صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إذا قام أحدكم عن فراشه ثم رجع إليه فلينفضه بصنفة إزاره ثلاث مرات فإنه لا يدري ما خلفه عليه بعده، وإذا اضطجع فليقل: باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين، فإذا استيقظ فليقل: الحمد لله الذي عافاني في جسدي ورد على روحي وأذن لي بذكره»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر سے اٹھے اور پھر اس کی طرف واپس آئے تو اسے اپنے تہبند کے کنارے سے تین بار جھاڑ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے جانے کے بعد بستر پر کیا چیز آ گئی تھی۔ اور جب وہ لیٹے تو یہ دعا پڑھے: «بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» (اے میرے رب! میں نے تیرے نام کے ساتھ اپنا پہلو رکھا ہے اور تیری ہی مدد سے اسے اٹھاؤں گا، پس اگر تو میری جان کو (نیند کی حالت میں) روک لے تو اس پر رحم فرما، اور اگر تو اسے (دوبارہ زندگی دے کر) چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے)۔ پھر جب وہ بیدار ہو تو یہ دعا پڑھے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي فِي جَسَدِي وَرَدَّ عَلَيَّ رُوحِي وَأَذِنَ لِي بِذِكْرِهِ» (سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے میرے جسم میں عافیت دی، میری روح مجھے واپس لوٹائی، اور مجھے اپنے ذکر کی توفیق بخشی)۔“