کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إن الله كتب عليكم السعي فاسعوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم پر (صفا اور مروہ کے درمیان) سعی کرنا فرض کیا ہے، لہٰذا تم سعی کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1798
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الإرواء ١٠٧٢.
«إن الله تعالى كتب كتابا قبل أن يخلق السموات والأرض بألفي عام وهو عند العرش وإنه أنزل منه آيتين ختم بهما سورة البقرة ولا يقرآن في دار ثلاث ليال فيقربها الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی جو عرش کے پاس موجود ہے، اور اس نے اس میں سے دو ایسی آیتیں نازل فرمائیں جن پر سورۃ البقرہ کو ختم کیا گیا۔ یہ جس گھر میں بھی تین راتوں تک تلاوت کی جائیں، شیطان اس گھر کے قریب نہیں آ سکتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1799
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن ك] عن النعمان بن بشير. الترغيب ٢/٩٩، الروض النضير ٨٨، المشكاة ٢١٤٥.
«إن الله كريم يحب الكرماء جواد يحب الجودة يحب معالي الأخلاق ويكره سفسافها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کرم فرمانے والا ہے اور کرم کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، وہ نہایت سخی ہے اور سخاوت کو پسند فرماتا ہے، وہ اعلیٰ اخلاق کو پسند کرتا ہے جبکہ گھٹیا اور رذیل اخلاق کو ناپسند کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1800
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر الضياء] عن سعد بن أبي وقاص. الصحيحة ١٣٧٨ و١٦٢٦.
«إن الله كريم يحب الكرم ويحب معالي الأخلاق ويكره سفسافها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کریم ہے اور کرم (سخاوت اور شرافت) کو پسند فرماتا ہے، اور وہ اعلیٰ اخلاق کو پسند کرتا ہے جبکہ گھٹیا اور رذیل اخلاق کو ناپسند کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1801
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب حل ك هب] عن سهل بن سعد. الصحيحة ١٣٧٨ و ١٦٢٦.
«إن الله لعن الخمر وعاصرها ومعتصرها وشاربها وساقيها وحاملها والحمولة إليه وبائعها ومشتريها وآكل ثمنها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے شراب پر، اسے نچوڑنے والے پر، اسے نچڑوانے والے پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اسے اٹھا کر لے جانے والے پر، جس کی طرف اسے لے جایا جائے اس پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اور اس کی قیمت کھانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1802
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك هب] عن ابن عمر. الإرواء ١٥٢٩: حب، الضياء – ابن عباس.
«إن الله تعالى لما خلق الخلق كتب بيده على نفسه: إن رحمتي تغلب غضبي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر (ایک کتاب میں یہ بات) لکھ لی کہ: یقیناً میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1803
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٦٢٩.
«إن الله تعالى لم يأمرنا فيما رزقنا أن نكسو الحجارة واللبن والطين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو رزق عطا فرمایا ہے، اس کے بارے میں ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ ہم (گھروں کے) پتھروں، اینٹوں اور مٹی کو کپڑے پہنائیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1804
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د] عن عائشة. غاية المرام ١٣٥.
«إن الله تعالى لم يبعث نبيا ولا خليفة إلا وله بطانتان: بطانة تأمره بالمعروف وتنهاه عن المنكر وبطانة لا تألوه خبالا ومن يوق بطانة السوء فقد وقي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا اور نہ ہی کوئی خلیفہ بنایا مگر اس کے دو طرح کے مشیر (رازدار) ہوتے ہیں: ایک مشیروں کا گروہ وہ ہوتا ہے جو اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، اور دوسرا مشیروں کا گروہ وہ ہوتا ہے جو اسے تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا، اور جسے برے مشیروں سے محفوظ رکھا گیا وہ یقیناً بچا لیا گیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1805
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خد ت] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٦٤١: حم، خ تعليقا، الطحاوي، ك، هب.
«إن الله لم يبعثني معنتا ولا متعنتا ولكن بعثني معلما ميسرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مشقت میں ڈالنے والا اور سختی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا، بلکہ اس نے مجھے تعلیم دینے والا اور آسانیاں پیدا کرنے والا بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1806
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عائشة.
«إن الله تعالى لم يجعل لمسخ نسلا ولا عقبا وقد كانت القردة والخنازير قبل ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کسی مسخ شدہ (جن کی صورتیں بگاڑ دی گئی ہوں) قوم کی کوئی نسل یا اولاد آگے نہیں چلائی، اور بندر اور خنزیر تو ان مسخ شدہ لوگوں سے پہلے بھی موجود تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1807
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن ابن مسعود.
«إن الله تعالى لم يضع داء إلا وضع له شفاء فعليكم بألبان البقر فإنها ترم من كل الشجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفا نازل نہ کی ہو، لہٰذا تم گائے کے دودھ کو اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ وہ ہر قسم کے درختوں (اور پودوں) سے چرتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1808
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن طارق بن شهاب.
«إن الله تعالى لم ينزل داء إلا أنزل له دواء علمه من علمه وجهله من جهله إلا السام وهو الموت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا نازل نہ کی ہو، اسے جاننے والے جان لیتے ہیں اور نہ جاننے والے اس سے ناواقف رہتے ہیں، سوائے «السَّام» کے، اور وہ موت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1809
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي سعيد. غاية المرام ٢٩٢، الصحيحة ٤٥١.
«إن الله تعالى لم ينزل داء إلا أنزل له شفاء إلا الهرم فعليكم بألبان البقر فإنها ترم من كل شجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفا نازل نہ کی ہو، سوائے بڑھاپے کے۔ لہٰذا تم گائے کا دودھ استعمال کیا کرو، کیونکہ وہ ہر قسم کے درخت (اور جڑی بوٹیوں) سے چرتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1810
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن ابن مسعود. الصحيحة ٥١٨.
«إن الله لن يعجزني في أمتي أن يؤخرها نصف يوم» - خمسمائة عام -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ میری امت کے حق میں مجھے اس بات سے عاجز نہیں کرے گا کہ وہ اسے آدھے دن کی مہلت دے، یعنی پانچ سو سال۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1811
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل] عن سعد. الصحيحة ١٦٤٣: حم، ك.
«إن الله لو شاء أن لا يعصى ما خلق إبليس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اگر اللہ تعالیٰ یہ چاہتا کہ اس کی نافرمانی نہ کی جائے تو وہ ابلیس کو پیدا ہی نہ کرتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1812
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حل] عن ابن عمر. الصحيحة ١٦٤٢: البزار، هق، الالكائي – ابن عمرو.
«إن الله تعالى ليؤيد الدين بالرجل الفاجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس دین کی مدد کسی فاجر (گناہ گار) شخص کے ذریعے بھی کروا لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1813
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عمرو بن النعمان بن مقرن. الصحيحة ١٦٤٩: حم، ق، الدارمي – أبو هريرة. حب، طب –ابن مسعود.
«إن الله تعالى ليحمي عبده المؤمن من الدنيا وهو يحبه كما تحمون مريضكم الطعام والشراب تخافون عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو دنیا (کی رنگینیوں) سے محفوظ رکھتا ہے اور وہ اس سے محبت فرماتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے تم اپنے بیمار کو (نقصان دہ) کھانے پینے سے بچاتے ہو کیونکہ تمہیں اس کی جان کا ڈر ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1814
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن محمود بن لبيد [ك] عن أبي سعيد. المشكاة ٥٢٥٠.
«إن الله ليربي لأحدكم التمرة واللقمة كما يربي لأحدكم فلوه أو فصيله حتى تكون مثل أحد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کے کھجور یا لقمے (کے صدقے) کو اس طرح پالتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹنی کے بچے کو پالتا ہے، یہاں تک کہ وہ (صدقہ بڑھ کر) احد پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1815
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب] عن عائشة. تخريج مشكلة الفقر ١١٦، صحيح الترغيب ٨٥٠.
«إن الله تعالى ليرضى عن العبد أن يأكل الأكلة أو يشرب الشربة فيحمد الله عليها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ کچھ کھائے یا کچھ پیے تو اس پر اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1816
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت ن] عن أنس. الصحيحة ١٦٥١.
«إن الله ليزيد الكافر عذابا ببكاء أهله عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافر کے گھر والوں کے اس پر رونے (اور نوحہ کرنے) کی وجہ سے اس کے عذاب میں اضافہ فرما دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1817
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن عائشة.
«إن الله تعالى ليسأل العبد يوم القيامة حتى يسأله: ما منعك إذا رأيت المنكر أن تنكره؟ فإذا لقن الله العبد حجته قال: يا رب رجوتك وفرقت من الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندے سے سوال کرے گا، یہاں تک کہ وہ اس سے پوچھے گا: جب تو نے برائی کو دیکھا تھا تو تجھے اسے روکنے سے کس چیز نے باز رکھا؟ پھر جب اللہ تعالیٰ اس بندے کو اس کی دلیل سکھا دے گا تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے تجھ سے امید رکھی اور میں لوگوں سے ڈر گیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1818
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ حب] عن أبي سعيد. الصحيحة ٩٢٩: الحميدي.
«إن الله تعالى ليطلع في ليلة النصف من شعبان فيغفر لجميع خلقه إلا لمشرك أو مشاحن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات کو (اپنی مخلوق پر خاص) تجلی فرماتا ہے اور اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے، سوائے مشرک اور کینہ پرور (بغض رکھنے والے) کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1819
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن أبي موسى.
«إن الله ليعجب من الصلاة في الجمع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ باجماعت نماز ادا کرنے سے بہت خوش ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1820
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن ابن عمر. الصحيحة ١٦٥٢: عد، خط.
«إن الله ليعجب من العبد إذا قال: لا إله إلا أنت إني قد ظلمت نفسي فاغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت قال: عبدي عرف أن له ربا يغفر ويعاقب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ بندے کے اس قول پر بہت خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» (تیرے سوا کوئی معبود نہیں، بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، پس میرے گناہ بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا)۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے پہچان لیا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو معاف بھی کرتا ہے اور سزا بھی دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1821
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن السني ك] عن علي١. الصحيحة ١٦٥٣.
«إن الله تعالى ليملي للظالم حتى إذا أخذه لم يفلته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اسے پکڑتا ہے تو پھر اسے نہیں چھوڑتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1822
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ت هـ] عن أبي موسى.
«إن الله تعالى محسن فأحسنوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والا ہے، لہٰذا تم بھی احسان (نرمی اور بھلائی) کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1823
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عد] عن سمرة. الصحيحة ٤٦٩: ابن أبي عاصم.
«إن الله محسن يحب الإحسان فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح وليحد أحدكم شفرته ثم ليرح ذبيحته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والا ہے اور احسان کو پسند فرماتا ہے۔ لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنی چھری خوب تیز کر لے اور پھر اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1824
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن شداد بن أوس. الإرواء ٢٤٧٦.
«إن الله تعالى مع الدائن حتى يقضي دينه ما لم يكن دينه فيما يكره الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ مقروض کے ساتھ (اس کی مدد پر) ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے، بشرطیکہ اس کا قرض کسی ایسے کام کے لیے نہ ہو جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1825
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [تخ هـ ك] عن عبد الله بن جعفر.
«إن الله مع القاضي ما لم يجر عمدا فإذا جار وكله إلى نفسه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ قاضی (فیصلہ کرنے والے) کے ساتھ ہوتا ہے جب تک کہ وہ جان بوجھ کر ظلم (ناانصافی) نہ کرے۔ پس جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اسی کے سپرد کر دیتا ہے (یعنی اپنی مدد ہٹا لیتا ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1826
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ١ حب] عن ابن أبي أوفى. المشكاة ٣٧٤١: ك.
«إن الله تعالى مع القاضي ما لم يجر فإذا جار تبرأ منه وألزمه الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک کہ وہ ناانصافی نہ کرے۔ پس جب وہ ناانصافی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے بری الذمہ ہو جاتا ہے اور شیطان کو اس کے ساتھ چمٹا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1827
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك هق] عن ابن أبي أوفى. المشكاة ٣٧٤١: ت.
«إن الله تعالى مع القاضي ما لم يحف عمدا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک کہ وہ جان بوجھ کر ظلم اور زیادتی نہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1828
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن ابن مسعود [حم] عن معقل بن يسار. المشكاة ٣٧٤١.
«إن الله تعالى وتر يحب الوتر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ طاق (ایک) ہے اور طاق (عدد) کو پسند فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1829
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن نصر] عن أبي هريرة وعن ابن عمر. صحيح الترغيب ٥٩٣: ق، ابن خزيمة، حم.
«إن الله وتر يحب الوتر فإذا استجمرت فأوتر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا جب تم استنجاء (کے لیے ڈھیلے یا پتھر استعمال) کرو تو طاق عدد استعمال کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1830
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع] عن ابن مسعود. مجمع الزوائد ١/٢١١١.
«إن الله تعالى وتر يحب الوتر فأوتروا يا أهل القرآن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ طاق (ایک) ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا اے قرآن والو! تم بھی وتر (طاق نماز) پڑھا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1831
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن علي [هـ] عن ابن مسعود. صحيح الترغيب ٥٩٠، المشكاة ١٢٦٦، صحيح السنن ١٢٧٤ و ١٢٧٥: ن، ابن نصر، طب، حل، هق – ابن مسعود.
«إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1832
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن جابر. الإرواء ١٢٩٠، مختصرمسلم ٩٣١.
«إن الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر الأهلية فإنها رجس من عمل الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ اور اس کا رسول تمہیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں، کیونکہ یہ ناپاک اور شیطانی عمل ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1833
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن أنس. الإرواء ٢٤٨٤.
«إن الله وضع الحق على لسان عمر يقول به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے عمر (رضی اللہ عنہ) کی زبان پر حق جاری کر دیا ہے اور وہ اسی کے مطابق بات کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1834
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي ذر. المشكاة ٦٠٣٤: حم، د، ابن سعد.
«إن الله وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ (عارضی طور پر) اور آدھی نماز (قصر کی صورت میں) معاف کر دی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1835
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ٤] عن أنس بن مالك القشيري وماله غيره. المشكاة ٢٠٢٥، تخ، ابن خزيمة، ابن سعد، ابن جرير.
«إن الله تعالى وضع عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا، بھول چوک اور اس کام کو معاف فرما دیا ہے جس پر انہیں مجبور کیا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1836
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عباس. الإرواء ٨٢.
«إن الله تعالى وكل بالرحم ملكا يقول: أي رب نطفة أي رب علقة أي رب مضغة فإذا أراد الله أن يقضي خلقها قال: أي رب شقي أم سعيد؟ ذكر أو أنثى؟ فما الرزق؟ فما الأجل؟ فيكتب كذلك في بطن أمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے رحمِ مادر پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہوا ہے، جو کہتا ہے: اے میرے رب! (اب) یہ نطفہ ہے۔ اے میرے رب! (اب) یہ خون کا لوتھڑا ہے۔ اے میرے رب! (اب) یہ گوشت کی بوٹی ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی پیدائش کا فیصلہ فرمانا چاہتا ہے تو فرشتہ پوچھتا ہے: اے میرے رب! یہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت؟ لڑکا ہوگا یا لڑکی؟ اس کا رزق کتنا ہوگا؟ اور اس کی مدتِ حیات کیا ہوگی؟ چنانچہ یہ سب کچھ اس کی ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1837
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أنس.