صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"أرسل ملك الموت إلى موسى فلما جاءه صكه ففقأ
عينه فرجع إلى ربه فقال: أرسلتني إلى عبد لا يريد الموت فرد الله إليه عينه، وقال ارجع إليه وقل له: يضع يده على متن ثور فله بما غطت يده بكل شعرة سنة. قال: أي رب! ثم ماذا؟ قال: ثم الموت. قال: فالآن، فسأل الله أن يدنيه من الأرض المقدسة رمية بحجر فلو كنت ثم لأريتكم قبره إلى جانب الطريق تحت الكثيب الأحمر"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”موت کا فرشتہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بھیجا گیا، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ وہ اپنے رب کے پاس واپس گیا اور عرض کیا: تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو موت نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ ٹھیک کر دی اور فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پیٹھ پر رکھیں، پس جتنے بالوں کو ان کا ہاتھ ڈھانپ لے گا، ہر بال کے بدلے انہیں ایک سال کی عمر ملے گی۔ انہوں نے پوچھا: اے میرے رب! پھر کیا ہوگا؟ اللہ نے فرمایا: پھر موت ہے۔ انہوں نے عرض کیا: تو پھر ابھی (موت دے دے)۔ چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں ارضِ مقدس (بیت المقدس) کے اتنا قریب کر دے جتنا پتھر پھینکنے کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کے کنارے سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر ضرور دکھاتا۔“