حدیث نمبر: 7894
" يا بلال! بم سبقتني إلى الجنة؟ ما دخلت الجنة قط إلا سمعت خشخشتك أمامي إني دخلت البارحة الجنة فسمعت خشخشتك أمامي فأتيت على قصر مربع مشرف من ذهب فقلت: لمن هذا القصر؟ قالوا: لرجل من قريش فقلت: أنا قرشي لمن هذا القصر؟ قالوا لرجل من أمة محمد فقلت: أنا محمد لمن هذا القصر؟ قالوا: لعمر بن الخطاب "
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بلال! تم کس عمل کی وجہ سے جنت میں مجھ سے آگے نکل گئے؟ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا مجھے اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنائی دی۔ میں کل رات جنت میں داخل ہوا تو مجھے اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنائی دی، پھر میں ایک چوکور، بلند و بالا سونے کے محل کے پاس آیا تو میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: قریش کے ایک آدمی کا۔ میں نے کہا: میں تو قریشی ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: محمد ﷺ کی امت کے ایک آدمی کا۔ میں نے کہا: میں تو محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ کہا گیا: عمر بن خطاب کا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7894
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت حب ك] عن بريدة. صحيح الترغيب ١٩٦، ١/٣١٣.