کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إذا صلى أحدكم الجمعة فلا يصل بعدها شيئا حتى يتكلم أو يخرج»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کی نماز پڑھ لے تو وہ اس کے بعد اس وقت تک کوئی (نفل و سنت) نماز نہ پڑھے جب تک کہ وہ کوئی بات نہ کر لے یا (مسجد سے) باہر نہ نکل جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 639
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عصمة بن مالك. الصحيحة ١٣٢٩.
«إذا صلى أحدكم الجمعة فليصل بعدها أربعا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کی نماز پڑھ لے تو اسے چاہیے کہ اس کے بعد چار رکعتیں (سنتیں) پڑھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 640
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن أبي هريرة. الأجوبة النافعة ٣٦، الإرواء ٦٢٥.
«إذا صلى أحدكم فليصل إلى سترة وليدن منها ولا يدع أحدا يمر بين يديه فإن جاء أحد يمر فليقاتله فإنما هو شيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ وہ سترہ (آڑ) کی طرف منہ کر کے پڑھے اور اس کے قریب ہو کر کھڑا ہو، اور کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے، پس اگر کوئی گزرنے لگے تو وہ اس سے سختی سے پیش آئے، کیونکہ وہ شیطان ہی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 641
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د هـ حب هق] عن أبي سعيد. صحيح أبي داود ٦٩٤، ٦٩٥١.
«إذا صلى أحدكم ركعتي الفجر فليضطجع على جنبه الأيمن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص فجر کی (سنتوں کی) دو رکعتیں پڑھ لے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 642
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت حب] عن أبي هريرة. المشكاة ١٢٠٦، صحيح أبي داود ١١٤٦: ابن خزيمة.
«إذا صلى أحدكم فخلع نعليه فلا يؤذ بهما أحدا ليجعلهما بين رجليه أو ليصل فيهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور اپنے جوتے اتارے، تو وہ ان کے ذریعے کسی کو تکلیف نہ پہنچائے، اسے چاہیے کہ وہ انہیں اپنے دونوں پیروں کے درمیان رکھ لے یا پھر انہیں پہن کر ہی نماز پڑھ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 643
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د حب ك هق] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٦٦٢، صفة الصلاة ٦٠.
«إذا صلى أحدكم فلا يبصق بين يديه ولا عن يمينه وليبصق عن يساره أو تحت قدمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو وہ اپنے آگے یا اپنی دائیں جانب نہ تھوکے، بلکہ اسے چاہیے کہ وہ اپنی بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 644
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب] عن جابر [ن] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٤٩٧ عن طارق.
«إذا صلى أحدكم فلا يضع نعليه عن يمينه ولا عن يساره فتكون عن يمين غيره إلا أن لا يكون عن يساره أحد وليضعها بين رجليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو وہ اپنے جوتے اپنی دائیں جانب یا بائیں جانب نہ رکھے کہ وہ کسی دوسرے کی دائیں جانب ہو جائیں، سوائے اس کے کہ اس کی بائیں جانب کوئی نہ ہو۔ اور اسے چاہیے کہ وہ انہیں اپنے پیروں کے درمیان رکھ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 645
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك هق] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٦٦٢، صفة الصلاة ٦١.
«إذا صلى أحدكم فلم يدري كيف صلى فليسجد سجدتين وهو جالس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور اسے یہ معلوم نہ رہے کہ اس نے کیسی نماز پڑھی ہے (یعنی رکعتوں کی تعداد میں شک ہو جائے)، تو وہ بیٹھی ہوئی حالت میں (سجدہ سہو کے) دو سجدے کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 646
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت هـ] عن أبي سعيد. الصحيحة ١٣٦٢: حم، د.
«إذا صلى أحدكم فليأتزر وليرتد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ وہ تہبند باندھے اور چادر بھی اوڑھے (یعنی لباس مکمل اور باوقار ہو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 647
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب هق] عن ابن عمر. صحيح أبي داود ٦٤٥: الطحاوي.
«إذا صلى أحدكم فليبدأ بتحميد الله تعالى والثناء عليه ثم ليصل على النبي ثم ليدع بعد بما شاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص (نماز میں یا ویسے) دعا مانگے تو اسے چاہیے کہ وہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی ثناء سے آغاز کرے، پھر نبی (ﷺ) پر درود بھیجے، پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 648
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت حب ك هق] عن فضالة بن عبيد. صفة الصلاة ٧٢، صحيح أبي داود ١٣٣١: حم، ن.
"إذا صلى أحدكم فليتم ركوعه ولا ينقر في سجوده فإنما مثل ذلك كمثل الجائع يأكل التمرة والتمرتين فماذا يغنيان عنه".؟
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا رکوع مکمل (اور اطمینان سے) کرے اور اپنے سجدے میں (کوے کی طرح) ٹھونگیں نہ مارے۔ کیونکہ اس (ٹھونگیں مارنے والے) کی مثال اس بھوکے شخص جیسی ہے جو ایک یا دو کھجوریں کھاتا ہے، پس وہ اسے کیا فائدہ دے سکتی ہیں (یعنی اس کی بھوک کیا مٹائیں گی)؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 649
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [تمام ابن عساكر] عن أبي عبد الله الأشعري. صفة الصلاة ١٢٦: أبو يعلى، طب، هق.
«إذا صلى أحدكم فليصل إلى سترة وليدن من سترته لا يقطع الشيطان عليه صلاته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو وہ سترہ (آڑ) کی طرف منہ کر کے پڑھے اور اپنے سترہ کے قریب ہو کر کھڑا ہو، تاکہ شیطان اس کی نماز کو منقطع (خراب) نہ کر سکے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 650
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن حب ك] عن سهل بن أبي حثمة. المشكاة ٧٨٢، صحيح أبي داود ٦٩٢، الصحيحة ١٣٧٣: هق.
«إذا صلى أحدكم فليصل إلى سترة وليدن منها ولا يدع أحدا يمر بين يديه فإن جاء أحد يمر فليقاتله فإنه شيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ وہ سترہ (آڑ) کی طرف منہ کر کے پڑھے اور اس کے قریب ہو کر کھڑا ہو، اور کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے، پس اگر کوئی گزرنے لگے تو وہ اس سے سختی سے پیش آئے، کیونکہ وہ شیطان ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 651
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د هـ حب هق] عن أبي سعيد. صحيح أبي داود ٦٩٥ صفة الصلاة ٦٣.*
«إذا صلى أحدكم فليلبس ثوبيه فإن الله تعالى أحق من تزين له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے دونوں کپڑے (ازار اور چادر) پہنے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کے لیے زینت اختیار کی جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 652
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن ابن عمر. الصحيحة ١٣٦٩: الطحاوي، هق.
«إذا صلى أحدكم فليلبس نعليه أو ليخلعهما بين رجليه ولا يؤذ بهما غيره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے جوتے پہن کر پڑھے یا پھر انہیں اتار کر اپنے دونوں پیروں کے درمیان رکھ لے اور ان کے ذریعے کسی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 653
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. صفة الصلاة ٦١صحيح أبي داود ٦٦٢.
«إذا صلى أحدكم في بيته ثم دخل المسجد والقوم يصلون فليصل معهم تكون له نافلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے اور پھر مسجد میں داخل ہو اور لوگ (باجماعت) نماز پڑھ رہے ہوں، تو وہ ان کے ساتھ نماز پڑھ لے، یہ اس کے لیے نفل ہو جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 654
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عبد الله بن سرجس. الإرواء ٥٣٤.
«إذا صلى أحدكم في ثوب واحد فليخالف بطرفيه على عاتقيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھے، تو اسے چاہیے کہ اس کے دونوں کناروں کو اپنے کندھوں پر مخالفت کے ساتھ (یعنی دایاں کنارہ بائیں کندھے پر اور بایاں دائیں پر) ڈال لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 655
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د حب] عن أبي هريرة [حم] عن أبي سعيد. صحيح أبي داود ٦٣٨:خ.
«إذا صلى أحدكم في ثوب واحد فليشده على حقويه ولا تشتملوا كاشتمال اليهود»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنی کمر (اور کولہوں) پر مضبوطی سے باندھ لے، اور یہودیوں کی طرح کپڑا نہ لپیٹو (کہ کندھے ننگے رہیں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 656
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك هق] عن ابن عمر. صحيح أبي داود ٦٤٥: د.
«إذا صلى أحدكم في رحله ثم أدرك الإمام ولم يصل فليصل معه فإنها له نافلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی قیام گاہ میں نماز پڑھ لے اور پھر امام کو پائے جبکہ اس (امام) نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو، تو وہ اس کے ساتھ نماز پڑھ لے، کیونکہ یہ اس کے لیے نفل ہو گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 657
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك هق] عن يزيد بن الأسود. صحيح أبي داود ٥٩٠، الإرواء ٥٣٤.
«إذا صلى أحدكم للناس فليخفف فإن فيهم الضعيف والسقيم والكبير وإذا صلى أحدكم لنفسه فليطول ما شاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو اسے چاہیے کہ وہ ہلکی (مختصر) پڑھائے، کیونکہ ان میں کمزور، بیمار اور بوڑھے لوگ بھی ہوتے ہیں، اور جب تم میں سے کوئی شخص اکیلے نماز پڑھے تو جتنا چاہے لمبا کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 658
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق د ن] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٧٥٩، ٧٦٠، الإرواء ٥١٢، رياض الصالحين ٢٣٣.
«إذا صلى الأمير* جالسا فصلوا جلوسا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب امیر (یعنی امام) بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 659
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ش] عن معاوية. آداب الزفاف ١٨٠ - ١٨٢.
«إذا صلت المرأة خمسها وصامت شهرها وحصنت فرجها وأطاعت زوجها قيل لها: ادخلي الجنة من أي أبواب الجنة شئت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب عورت اپنی پانچوں وقت کی نمازیں پڑھے، اپنے مہینے (رمضان) کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے، تو اس سے کہا جائے گا: تم جنت کے جس دروازے سے چاہو جنت میں داخل ہو جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 660
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب] عن أبي هريرة. آداب الزفاف ١٨٠ - ١٨٢.
"إذا صلت المرأة خمسها وصامت شهرها وحفظت
فرجها وأطاعت زوجها دخلت الجنة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب عورت اپنی پانچوں وقت کی نمازیں پڑھے، اپنے مہینے (رمضان) کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرے، تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 661
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن أنس [حم] عن عبد الرحمن الزهري [طب] عن عبد الرحمن ابن حسنة. تخريج الترغيب ٣/٧٣، آداب الزفاف ١٨٠ - ١٨٢.
«إذا صلوا على جنازة فأثنوا خيرا يقول الرب: أجزت شهادتهم فيما يعلمون وأغفر له ما لا يعلمون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب لوگ کسی جنازے پر نماز پڑھیں اور اس (میت) کی اچھائی بیان کریں، تو پروردگار فرماتا ہے: میں نے ان کی گواہی اس حد تک قبول کر لی جو وہ جانتے ہیں، اور میں اس کے وہ گناہ معاف کر دیتا ہوں جو وہ نہیں جانتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 662
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [تخ] عن الربيع بنت معوذ. الصحيحة ١٣٦٤.
«إذا صليت الصبح فأمسك عن الصلاة حتى تطلع الشمس فإنها تطلع بين قرني الشيطان فإذا طلعت فصل فإن الصلاة محضورة متقبلة حتى تعتدل على رأسك مثل الرمح فأمسك فإن تلك الساعة التي تسجر فيها جهنم وتفتح فيها أبوابها حتى ترتفع الشمس على حاجبك الأيمن فإذا زالت عن حاجبك الأيمن فصل فإن الصلاة محضورة متقبلة حتى تصلي العصر ثم دع الصلاة حتى تغيب الشمس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم صبح (فجر) کی نماز پڑھ لو تو نماز پڑھنے سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج نکل آئے، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پس جب وہ نکل آئے تو نماز پڑھو، کیونکہ اس وقت کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ مقبول ہوتی ہے یہاں تک کہ سورج تمہارے سر پر نیزے کی طرح سیدھا آ جائے، پھر (نماز سے) رک جاؤ، کیونکہ یہ وہ وقت ہے جب جہنم کو دھکایا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھولے جاتے ہیں، یہاں تک کہ سورج تمہارے دائیں بھنویں (یعنی زوال کے بعد) کی طرف ڈھل جائے، پس جب وہ دائیں جانب ڈھل جائے تو نماز پڑھو، کیونکہ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ مقبول ہوتی ہے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو، پھر نماز چھوڑ دو یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 663
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ١ ك] عن صفوان بن المعطل. الصحيحة ١٣٧١: ابن خزيمة، أبو يعلى، وحب
«إذا صليت فلا تبزقن بين يديك ولا عن يمينك ولكن ابزق تلقاء شمالك إن كان فارغا وإلا فتحت قدمك اليسرى وادلكه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم نماز پڑھو تو اپنے آگے یا اپنی دائیں جانب ہرگز نہ تھوکو، بلکہ اپنی بائیں جانب تھوکو اگر وہ جگہ خالی ہو، ورنہ اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکو اور اسے رگڑ دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 664
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٤ حب ك] عن طارق بن عبد الله المحاربي. الصحيحة ١٢٢٣، صحيح أبي داود ٤٩٧: الطيالسي، هق.
«إذا صليت فلا تبسط ذراعيك بسط السبع وادعم على راحتيك وجاف مرفقيك عن ضبعيك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم نماز پڑھو تو (سجدے میں) اپنے بازوؤں کو درندے کی طرح (زمین پر) نہ بچھاؤ، بلکہ اپنی ہتھیلیوں پر ٹیک لگاؤ اور اپنی کہنیوں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 665
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عمر. مجمع الزوائد ٢/١٢٦، صفة الصلاة ١٢٦، ك، الضياء.
«إذا صليتما في رحالكما ثم أتيتما الإمام فصليا معه فتكون لكما نافلة والتي في رحالكما فريضة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم دونوں اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو اور پھر امام کے پاس آؤ، تو اس کے ساتھ بھی نماز پڑھ لو، پس یہ (دوسری نماز) تمہارے لیے نفل ہو گی اور جو تم نے اپنی قیام گاہوں میں پڑھی وہ فرض ہو گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 666
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [فر] عن ابن عمرو. صحيح أبي داود ٥٩٠.
«إذا صليتما في رحالكما ثم أتيتما مسجد جماعة فصليا معهم فإنها لكما نافلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم دونوں اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو اور پھر کسی جماعت والی مسجد میں آؤ، تو ان لوگوں کے ساتھ بھی نماز پڑھ لو، کیونکہ یہ تمہارے لیے نفل ہو گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 667
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن هق] عن يزيد بن الأسود. صحيح أبي داود ٥٩٠: د، الدارمي، حب، الطحاوي، قط، ك.
«إذا صليتم الجمعة فصلوا بعدها أربعا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم جمعہ کی نماز پڑھ لو تو اس کے بعد چار رکعتیں (سنتیں) پڑھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 668
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د هـ] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ١٠٣٦، الإرواء ٦٢٥: م.
«إذا صليتم على الميت فأخلصوا له الدعاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میت پر نماز (جنازہ) پڑھو تو اس کے لیے خلوصِ دل سے دعا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 669
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د هـ حب] عن أبي هريرة. الإرواء ٧٣٢، المشكاة ١٦٧٤، الجنائز ١٢٣: هق.
«إذا صليتم علي فقولوا: اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم وبارك على محمد النبي الأمي وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم مجھ پر درود بھیجو تو یوں کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» (اے اللہ! نبیِ امی محمد (ﷺ) اور آلِ محمد پر درود نازل فرما، جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آلِ ابراہیم پر درود نازل فرمایا، اور نبیِ امی محمد (ﷺ) اور آلِ محمد پر برکت نازل فرما، جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، یقیناً تو بہت تعریف کے لائق اور بڑی بزرگی والا ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 670
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم حب قط هق] عن أبي مسعود. فضل الصلاة ٥٦: د.
«إذا صليتم فاتزروا وارتدوا ولا تشبهوا باليهود»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم نماز پڑھو تو تہبند باندھو اور چادر اوڑھو، اور یہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 671
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عد] عن ابن عمر. صحيح أبي داود ٦٤٥: حم، د، الطحاوي، هق.
"إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذا قرأ فأنصتوا وإذا قال: {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} فقولوا: آمين يحبكم الله وإذا كبر وركع فكبروا واركعوا فإن الإمام يركع قبلكم ويرفع قبلكم فتلك بتلك، وإذا قال: سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا لك الحمد يسمع الله لكم وإذا كبر وسجد فكبروا واسجدوا فإن الإمام يسجد قبلكم ويرفع قبلكم فتلك بتلك، وإذا كان عند القعدة فليكن من أول قول أحدكم التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمد عبده ورسوله"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرو، پھر تم میں سے کوئی ایک تمہاری امامت کرائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو، اور جب وہ قراءت کرے تو خاموش رہو، اور جب وہ ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم «آمِينَ» کہو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم تکبیر کہو اور رکوع کرو، کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے اور تم سے پہلے سر اٹھاتا ہے تو یہ اس کے برابر ہو جائے گا، اور جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو، اللہ تمہاری سنے گا، اور جب وہ تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم تکبیر کہو اور سجدہ کرو، کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے اور تم سے پہلے سر اٹھاتا ہے تو یہ اس کے برابر ہو جائے گا، اور جب قعدہ (تشہد) کا وقت ہو تو تم میں سے ہر ایک کا پہلا کلام یہ ہونا چاہیے: «التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 672
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن هـ] عن أبي موسى. صحيح أبي داود ٨٩٣، الإرواء ٣٣٢.
«إذا صمت من الشهر ثلاثا فصم ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم مہینے کے تین روزے رکھو تو تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ رکھا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 673
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن حب] عن أبي ذر. صحيح الترغيب ١٠٢٨ وزاد ابن ماجه رياض الصالحين ١٢٧٠، ابن خزيمة، هق.
«إذا ضرب أحدكم خادمه فليتق الوجه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے خادم کو مارے (سزا دے) تو اسے چاہیے کہ وہ (اس کے) چہرے پر مارنے سے بچے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 674
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة. الصحيحة ٨٦٠، المشكاة ٣٦٣١.
«إذا ضن الناس بالدينار والدرهم وتبايعوا بالعينة وتبعوا أذناب البقر وتركوا الجهاد في سبيل الله أدخل الله تعالى عليهم ذلا لا يرفعه عنهم حتى يراجعوا دينهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب لوگ دینار و درہم کے معاملے میں بخل کرنے لگیں، اور عینہ (سود کی ایک قسم) کے ذریعے خرید و فروخت کرنے لگیں، اور گایوں کی دمیں پکڑ کر ان کے پیچھے چلنے لگیں (یعنی کھیتی باڑی اور دنیاوی مال میں مگن ہو جائیں)، اور اللہ کی راہ میں جہاد کو چھوڑ دیں، تو اللہ تعالیٰ ان پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جسے وہ اس وقت تک دور نہیں کرے گا جب تک کہ وہ اپنے دین کی طرف واپس نہ لوٹ آئیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 675
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب هب] عن ابن عمر. الصحيحة ١١.
«إذا طبخ أحدكم قدرا فليكثر مرقها ثم ليناول جاره منها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص ہنڈیا پکائے تو اس کا شوربہ زیادہ کر لے، پھر اس میں سے اپنے پڑوسی کو بھی دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 676
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طص] عن جابر. الصحيحة ١٣٦٨.
"إذا طبختم اللحم فأكثروا المرق فإنه أوسع وأبلغ
للجيران"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم گوشت پکاؤ تو اس کا شوربہ زیادہ کر لو، کیونکہ یہ (برکت میں) وسعت کا باعث ہے اور پڑوسیوں تک پہنچانے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 677
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ش] عن جابر. الصحيحة ١٣٦٨: حم، تمام، البزار.
«إذا طلع الفجر فلا صلاة إلا ركعتي الفجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب فجر طلوع ہو جائے تو فجر کی دو رکعتوں (سنتوں) کے سوا کوئی اور (نفل) نماز نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 678
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن أبي هريرة. الإرواء ٤٧٨.