کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف کاف سے شروع ہونے والی احادیث
«كان إذا أخذ مضجعه قرأ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} حتى يختمها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ اپنے بستر پر لیٹتے تو سورۃ ”قل یا ایہا الکافرون“ ختم ہونے تک پڑھتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4648
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن عبادة بن أخضر. المشكاة ٢١٦١.
«كان إذا أخذ مضجعه من الليل قال: بسم الله وضعت جنبي اللهم اغفر لي ذنبي واخسأ شيطاني وفك رهاني وثقل ميزاني واجعلني في الندي الأعلى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ رات کو اپنے بستر پر لیٹتے تو فرماتے: اللہ کے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا، اے اللہ! میرا گناہ بخش دے، میرے شیطان کو دھتکار دے، میرا گروی (نفس) چھڑا دے، میرا میزان بھاری کر دے اور مجھے سب سے بلند مجلس میں شامل فرما۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4649
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن أبي الأزهر. المشكاة ٢٤٠٩.
«كان إذا أخذ مضجعه من الليل وضع يده تحت خده ثم يقول: باسمك اللهم أحيا وباسمك أموت وإذا استيقظ قال: الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ رات کو اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے، پھر فرماتے: «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ» (اے اللہ! تیرے ہی نام سے جیتا ہوں اور تیرے ہی نام سے مرتا ہوں)۔ اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4650
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن البراء [حم خ ٤] عن حذيفة [حم ق] عن أبي ذر. مختصر مسلم ١٨٩٧، صحيح الكلم ٢٥.
«كان إذا أراد الحاجة أبعد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو دور نکل جاتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4651
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن بلال بن الحارث [حم ن هـ] عن عبد الرحمن بن أبي قراد. صحيح أبي دأود: ١١.
«كان إذا أراد الحاجة لم يرفع ثوبه حتى يدنومن الأرض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا اس وقت تک نہ اٹھاتے جب تک زمین کے قریب نہ ہو جاتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4652
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت] عن أنس وعن ابن عمر [طس] عن جابر. صحيح أبي داود ١١، الصحيحة ١٠٧١.
«كان إذا أراد أن يباشر امرأة من نسائه وهي حائض أمرها أن تأتزر ثم يباشرها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ اپنی کسی بیوی سے، جو حیض کی حالت میں ہوتی، قربت کا ارادہ فرماتے تو اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر اس سے قربت فرماتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4653
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ د] عن ميمونة.
«كان إذا أراد أن يحرم تطيب بأطيب ما يجد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو جو بہترین خوشبو میسر ہوتی وہ لگاتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4654
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عائشة.
«كان إذا أراد أن يدعوعلى أحد أو يدعولأحد قنت بعد الركوع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ کسی کے خلاف یا کسی کے حق میں دعا کرنے کا ارادہ فرماتے تو رکوع کے بعد قنوت کرتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4655
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة.
«كان إذا أراد أن يرقد وضع يده اليمنى تحت خده ثم يقول:» اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك " - ثلاث مرات -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے، پھر تین بار فرماتے: اے اللہ! مجھے اپنے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4656
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن حفصة. الكلم ٣٦.
«كان إذا أراد أن يستودع الجيش قال:» استودع الله دينكم وأمانتكم وخواتيم أعمالكم"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ کسی لشکر کو الوداع کہنے کا ارادہ فرماتے تو فرماتے: میں تمہارے دین، تمہاری امانتوں اور تمہارے اعمال کے خاتموں کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4657
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن عبد الله بن يزيد الخطمي. الصحيحة ١٥.
«كان إذا أراد أن يعتكف صلى الفجر ثم دخل معتكفه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر کی نماز پڑھتے، پھر اپنی اعتکاف گاہ میں داخل ہو جاتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4658
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت] عن عائشة. المشكاة ٢١٠٤، مختصر مسلم ٦٣١.
«كان إذا أراد أن ينام وهو جنب توضأ وضوءه للصلاة وإذا أراد أن يأكل أو يشرب وهو جنب غسل يديه ثم يأكل ويشرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو نماز جیسا وضو فرماتے، اور جب حالتِ جنابت میں کھانے پینے کا ارادہ فرماتے تو اپنے ہاتھ دھو لیتے، پھر کھاتے پیتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4659
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن هـ] عن عائشة. الصحيحة ٢٨٩، أبي داود ٢١٨ - ٢١٩: حم، قط.
«كان إذا أراد أن ينام وهو جنب غسل فرجه وتوضأ للصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ حالتِ جنابت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنی شرمگاہ دھوتے اور نماز جیسا وضو فرماتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4660
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح أبي داود ٢١٨: الطيالسي، حم, أبو عوانة، الطحاوي، قط، هق.
«كان إذا أراد سفرا أقرع بين نسائه فأيتهن خرج سهمها خرج بها معه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے، پس جس کا قرعہ نکلتا، آپ ﷺ اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4661
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د هـ] عن عائشة. مختصر مسلم ٢١٥٣، غاية المرام ص ١٦٠: حم.
«كان إذا أراد غزوة ورى بغيرها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ کسی غزوے کا ارادہ فرماتے تو دشمن کو دھوکہ دینے کی خاطر اس کے بجائے کسی اور طرف کا اشارہ دیتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4662
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن] عن كعب بن مالك. فقه السيرة ٥١.
«كان إذا أراد من الحائض شيئا ألقى على فرجها ثوبا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ کسی حائضہ (بیوی) سے کچھ قربت جیسا معاملہ کرنے کا ارادہ فرماتے تو اس کی شرمگاہ پر کپڑا ڈال دیتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4663
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن بعض أمهات المؤمنين. صحيح أبي داود ٢٦٢.
«كان إذا استجد ثوبا سماه باسمه قميصا أو عمامة أو رداء ثم يقول:» اللهم لك الحمد أنت كسوتنيه أسألك من خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ کوئی نیا کپڑا پہنتے تو اسے اس کے نام سے پکارتے، خواہ وہ قمیض ہو، عمامہ ہو یا چادر، پھر فرماتے: اے اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو نے مجھے یہ پہنایا، میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس مقصد کے لیے یہ بنایا گیا اس کی بھلائی مانگتا ہوں، اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس کے شر اور جس مقصد کے لیے یہ بنایا گیا اس کے شر سے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4664
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت ك] عن أبي سعيد. المشكاة ٤٣٤٢.
«كان إذا استراث الخبر تمثل ببيت طرفة:١ ويأتيك بالأخبار من لم تزود»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ کو خبر آنے میں دیر ہوتی تو طرفہ (شاعر) کا یہ شعر پڑھتے: تجھے وہ شخص بھی خبریں لا دیتا ہے جسے تو نے خبر لانے کے لیے زاد راہ نہیں دیا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4665
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن عائشة. الصحيحة ٢٠٥٧.
«كان إذا استسقى قال:» اللهم اسق عبادك وبهائمك وانشر رحمتك وأحيي بلدك الميت"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ بارش کی دعا مانگتے تو فرماتے: اے اللہ! اپنے بندوں اور اپنے جانوروں کو سیراب فرما، اپنی رحمت پھیلا دے اور اپنے مردہ شہر کو زندہ کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4666
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن ابن عمرو. المشكاة ١٥٠٦، صحيح أبي داود ١٠٦١.
«كان إذا استفتح الصلاة قال:» سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ نماز شروع فرماتے تو کہتے: اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری ہی حمد ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4667
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت هـ ك] عن عائشة [ق هـ ك] عن أبي سعيد [طب] عن ابن مسعود وعن واثلة. المشكاة ٨١٥، الإرواء ٣٤١.
«كان إذا استن أعطى السواك الأكبر وإذا شرب أعطى الذي عن يمينه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ مسواک تقسیم فرماتے تو سب سے بڑے کو دیتے، اور جب کچھ پیتے تو بچا ہوا اپنے دائیں طرف والے کو دیتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4668
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الحكيم] عن عبد الله بن كعب١. صحيح أبي داود ٤٠: د - عائشة. حم، هق - ابن عمر.
«كان إذا اشتد البرد بكر بالصلاة وإذا اشتد الحر أبرد بالصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب سردی شدید ہوتی تو آپ ﷺ نماز جلدی پڑھتے، اور جب گرمی شدید ہوتی تو نماز میں تاخیر فرماتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4669
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن أنس. الضعيفة ٩٥٣.
كان إذا اشتدت الريح قال: [اللهم لقحا لا عقيما]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب تیز آندھی چلتی تو آپ ﷺ یہ دعا کرتے: اے اللہ! اسے بار آور بنا، بانجھ نہ بنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4670
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حب ك] عن سلمة بن الأكوع. الصحيحة ٢٠٥٨.
كان إذا اشتكى أحد رأسه قال: [اذهب فاحتجم وإذا اشتكى رجله قال: اذهب فاخضبها بالحناء]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب کسی کو سر میں تکلیف ہوتی تو آپ ﷺ فرماتے: جاؤ اور پچھنے لگواؤ، اور جب کسی کو پاؤں میں تکلیف ہوتی تو فرماتے: جاؤ اور اس پر مہندی لگاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4671
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن سلمى امرأة أبي رافع. الصحيحة ٢٠٥٩: حم، ك.
كان إذا اشتكى رقاه جبريل قال: [بسم الله يبريك من داء يشفيك ومن شر حاسد إذا حسد وشر كل ذي عين]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ بیمار ہوتے تو جبریل علیہ السلام آپ ﷺ کو دم کرتے اور کہتے: اللہ کے نام سے، وہ تمہیں ہر بیماری سے شفا دیتا ہے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے اور ہر نظر لگانے والے کے شر سے (تمہاری حفاظت کرتا ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4672
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عائشة. مختصر مسلم ١٤٤٣، الصحيحة ٢٠٦٠: حم، ابن سعد.
«كان إذا اشتكى نفث على نفسه بالمعوذات ومسح عنه بيده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ بیمار ہوتے تو معوذات پڑھ کر اپنے اوپر پھونک مارتے اور اپنے ہاتھ سے بدن پر پھیرتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4673
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د هـ] عن عائشة.
كان إذا أصبح وإذا أمسى قال: " أصبحنا على فطرة الإسلام وكلمة الإخلاص ودين نبينا محمد وملة أبينا إبراهيم حنيفا مسلما وما كان من المشركين"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ صبح کرتے اور جب شام کرتے تو فرماتے: ہم نے صبح کی اسلام کی فطرت پر، اخلاص کے کلمے پر، اپنے نبی محمد ﷺ کے دین پر اور اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر، جو یکسو مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہیں تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4674
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن عبد الرحمن بن أبي أبزى. المشكاة ٢٤١٥، شرح الطحاوية ٣٢.
«كان إذا اطلع على أحد من أهل بيته كذب كذبة لم يزل معرضا عنه حتى يحدث توبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ کو اپنے گھر والوں میں سے کسی کے جھوٹ بولنے کا علم ہوتا تو آپ ﷺ اس سے تب تک منہ موڑے رکھتے جب تک وہ توبہ نہ کر لیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4675
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك] عن عائشة. الصحيحة ٢٠١٥.
«كان إذا اعتم سدل عمامته بين كتفيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ پگڑی باندھتے تو اس کا شملہ اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا دیتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4676
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن ابن عمر. الصحيحة ٧١٧.
كان إذا أفطر عند قوم قال: [أفطر عندكم الصائمون وأكل طعامكم الأبرار وتنزلت عليكم الملائكة]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ کسی قوم کے ہاں روزہ افطار فرماتے تو کہتے: تمہارے ہاں روزہ داروں نے افطار کیا، نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا اور فرشتوں نے تم پر رحمت نازل کی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4677
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هق] عن أنس. آداب الزفاف ص ٨٥: ن، ابن أبي شيبة، د، الطحاوي، ابن السني، ابن عساكر.
كان إذا أفطر قال: [ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ روزہ افطار فرماتے تو کہتے: پیاس چلی گئی، رگیں تر ہو گئیں اور، اللہ نے چاہا تو، اجر ثابت ہو گیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4678
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د ك] عن ابن عمر. المشكاة ١٩٩٣، الإرواء: ٩٢٠، الروض ٧٧.
كان إذا أفطر عند قوم قال: [أفطر عندكم الصائمون وصلت عليكم الملائكة]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ کسی قوم کے ہاں روزہ افطار فرماتے تو کہتے: تمہارے ہاں روزہ داروں نے افطار کیا اور فرشتوں نے تم پر رحمت بھیجی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4679
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن الزبير. آداب الزفاف ص ٨٥: الخطيب.
«كان إذا اكتحل اكتحل وترا وإذا استجمر استجمر وترا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ سرمہ لگاتے تو طاق تعداد میں لگاتے، اور جب پتھروں سے استنجا فرماتے تو طاق تعداد میں کرتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4680
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن عقبة بن عامر. الصحيحة ١٢٦٠.
«كان إذا أكل أو شرب قال: الحمد لله الذي أطعم وسقى وسوغه وجعل له مخرجا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ کچھ کھاتے یا پیتے تو فرماتے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا» (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے کھلایا، پلایا، اسے خوش گوار بنایا اور اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنایا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4681
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن حب] عن أبي أيوب. الصحيحة ٢٠٦١.
«كان إذا أكل طعاما لعق أصابعه الثلاث»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیاں چاٹتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4682
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم، م، ٣] عن أنس.
«كان إذا أكل لم تعد أصابعه بين يديه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ کھانا کھاتے تو آپ ﷺ کی انگلیاں کھانے کے سامنے سے تجاوز نہ کرتیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [تخ١] عن جعفر بن أبي الحكم مرسلا [أبونعيم في المعرفة] عنه عن الحكم بن رافع بن سيار [طب] عن الحكم بن عمروالغفاري. الصحيحة ٢٠٦٢: أبو الشيخ - عائشة وعبد الله بن جعفر.
«كان إذا التقى الختانان اغتسل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب دونوں ختنہ گاہیں مل جاتیں تو آپ ﷺ غسل فرماتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4684
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطحاوي] عن عائشة. الصحيحة ٢٠٦٣: حم.
«كان إذا أنزل عليه الوحي كرب لذلك وتربد وجهه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ پر گرانی طاری ہو جاتی اور آپ ﷺ کا چہرہ متغیر ہو جاتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4685
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن عبادة بن الصامت.
«كان إذا أنزل عليه الوحي نكس رأسه ونكس أصحابه رءوسهم فإذا أقلع عنه رفع رأسه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ اپنا سر جھکا لیتے اور آپ ﷺ کے صحابہ بھی اپنے سر جھکا لیتے، پھر جب وحی کا سلسلہ رک جاتا تو آپ ﷺ اپنا سر اٹھا لیتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4686
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عبادة بن الصامت.
«كان إذا انصرف انحرف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ کا معمول تھا:)
”جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوتے تو قبلہ سے دائیں یا بائیں مڑ جاتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الكاف / حدیث: 4687
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن يزيد بن الأسود. صحيح أبي داود ٦٢٧: حم، ن، ت، قط، هق.