کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إن أرواح الشهداء في طير خضر تعلق من ثمار الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں میں ہوتی ہیں جو جنت کے پھلوں سے لٹکی ہوئی ہوتی ہیں (یعنی ان سے رزق حاصل کرتی ہیں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1559
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن كعب بن مالك. الصحيحة ٩٩٥.
«إن أرواح المؤمنين في طير خضر تعلق بشجر الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ مومنوں کی روحیں سبز پرندوں میں ہوتی ہیں جو جنت کے درختوں سے لٹکی ہوتی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1560
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أم بشر بن البراء بن معرور وكعب بن مالك. الترغيب ٢/١٩٢، الصحيحة ١٩٥.
"إن أزواج أهل الجنة ليغنين أزواجهن بأحسن أصوات ما سمعها أحد قط [إن مما يغنين:
نحن الخيرات الحسان ... أزواج قوم كرام
ينظرن بقرة أعيان
وإن مما يغنين به:
نحن الخالدات فلا يمتنه ... نحن الآمنات فلا يخفنه
نحن المقيمات فلا يظعنه] ١ "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جنتیوں کی بیویاں اپنے شوہروں کے لیے ایسی خوبصورت اور دلکش آوازوں میں گیت گائیں گی جو کسی نے کبھی نہیں سنی ہوں گی۔ ان کے گیتوں میں سے کچھ یہ ہوں گے: «نَحْنُ الْخَيْرَاتُ الْحِسَانُ، أَزْوَاجُ قَوْمٍ كِرَامٍ، يَنْظُرْنَ بِقُرَّةِ أَعْيَانٍ» ہم اعلیٰ اخلاق والی خوبصورت عورتیں ہیں، عزت دار لوگوں کی بیویاں ہیں جو آنکھوں کی ٹھنڈک کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ اور ان کے گیتوں میں یہ الفاظ بھی ہوں گے: «نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا يَمُتْنَهْ، نَحْنُ الْآمِنَاتُ فَلَا يَخَفْنَهْ، نَحْنُ الْمُقِيمَاتُ فَلَا يَظْعَنَّهْ» ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں پس ہم کبھی نہیں مریں گی، ہم امن والی ہیں پس ہم کبھی خوفزدہ نہیں ہوں گی، ہم ہمیشہ مقیم رہنے والی ہیں پس ہم یہاں سے کبھی کوچ نہیں کریں گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1561
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن ابن عمر. الروض النضير ٤٩٦: طص، أبو نعيم، والضياء في [صفة الجنة] .
«إن أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے، پھر ان لوگوں کی جو مرتبے میں ان کے زیادہ قریب ہوں، پھر ان کی جو ان کے بعد ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1562
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن فاطمة بنت اليمان. الصحيحة ١١٦٥: ابن سعد.
«إن أشد الناس عذابا يوم القيامة: المصورون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے سخت عذاب تصویریں (یا مجسمے) بنانے والوں کو ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1563
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن ابن مسعود. غاية المرام ١٣٢، الصحيحة ٣٦٤.
«إن أشد هذه الأمة بعد نبيها حياء: عثمان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اس امت میں اس کے نبی کے بعد سب سے زیادہ حیا والے عثمان (رضی اللہ عنہ) ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1564
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [أبو نعيم في فضائل الصحابة] عن أبي أمامة٢.
"إن أصحاب هذه الصور يعذبون يوم
القيامة فيقال لهم: أحيوا ما خلقتم"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ان تصویروں (یا مجسموں) والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو کچھ بنایا ہے اب اسے زندہ بھی کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1565
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق ن هـ] عن عائشة [ق ن] عن ابن عمر. مختصر مسلم ١٣٦٨.
«إن أطيب ما أكلتم من كسبكم وإن أولادكم من كسبكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً سب سے پاکیزہ چیز جو تم کھاتے ہو وہ تمہاری اپنی کمائی ہے، اور بلاشبہ تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی کا ہی حصہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1566
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [تخ ت ن هـ] عن عائشة. الإرواء ٨٨٦ و١٦٢٦.
«إن أعظم الذنوب عند الله رجل تزوج امرأة فلما قضى حاجته منها طلقها وذهب بمهرها ورجل استعمل رجلا فذهب بأجرته وآخر يقتل دابة عبثا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑے گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے، پھر جب اس سے اپنی نفسانی غرض پوری کر لے تو اسے طلاق دے دے اور اس کا حق مہر ہڑپ کر لے، اور دوسرا وہ شخص جو کسی مزدور سے کام لے اور اس کی مزدوری مار لے، اور تیسرا وہ شخص جو کسی جانور کو ناحق (محض کھیل تماشے کے لیے) مار ڈالے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1567
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك هق] عن ابن عمر. الصحيحة ٩٩٩.
«إن أعظم المسلمين في المسلمين جرما: من سأل عن شيء لم يحرم على المسلمين فحرم عليهم من أجل مسألته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جو کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو مسلمانوں پر حرام نہ کی گئی ہو، پھر اس کے کھوجید کرنے اور سوال کی وجہ سے وہ چیز ان پر حرام کر دی جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1568
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د] عن سعد.
«إن أعظم الناس عند الله فرية: لرجل هاجى رجلا فهجا القبيلة بأسرها، ورجل انتفى من أبيه وزنى أمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے بڑا بہتان باندھنے والا وہ شخص ہے جو کسی آدمی کی ہجو (مذمت) کرے تو اس کے پورے قبیلے کی ہی مذمت کرنے لگ جائے، اور وہ شخص جو اپنے باپ کی ولدیت کا انکار کر دے اور اپنی سگی ماں پر زنا کی تہمت لگائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1569
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ هق] عن عائشة. الصحيحة ٧٦٣.
«إن أعمال العباد تعرض يوم الاثنين ويوم الخميس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بندوں کے اعمال سوموار اور جمعرات کے دن (اللہ تعالیٰ کے حضور) پیش کیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1570
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن أسامة بن زيد. الإرواء ٩٤٨، ٩٤٩.
«إن أفضل عباد الله يوم القيامة: الحمادون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً قیامت کے دن اللہ کے بہترین بندے وہ ہوں گے جو کثرت سے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے والے (یعنی حمادون) ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1571
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عمران بن حصين. الصحيحة ١٥٨٤: حم.
"إن أفضل ما تداويتم به: الحجامة والقسط
البحري فلا تعذبوا صبيانكم بالغمز"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو ان میں بہترین چیزیں پچھنے لگانا (حجامہ) اور قسط بحری (ایک سمندری جڑی بوٹی) ہیں، لہٰذا تم (علاج کی غرض سے) اپنے بچوں کے گلے دبا کر انہیں تکلیف نہ دیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1572
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أنس. مختصر مسلم ٩٣٦.
«إن أقربكم مني منزلا يوم القيامة: أحاسنكم أخلاقا في الدنيا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کے دن تم میں سے میرے سب سے زیادہ قریب رہنے والے وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق دنیا میں تم سب سے اچھے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1573
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن أبي هريرة. المشكاة ٤٧٩٧، الصحيحة ٧٩٢.
«إن أقل ساكني الجنة: النساء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جنت میں رہنے والوں میں عورتوں کی تعداد سب سے کم ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1574
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن عمران بن حصين. مختصر مسلم ١٩٧٠.
«إن أقواما بالمدينة خلفنا ما سلكنا شعبا ولا واديا إلا وهم معنا حبسهم العذر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں کہ ہم جس گھاٹی یا وادی سے بھی گزرتے ہیں وہ (اجر و ثواب میں) ہمارے ساتھ ہوتے ہیں، انہیں صرف شرعی عذر نے وہاں روک رکھا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1575
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أنس.
«إن أقواما يخرجون من النار يحترقون فيها إلا دارات وجوههم حتى يدخلون الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ کچھ لوگ جہنم کی آگ سے نکالے جائیں گے جو اس میں جل چکے ہوں گے سوائے ان کے چہروں کے نقوش کے، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1576
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن جابر. مختصرمسلم ٩٠.
«إن أكثر الناس شبعا في الدنيا أطولهم جوعا يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ دنیا میں جو لوگ سب سے زیادہ پیٹ بھر کر کھاتے ہیں، قیامت کے دن وہی سب سے زیادہ طویل عرصے تک بھوکے رہیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1577
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ ك] عن سلمان. الصحيحة ٣٤٣.
«إن أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا وإن حسن الخلق ليبلغ درجة الصوم والصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ مومنوں میں کامل ترین ایمان والا وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں، اور یقیناً حسن اخلاق انسان کو روزے اور نماز کے درجے تک پہنچا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1578
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن أنس. الصحيحة ١٥٩٠: أبو يعلى.
"إن الإبل خلقت من الشياطين وإن وراء كل بعير
شيطانا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اونٹ شیاطین سے پیدا کیے گئے ہیں، اور ہر اونٹ کے پیچھے ایک شیطان ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1579
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ص] عن خالد بن معدان مرسلا. حقيقة الصيام ٦٣.
«إن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا كما بدأ فطوبى للغرباء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا تھا اور عنقریب یہ پھر سے اجنبی ہو جائے گا جس طرح یہ شروع ہوا تھا، پس خوشخبری ہے ان اجنبیوں (یعنی اس پر استقامت دکھانے والوں) کے لیے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1580
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م هـ] عن أبي هريرة [ت هـ] عن ابن مسعود [هـ] عن أنس [طب] عن سلمان وسهل بن سعد وابن عباس. الروض ٣٥٠، المشكاة ١٥٩، الصحيحة ١٢٧٣.
«إن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا كما بدأ وهو يأرز بين المسجدين كما تأرز الحية في جحرها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا تھا اور عنقریب یہ پھر سے اجنبی ہو جائے گا جس طرح یہ شروع ہوا تھا، اور یہ دونوں مسجدوں (مکہ اور مدینہ) کے درمیان اس طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1581
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عمر. مختصر مسلم ٧٢.
«إن الأشعريين إذا أرملوا في الغزو أو قل طعام عيالهم بالمدينة جعلوا ما كان عندهم في ثوب واحد ثم اقتسموه بينهم في إناء واحد بالسوية فهم مني وأنا منهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اشعری قبیلے کے لوگ جب جہاد کے دوران خوراک کی کمی کا شکار ہوتے ہیں یا مدینہ میں ان کے اہل و عیال کا کھانا کم پڑ جاتا ہے، تو ان کے پاس جو کچھ بھی ہوتا ہے اسے ایک کپڑے میں جمع کر لیتے ہیں، پھر اسے ایک ہی برتن سے آپس میں برابر برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔ پس وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1582
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي موسى.
«إن الأعمال ترفع يوم الاثنين والخميس فأحب أن يرفع عملي وأنا صائم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اعمال پیر اور جمعرات کے دن (اللہ تعالیٰ کے حضور) اٹھائے جاتے ہیں، لہٰذا میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حالت میں اٹھایا جائے کہ میں روزے سے ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1583
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الشيرازي في الألقاب] عن أبي هريرة [هب] عن أسامة بن زيد. الإرواء ٩٤٩.
"إن الأمانة نزلت في جذر قلوب الرجال ثم نزل القرآن فعلموا من القرآن وعلموا من السنة ينام الرجل النومة فتقبض الأمانة من قلبه فيظل أثرها مثل الوكت ثم ينام النومة فتقبض
الأمانة من قلبه فيظل أثرها مثل المجل كجمر دحرجته على رجلك فنفط فتراه منتبرا وليس فيه شيء فيصبح الناس يتبايعون لا يكاد أحد يؤدي الأمانة حتى يقال: إن في بني فلان رجلا أمينا! حتى يقال للرجل: ما أجلده؟ ما أظرفه؟ ما أعقله؟ وما في قلبه حبة خردل من إيمان"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ امانت (شروع میں) لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں اتری، پھر قرآن نازل ہوا تو انہوں نے قرآن سے (امانت داری) سیکھی اور سنت سے سیکھی۔ (پھر امانت کے اٹھ جانے کا وقت آئے گا کہ) آدمی ایک نیند سوئے گا تو اس کے دل سے امانت نکال لی جائے گی اور اس کا نشان محض ایک ہلکے دھبے کی طرح رہ جائے گا۔ وہ پھر ایک نیند سوئے گا تو اس کے دل سے (بقیہ) امانت بھی قبض کر لی جائے گی، پس اس کا نشان ایک چھالے کی طرح رہ جائے گا جیسے تم کسی انگارے کو اپنے پاؤں پر لڑھکاؤ تو وہ آبلہ پڑ جائے، تم اسے پھولا ہوا دیکھو گے حالانکہ اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا۔ پھر لوگ صبح اٹھ کر ایک دوسرے سے خرید و فروخت کریں گے لیکن کوئی بھی امانت داری کا حق ادا نہیں کرے گا، یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار شخص موجود ہے۔ یہاں تک کہ کسی شخص کے بارے میں (بظاہر دیکھ کر) کہا جائے گا کہ وہ کتنا بہادر ہے، کتنا خوش مزاج ہے اور کتنا سمجھدار ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1584
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن حذيفة.
«إن الأمير إذا ابتغى الريبة في الناس أفسدهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ حاکم جب لوگوں میں شک و شبہ (اور عیب جوئی) کی تلاش میں لگ جاتا ہے تو وہ انہیں بگاڑ دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1585
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن جبير بن نفير وكثير بن مرة والمقدام وأبي أمامة. غاية المرام ٤٢٥: حم، الطحاوي، ابن عساكر ومعاوية.
«إن الأنبياء يتباهون أيهم أكثر أصحابا من أمته فأرجو أن أكون يومئذ أكثرهم كلهم واردة وإن كل رجل منهم يومئذ قائم على حوض ملآن معه عصا يدعو من عرف من أمته ولكل أمة سيما يعرفهم بها نبيهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ انبیاء اس بات پر فخر کریں گے کہ ان میں سے کس کی امت کے لوگ زیادہ ہیں، پس میں امید کرتا ہوں کہ اس دن حوض پر آنے والے میرے امتی ان سب سے زیادہ ہوں گے۔ اور بلاشبہ اس دن ان (انبیاء) میں سے ہر ایک اپنے بھرے ہوئے حوض پر کھڑا ہوگا، اس کے ہاتھ میں ایک عصا ہوگا اور وہ اپنی امت کے پہچانے جانے والے لوگوں کو بلائے گا، اور ہر امت کی ایک خاص علامت ہوگی جس سے ان کا نبی انہیں پہچان لے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1586
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن سمرة. الصحيحة ١٥٨٩.
«إن الأنصار قد قضوا الذي عليهم وبقي الذي عليكم فاقبلوا من محسنهم وتجاوزوا عن مسيئهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ انصار نے وہ ذمہ داری پوری کر دی ہے جو ان پر عائد ہوتی تھی اور اب وہ ذمہ داری باقی ہے جو تم پر عائد ہوتی ہے (یعنی ان کے حقوق ادا کرنا)، لہٰذا تم ان کے نیکوکار کی نیکی کو قبول کرو اور ان کے خطاکار کی غلطی سے درگزر کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1587
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الشافعي هق في المعرفة] عن أنس. الصحيحة ٩١٦: حم، حب.
«إن الأوعية لا تحرم شيئا فانتبذوا فيما بدا لكم واجتنبوا كل مسكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ برتن کسی چیز کو حرام نہیں کرتے، لہٰذا تم جس برتن میں چاہو نبیذ (پانی میں کھجور یا کشمش بھگو کر بنایا گیا شربت) بناؤ، البتہ ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1588
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن قرة بن إياس. مجمع الزوائد ٥/٦٥، ٦٤، ٦٦: مسلم ٦/٩٨.
"إن الإيمان ليأرز إلى المدينة كما تأرز الحية إلى
جحرها"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ایمان مدینہ کی طرف اس طرح سمٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ آتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1589
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق هـ] عن أبي هريرة.
«إن الإيمان ليخلق في جوف أحدكم كما يخلق الثوب فاسألوا الله تعالى: أن يجدد الإيمان في قلوبكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ تم میں سے کسی کے سینے میں ایمان اس طرح پرانا (اور بوسیدہ) ہو جاتا ہے جیسے کپڑا پرانا ہو جاتا ہے، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کو تازہ کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1590
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب ك] عن ابن عمرو. الصحيحة ١٥٨٥.
«إن البركة تنزل في وسط الطعام فكلوا من حافته ولا تأكلوا من وسطه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے، لہٰذا تم اس کے کناروں سے کھایا کرو اور اس کے درمیان سے نہ کھایا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1591
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك] عن ابن عباس. الصحيحة ١٥٨٧.
«إن البلايا أسرع إلى من يحبني من السيل إلى منتهاه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ مجھ سے محبت کرنے والے کی طرف آزمائشیں اس سے بھی زیادہ تیزی سے آتی ہیں جتنی تیزی سے سیلاب کا پانی اپنی آخری منزل (یا نشیب) کی طرف بہتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1592
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حب] عن عبد الله بن مغفل. الصحيحة ١٥٨٦.
«إن البيت الذي فيه الصور لا تدخله الملائكة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جس گھر میں تصویریں (یا مجسمے) ہوں، اس میں (رحمت کے) فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1593
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ق] عن عائشة. غاية المرام ١٢١: حم، ن، أبو بكر الشافعي.
«إن التجار هم الفجار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ (ناجائز طریقے اپنانے والے اور دھوکہ دینے والے) تاجر ہی فاجر (بدکار) ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1594
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك هب] عن عبد الرحمن بن شبل [طب] عن معاوية. الصحيحة ٦٥.
«إن الجذعة تجزي مما تجزي منه الثنية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ (قربانی میں) بھیڑ کا جذعہ (چھ ماہ سے ایک سال تک کا بچہ) بھی اسی طرح کفایت کر جاتا ہے جس طرح ثنیہ (دو دانتا جانور) کفایت کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1595
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هق] عن رجل من مزينة. الضعيفة ٦٥.
«إن الجذع من الضأن يوفي مما يوفي منه الثني من المعز»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بھیڑ کا جذعہ (چھ ماہ سے ایک سال تک کا بچہ) اس چیز کے لیے کافی ہو جاتا ہے جس کے لیے بکری کا ثنی (دو دانتا جانور) کافی ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1596
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن هـ ك هق] عن مجاشع بن مسعود. الإرواء ١١٤٦.
«إن الجماء لتقتص من القرناء يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کے دن بغیر سینگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے ضرور بدلہ دلایا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1597
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عم] عن عثمان. الصحيحة ١٥٨٨.
«إن الجنة لتشتاق إلى ثلاثة: علي وعمار وسلمان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جنت تین افراد کی مشتاق ہے: علی، عمار اور سلمان (رضی اللہ عنہم) کی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1598
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت ك] عن أنس. المشكاة ١٢٢٥.