حدیث نمبر: 724
«إذا قبر الميت أتاه ملكان أسودان أزرقان يقال لأحدهما المنكر وللآخر النكير فيقولان: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: ما كان يقول هو: عبد الله ورسوله أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمد عبده ورسوله، فيقولان: قد كنا نعلم أنك تقول، ثم يفسح له في قبره سبعون ذراعا في سبعين ثم ينور له فيه ثم يقال: نم فيقول: أرجع إلى أهلي فأخبرهم، فيقولان: نم كنومة العروس الذي لا يوقظه إلا أحب أهله إليه، حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك، وإن كان منافقا قال: سمعت الناس يقولون قولا فقلت مثله لا أدري فيقولان: قد كنا نعلم أنك تقول ذلك فيقال للأرض: التئمي عليه فتلتئم عليه فتختلف أضلاعه فلا يزال فيها معذبا حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب میت کو قبر میں دفنا دیا جاتا ہے تو اس کے پاس سیاہ رنگت اور نیلی آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں، جن میں سے ایک کو ’منکر‘ اور دوسرے کو ’نکیر‘ کہا جاتا ہے۔ وہ دونوں پوچھتے ہیں: تم اس شخص (یعنی محمد ﷺ) کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے؟ تو وہ وہی کہتا ہے جو وہ (دنیا میں) کہا کرتا تھا: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ وہ فرشتے کہتے ہیں: ہم جانتے تھے کہ تم یہی کہو گے۔ پھر اس کی قبر کو ستر ہاتھ لمبا اور ستر ہاتھ چوڑا کر کے کشادہ کر دیا جاتا ہے، پھر اس کے لیے اس میں روشنی کر دی جاتی ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: سو جاؤ۔ وہ کہتا ہے: میں واپس اپنے گھر والوں کے پاس جا کر انہیں یہ خوشخبری سنانا چاہتا ہوں۔ وہ فرشتے کہتے ہیں: تم اس دلہن کی طرح سو جاؤ جسے اس کے گھر والوں میں سے صرف وہی جگاتا ہے جو اسے سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کی خواب گاہ سے اٹھائے گا۔ اور اگر وہ (مردہ) منافق ہو تو وہ کہتا ہے: میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا، میں (حقیقت میں) کچھ نہیں جانتا تھا۔ وہ فرشتے کہتے ہیں: ہم جانتے تھے کہ تم یہی کہو گے۔ پھر زمین کو حکم دیا جاتا ہے: اس پر سمٹ جاؤ۔ پس وہ اس پر اس قدر تنگ ہو جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں، اور وہ اس میں مسلسل عذاب سہتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کی اس خواب گاہ سے اٹھائے گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 724
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٣٩١.