حدیث نمبر: 884
«أربع في أمتي من أمر الجاهلية لم يدعهن الناس: الطعن في الأنساب والنياحة على الميت والأنواء مطرنا بنوء كذا وكذا والإعداء جرب بعير فأجرب مئة بعير فمن أجرب البعير الأول» ؟!
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں جاہلیت کی چار باتیں ایسی ہیں جنہیں لوگ ترک نہیں کریں گے: نسب پر طعنہ زنی کرنا، میت پر نوحہ کرنا، ستاروں سے بارش منسوب کرنا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی، اور بیماری لگنے کا عقیدہ کہ ایک اونٹ کو خارش ہوتی ہے تو وہ سو اونٹوں کو خارش زدہ کر دیتا ہے، (اگر ایسا ہے تو) پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ کیا تھا؟!“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 884
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت] عن أبي هريرة. الصحيحة ٧٣٥.