حدیث نمبر: 881
"أربعة يحتجون يوم القيامة: رجل أصم لا يسمع شيئا ورجل أحمق ورجل هرم ورجل مات في فترة: فأما الأصم فيقول: رب لقد جاء الإسلام وما أسمع شيئا وأما الأحمق فيقول: رب جاء الإسلام وما أعقل شيئا والصبيان يحذفونني بالبعر، وأما الهرم فيقول: رب لقد جاء الإسلام وما أعقل شيئا، وأما الذي مات في الفترة فيقول: رب ما أتاني لك رسول فيأخذ مواثيقهم ليطيعنه، فيرسل إليهم أن ادخلوا النار فمن
دخلها كانت عليه بردا وسلاما ومن لم يدخلها سحب إليها"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار لوگ قیامت کے دن حجت (عذر) پیش کریں گے: ایک وہ بہرا شخص جو کچھ نہ سنتا ہو، ایک احمق (پاگل) شخص، ایک انتہائی بوڑھا شخص، اور ایک وہ شخص جو فترت (دو رسولوں کے درمیانی وقفے) میں فوت ہوا۔ بہرا کہے گا: اے رب! اسلام آیا لیکن میں کچھ نہیں سن سکتا تھا۔ احمق کہے گا: اے رب! اسلام آیا لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں تھی اور بچے مجھ پر مینگنیاں پھینکتے تھے۔ انتہائی بوڑھا کہے گا: اے رب! اسلام آیا لیکن میری عقل کام نہیں کرتی تھی۔ اور فترت میں مرنے والا کہے گا: اے رب! میرے پاس تیرا کوئی رسول نہیں آیا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان سے عہد لے گا کہ وہ ضرور اس کی اطاعت کریں گے، چنانچہ وہ ان کی طرف پیغام بھیجے گا کہ آگ میں داخل ہو جاؤ۔ تو جو اس میں داخل ہو جائے گا وہ اس کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی اور جو اس میں داخل نہیں ہوگا اسے گھسیٹ کر اس میں ڈال دیا جائے گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 881
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب] عن الأسود بن سريع وأبي هريرة. الصحيحة ١٤٣٤: ابن أبي عاصم طب، الضياء.