حدیث نمبر: 734
«إذا قضى الله تعالى الأمر في السماء ضربت الملائكة بأجنحتها خضعانا لقوله كأنه سلسلة على صفوان، فإذا فزع عن قلوبهم ق الوا ماذا قال ربكم؟ قالوا ل لذي قال الحق وهو العلي الكبير، فيسمعها مسترقوا السمع ومسترقوا السمع هكذا واحد فوق آخر فربما أدرك الشهاب المستمع قبل أن يرمي بها إلى صاحبه فيحرقه، وربما لم يدركه حتى يرمي بها إلى الذي يليه إلى الذي هو أسفل منه حتى يلقوها إلى الأرض، فتلقى على فم الساحر فيكذب معها مئة كذبة فيصدق فيقولون: ألم تخبرنا يوم كذا وكذا يكون كذا وكذا فوجدناه حقا للكلمة التي سمعت من السماء»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کے آگے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے پروں کو پھڑپھڑاتے ہیں، جس کی آواز یوں معلوم ہوتی ہے جیسے کسی صاف اور چکنے پتھر پر زنجیر چلائی جا رہی ہو۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ آپس میں پوچھتے ہیں: ﴿مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ﴾ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ تو وہ فرشتے جواب دیتے ہیں: ﴿قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾ اس نے حق بات فرمائی ہے اور وہی سب سے بلند، بہت بڑا ہے۔ [سورة سبأ: 23] پس چوری چھپے سننے والے (شیاطین) اس بات کو سن لیتے ہیں، اور یہ چوری چھپے سننے والے اس طرح ایک دوسرے کے اوپر تہہ در تہہ ہوتے ہیں۔ تو بسا اوقات آگ کا شعلہ (شہابِ ثاقب) بات سننے والے کو اس سے پہلے جا لیتا ہے کہ وہ اس کلمے کو اپنے نیچے والے ساتھی تک پہنچائے اور اسے جلا کر راکھ کر دیتا ہے، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شعلہ اسے اس وقت تک نہیں پاتا جب تک کہ وہ اس بات کو اپنے نیچے والے تک منتقل نہیں کر دیتا، حتیٰ کہ وہ اسے زمین تک پہنچا دیتے ہیں۔ پھر وہ بات جادوگر یا کاہن کے منہ میں ڈال دی جاتی ہے، تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے۔ پھر (جب وہ ایک بات سچ نکلتی ہے تو) اس کی تصدیق کی جاتی ہے اور لوگ کہتے ہیں: کیا اس نے فلاں فلاں دن ہمیں یہ نہیں بتایا تھا کہ ایسا ایسا ہوگا؟ پس ہم نے اسے سچ پایا، اور یہ اسی ایک کلمے کی وجہ سے ہوتا ہے جو آسمان سے سنا گیا تھا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 734
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ت هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٢٩٣، ابن خزيمة، هق في الأسماء.