حدیث نمبر: 7917
«يا عائشة! أشعرت أن الله أفتاني فيما استفتيته فيه؟ جاءني رجلان فقعد أحدهما عند رأسي والآخر عند رجلي فقال الذي عند رأسي للذي عند رجلي: ما وجع الرجل؟ قال: مطبوب قال: من طبه؟ قال: لبيد بن الأعصم قال: في أي شيء؟ قال: في مشط ومشاطة وجف طلعتي ذكر قال: فأين هو؟ قال في بئر ذروان يا عائشة! والله لكأن ماءها نقاعة الحناء ولكأن نخلها رءوس الشياطين»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہوا کہ اللہ نے مجھے اس بات کا جواب دے دیا جو میں نے اس سے پوچھی تھی؟ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف۔ جو سرہانے تھا اس نے پاؤں والے سے کہا: اس آدمی کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا: اس پر جادو کیا گیا ہے۔ پوچھا: کس نے جادو کیا؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے۔ پوچھا: کس چیز میں چھپا کر؟ اس نے کہا: کنگھی، بالوں اور نر کھجور کے خوشے کے خول میں۔ پوچھا: وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: ذروان کے کنویں میں۔ اے عائشہ! اللہ کی قسم! گویا اس کا پانی مہندی بھگونے کے پانی جیسا اور اس کے کھجور کے درخت شیطانوں کے سروں جیسے تھے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الياء / حدیث: 7917
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق هـ] عن عائشة. مختصر مسلم ١٤٤٥.