کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إذا ظهر الزنا والربا في قرية فقد أحلوا بأنفسهم عذاب الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کسی بستی میں زنا اور سود عام ہو جائے، تو اس بستی والوں نے اپنے اوپر اللہ کا عذاب حلال کر لیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 679
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب ك] عن ابن عباس. غاية المرام ٣٤٤، تخريج فقه السيرة ٣٧٠.
«إذا ظهر السوء في الأرض أنزل الله بأسه بأهل الأرض وإن كان فيهم قوم صالحون يصيبهم ما أصاب الناس ثم يرجعون إلى رحمة الله ومغفرته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب زمین میں برائی اور گناہ عام ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ زمین والوں پر اپنا عذاب نازل فرما دیتا ہے، خواہ ان میں نیک لوگ بھی موجود ہوں، پس جو مصیبت عام لوگوں کو پہنچتی ہے وہی ان (نیک لوگوں) کو بھی پہنچتی ہے، پھر وہ (نیک لوگ) اللہ کی رحمت اور اس کی مغفرت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 680
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب حل] عن أم سلمة. الصحيحة ١٣٧٢: حم، وك - مولاة لرسول الله صلى الله عليه وسلم. وحم - عائشة.
«إذا عاد أحدكم مريضا فليقل: اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا أو يمشي لك إلى صلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص کسی بیمار کی عیادت کرے تو یوں کہے: «اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى صَلَاةٍ» (اے اللہ! اپنے اس بندے کو شفا عطا فرما تاکہ وہ تیری رضا کے لیے کسی دشمن کو نقصان پہنچائے یا تیرے لیے نماز کی طرف چل کر جائے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 681
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك] عن ابن عمر. الصحيحة ١٣٦٥.
«إذا عاد الرجل أخاه المسلم مشى في خرافة الجنة حتى يجلس فإذا جلس غمرته الرحمة فإن كان غدوة صلى عليه سبعون ألف ملك حتى يمسي وإن كان عشيا صلى عليه سبعون ألف ملك حتى يصبح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے جاتا ہے تو وہ (اس کے پاس) بیٹھنے تک جنت کے راستوں (یا جنت کے پھل چننے) میں رہتا ہے، پھر جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے۔ پس اگر وہ صبح کے وقت گیا ہو تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، اور اگر وہ شام کے وقت گیا ہو تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 682
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ع هق] عن علي. الصحيحة ١٣٦٧: د، ك.
«إذا عطس أحدكم فحمد الله فشمتوه وإذا لم يحمد الله فلا تشمتوه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے اور اللہ کی حمد بیان کرے (یعنی الحمد للہ کہے)، تو تم اس کا جواب دو (یرحمک اللہ کہو)، اور اگر وہ اللہ کی حمد بیان نہ کرے تو تم بھی اسے جواب نہ دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد م] عن أبي موسى. رياض الصالحين ٨٨٥.
«إذا عطس أحدكم فليشمته جليسه فإن زاد على ثلاث فهو مزكوم ولا يشمت بعد ثلاث»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی چھینکے تو اس کے پاس بیٹھنے والے کو چاہیے کہ وہ اس کا جواب دے، پس اگر وہ تین بار سے زیادہ چھینکے تو اسے زکام ہے، لہٰذا تین بار کے بعد اس کا جواب نہیں دیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 684
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] ١ عن أبي هريرة. الصحيحة ١٣٣٠.
«إذا عطس أحدكم فليضع كفيه على وجهه وليخفض صوته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی چھینکے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی دونوں ہتھیلیاں (یا کپڑا) اپنے چہرے پر رکھ لے اور اپنی آواز کو پست کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 685
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك هب] عن أبي هريرة. المشكاة ٤٧٣٨.
«إذا عطس أحدكم فليقل: الحمد لله رب العالمين وليقل له: يرحمك الله وليقل هو: يغفر الله لنا ولكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے تو اسے چاہیے کہ وہ کہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»، اور (سننے والا) اسے کہے: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ»، اور وہ (چھینکنے والا دوبارہ جواب میں) کہے: «يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ»۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 686
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب ك هب] عن ابن مسعود [حم ٣ ك هب] عن سالم بن عبيد الأشجعي. المشكاة ٤٧٤١.
«إذا عطس أحدكم فليقل: الحمد لله على كل حال وليقل له من حوله: يرحمك الله وليقل هو لمن حوله: يهديكم الله ويصلح بالكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے تو وہ کہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ»، اور جو لوگ اس کے اردگرد ہیں وہ اسے کہیں: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ»، اور وہ اپنے اردگرد والوں کو (جواب میں) کہے: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ»۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 687
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن ك] عن أبي أيوب [هـ ك هب] عن علي. الإرواء ٧٨٠.
«إذا عطس أحدكم فليقل: الحمد لله فإذا قال فليقل له أخوه أو صاحبه: يرحمك الله فإذا قال له: يرحمك الله فليقل: يهديكم الله ويصلح بالكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے تو وہ کہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ»، پس جب وہ یہ کہہ لے تو اس کا بھائی یا ساتھی اسے کہے: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ»، پس جب وہ اسے «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» کہے تو وہ (چھینکنے والا جواب میں) کہے: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ»۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 688
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٣٣١ ذكر عدد من المصادر، وكذلك في المصادر المتقدمة.
«إذا عملت الخطيئة في الأرض كان من شهدها فكرهها كمن غاب عنها ومن غاب عنها فرضيها كان كمن شهدها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب زمین میں کوئی گناہ کیا جائے، تو جو شخص وہاں موجود ہو اور اسے برا جانے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو وہاں موجود نہ تھا (یعنی وہ اس گناہ کے وبال سے محفوظ ہے)، اور جو شخص وہاں موجود نہ ہو لیکن اس (گناہ) پر راضی ہو، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو وہاں موجود تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 689
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن العرس بن عميرة. المشكاة ٥١٤١.
«إذا عملت سيئة فأتبعها حسنة تمحها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم سے کوئی برائی (گناہ) سرزد ہو جائے تو اس کے فوراً بعد کوئی نیکی کر لیا کرو، وہ نیکی اس برائی کو مٹا دے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 690
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي ذر. الصحيحة ١٣٧٣.
«إذا عملت مرقة فأكثر ماءها واغرف لجيرانك منها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم شوربہ بناؤ تو اس میں پانی زیادہ کر لو، اور پھر اس میں سے اپنے پڑوسیوں کو بھی دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 691
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي ذر. الصحيحة ١٣٦٨ وزاد أحمد ٣/٣٧٧ ومسلم، خد والترمذي، وابن ماجه وغيرهم.
«إذا غابت الشمس فكفوا صبيانكم فإنها ساعة ينتشر فيها الشياطين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب سورج غروب ہو جائے تو اپنے بچوں کو (باہر نکلنے سے) روک لو، کیونکہ یہ وہ وقت ہے جب شیاطین پھیل جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 692
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الصحيحة ١٣٦٦.
«إذا غضب أحدكم فليسكت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہیے کہ وہ خاموش ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 693
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن ابن عباس. الصحيحة ١٣٧٥: خد، عد، القضاعي. وابن شاهين –أبي هريرة.
«إذا غضب أحدكم وهو قائم فليجلس فإن ذهب عنه الغضب وإلا فليضطجع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو کھڑے ہونے کی حالت میں غصہ آئے تو وہ بیٹھ جائے، پس اگر اس سے غصہ دور ہو جائے (تو بہتر ہے)، ورنہ اسے چاہیے کہ وہ لیٹ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 694
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د حب] عن أبي ذر. المشكاة ٥١١٤.
«إذا غضب الرجل فقال: أعوذ بالله سكن غضبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کسی شخص کو غصہ آئے اور وہ «أَعُوذُ بِاللَّهِ» (میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں) کہہ لے، تو اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 695
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عد] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٣٧٦، الروض النضير ٦٣٥: طص، طس –ابن مسعود.
«إذا غضبت فاجلس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہیں غصہ آئے تو بیٹھ جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 696
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الخرائطي في مساوئ الأخلاق] عن عمران بن حصين. المشكاة ١٥١٤.
"إذا فتحت عليكم فارس والروم أي قوم أنتم؟
- قيل: نكون كما أمر الله - قال: أو غير ذلك؟ تتنافسون ثم تتحاسدون ثم تتدابرون ثم تتباغضون ثم تنطلقون في مساكن المهاجرين فتجعلون بعضهم على رقاب بعض"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم پر فارس اور روم (کے علاقے و خزانے) فتح ہو جائیں گے تو تم کیسے لوگ ہو گے؟ عرض کیا گیا: ہم ویسے ہی رہیں گے جیسے اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا: یا اس کے برعکس ہو جاؤ گے؟ تم آپس میں دنیا کی حرص میں مقابلہ کرو گے، پھر ایک دوسرے سے حسد کرو گے، پھر ایک دوسرے سے منہ پھیر لو گے (تعلقات توڑ لو گے)، پھر ایک دوسرے سے بغض رکھو گے، پھر تم مہاجرین کی بستیوں میں جا کر ان میں سے بعض کی گردنیں بعض کے اوپر مارو گے (یعنی آپس میں خونریزی کرو گے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 697
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م هـ] عن ابن عمرو. مختصر مسلم ٢٠٨١.
«إذا فتحت مصر فاستوصوا بالقبط خيرا فإن لهم ذمة ورحما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب مصر فتح ہو جائے تو قبطیوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی میری وصیت قبول کرنا، کیونکہ ان کے لیے (ہمارا) عہدِ امان بھی ہے اور قرابت داری بھی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 698
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب ك] عن كعب بن مالك. الصحيحة ١٣٧٤ الطحاوي.
«إذا فرغ أحدكم من التشهد الأخير فليتعوذ بالله من أربع يقول: اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات ومن شر فتنة المسيح الدجال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص آخری تشہد سے فارغ ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے، وہ یہ کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» (اے اللہ! بیشک میں جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 699
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د هـ] عن أبي هريرة. صفة الصلاة ١٦٣.
«إذا فرغ أحدكم من صلاته فليدع بأربع ثم ليدع بعد بما شاء: اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وعذاب القبر وفتنة المحيا والممات وفتنة المسيح الدجال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز (کے تشہد) سے فارغ ہو جائے تو وہ چار چیزوں (سے پناہ) کی دعا کرے، پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» (اے اللہ! بیشک میں جہنم کے عذاب، قبر کے عذاب، زندگی اور موت کے فتنے، اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن أبي هريرة. صفة الصلاة ١٦٤ حم، ن، طب.
«إذا فزع أحدكم من النوم فليقل: أعوذ بكلمات الله التامة من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون فإنها لن تضره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نیند میں ڈر کر گھبرا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ کہے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ» (میں اللہ کے غضب، اس کے عذاب، اس کے بندوں کے شر، اور شیاطین کے وسوسوں اور ان کے میرے پاس حاضر ہونے سے اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں)، تو یقیناً وہ (خواب یا ڈر) اسے ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 701
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن ابن عمرو. المشكاة ٢٤٧٧، الكلم ٤٨: د.
«إذا فسد أهل الشام فلا خير فيكم ولا تزال طائفة من أمتي منصورين لا يضرهم من خذلهم حتى تقوم الساعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اہل شام بگڑ جائیں (فساد کا شکار ہو جائیں) تو تم میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہے گی، اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا، جو شخص انہیں رسوا کرنے (یا چھوڑنے) کی کوشش کرے گا وہ انہیں قیامت قائم ہونے تک کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 702
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت حب] عن قرة بن أياس. المشكاة ٦٢٨٣، تخريج فضائل الشام رقم ٥: الطيالسي.
«إذا قاتل أحدكم أخاه فليجتنب الوجه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے (یا اسے مارے) تو اسے چاہیے کہ وہ چہرے (پر وار کرنے) سے بچے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 703
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي سعيد. مختصر مسلم ١٨١٩ حم، خ - عتق، م، بر - عن أبي هريرة.
«إذا قال أحدكم في الصلاة: آمين وقالت الملائكة في السماء: آمين فوافقت إحداهما الأخرى غفر له ما تقدم من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں «آمِينَ» کہتا ہے اور آسمان میں فرشتے بھی «آمِينَ» کہتے ہیں، پس اگر ان میں سے ایک کی (آواز) دوسرے کے موافق ہو جائے، تو اس (آمین کہنے والے) کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 704
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ق ن] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٨٦٥، ٨٦٦: مالك، حم، د، أبو عوانة.
«إذا قال الإمام: سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا لك الحمد فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب امام «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو، کیونکہ جس کی یہ بات فرشتوں کی بات کے موافق ہو گئی، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 705
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ق ٣] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٧٩٤: أبو عوانة.
«إذا قال الإمام: سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا ولك الحمد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب امام «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 706
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ك] عن أبي سعيد [هـ حب] عن أنس [حب] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٧٩٤.
«إذا قال الإمام: {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} فقولوا: آمين فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم «آمِينَ» کہو، کیونکہ جس کی یہ بات فرشتوں کی بات کے موافق ہو گئی، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 707
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك خ د ن] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٨٦٥: حم، م، أبو عوانة.
"إذا قال الرجل لأخيه: جزاك الله خيرا فقد أبلغ في
الثناء"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص اپنے بھائی کو «جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا» (اللہ تمہیں بہترین بدلہ دے) کہے، تو یقیناً اس نے تعریف کرنے کا پورا حق ادا کر دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 708
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن منيع خط] عن أبي هريرة [خط] عن ابن عمر. الروض النضير ٨، ١٠٥٢، ١٠٥٣: ت، ابن السني، طص - ابن عمر، طص - ابن عمر، طص - أبي هريرة وأسامة بن زيد.
«إذا قال الرجل لأخيه: يا كافر فقد باء بها أحدهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کہے: ’اے کافر!‘ تو ان دونوں میں سے کوئی ایک یقیناً اس (کفر کے فتوے) کا حق دار ہو جاتا ہے (یعنی اگر وہ واقعی کافر نہ ہو تو کہنے والا خود اس کفر کی زد میں آ جاتا ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 709
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة [حم خ] عن ابن عمر.
«إذا قال الرجل لأخيه: يا كافر فهو كقتله ولعن المؤمن كقتله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کہے: ’اے کافر!‘ تو یہ اسے قتل کرنے کے مترادف ہے، اور کسی مومن پر لعنت کرنا بھی اسے قتل کرنے کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 710
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عمران بن حصين. حم/٣٣، ٣٤، خ - أدب، م - إيمان – عن ثابت بن الضحاك.
«إذا قال الرجل للمنافق: يا سيدي فقد أغضب ربه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص منافق کو «يَا سَيِّدِي» (اے میرے آقا یا سردار) کہتا ہے تو یقیناً وہ اپنے رب کو ناراض کر لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 711
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك هب] عن بريدة. الصحيحة ٣٧١, ١٣٨٩.
«إذا قال الرجل: هلك الناس فهو أهلكهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص یہ کہے کہ ’لوگ ہلاک ہو گئے‘ تو وہ ان سب میں زیادہ ہلاک ہونے والا (یا اپنی مایوسی پھیلانے کی وجہ سے انہیں ہلاک کرنے والا) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 712
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٨٢٣.
«إذا قال العبد: لا إله إلا الله والله أكبر قال الله: صدق عبدي لا إله إلا أنا وأنا أكبر، فإذا قال: لا إله إلا الله وحده قال: صدق عبدي لا إله إلا أنا وحدي فإذا قال: لا إله إلا الله لا شريك له قال: صدق عبدي لا إله إلا أنا ولا شريك لي، فإذا قال: لا إله إلا الله له الملك وله الحمد قال: صدق عبدي لا إله إلا أنا لي الملك ولي الحمد، فإذا قال: لا إله إلا الله ولا حول ولا قوة إلا بالله قال: صدق عبدي لا إله إلا أنا ولا حول ولا قوة إلا بي من رزقهن عند موته لم تمسه النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب بندہ کہتا ہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے) تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میں سب سے بڑا ہوں۔ پھر جب وہ کہتا ہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ» تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود نہیں، میں اکیلا ہوں۔ پھر جب وہ کہتا ہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میرا کوئی شریک نہیں۔ پھر جب وہ کہتا ہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ» تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہی میری ہی ہے اور تمام تعریفیں میرے لیے ہی ہیں۔ پھر جب وہ کہتا ہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود نہیں اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف میری ہی توفیق سے ہے۔ جس شخص کو اس کی موت کے وقت ان کلمات (کو پڑھنے) کی نصیب ہو گئی، اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 713
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن هـ حب ك] عن أبي هريرة وأبي سعيد. الصحيحة ١٣٩٠: ع، عبد بن حميد.
«إذا قال المؤذن: الله أكبر الله أكبر فقال أحدكم: الله أكبر الله أكبر، ثم قال: أشهد أن لا إله إلا الله قال: أشهد أن لا إله إلا الله، ثم قال: أشهد أن محمدا رسول الله قال: أشهد أن محمدا رسول الله، ثم قال: حي على الصلاة قال: لا حول ولا قوة إلا بالله، ثم قال: حي على الفلاح قال: لا حول ولا قوة إلا بالله، ثم قال: الله أكبر الله أكبر قال: الله أكبر الله أكبر ثم قال: لا إله إلا الله قال: لا إله إلا الله من قلبه دخل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب مؤذن کہے: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» اور تم میں سے کوئی (جواب میں) کہے: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ»، پھر مؤذن کہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» تو وہ کہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»، پھر مؤذن کہے: «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» تو وہ کہے: «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ»، پھر مؤذن کہے: «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» تو وہ کہے: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»، پھر مؤذن کہے: «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» تو وہ کہے: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»، پھر مؤذن کہے: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» تو وہ کہے: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ»، پھر مؤذن کہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» تو وہ بھی صدقِ دل سے کہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»، تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 714
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د] عن عمر. صحيح أبي داود ٥٣٩، الإرواء ٢٤٠: أبو عوانة، الطحاوي، السراج، هق.
«إذا قام أحدكم إلى الصلاة فلا يبزق أمامه فإنما يناجي الله تبارك وتعالى ما دام في مصلاه، ولا عن يمينه فإن عن يمينه ملكا، وليبصق عن يساره أو تحت قدمه فيدفنها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہ اپنے آگے مت تھوکے، کیونکہ جب تک وہ اپنی جائے نماز پر ہوتا ہے، وہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، اور نہ ہی اپنی دائیں جانب تھوکے کیونکہ اس کی دائیں جانب فرشتہ ہوتا ہے، بلکہ اسے چاہیے کہ وہ اپنی بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے تھوکے اور اسے (مٹی میں) دفن کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 715
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٢٢٣.
«إذا قام أحدكم عن فراشه ثم رجع إليه فلينفضه بصنفة إزاره ثلاث مرات فإنه لا يدري ما خلفه عليه بعده، وإذا اضطجع فليقل: باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين، فإذا استيقظ فليقل: الحمد لله الذي عافاني في جسدي ورد على روحي وأذن لي بذكره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر سے اٹھے اور پھر اس کی طرف واپس آئے تو اسے اپنے تہبند کے کنارے سے تین بار جھاڑ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے جانے کے بعد بستر پر کیا چیز آ گئی تھی۔ اور جب وہ لیٹے تو یہ دعا پڑھے: «بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» (اے میرے رب! میں نے تیرے نام کے ساتھ اپنا پہلو رکھا ہے اور تیری ہی مدد سے اسے اٹھاؤں گا، پس اگر تو میری جان کو (نیند کی حالت میں) روک لے تو اس پر رحم فرما، اور اگر تو اسے (دوبارہ زندگی دے کر) چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے)۔ پھر جب وہ بیدار ہو تو یہ دعا پڑھے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي فِي جَسَدِي وَرَدَّ عَلَيَّ رُوحِي وَأَذِنَ لِي بِذِكْرِهِ» (سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے میرے جسم میں عافیت دی، میری روح مجھے واپس لوٹائی، اور مجھے اپنے ذکر کی توفیق بخشی)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 716
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. الكلم الطيب ٣٤، ٤٥.
"إذا قام أحدكم من الليل فاستعجم القرآن على لسانه فلم
يدر ما يقول فليضطجع"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص رات کے وقت (تہجد کے لیے) کھڑا ہو اور اس کی زبان پر قرآن اٹکنے لگے (یعنی نیند کے غلبے کی وجہ سے صحیح تلاوت نہ کر سکے) اور اسے سمجھ نہ آ رہی ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ لیٹ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 717
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د هـ] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ١١٨٤: ابن نصر، أبو عوانة.
«إذا قام أحدكم من النوم فأراد أن يتوضأ فلا يدخل يده في الإناء حتى يغسلها فإنه لا يدري أين باتت يده ولا على ما وضعها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو اور وضو کرنے کا ارادہ کرے، تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا ہے اور اس نے اسے کس چیز پر رکھا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 718
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ قط الضياء] عن جابر. صحيح أبي داود ٩٣.