کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إذا قام أحدكم يصلي فإنه يستره إذا كان بين يديه مثل آخرة الرحل فإذا لم يكن بين يديه مثل آخرة الرحل فإنه يقطع صلاته الحمار والمرأة والكلب الأسود قيل: ما بال الكلب الأسود من الكلب الأحمر؟ قال: الكلب الأسود شيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو تو اگر اس کے آگے اونٹ کے کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو وہ اس کے لیے سترہ (آڑ) بن جاتی ہے، پس اگر اس کے آگے کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو اس کی نماز کو گدھا، عورت اور کالا کتا توڑ دیتے ہیں۔ پوچھا گیا: کالے کتے کی کیا خاصیت ہے جبکہ سرخ (یا دیگر رنگوں کے) کتے ایسا نہیں کرتے؟ تو آپ (ﷺ) نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 719
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن أبي ذر. صحيح أبي داود ٦٩٩.
«إذا قام أحدكم يصلي من الليل فليستك فإن أحدكم إذا قرأ في صلاته وضع ملك فاه على فيه ولا يخرج من فيه شيء إلا دخل فم الملك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص رات کے وقت نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو تو اسے چاہیے کہ مسواک کر لے، کیونکہ جب کوئی شخص اپنی نماز میں قراءت کرتا ہے تو فرشتہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے، پھر اس کے منہ سے جو بھی (قرآن کا حرف) نکلتا ہے وہ سیدھا فرشتے کے منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 720
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب تمام الضياء] عن جابر. الصحيحة ١٢١٣: هق، الضياء - علي.
«إذا قام الإمام في الركعتين فإن ذكر قبل أن يستوي قائما فليجلس فإن استوى قائما فلا يجلس ويسجد سجدتي السهو»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب امام دو رکعتیں پڑھ کر (قعدہ کرنے کے بجائے بھول کر) کھڑا ہونے لگے، پس اگر اسے سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آ جائے تو اسے بیٹھ جانا چاہیے، اور اگر وہ سیدھا کھڑا ہو جائے تو پھر نہ بیٹھے اور (نماز کے آخر میں) سجدہ سہو کے دو سجدے کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 721
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ هق] عن المغيرة. صحيح أبي داود ٩٤٩: ابن ماجه، والطحاوي، قط.
«إذا قام الرجل من مجلسه ثم رجع إليه فهو أحق به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص اپنی بیٹھنے کی جگہ سے (کسی کام کے لیے) اٹھے اور پھر واپس وہیں آ جائے، تو وہ اس (جگہ) کا زیادہ حق دار ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 722
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد م د هـ] عن أبي هريرة [حم] عن وهب بن حذيفة.
«إذا قام الرجل يتوضأ ليلا أو نهارا فأحسن الوضوء واستن ثم قام فصلى أطاف به الملك ودنا منه حتى يضع فاه على فيه فما يقرأ إلا في فيه، وإذا لم يستن أطاف به ولا يضع فاه على فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص رات یا دن کے وقت وضو کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے اور مسواک کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو فرشتہ اس کے گرد گھومتا ہے اور اس کے اس قدر قریب ہو جاتا ہے کہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے، پس وہ جو کچھ بھی پڑھتا ہے وہ اس (فرشتے) کے منہ میں جاتا ہے، اور اگر وہ مسواک نہیں کرتا تو فرشتہ اس کے گرد گھومتا تو ہے لیکن اپنا منہ اس کے منہ پر نہیں رکھتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 723
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [محمد بن نصر في الصلاة] عن ابن شهاب مرسلا. الصحيحة ١١٣: هق، الضياء – علي.
«إذا قبر الميت أتاه ملكان أسودان أزرقان يقال لأحدهما المنكر وللآخر النكير فيقولان: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: ما كان يقول هو: عبد الله ورسوله أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمد عبده ورسوله، فيقولان: قد كنا نعلم أنك تقول، ثم يفسح له في قبره سبعون ذراعا في سبعين ثم ينور له فيه ثم يقال: نم فيقول: أرجع إلى أهلي فأخبرهم، فيقولان: نم كنومة العروس الذي لا يوقظه إلا أحب أهله إليه، حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك، وإن كان منافقا قال: سمعت الناس يقولون قولا فقلت مثله لا أدري فيقولان: قد كنا نعلم أنك تقول ذلك فيقال للأرض: التئمي عليه فتلتئم عليه فتختلف أضلاعه فلا يزال فيها معذبا حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب میت کو قبر میں دفنا دیا جاتا ہے تو اس کے پاس سیاہ رنگت اور نیلی آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں، جن میں سے ایک کو ’منکر‘ اور دوسرے کو ’نکیر‘ کہا جاتا ہے۔ وہ دونوں پوچھتے ہیں: تم اس شخص (یعنی محمد ﷺ) کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے؟ تو وہ وہی کہتا ہے جو وہ (دنیا میں) کہا کرتا تھا: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ وہ فرشتے کہتے ہیں: ہم جانتے تھے کہ تم یہی کہو گے۔ پھر اس کی قبر کو ستر ہاتھ لمبا اور ستر ہاتھ چوڑا کر کے کشادہ کر دیا جاتا ہے، پھر اس کے لیے اس میں روشنی کر دی جاتی ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: سو جاؤ۔ وہ کہتا ہے: میں واپس اپنے گھر والوں کے پاس جا کر انہیں یہ خوشخبری سنانا چاہتا ہوں۔ وہ فرشتے کہتے ہیں: تم اس دلہن کی طرح سو جاؤ جسے اس کے گھر والوں میں سے صرف وہی جگاتا ہے جو اسے سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کی خواب گاہ سے اٹھائے گا۔ اور اگر وہ (مردہ) منافق ہو تو وہ کہتا ہے: میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا، میں (حقیقت میں) کچھ نہیں جانتا تھا۔ وہ فرشتے کہتے ہیں: ہم جانتے تھے کہ تم یہی کہو گے۔ پھر زمین کو حکم دیا جاتا ہے: اس پر سمٹ جاؤ۔ پس وہ اس پر اس قدر تنگ ہو جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں، اور وہ اس میں مسلسل عذاب سہتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کی اس خواب گاہ سے اٹھائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 724
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٣٩١.
«إذا قدم أحدكم ليلا فلا يأتين أهله طروقا١؛ حتى تستحد المغيبة وتمتشط الشعثة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص رات کے وقت (سفر سے) واپس آئے تو اچانک رات کے وقت اپنے گھر والوں کے پاس نہ چلا جائے، تاکہ وہ عورت جس کا خاوند دور تھا اپنے زیرِ ناف بال صاف کر لے اور بکھرے بالوں والی عورت اپنے بالوں میں کنگھی کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 725
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جابر.
«إذا قدم العشاء وحضرت الصلاة فابدءوا به قبل أن تصلوا صلاة المغرب ولا تعجلوا عن عشائكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب رات کا کھانا لا کر رکھ دیا جائے اور نماز کا وقت ہو جائے، تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کھانا کھا لو، اور اپنے کھانے میں جلدی نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 726
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أنس.
«إذا قرأ ابن آدم السجدة فسجد اعتزل الشيطان يبكي يقول: يا ويله أمر ابن آدم بالسجود فسجد فله الجنة وأمرت بالسجود فعصيت فلي النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب ابن آدم سجدے کی آیت پڑھتا ہے اور سجدہ کرتا ہے، تو شیطان روتا ہوا الگ ہٹ جاتا ہے اور کہتا ہے: ہائے میری بربادی! ابن آدم کو سجدے کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا، پس اس کے لیے جنت ہے، اور مجھے سجدے کا حکم دیا گیا تو میں نے نافرمانی کی، پس میرے لیے جہنم کی آگ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 727
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ] عن أبي هريرة. إصلاح المساجد ٦٩ مختصر مسلم ٣٦٩.
«إذا قرأ الإمام فأنصتوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب امام قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 728
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي موسى. صحيح أبي داود ٨٩٣، الإرواء ٣٩٤: حم، د، ن، هـ.
«إذا قرأتم {الْحَمْدُ لِلَّهِ} فاقرءوا {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} إنها أم القرآن وأم الكتاب والسبع المثاني و {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} إحدى آياتها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ﴾ پڑھو تو ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ بھی پڑھا کرو، کیونکہ یہ (سورة الفاتحہ) ام القرآن، ام الکتاب اور سات بار بار دہرائی جانے والی آیات (السبع المثانی) ہے، اور ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ اس کی آیات میں سے ایک آیت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 729
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [قط هق] عن أبي هريرة. الصحيحة ١١٨٣.
«إذا قسمت الأرض وحدت فلا شفعة فيها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب زمین تقسیم کر دی جائے اور حد بندیاں مقرر کر دی جائیں، تو پھر اس میں کوئی حقِ شفعہ باقی نہیں رہتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 730
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٣٧٥.
«إذا قضى أحدكم الصلاة في مسجده فليجعل لبيته نصيبا من صلاته فإن الله تعالى جاعل في بيته من صلاته خيرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں اپنی (فرض) نماز ادا کر لے، تو اسے چاہیے کہ اپنی نمازوں (نوافل اور سنتوں) کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لیے بھی رکھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی برکت سے اس کے گھر میں بھلائی پیدا فرمانے والا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 731
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ] عن جابر [الدارقطني في الأفراد] عن أنس. الصحيحة ١٣٩٢.
«إذا قضى أحدكم حجه فليعجل الرجوع إلى أهله فإنه أعظم لأجره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنا حج پورا کر لے تو اسے چاہیے کہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس لوٹنے میں جلدی کرے، کیونکہ یہ اس کے اجر میں اضافے کا باعث ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 732
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك هق] عن عائشة. الصحيحة ١٣٧٩.
«إذا قضى أحدكم صلاته في المسجد ثم رجع إلى بيته فليصل في بيته ركعتين وليجعل لبيته نصيبا من صلاته فإن الله جاعل في بيته من صلاته خيرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں اپنی نماز پوری کر لے اور پھر اپنے گھر واپس آئے تو اسے چاہیے کہ اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھے اور اپنی نمازوں کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لیے بھی مختص کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی برکت سے اس کے گھر میں بھلائی پیدا فرمانے والا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 733
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ع] عن أبي سعيد.
«إذا قضى الله تعالى الأمر في السماء ضربت الملائكة بأجنحتها خضعانا لقوله كأنه سلسلة على صفوان، فإذا فزع عن قلوبهم ق الوا ماذا قال ربكم؟ قالوا ل لذي قال الحق وهو العلي الكبير، فيسمعها مسترقوا السمع ومسترقوا السمع هكذا واحد فوق آخر فربما أدرك الشهاب المستمع قبل أن يرمي بها إلى صاحبه فيحرقه، وربما لم يدركه حتى يرمي بها إلى الذي يليه إلى الذي هو أسفل منه حتى يلقوها إلى الأرض، فتلقى على فم الساحر فيكذب معها مئة كذبة فيصدق فيقولون: ألم تخبرنا يوم كذا وكذا يكون كذا وكذا فوجدناه حقا للكلمة التي سمعت من السماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کے آگے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے پروں کو پھڑپھڑاتے ہیں، جس کی آواز یوں معلوم ہوتی ہے جیسے کسی صاف اور چکنے پتھر پر زنجیر چلائی جا رہی ہو۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ آپس میں پوچھتے ہیں: ﴿مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ﴾ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ تو وہ فرشتے جواب دیتے ہیں: ﴿قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾ اس نے حق بات فرمائی ہے اور وہی سب سے بلند، بہت بڑا ہے۔ [سورة سبأ: 23] پس چوری چھپے سننے والے (شیاطین) اس بات کو سن لیتے ہیں، اور یہ چوری چھپے سننے والے اس طرح ایک دوسرے کے اوپر تہہ در تہہ ہوتے ہیں۔ تو بسا اوقات آگ کا شعلہ (شہابِ ثاقب) بات سننے والے کو اس سے پہلے جا لیتا ہے کہ وہ اس کلمے کو اپنے نیچے والے ساتھی تک پہنچائے اور اسے جلا کر راکھ کر دیتا ہے، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شعلہ اسے اس وقت تک نہیں پاتا جب تک کہ وہ اس بات کو اپنے نیچے والے تک منتقل نہیں کر دیتا، حتیٰ کہ وہ اسے زمین تک پہنچا دیتے ہیں۔ پھر وہ بات جادوگر یا کاہن کے منہ میں ڈال دی جاتی ہے، تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے۔ پھر (جب وہ ایک بات سچ نکلتی ہے تو) اس کی تصدیق کی جاتی ہے اور لوگ کہتے ہیں: کیا اس نے فلاں فلاں دن ہمیں یہ نہیں بتایا تھا کہ ایسا ایسا ہوگا؟ پس ہم نے اسے سچ پایا، اور یہ اسی ایک کلمے کی وجہ سے ہوتا ہے جو آسمان سے سنا گیا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 734
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ت هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٢٩٣، ابن خزيمة، هق في الأسماء.
«إذا قضى الله تعالى لعبد أن يموت بأرض جعل الله له إليها حاجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں یہ فیصلہ فرما لیتا ہے کہ اسے کسی خاص زمین (یا علاقے) میں موت آئے گی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس جگہ کی کوئی حاجت (یا کام) پیدا فرما دیتا ہے (تاکہ وہ وہاں پہنچ جائے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 735
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك] عن مطر بن عكامس [ت] عن أبي عزة. المشكاة ١١٠.
«إذا قعد بين شعبها الأربع وألزق الختان بالختان فقد وجب الغسل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص عورت کی چاروں شاخوں (ہاتھوں اور پیروں) کے درمیان بیٹھ جائے اور ختنہ ختنے سے مل جائے (یعنی شرمگاہیں آپس میں مل جائیں)، تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 736
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن عائشة [د] عن أبي هريرة. حم عن عائشة، د عن أبي هريرة.
"إذا قلت لصاحبك والإمام يخطب يوم الجمعة: أنصت
فقد لغوت"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جمعہ کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو، اگر تم نے اپنے ساتھی سے اتنا بھی کہا کہ ’خاموش ہو جاؤ‘ تو تم نے بھی لغو حرکت کی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 737
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق د ن هـ] عن أبي هريرة. الضعيفة ٨٧، صحيح أبي داود ١٠١٨، الإرواء ٦١٩.
«إذا قمت إلى الصلاة فأسبغ الوضوء ثم استقبل القبلة فكبر ثم اقرأ ما تيسر معك من القرآن ثم اركع حتى تطمئن راكعا ثم ارفع حتى تستوي قائما ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم ارفع حتى تستوي قائما ثم افعل ذلك في صلاتك كلها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اچھی طرح کامل وضو کرو، پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہو، پھر قرآن میں سے جو تمہیں آسانی سے یاد ہو وہ پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ تم اطمینان سے رکوع کر لو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ تم سجدے میں پرسکون ہو جاؤ، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر اپنی پوری نماز میں اسی طرح کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 738
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق هـ] عن أبي هريرة. صفة الصلاة، صحيح أبي داود ٨٠، الإرواء ٢٨٩ مختصر مسلم ٢٦١، ٢٨٢.
«إذا قمت إلى الصلاة فأسبغ الوضوء واجعل الماء بين أصابع يديك ورجليك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اچھی طرح کامل وضو کرو، اور اپنے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کے درمیان (خلال کرتے ہوئے) پانی پہنچاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 739
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عباس. الصحيحة ١٣٠٦.
«إذا قمت إلى الصلاة فتوضأ كما أمرك الله، ثم قم فاستقبل القبلة ثم كبر فإن كان معك قرآن فاقرأه، وإن لم يكن معك قرآن فاحمد الله وهلله وكبره، فإذا ركعت فاركع حتى تطمئن ثم ارفع رأسك فاعتدل قائما ثم اسجد فاعتدل ساجدا ثم ارفع رأسك فاعتدل قاعدا حتى تقضي صلاتك فإذا فعلت ذلك فقد تمت صلاتك وإن انتقصت من ذلك شيئا فإنما انتقصت من صلاتك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اسی طرح وضو کرو جس طرح اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے، پھر کھڑے ہو کر قبلہ رخ ہو جاؤ، پھر تکبیر کہو۔ پس اگر تمہیں قرآن یاد ہو تو اسے پڑھو، اور اگر تمہیں قرآن یاد نہ ہو تو اللہ کی حمد بیان کرو («الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہو)، اس کی توحید بیان کرو («لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہو) اور اس کی بڑائی بیان کرو («اللَّهُ أَكْبَرُ» کہو)۔ پھر جب تم رکوع کرو تو اطمینان سے رکوع کرو، پھر اپنا سر اٹھاؤ تو سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو تو سجدے میں اعتدال اور سکون اختیار کرو، پھر اپنا سر اٹھاؤ اور سیدھے ہو کر بیٹھ جاؤ، یہاں تک کہ تم اپنی نماز پوری کر لو۔ پس اگر تم نے ایسا کر لیا تو تمہاری نماز مکمل ہو گئی، اور اگر تم نے اس میں سے کچھ بھی کم کیا تو درحقیقت تم نے اپنی نماز میں ہی کمی کی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 740
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [٣] عن رفاعة البدري. صحيح أبي داود ٨٠٧، صفة الصلاة ٧٩.
"إذا قمت إلى الصلاة فكبر ثم اقرأ ما تيسر معك من
القرآن ثم اركع حتى تطمئن راكعا ثم ارفع حتى تعتدل قائما ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم ارفع حتى تطمئن جالسا ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم افعل ذلك في صلاتك كلها"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، پھر قرآن میں سے جو تمہیں آسانی سے یاد ہو اسے پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ تم اطمینان سے رکوع کر لو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ تم سجدے میں پرسکون ہو جاؤ، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدے میں پرسکون ہو جاؤ، پھر اپنی پوری نماز میں اسی طرح کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 741
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٣] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٨٠٢، الإرواء ٣٠٠، صفة الصلاة ٢٧٩، مختصر مسلم ٢٨٢.
«إذا قمت في صلاتك فصل صلاة مودع ولا تكلم بكلام تعتذر منه واجمع الإياس مما في أيدي الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم اپنی نماز میں کھڑے ہو تو رخصت ہونے والے (یعنی اپنی زندگی کی آخری نماز پڑھنے والے) کی طرح نماز پڑھو، اور کوئی ایسی بات نہ کہو جس سے تمہیں (بعد میں) معذرت کرنی پڑے، اور لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے اس سے مکمل طور پر مایوس ہو جاؤ (یعنی صرف اللہ کی ذات سے امید رکھو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 742
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن أبي أيوب. الصحيحة ٤٠١.
«إذا قمتم في الصلاة فلا تسبقوا قارئكم بالركوع والسجود ولكن هو يسبقكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم نماز میں کھڑے ہو تو اپنے قاری (یعنی امام) سے رکوع اور سجدے میں پہل نہ کرو، بلکہ وہ تم سے پہلے کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 743
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن سمرة. الصحيحة ١٣٩٣.
«إذا كان اثنان يتناجيان فلا تدخل بينهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب دو لوگ آپس میں سرگوشی کر رہے ہوں تو تم ان کے درمیان داخل نہ ہو (یعنی ان کی نجی بات میں دخل اندازی نہ کرو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 744
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن ابن عمر. الصحيحة ١٣٩٥: حم، أبو نعيم.
«إذا كان أجل أحدكم بأرض أتى له حاجة إليها فإذا بلغ أقصى أثره قبضه الله إليه فتقول الأرض يوم القيامة رب هذا ما استودعتني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت کسی (مخصوص) زمین پر مقرر ہوتا ہے، تو اس کے لیے وہاں کوئی حاجت (یا کام) پیدا کر دی جاتی ہے، پس جب وہ اپنے قدموں کے آخری نشان تک پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض کر لیتا ہے، پھر وہ زمین قیامت کے دن کہے گی: اے میرے رب! یہ ہے وہ امانت جو تو نے میرے سپرد کی تھی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 745
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ الحكيم ك] عن ابن مسعود. الصحيحة ١٢٢٢: ابن عاصم ٣٩٢*.
«إذا كان أحدكم صائما فليفطر على التمر فإن لم يجد التمر فعلى الماء فإن الماء طهور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کھجور سے افطار کرے، پس اگر اسے کھجور نہ ملے تو وہ پانی سے افطار کر لے، کیونکہ پانی پاک کرنے والا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 746
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك هق] عن سلمان بن عامر. المشكاة ١٩٩٠: حم، ت، ابن ماجه، الدارمي، حب.
«إذا كان أحدكم فقيرا فليبدأ بنفسه فإن كان فضل فعلى عياله فإن كان فضل فعلى ذي قرابته فإن كان فضل فهاهنا وهاهنا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص غریب (یا ضرورت مند) ہو تو اسے چاہیے کہ (صدقہ و خیرات میں) اپنے آپ سے ابتدا کرے، پھر اگر کچھ بچ جائے تو اپنے بال بچوں پر، پھر اگر کچھ بچ جائے تو اپنے رشتہ داروں پر، اور اگر پھر بھی کچھ بچ جائے تو دائیں بائیں (یعنی دیگر مستحقین پر) خرچ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 747
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن د] عن جابر. الإرواء ٨٣٣: هق.
«إذا كان أحدكم في الشمس فقلص عنه الظل وصار بعضه في الظل وبعضه في الشمس فليقم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص دھوپ میں بیٹھا ہو اور اس سے سایہ ہٹ جائے، اور اس کا کچھ حصہ سائے میں اور کچھ حصہ دھوپ میں ہو جائے، تو اسے چاہیے کہ وہ وہاں سے اٹھ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 748
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة. الصحيحة ٧٣٧.
«إذا كان أحدكم في الصلاة فلا يرفع بصره إلى السماء أن يلتمع بصره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو اپنی نگاہ آسمان کی طرف نہ اٹھائے، مبادا اس کی بینائی اچک لی جائے (یعنی چھین لی جائے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 749
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن رجل من الصحابة. صحيح الترغيب ٥٥٠ عن أبي سعيد الخدري وغيره.
«إذا كان أحدكم في الصلاة فوجد حركة في دبره أحدث أو لم يحدث؟ فأشكل عليه فلا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو اور اپنی پچھلی شرمگاہ (مقعد) میں کوئی حرکت محسوس کرے اور شک میں پڑ جائے کہ اس کا وضو ٹوٹا ہے یا نہیں؟ پس جب اس پر یہ معاملہ مشتبہ ہو جائے تو وہ اس وقت تک (نماز چھوڑ کر) نہ مڑے جب تک کہ کوئی آواز نہ سن لے یا بدبو نہ محسوس کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 750
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ١٦٩: حم، م، الدارمي، أبو عوانة.
«إذا كان أحدكم في المسجد فوجد ريحا بين أليتيه فلا يخرج حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں ہو اور وہ اپنی دونوں سرینوں کے درمیان ہوا (خارج ہونے) کا احساس پائے، تو وہ اس وقت تک (مسجد سے) باہر نہ نکلے جب تک کہ کوئی آواز نہ سن لے یا بدبو نہ محسوس کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 751
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ١٦٩: حم، م، الدارمي، أبو عوانة.
[إذا كان أحدكم في صلاة فإنه يناجي ربه فلينظر أحدكم ما يقول في صلاته ولا ترفعوا أصواتكم فتؤذوا المؤمنين]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے پروردگار سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنی نماز میں کیا کہہ رہا ہے، اور تم اپنی آوازوں کو بلند نہ کرو کہ اس سے (دوسرے) مومنوں کو تکلیف پہنچے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 752
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البغوي] عن رجل من بني بياضة. الصحيحة ١٥٩٧، صحيح أبي داود ١٢٠٣: حم، د، ابن خزيمة، ك، هق - أبي سعيد.
«إذا كان أحدكم يصلي فلا يبصق قبل وجهه فإن الله قبل وجهه إذا صلى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے چہرے کے سامنے نہ تھوکے، کیونکہ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 753
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ق ن] عن ابن عمر.
«إذا كان أحدكم يصلي فلا يدع أحدا يمر بين يديه وليدرأه ما استطاع فإن أبى فليقاتله فإنما هو شيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے، اور جہاں تک ہو سکے اسے روکے، پس اگر وہ نہ مانے تو اس سے سختی سے پیش آئے، کیونکہ وہ شیطان ہی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 754
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د ن] عن أبي سعيد. صحيح أبي داود ٩٦٤: خ.
«إذا كان أحدكم يصلي فلا يدع أحدا يمر بين يديه وليدرأه ما استطاع فإن أبى فليقاتله فإن معه القرين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے، اور جہاں تک ہو سکے اسے روکے، پس اگر وہ نہ مانے تو اس سے سختی سے پیش آئے، کیونکہ اس کے ساتھ شیطان (قرین) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 755
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ] عن ابن عمر. صحيح الترغيب ٥٦١ وزاد خ، د، ت، نحوه.
«إذا كان أحدكم يصلي فلا يرفع بصره إلى السماء لا يلتمع» *
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنی نگاہ آسمان کی طرف نہ اٹھائے، مبادا وہ اچک لی جائے (یعنی بینائی چھن جائے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 756
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن أبي سعيد. صحيح الترغيب ٥٥١ وزاد ن وغيره.
«إذا كان العام المقبل صمنا يوم التاسع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر آئندہ سال (میری زندگی) باقی رہی تو ہم نویں (محرم) کا روزہ بھی رکھیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 757
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ابن عباس. صحيح مسلم ٣/١٥١**.
«إذا كان الماء قلتين فإنه لا ينجس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب پانی دو قلے (ایک خاص بڑا پیمانہ) ہو جائے تو وہ پلید (نجس) نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 758
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د هـ ك] عن ابن عمر. الإرواء ٢٣، صحيح أبي داود ٥٦ - ٥٨: حب.