«* ... لا تقوموا حتى تروني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تک تم مجھے نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہو۔“
”جب تک تم مجھے نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہو۔“
«يا بلال! أقم الصلاة أرحنا بها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بلال! نماز کھڑی کرو، اس کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ۔“
”اے بلال! نماز کھڑی کرو، اس کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ۔“
«يا بلال! قم فأذن: لا يدخل الجنة إلا مؤمن وإن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بلال! کھڑے ہو کر اعلان کر دو: جنت میں صرف مومن ہی داخل ہو گا، اور اللہ اس دین کو بدکار آدمی کے ذریعے بھی تقویت پہنچاتا ہے۔“
”اے بلال! کھڑے ہو کر اعلان کر دو: جنت میں صرف مومن ہی داخل ہو گا، اور اللہ اس دین کو بدکار آدمی کے ذریعے بھی تقویت پہنچاتا ہے۔“
" يا بلال! بم سبقتني إلى الجنة؟ ما دخلت الجنة قط إلا سمعت خشخشتك أمامي إني دخلت البارحة الجنة فسمعت خشخشتك أمامي فأتيت على قصر مربع مشرف من ذهب فقلت: لمن هذا القصر؟ قالوا: لرجل من قريش فقلت: أنا قرشي لمن هذا القصر؟ قالوا لرجل من أمة محمد فقلت: أنا محمد لمن هذا القصر؟ قالوا: لعمر بن الخطاب "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بلال! تم کس عمل کی وجہ سے جنت میں مجھ سے آگے نکل گئے؟ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا مجھے اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنائی دی۔ میں کل رات جنت میں داخل ہوا تو مجھے اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنائی دی، پھر میں ایک چوکور، بلند و بالا سونے کے محل کے پاس آیا تو میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: قریش کے ایک آدمی کا۔ میں نے کہا: میں تو قریشی ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: محمد ﷺ کی امت کے ایک آدمی کا۔ میں نے کہا: میں تو محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: عمر بن خطاب کا۔“
”اے بلال! تم کس عمل کی وجہ سے جنت میں مجھ سے آگے نکل گئے؟ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا مجھے اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنائی دی۔ میں کل رات جنت میں داخل ہوا تو مجھے اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنائی دی، پھر میں ایک چوکور، بلند و بالا سونے کے محل کے پاس آیا تو میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: قریش کے ایک آدمی کا۔ میں نے کہا: میں تو قریشی ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: محمد ﷺ کی امت کے ایک آدمی کا۔ میں نے کہا: میں تو محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: عمر بن خطاب کا۔“
«يا بنت أبي أمية! سألت عن الركعتين بعد العصر وإنه أتاني ناس من عبد القيس فشغلوني عن الركعتين اللتين بعد الظهر فهما هاتان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا، عبدالقیس قبیلے کے کچھ لوگ میرے پاس آئے تھے جنہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتوں سے مشغول کر دیا تھا، پس یہی وہ رکعتیں ہیں۔“
”اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا، عبدالقیس قبیلے کے کچھ لوگ میرے پاس آئے تھے جنہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتوں سے مشغول کر دیا تھا، پس یہی وہ رکعتیں ہیں۔“
«يا بني بياضة! أنكحوا أبا هند وانكحوا إليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بنو بیاضہ! ابوہند سے اپنی بیٹیوں کا نکاح کرو اور ان کے ہاں اپنے بیٹوں کا نکاح کراؤ۔“
”اے بنو بیاضہ! ابوہند سے اپنی بیٹیوں کا نکاح کرو اور ان کے ہاں اپنے بیٹوں کا نکاح کراؤ۔“
«يا بني سلمة! ألا تحتسبون آثاركم إلى المسجد؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بنو سلمہ! کیا تم مسجد تک اپنے قدموں کے نشانات کا ثواب نہیں سمجھتے؟“
”اے بنو سلمہ! کیا تم مسجد تک اپنے قدموں کے نشانات کا ثواب نہیں سمجھتے؟“
«يا بني سلمة! دياركم تكتب آثاركم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بنو سلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔“
”اے بنو سلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔“
«يا بني عبد المطلب! سقايتكم ولولا أن يغلبكم عليها الناس لنزعت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بنو عبدالمطلب! حاجیوں کو پانی پلانا تمہارا ہی کام رہے گا، اور اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ لوگ اس میں تم پر غالب آ جائیں گے تو میں خود بھی تمہارے ساتھ پانی نکالتا۔“
”اے بنو عبدالمطلب! حاجیوں کو پانی پلانا تمہارا ہی کام رہے گا، اور اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ لوگ اس میں تم پر غالب آ جائیں گے تو میں خود بھی تمہارے ساتھ پانی نکالتا۔“
«يا بني عبد مناف! لا تمنعوا أحدا طاف بهذا البيت وصلى أية ساعة شاء من ليل أو نهار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بنو عبدِ مناف! کسی کو بھی اس گھر کعبہ کا طواف کرنے اور جس گھڑی چاہے رات یا دن میں نماز پڑھنے سے نہ روکو۔“
”اے بنو عبدِ مناف! کسی کو بھی اس گھر کعبہ کا طواف کرنے اور جس گھڑی چاہے رات یا دن میں نماز پڑھنے سے نہ روکو۔“
" يا بني عبد مناف يا بني عبد مناف! إني نذير إنما مثلي ومثلكم كمثل رجل رأى العدوفانطلق يريد أهله فخشي أن يسبقوه إلى أهله فجعل يهتف: يا صباحاه يا صباحاه! أتيتم أتيتم"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بنو عبدِ مناف! اے بنو عبدِ مناف! میں تمہیں ڈرانے والا ہوں۔ میری اور تمہاری مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ اپنے گھر والوں کو خبر کرنے کے لیے دوڑا، اور اسے خدشہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے اس کے گھر والوں تک پہنچ جائے، تو وہ چیخنے لگا: خبردار ہو جاؤ! خبردار ہو جاؤ! دشمن آ گیا، دشمن آ گیا!“
”اے بنو عبدِ مناف! اے بنو عبدِ مناف! میں تمہیں ڈرانے والا ہوں۔ میری اور تمہاری مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ اپنے گھر والوں کو خبر کرنے کے لیے دوڑا، اور اسے خدشہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے اس کے گھر والوں تک پہنچ جائے، تو وہ چیخنے لگا: خبردار ہو جاؤ! خبردار ہو جاؤ! دشمن آ گیا، دشمن آ گیا!“
«يا بني فهر! يا بني عدي! يا بني عبد مناف! يا بني عبد المطلب! أرأيتكم لوأخبرتكم أن خيلا بالوادي تريد أن تغير عليكم أكنتم مصدقي؟ قالوا: ما جربنا عليك إلا صدقا قال: فإني نذير لكم بين يدي عذاب شديد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بنو فہر! اے بنو عدی! اے بنو عبدِ مناف! اے بنو عبدالمطلب! بتاؤ اگر میں تمہیں بتاؤں کہ وادی میں ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انہوں نے کہا: ہم نے آپ سے سچ کے سوا کچھ نہیں پایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو میں تمہیں ایک سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔“
”اے بنو فہر! اے بنو عدی! اے بنو عبدِ مناف! اے بنو عبدالمطلب! بتاؤ اگر میں تمہیں بتاؤں کہ وادی میں ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انہوں نے کہا: ہم نے آپ سے سچ کے سوا کچھ نہیں پایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو میں تمہیں ایک سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔“
«يا بني كعب بن لؤي! أنقذوا أنفسكم من النار يا بني مرة بن كعب! أنقذوا أنفسكم من النار يا بني عبد شمس! أنقذوا أنفسكم من النار يا بني عبد مناف! أنقذوا أنفسكم من النار يا بني عبد المطلب! أنقذوا أنفسكم من النار يا فاطمة! أنقذي نفسك من النار فإني لا أملك لكم من الله شيئا غير أن لكم رحما سأبلها ببلالها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بنو کعب بن لؤی! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو مرہ بن کعب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو عبدِ شمس! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو عبدِ مناف! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو عبدالمطلب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، کیونکہ میں تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں کچھ اختیار نہیں رکھتا، سوائے اس کے کہ تم میری رشتہ دار ہو، جس کا حق میں دنیا میں ادا کر دوں گا۔“
”اے بنو کعب بن لؤی! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو مرہ بن کعب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو عبدِ شمس! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو عبدِ مناف! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو عبدالمطلب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، کیونکہ میں تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں کچھ اختیار نہیں رکھتا، سوائے اس کے کہ تم میری رشتہ دار ہو، جس کا حق میں دنیا میں ادا کر دوں گا۔“
«يا جابر! إذا كان واسعا فخالف بين طرفيه وإذا كان ضيقا فاشدده على حقويك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے جابر! اگر کپڑا کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمت میں کندھوں پر ڈال لو، اور اگر تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لو۔“
”اے جابر! اگر کپڑا کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمت میں کندھوں پر ڈال لو، اور اگر تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لو۔“
«يا جابر! ألا أبشرك بما لقي الله به أباك! ما كلم الله أحدا قط إلا من وراء حجاب وكلم أباك كفاحا فقال: يا عبدي تمن علي أعطك قال: يا رب تحييني فأقتل فيك ثانية فقال الرب تبارك وتعالى: إنه سبق مني أنهم إليها لا يرجعون قال: يا رب فأبلغ من ورائي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے جابر! کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ دوں کہ اللہ نے تمہارے باپ سے کس طرح ملاقات کی؟ اللہ نے کبھی کسی سے پردے کے بغیر بات نہیں کی سوائے تمہارے باپ کے، اس نے اس سے آمنے سامنے بات کی اور فرمایا: اے میرے بندے! مجھ سے مانگ، میں تجھے دوں گا۔ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے دوبارہ زندہ کر دے تاکہ میں تیری راہ میں دوبارہ شہید ہو جاؤں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میری طرف سے یہ بات پہلے طے ہو چکی ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ نہیں لوٹیں گے۔ اس نے عرض کیا: اے رب! تو یہ بات میرے پیچھے دنیا والوں تک پہنچا دے۔“
”اے جابر! کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ دوں کہ اللہ نے تمہارے باپ سے کس طرح ملاقات کی؟ اللہ نے کبھی کسی سے پردے کے بغیر بات نہیں کی سوائے تمہارے باپ کے، اس نے اس سے آمنے سامنے بات کی اور فرمایا: اے میرے بندے! مجھ سے مانگ، میں تجھے دوں گا۔ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے دوبارہ زندہ کر دے تاکہ میں تیری راہ میں دوبارہ شہید ہو جاؤں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میری طرف سے یہ بات پہلے طے ہو چکی ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ نہیں لوٹیں گے۔ اس نے عرض کیا: اے رب! تو یہ بات میرے پیچھے دنیا والوں تک پہنچا دے۔“
«يا جرهد! غط فخذك فإن الفخذ عورة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے جرہد! اپنی ران ڈھانپو، کیونکہ ران بھی ستر ہے۔“
”اے جرہد! اپنی ران ڈھانپو، کیونکہ ران بھی ستر ہے۔“
«يا حازم! أكثر من قول لا حول ولا قوة إلا بالله فإنها كنز من كنوز الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے حازم! «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکیاں کرنے کی قوت اللہ ہی کی توفیق سے ہے) زیادہ کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“
”اے حازم! «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکیاں کرنے کی قوت اللہ ہی کی توفیق سے ہے) زیادہ کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“
«يا حسان! أجب عن رسول الله اللهم أيده بروح القدس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے حسان! رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جواب دو۔ اے اللہ! اسے روح القدس کے ذریعے تقویت دے۔“
”اے حسان! رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جواب دو۔ اے اللہ! اسے روح القدس کے ذریعے تقویت دے۔“
«يا رويفع! لعل الحياة ستطول بك بعدي فأخبر الناس أنه من عقد لحيته أو تقلد وترا أو استنجى برجيع دابة أو عظم فإن محمدا منه بريء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے رویفع! شاید میرے بعد تمہاری زندگی لمبی ہو جائے، تو لوگوں کو بتا دینا کہ جو اپنی داڑھی کو گرہ لگائے، یا تعویذ کے طور پر کمان کی تانت پہنے، یا جانور کی گندگی یا ہڈی سے استنجا کرے تو محمد ﷺ اس سے بری الذمہ ہیں۔“
”اے رویفع! شاید میرے بعد تمہاری زندگی لمبی ہو جائے، تو لوگوں کو بتا دینا کہ جو اپنی داڑھی کو گرہ لگائے، یا تعویذ کے طور پر کمان کی تانت پہنے، یا جانور کی گندگی یا ہڈی سے استنجا کرے تو محمد ﷺ اس سے بری الذمہ ہیں۔“
«يا سعد! ارم فداك أبي وأمي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“
”اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“
«يا سعد! إني لأعطي الرجل وغيره أحب إلى منه خشية أن يكبه الله في النار على وجهه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے سعد! میں ایک آدمی کو کچھ دیتا ہوں حالانکہ اس کے علاوہ کوئی اور مجھے زیادہ پسند ہوتا ہے، اس خوف سے کہ کہیں اللہ اسے منہ کے بل جہنم میں نہ ڈال دے۔“
”اے سعد! میں ایک آدمی کو کچھ دیتا ہوں حالانکہ اس کے علاوہ کوئی اور مجھے زیادہ پسند ہوتا ہے، اس خوف سے کہ کہیں اللہ اسے منہ کے بل جہنم میں نہ ڈال دے۔“
«يا صاحب السبتيتين! ويحك! ألق سبتيتيك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے چمڑے کی جوتیوں والے! تجھ پر افسوس! اپنی جوتیاں اتار دو۔“
”اے چمڑے کی جوتیوں والے! تجھ پر افسوس! اپنی جوتیاں اتار دو۔“
«يا صفية بنت عبد المطلب! يا فاطمة بنت محمد! يا بني عبد المطلب! إني لا أملك لكم من الله شيئا سلوني من مالي ما شئتم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اے فاطمہ بنت محمد! اے بنو عبدالمطلب! میں تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں کچھ اختیار نہیں رکھتا، میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔“
”اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اے فاطمہ بنت محمد! اے بنو عبدالمطلب! میں تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں کچھ اختیار نہیں رکھتا، میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔“
«يا عائش! هذا جبريل يقرئك السلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! یہ جبریل ہیں جو تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“
”اے عائشہ! یہ جبریل ہیں جو تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“
«يا عائشة! استعيذي بالله من شر هذا فإن هذا هوالغاسق إذا وقب» - يعني القمر - ... [حم ت ك] عن عائشة
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! اس (چاند) کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ یہی وہ اندھیرا کرنے والا (غاسق) ہے جب وہ چھا جائے۔“
”اے عائشہ! اس (چاند) کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ یہی وہ اندھیرا کرنے والا (غاسق) ہے جب وہ چھا جائے۔“
«يا عائشة! أشعرت أن الله أفتاني فيما استفتيته فيه؟ جاءني رجلان فقعد أحدهما عند رأسي والآخر عند رجلي فقال الذي عند رأسي للذي عند رجلي: ما وجع الرجل؟ قال: مطبوب قال: من طبه؟ قال: لبيد بن الأعصم قال: في أي شيء؟ قال: في مشط ومشاطة وجف طلعتي ذكر قال: فأين هو؟ قال في بئر ذروان يا عائشة! والله لكأن ماءها نقاعة الحناء ولكأن نخلها رءوس الشياطين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہوا کہ اللہ نے مجھے اس بات کا جواب دے دیا جو میں نے اس سے پوچھی تھی؟ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف۔ جو سرہانے تھا اس نے پاؤں والے سے کہا: اس آدمی کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا: اس پر جادو کیا گیا ہے۔ پوچھا: کس نے جادو کیا؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے۔ پوچھا: کس چیز میں چھپا کر؟ اس نے کہا: کنگھی، بالوں اور نر کھجور کے خوشے کے خول میں۔ پوچھا: وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: ذروان کے کنویں میں۔ اے عائشہ! اللہ کی قسم! گویا اس کا پانی مہندی بھگونے کے پانی جیسا اور اس کے کھجور کے درخت شیطانوں کے سروں جیسے تھے۔“
”اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہوا کہ اللہ نے مجھے اس بات کا جواب دے دیا جو میں نے اس سے پوچھی تھی؟ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف۔ جو سرہانے تھا اس نے پاؤں والے سے کہا: اس آدمی کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا: اس پر جادو کیا گیا ہے۔ پوچھا: کس نے جادو کیا؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے۔ پوچھا: کس چیز میں چھپا کر؟ اس نے کہا: کنگھی، بالوں اور نر کھجور کے خوشے کے خول میں۔ پوچھا: وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: ذروان کے کنویں میں۔ اے عائشہ! اللہ کی قسم! گویا اس کا پانی مہندی بھگونے کے پانی جیسا اور اس کے کھجور کے درخت شیطانوں کے سروں جیسے تھے۔“
«يا عائشة أما كان معكم لهو؟ فإن الأنصار يعجبهم اللهو»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! کیا تمہارے ساتھ کوئی کھیل تماشا نہیں تھا؟ کیونکہ انصار کو کھیل تماشا پسند ہے۔“
”اے عائشہ! کیا تمہارے ساتھ کوئی کھیل تماشا نہیں تھا؟ کیونکہ انصار کو کھیل تماشا پسند ہے۔“
«يا عائشة! إن الله خلق للجنة أهلا خلقهم لها وهم في أصلاب آبائهم وخلق للنار أهلا خلقهم لها وهم في أصلاب آبائهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! اللہ نے جنت کے لیے کچھ لوگ پیدا کیے، انہیں اسی وقت جنت کے لیے پیدا کیا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اور جہنم کے لیے کچھ لوگ پیدا کیے، انہیں اسی وقت جہنم کے لیے پیدا کیا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔“
”اے عائشہ! اللہ نے جنت کے لیے کچھ لوگ پیدا کیے، انہیں اسی وقت جنت کے لیے پیدا کیا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اور جہنم کے لیے کچھ لوگ پیدا کیے، انہیں اسی وقت جہنم کے لیے پیدا کیا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔“
«يا عائشة! إن الله رفيق يحب الرفق في الأمر كله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! اللہ نرمی کرنے والا ہے اور ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“
”اے عائشہ! اللہ نرمی کرنے والا ہے اور ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“
"يا عائشة! إن الله رفيق يحب الرفق ويعطي على الرفق ما لا يعطي على العنف وما لا يعطي على ما سواه "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! اللہ نرمی کرنے والا ہے، نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا اور جو اس کے سوا کسی اور چیز پر نہیں دیتا۔“
”اے عائشہ! اللہ نرمی کرنے والا ہے، نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا اور جو اس کے سوا کسی اور چیز پر نہیں دیتا۔“
«يا عائشة! إن الله لا يحب الفاحش المتفحش»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! اللہ بدزبان اور بے حیائی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔“
”اے عائشہ! اللہ بدزبان اور بے حیائی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔“
«يا عائشة إن شرار الناس الذين يكرمون اتقاء شرهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! بدترین لوگ وہ ہیں جن کی عزت صرف ان کے شر سے بچنے کے لیے کی جاتی ہے۔“
”اے عائشہ! بدترین لوگ وہ ہیں جن کی عزت صرف ان کے شر سے بچنے کے لیے کی جاتی ہے۔“
«يا عائشة إن عيني تنامان ولا ينام قلبي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں مگر میرا دل نہیں سوتا۔“
”اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں مگر میرا دل نہیں سوتا۔“
«يا عائشة! إن من شر الناس من تركه الناس اتقاء فحشه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! بدترین لوگوں میں سے وہ بھی ہے جسے لوگ اس کی بدزبانی سے بچنے کے لیے چھوڑ دیں۔“
”اے عائشہ! بدترین لوگوں میں سے وہ بھی ہے جسے لوگ اس کی بدزبانی سے بچنے کے لیے چھوڑ دیں۔“
«يا عائشة! حولي هذا فإني كلما دخلت فرأيته ذكرت الدنيا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! اسے یہاں سے ہٹا دو، کیونکہ جب بھی میں اندر آتا ہوں اور اسے دیکھتا ہوں تو مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے۔“
”اے عائشہ! اسے یہاں سے ہٹا دو، کیونکہ جب بھی میں اندر آتا ہوں اور اسے دیکھتا ہوں تو مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے۔“
«يا عائشة! عليك بتقوى الله والرفق فإن الرفق لم يكن في شيء قط إلا زانه ولا نزع من شيء قط إلا شانه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! اللہ سے ڈرتے رہو اور نرمی اختیار کرو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے بھی نکال دی جائے اسے بدصورت بنا دیتی ہے۔“
”اے عائشہ! اللہ سے ڈرتے رہو اور نرمی اختیار کرو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہو اسے خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے بھی نکال دی جائے اسے بدصورت بنا دیتی ہے۔“
«يا عائشة! لولا أن قومك حديثوعهد بجاهلية لأمرت بالبيت فهدم فأدخلت فيه ما أخرج منه وألزقته بالأرض وجعلت له بابين: باب شرقيا وباب غربيا فبلغت به أساس إبراهيم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! اگر تمہاری قوم نئی نئی جاہلیت سے نکلی ہوئی نہ ہوتی تو میں کعبہ کو گرا کر اس میں وہ حصہ شامل کر دیتا جو اس سے نکالا گیا ہے، اور اسے زمین کے برابر کر دیتا، اور اس کے دو دروازے بنا دیتا: ایک مشرقی اور ایک مغربی، اور اسے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد تک پہنچا دیتا۔“
”اے عائشہ! اگر تمہاری قوم نئی نئی جاہلیت سے نکلی ہوئی نہ ہوتی تو میں کعبہ کو گرا کر اس میں وہ حصہ شامل کر دیتا جو اس سے نکالا گیا ہے، اور اسے زمین کے برابر کر دیتا، اور اس کے دو دروازے بنا دیتا: ایک مشرقی اور ایک مغربی، اور اسے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد تک پہنچا دیتا۔“
" يا عائشة! ما أزال أجد ألم الطعام الذي أكلت بخيبر فهذا أوان وجدت انقطاع أبهري من ذلك السم "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! میں اب تک خیبر میں کھائے ہوئے کھانے کی تکلیف محسوس کرتا ہوں، اور اب یہ وقت ہے جب میں اس زہر کی وجہ سے اپنی بڑی رگ کے کٹنے کو محسوس کر رہا ہوں۔“
”اے عائشہ! میں اب تک خیبر میں کھائے ہوئے کھانے کی تکلیف محسوس کرتا ہوں، اور اب یہ وقت ہے جب میں اس زہر کی وجہ سے اپنی بڑی رگ کے کٹنے کو محسوس کر رہا ہوں۔“
«يا عائشة! ما يؤمنني أن يكون فيه عذاب؟ قد عذب قوم بالريح وقد رأى قوم العذاب فقالوا: » هذا عارض ممطرنا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! مجھے کیا یقین ہے کہ اس بادل میں عذاب نہ ہو؟ کچھ لوگوں کو ہوا کے ذریعے عذاب دیا گیا تھا، اور کچھ لوگوں نے عذاب دیکھا تو کہا: یہ بادل تو ہم پر بارش برسانے کے لیے ہے۔“
”اے عائشہ! مجھے کیا یقین ہے کہ اس بادل میں عذاب نہ ہو؟ کچھ لوگوں کو ہوا کے ذریعے عذاب دیا گیا تھا، اور کچھ لوگوں نے عذاب دیکھا تو کہا: یہ بادل تو ہم پر بارش برسانے کے لیے ہے۔“
…