صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"إن الأمانة نزلت في جذر قلوب الرجال ثم نزل القرآن فعلموا من القرآن وعلموا من السنة ينام الرجل النومة فتقبض الأمانة من قلبه فيظل أثرها مثل الوكت ثم ينام النومة فتقبض
الأمانة من قلبه فيظل أثرها مثل المجل كجمر دحرجته على رجلك فنفط فتراه منتبرا وليس فيه شيء فيصبح الناس يتبايعون لا يكاد أحد يؤدي الأمانة حتى يقال: إن في بني فلان رجلا أمينا! حتى يقال للرجل: ما أجلده؟ ما أظرفه؟ ما أعقله؟ وما في قلبه حبة خردل من إيمان"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ امانت (شروع میں) لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں اتری، پھر قرآن نازل ہوا تو انہوں نے قرآن سے (امانت داری) سیکھی اور سنت سے سیکھی۔ (پھر امانت کے اٹھ جانے کا وقت آئے گا کہ) آدمی ایک نیند سوئے گا تو اس کے دل سے امانت نکال لی جائے گی اور اس کا نشان محض ایک ہلکے دھبے کی طرح رہ جائے گا۔ وہ پھر ایک نیند سوئے گا تو اس کے دل سے (بقیہ) امانت بھی قبض کر لی جائے گی، پس اس کا نشان ایک چھالے کی طرح رہ جائے گا جیسے تم کسی انگارے کو اپنے پاؤں پر لڑھکاؤ تو وہ آبلہ پڑ جائے، تم اسے پھولا ہوا دیکھو گے حالانکہ اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا۔ پھر لوگ صبح اٹھ کر ایک دوسرے سے خرید و فروخت کریں گے لیکن کوئی بھی امانت داری کا حق ادا نہیں کرے گا، یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار شخص موجود ہے۔ یہاں تک کہ کسی شخص کے بارے میں (بظاہر دیکھ کر) کہا جائے گا کہ وہ کتنا بہادر ہے، کتنا خوش مزاج ہے اور کتنا سمجھدار ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔“