حدیث نمبر: 663
«إذا صليت الصبح فأمسك عن الصلاة حتى تطلع الشمس فإنها تطلع بين قرني الشيطان فإذا طلعت فصل فإن الصلاة محضورة متقبلة حتى تعتدل على رأسك مثل الرمح فأمسك فإن تلك الساعة التي تسجر فيها جهنم وتفتح فيها أبوابها حتى ترتفع الشمس على حاجبك الأيمن فإذا زالت عن حاجبك الأيمن فصل فإن الصلاة محضورة متقبلة حتى تصلي العصر ثم دع الصلاة حتى تغيب الشمس»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم صبح (فجر) کی نماز پڑھ لو تو نماز پڑھنے سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج نکل آئے، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پس جب وہ نکل آئے تو نماز پڑھو، کیونکہ اس وقت کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ مقبول ہوتی ہے یہاں تک کہ سورج تمہارے سر پر نیزے کی طرح سیدھا آ جائے، پھر (نماز سے) رک جاؤ، کیونکہ یہ وہ وقت ہے جب جہنم کو دھکایا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھولے جاتے ہیں، یہاں تک کہ سورج تمہارے دائیں بھنویں (یعنی زوال کے بعد) کی طرف ڈھل جائے، پس جب وہ دائیں جانب ڈھل جائے تو نماز پڑھو، کیونکہ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ مقبول ہوتی ہے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو، پھر نماز چھوڑ دو یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 663
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ١ ك] عن صفوان بن المعطل. الصحيحة ١٣٧١: ابن خزيمة، أبو يعلى، وحب