی جو اس کے لیے دعا کرتی ہے تو ان کی دعا اسے فائدہ دیتی ہے، وہ آدمی جس نے اپنے پیچھے کوئی صدقہ جاریہ کیا تو جب تک وہ جاری رہے گا اسے اس کا اجر ملتا رہے گا، اور وہ آدمی جس نے علم سکھایا پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اسے عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا جبکہ عمل کرنے والے کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہیں کیا جائے گا۔“
«أربع من كن فيه كان منافقا خالصا ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا ائتمن خان وإذا حدث كذب وإذا عاهد غدر وإذا خاصم فجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا، اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب عہد کرے تو دھوکہ دے، اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔“
”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا، اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب عہد کرے تو دھوکہ دے، اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔“
«أربع من كن فيه كان منافقا خالصا ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا حدث كذب وإذا وعد أخلف وإذا عاهد غدر وإذا خاصم فجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا، اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، جب عہد کرے تو دھوکہ دے، اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔“
”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا، اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، جب عہد کرے تو دھوکہ دے، اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔“
«أربعون خصلة أعلاهن منحة العنز لا يعمل عبد بخصلة منها رجاء ثوابها وتصديق موعودها إلا أدخله الله تعالى بها الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چالیس نیک خصلتیں ہیں جن میں سب سے اعلیٰ کسی کو دودھ پینے کے لیے بکری کا عطیہ دینا ہے، جو بندہ بھی ان خصلتوں میں سے کسی ایک پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے اور اس پر کیے گئے وعدے کو سچا مانتے ہوئے عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی بدولت اسے جنت میں داخل فرما دے گا۔“
”چالیس نیک خصلتیں ہیں جن میں سب سے اعلیٰ کسی کو دودھ پینے کے لیے بکری کا عطیہ دینا ہے، جو بندہ بھی ان خصلتوں میں سے کسی ایک پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے اور اس پر کیے گئے وعدے کو سچا مانتے ہوئے عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی بدولت اسے جنت میں داخل فرما دے گا۔“
«ارجع إلى أبويك فاستأذنهما فإن أذنا لك فجاهد وإلا فبرهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے والدین کے پاس واپس جاؤ اور ان سے (جہاد میں جانے کی) اجازت طلب کرو، پس اگر وہ تمہیں اجازت دے دیں تو جہاد کرو، ورنہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔“
”اپنے والدین کے پاس واپس جاؤ اور ان سے (جہاد میں جانے کی) اجازت طلب کرو، پس اگر وہ تمہیں اجازت دے دیں تو جہاد کرو، ورنہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔“
«ارجعوا إلى أهليكم فكونوا فيهم وعلموهم ومروهم وصلوا كما رأيتموني أصلي فإذا حضرت الصلاة فليؤذن لكم أحدكم وليؤمكم أكبركم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ اور ان کے درمیان قیام کرو، انہیں (دین) سکھاؤ اور انہیں (نیک باتوں کا) حکم دو، اور تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، پھر جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔“
”اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ اور ان کے درمیان قیام کرو، انہیں (دین) سکھاؤ اور انہیں (نیک باتوں کا) حکم دو، اور تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، پھر جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔“
«أرحامكم أرحامكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے قریبی رشتہ داروں کا خیال رکھو، اپنے قریبی رشتہ داروں کا خیال رکھو (یعنی صلہ رحمی کی پابندی کرو)۔“
”اپنے قریبی رشتہ داروں کا خیال رکھو، اپنے قریبی رشتہ داروں کا خیال رکھو (یعنی صلہ رحمی کی پابندی کرو)۔“
«أرحم أمتي بأمتي أبو بكر وأشدهم في أمر الله عمر وأصدقهم حياء عثمان وأقرؤهم لكتاب الله أبي بن كعب وأفرضهم زيد بن ثابت وأعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل ولكل أمة أمين وأمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے حق میں میری امت کے سب سے زیادہ مہربان شخص ابوبکر ہیں، اللہ کے معاملے (دین) میں ان میں سب سے زیادہ سخت (مضبوط) عمر ہیں، ان میں سب سے سچی حیا والے عثمان ہیں، ان میں کتاب اللہ کے سب سے بہترین قاری ابی بن کعب ہیں، علمِ فرائض (وراثت) کے سب سے بڑے ماہر زید بن ثابت ہیں اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں۔ اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں۔“
”میری امت کے حق میں میری امت کے سب سے زیادہ مہربان شخص ابوبکر ہیں، اللہ کے معاملے (دین) میں ان میں سب سے زیادہ سخت (مضبوط) عمر ہیں، ان میں سب سے سچی حیا والے عثمان ہیں، ان میں کتاب اللہ کے سب سے بہترین قاری ابی بن کعب ہیں، علمِ فرائض (وراثت) کے سب سے بڑے ماہر زید بن ثابت ہیں اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں۔ اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں۔“
«ارحم من في الأرض يرحمك من في السماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو زمین میں ہے اس پر رحم کرو، وہ تم پر رحم کرے گا جو آسمان میں ہے۔“
”جو زمین میں ہے اس پر رحم کرو، وہ تم پر رحم کرے گا جو آسمان میں ہے۔“
«ارحموا ترحموا واغفروا يغفر لكم، ويل لأقماع القول ويل للمصرين الذين يصرون على ما فعلوا وهم يعلمون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(لوگوں پر) رحم کرو تم پر (بھی) رحم کیا جائے گا، اور معاف کرو تمہیں (بھی) معاف کیا جائے گا۔ تباہی ہے بات کو محض سن کر نکال دینے والوں کے لیے، اور ہلاکت ہے ان اڑ جانے والوں (ضد کرنے والوں) کے لیے جو اپنے کیے (گناہوں) پر جان بوجھ کر اصرار کرتے ہیں۔“
”(لوگوں پر) رحم کرو تم پر (بھی) رحم کیا جائے گا، اور معاف کرو تمہیں (بھی) معاف کیا جائے گا۔ تباہی ہے بات کو محض سن کر نکال دینے والوں کے لیے، اور ہلاکت ہے ان اڑ جانے والوں (ضد کرنے والوں) کے لیے جو اپنے کیے (گناہوں) پر جان بوجھ کر اصرار کرتے ہیں۔“
"أرسل ملك الموت إلى موسى فلما جاءه صكه ففقأ
عينه فرجع إلى ربه فقال: أرسلتني إلى عبد لا يريد الموت فرد الله إليه عينه، وقال ارجع إليه وقل له: يضع يده على متن ثور فله بما غطت يده بكل شعرة سنة. قال: أي رب! ثم ماذا؟ قال: ثم الموت. قال: فالآن، فسأل الله أن يدنيه من الأرض المقدسة رمية بحجر فلو كنت ثم لأريتكم قبره إلى جانب الطريق تحت الكثيب الأحمر"
عينه فرجع إلى ربه فقال: أرسلتني إلى عبد لا يريد الموت فرد الله إليه عينه، وقال ارجع إليه وقل له: يضع يده على متن ثور فله بما غطت يده بكل شعرة سنة. قال: أي رب! ثم ماذا؟ قال: ثم الموت. قال: فالآن، فسأل الله أن يدنيه من الأرض المقدسة رمية بحجر فلو كنت ثم لأريتكم قبره إلى جانب الطريق تحت الكثيب الأحمر"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”موت کا فرشتہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بھیجا گیا، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ وہ اپنے رب کے پاس واپس گیا اور عرض کیا: تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو موت نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ ٹھیک کر دی اور فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پیٹھ پر رکھیں، پس جتنے بالوں کو ان کا ہاتھ ڈھانپ لے گا، ہر بال کے بدلے انہیں ایک سال کی عمر ملے گی۔ انہوں نے پوچھا: اے میرے رب! پھر کیا ہوگا؟ اللہ نے فرمایا: پھر موت ہے۔ انہوں نے عرض کیا: تو پھر ابھی (موت دے دے)۔ چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں ارضِ مقدس (بیت المقدس) کے اتنا قریب کر دے جتنا پتھر پھینکنے کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کے کنارے سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر ضرور دکھاتا۔“
”موت کا فرشتہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بھیجا گیا، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ وہ اپنے رب کے پاس واپس گیا اور عرض کیا: تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو موت نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ ٹھیک کر دی اور فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پیٹھ پر رکھیں، پس جتنے بالوں کو ان کا ہاتھ ڈھانپ لے گا، ہر بال کے بدلے انہیں ایک سال کی عمر ملے گی۔ انہوں نے پوچھا: اے میرے رب! پھر کیا ہوگا؟ اللہ نے فرمایا: پھر موت ہے۔ انہوں نے عرض کیا: تو پھر ابھی (موت دے دے)۔ چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں ارضِ مقدس (بیت المقدس) کے اتنا قریب کر دے جتنا پتھر پھینکنے کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کے کنارے سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر ضرور دکھاتا۔“
«أرض الجنة خبزة بيضاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت کی زمین سفید روٹی (کی طرح) ہوگی (یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو ایک بہت بڑی روٹی بنا دے گا جسے اہل جنت کھائیں گے)۔“
”جنت کی زمین سفید روٹی (کی طرح) ہوگی (یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو ایک بہت بڑی روٹی بنا دے گا جسے اہل جنت کھائیں گے)۔“
«ارضخي ما استطعت ولا توعي فيوعي الله عليك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جتنا ہو سکے تھوڑا تھوڑا کر کے (اللہ کی راہ میں) دیتی رہو اور (مال کو) گن گن کر نہ رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر بند کر دے گا۔“
”جتنا ہو سکے تھوڑا تھوڑا کر کے (اللہ کی راہ میں) دیتی رہو اور (مال کو) گن گن کر نہ رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر بند کر دے گا۔“
«أرضوا مصدقيكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے صدقات (زکوٰۃ) وصول کرنے والوں کو راضی رکھو۔“
”اپنے صدقات (زکوٰۃ) وصول کرنے والوں کو راضی رکھو۔“
«ارفع إزارك واتق الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی ازار (تہبند یا شلوار) کو (ٹخنوں سے) اونچا رکھو اور اللہ سے ڈرو۔“
”اپنی ازار (تہبند یا شلوار) کو (ٹخنوں سے) اونچا رکھو اور اللہ سے ڈرو۔“
«ارفعوا عن بطن عرنة وارفعوا عن بطن محسر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وادی عرنہ کے نشیبی حصے سے ہٹ کر رہو اور وادی محسر کے نشیبی حصے سے بھی ہٹ کر رہو۔“
”وادی عرنہ کے نشیبی حصے سے ہٹ کر رہو اور وادی محسر کے نشیبی حصے سے بھی ہٹ کر رہو۔“
«ارفعوا عن بطن محسر وعليكم بمثل حصا الخذف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وادی محسر کے نشیبی حصے سے ہٹ کر رہو اور (رمی کے لیے) چٹکی سے پھینکی جانے والی چھوٹی کنکریاں استعمال کرو۔“
”وادی محسر کے نشیبی حصے سے ہٹ کر رہو اور (رمی کے لیے) چٹکی سے پھینکی جانے والی چھوٹی کنکریاں استعمال کرو۔“
«أرقاءكم أرقاءكم فأطعموهم مما تأكلون وألبسوهم مما تلبسون وإن جاءوا بذنب لا تريدون أن تغفروه فبيعوا عباد الله ولا تعذبوهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے ماتحتوں (غلاموں) کا خیال رکھو، اپنے ماتحتوں کا خیال رکھو! انہیں وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو، اور اگر وہ کوئی ایسا گناہ (یا غلطی) کر بیٹھیں جسے تم معاف نہیں کرنا چاہتے تو اللہ کے ان بندوں کو فروخت کر دو، لیکن انہیں سزائیں (تکلیفیں) نہ دو۔“
”اپنے ماتحتوں (غلاموں) کا خیال رکھو، اپنے ماتحتوں کا خیال رکھو! انہیں وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو، اور اگر وہ کوئی ایسا گناہ (یا غلطی) کر بیٹھیں جسے تم معاف نہیں کرنا چاہتے تو اللہ کے ان بندوں کو فروخت کر دو، لیکن انہیں سزائیں (تکلیفیں) نہ دو۔“
«ارقي ما لم يكن شرك بالله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم (علاج کے لیے) دم کر سکتے ہو جب تک کہ اس میں اللہ کے ساتھ شرک نہ ہو۔“
”تم (علاج کے لیے) دم کر سکتے ہو جب تک کہ اس میں اللہ کے ساتھ شرک نہ ہو۔“
«اركبوا الهدي بالمعروف حتى تجدوا ظهرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم قربانی کے جانوروں پر حسبِ ضرورت مناسب طریقے سے سواری کر لیا کرو، یہاں تک کہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔“
”تم قربانی کے جانوروں پر حسبِ ضرورت مناسب طریقے سے سواری کر لیا کرو، یہاں تک کہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔“
«اركبوا هذه الدواب سالمة واتدعوها سالمة ولا تتخذوها كراسي لأحاديثكم في الطرق والأسواق فرب مركوبة خير من راكبها وأكثر ذكرا منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ان سواری کے جانوروں پر ان کے صحیح سلامت ہونے کی حالت میں سواری کیا کرو اور انہیں صحیح سلامت حالت میں ہی چھوڑا کرو، اور راستوں اور بازاروں میں اپنی گفتگو کے دوران انہیں کرسیاں مت بناؤ (یعنی ان پر بیٹھ کر طویل باتیں نہ کیا کرو)، کیونکہ بسا اوقات جس جانور پر سواری کی جا رہی ہوتی ہے وہ اپنے سوار سے بہتر ہوتا ہے اور اس سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا ہوتا ہے۔“
”ان سواری کے جانوروں پر ان کے صحیح سلامت ہونے کی حالت میں سواری کیا کرو اور انہیں صحیح سلامت حالت میں ہی چھوڑا کرو، اور راستوں اور بازاروں میں اپنی گفتگو کے دوران انہیں کرسیاں مت بناؤ (یعنی ان پر بیٹھ کر طویل باتیں نہ کیا کرو)، کیونکہ بسا اوقات جس جانور پر سواری کی جا رہی ہوتی ہے وہ اپنے سوار سے بہتر ہوتا ہے اور اس سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا ہوتا ہے۔“
«اركعوا هاتين الركعتين في بيوتكم: السبحة بعد المغرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ان دو رکعتوں یعنی مغرب کے بعد کی سنتوں کو اپنے گھروں میں ادا کیا کرو۔“
”ان دو رکعتوں یعنی مغرب کے بعد کی سنتوں کو اپنے گھروں میں ادا کیا کرو۔“
«ارموا الجمرة بمثل حصى الخذف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جمرہ پر (رمی کے لیے) چٹکی سے پھینکی جانے والی چھوٹی کنکریوں جیسی کنکریاں مارا کرو۔“
”جمرہ پر (رمی کے لیے) چٹکی سے پھینکی جانے والی چھوٹی کنکریوں جیسی کنکریاں مارا کرو۔“
«ارموا بني إسماعيل فإن أباكم كان راميا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کیا کرو، کیونکہ بلاشبہ تمہارے باپ (سیدنا اسماعیل علیہ السلام) بھی بہترین تیر انداز تھے۔“
”اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کیا کرو، کیونکہ بلاشبہ تمہارے باپ (سیدنا اسماعیل علیہ السلام) بھی بہترین تیر انداز تھے۔“
«أرواح المؤمنين في أجواف طير خضر تعلق في أشجار الجنة حتى يردها الله إلى أجسادها يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومنوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹ میں ہوتی ہیں جو جنت کے درختوں کا پھل کھاتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان روحوں کو ان کے جسموں کی طرف لوٹا دے گا۔“
”مومنوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹ میں ہوتی ہیں جو جنت کے درختوں کا پھل کھاتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان روحوں کو ان کے جسموں کی طرف لوٹا دے گا۔“
«أريت الجنة فرأيت امرأة أبي طلحة ثم سمعت خشخشة أمامي فإذا بلال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے اس میں ابوطلحہ کی زوجہ محترمہ کو دیکھا، پھر میں نے اپنے آگے چلنے کی آہٹ سنی تو وہ بلال تھے۔“
”مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے اس میں ابوطلحہ کی زوجہ محترمہ کو دیکھا، پھر میں نے اپنے آگے چلنے کی آہٹ سنی تو وہ بلال تھے۔“
«أريت قوما من أمتي يركبون ظهر البحر كالملوك على الأسرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے جو سمندر کی سطح پر اس طرح سوار ہو کر سفر کر رہے تھے جیسے بادشاہ اپنے تختوں پر جلوہ افروز ہوتے ہیں۔“
”مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے جو سمندر کی سطح پر اس طرح سوار ہو کر سفر کر رہے تھے جیسے بادشاہ اپنے تختوں پر جلوہ افروز ہوتے ہیں۔“
«أريتك في المنام مرتين يحملك الملك في سرقة من حرير فيقول: هذه امرأتك فأكشف عنها فإذا أنت هي فأقول: إن يكن هذا من عند الله يمضه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے تم دو مرتبہ خواب میں دکھائی گئی ہو۔ ایک فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھا کر لاتا اور کہتا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں۔ جب میں اس سے پردہ ہٹاتا تو وہ تم ہی ہوتیں۔ اس پر میں کہتا کہ اگر یہ (خواب) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور پورا فرمائے گا۔“
”مجھے تم دو مرتبہ خواب میں دکھائی گئی ہو۔ ایک فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھا کر لاتا اور کہتا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں۔ جب میں اس سے پردہ ہٹاتا تو وہ تم ہی ہوتیں۔ اس پر میں کہتا کہ اگر یہ (خواب) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور پورا فرمائے گا۔“
«أريت ليلة القدر ثم أنسيتها وأراني صبيحتها أسجد في ماء وطين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے شبِ قدر دکھائی گئی لیکن پھر وہ مجھے بھلا دی گئی، البتہ میں نے خود کو اس کی صبح پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
”مجھے شبِ قدر دکھائی گئی لیکن پھر وہ مجھے بھلا دی گئی، البتہ میں نے خود کو اس کی صبح پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
«أريت ليلة القدر ثم أيقظني بعض أهلي فنسيتها فالتمسوها في العشر الغوابر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے شبِ قدر دکھائی گئی تھی، پھر میرے گھر والوں میں سے کسی نے مجھے جگا دیا تو میں اسے بھول گیا، لہٰذا اب تم اسے (رمضان کی) بقیہ آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔“
”مجھے شبِ قدر دکھائی گئی تھی، پھر میرے گھر والوں میں سے کسی نے مجھے جگا دیا تو میں اسے بھول گیا، لہٰذا اب تم اسے (رمضان کی) بقیہ آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔“
«أريت ما تلقى أمتي من بعدي وسفك بعضهم دماء بعض وكان ذلك سابقا من الله كما سبق في الأمم قبلهم فسألته أن يوليني شفاعة فيهم يوم القيامة ففعل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے وہ حالات دکھائے گئے جن سے میرے بعد میری امت دوچار ہوگی اور وہ آپس میں ایک دوسرے کا خون بہائیں گے، اور یہ اللہ کی طرف سے پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا جیسا کہ ان سے پہلی امتوں کے معاملے میں ہوا۔ چنانچہ میں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ قیامت کے دن مجھے ان کے حق میں شفاعت کا اختیار عطا فرمائے، تو اس نے میری یہ التجا قبول فرما لی۔“
”مجھے وہ حالات دکھائے گئے جن سے میرے بعد میری امت دوچار ہوگی اور وہ آپس میں ایک دوسرے کا خون بہائیں گے، اور یہ اللہ کی طرف سے پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا جیسا کہ ان سے پہلی امتوں کے معاملے میں ہوا۔ چنانچہ میں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ قیامت کے دن مجھے ان کے حق میں شفاعت کا اختیار عطا فرمائے، تو اس نے میری یہ التجا قبول فرما لی۔“
…