کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف لام الف سے شروع ہونے والی احادیث
«لا تحروا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها فإنها تطلع بقرني شيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی نماز کے لیے سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے وقت کا قصد نہ کرو کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7243
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن عمر [ن] عن عائشة. مختصر مسلم ٢١٠، الإرواء ٤٧٩.
«لا تحسبن أنا ذبحنا الشاة من أجلك لنا غنم مائة لا نريد أن نزيد عليها فإذا ولد الراعي بهمة ذبحنا مكانها شاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ گمان مت کرو کہ ہم نے یہ بکری تمہاری وجہ سے ذبح کی ہے، ہمارے پاس سو بکریاں ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ ان کی تعداد اس سے بڑھے، پس جب چرواہے کے ریوڑ میں کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر دیتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7244
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د حب] عن لقيط بن صبرة. صحيح أبي داود ١٣٠و ١٣١: حم.
«لا تحقرن من المعروف شيئا ولو أن تلقى أخاك بوجه طلق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی نیکی کو حقیر مت جانو خواہ وہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملنا ہی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7245
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن أبي ذر. مختصر ١٧٨٢.
«لا تحلفوا بآبائكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے آباء و اجداد کی قسم مت کھاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7246
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن ابن عمر. مختصر مسلم ١٠١١.
«لا تحلفوا بآبائكم من حلف بالله فليصدق ومن حلف له بالله فليرض ومن لم يرض بالله فليس من الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے آباء و اجداد کی قسم مت کھاؤ، جو اللہ کی قسم کھائے وہ سچ کہے، اور جس کے لیے اللہ کی قسم کھائی جائے وہ راضی ہو جائے، اور جو اللہ (کی قسم) پر راضی نہ ہو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7247
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمر. الإرواء ٢٦٩٨.
«لا تحلفوا بآبائكم ولا بالطواغيت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے آباء و اجداد کی قسم مت کھاؤ اور نہ ہی طاغوتوں (باطل معبودوں) کی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7248
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن هـ] عن عبد الرحمن بن سمرة. مختصر ١٠١٢.
«لا تحلفوا بآبائكم ولا بأمهاتكم ولا بالأنداد ولا تحلفوا إلا بالله ولا تحلفوا إلا وأنتم صادقون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے آباء و اجداد کی، اپنی ماؤں کی اور اللہ کے شریکوں کی قسم مت کھاؤ، اور صرف اللہ ہی کی قسم کھاؤ، اور قسم اسی وقت کھاؤ جب تم سچے ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7249
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن] عن أبي هريرة. المشكاة ٣٤١٨، الإرواء ٢٦٩٨.
«لا تحل الصدقة لغني إلا لخمسة: لغاز في سبيل الله أو لعامل عليها أو لغارم أو لرجل اشتراها بماله أو لرجل كان له جار مسكين فتصدق على المسكين فأهداها المسكين للغني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صدقہ کسی مالدار کے لیے حلال نہیں سوائے پانچ آدمیوں کے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، یا اس (زکوٰۃ) پر مقرر عامل، یا مقروض، یا وہ آدمی جس نے اسے اپنے مال سے خرید لیا، یا وہ آدمی جس کا کوئی مسکین ہمسایہ تھا، پس اسے صدقہ دیا گیا تو اس مسکین نے وہ صدقہ اس مالدار کو ہدیہ کر دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7250
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ ك] عن أبي سعيد. الإرواء ٨٧٠: ابن خزيمة، ابن الجارود، هق. مالك - عطاء بن يسار مرسلا.
«لا تحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صدقہ کسی مالدار کے لیے حلال نہیں اور نہ ہی کسی طاقتور تندرست آدمی کے لیے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7251
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت ك] عن ابن عمر [حم ن هـ] عن أبي هريرة. الإرواء ٨٧٧.
«لا تحل النهبى ولا كل ذي ناب من السباع ولا تحل المجثمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوٹ مار حلال نہیں، اور نہ ہی کچلیوں والا کوئی درندہ حلال ہے، اور نہ ہی وہ جانور حلال ہے جسے (نشانہ بازی کے لیے) باندھ کر رکھا گیا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7252
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن أبي ثعلبة. الصحيحة ٢٣٩١: الدارمي، هق، حم - أبي الدرداء.
«لا تحل للأول حتى يجامعها الآخر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وہ پہلے خاوند کے لیے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرا خاوند اس سے جماع نہ کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7253
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن عمر. الإرواء ١٨٨٧.
«لا تختصوا ليلة الجمعة بقيام من بين الليالي ولا تختصوا يوم الجمعة بصيام من بين الأيام إلا أن يكون في صوم يصومه أحدكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جمعہ کی رات کو دیگر راتوں میں سے خاص کر کے قیام کے لیے مخصوص نہ کرو، اور جمعہ کے دن کو دیگر دنوں میں سے خاص کر کے روزے کے لیے مخصوص نہ کرو، سوائے اس کے کہ کسی کا کوئی پہلے سے مقرر روزہ اس دن پڑ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7254
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٦٢٦، الصحسحة ٩٨٠: ابن سعد - ابن سيرين مرسلا.
"لا تختلفوا فإن من كان قبلكم اختلفوا، فهلكوا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آپس میں اختلاف مت کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں نے اختلاف کیا تو وہ ہلاک ہو گئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7255
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن ابن مسعود.
«لا تختلفوا فتختلف قلوبكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آپس میں اختلاف مت کرو ورنہ تمہارے دل بھی مختلف ہو جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7256
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن البراء. صحيح أبي داود ٦٧٠.
«لا تخيروا بين الأنبياء فإن الناس يصعقون يوم القيامة فأكون أول من تنشق عنه الأرض فإذا موسى آخذ بقائمة من قوائم العرش فلا أدري كان فيمن صعق أم حوسب بصعقته الأولى؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انبیاء کے درمیان (فضیلت میں) ترجیح مت دو، کیونکہ قیامت کے دن لوگ بے ہوش ہو جائیں گے تو میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جس کے لیے زمین شق ہو گی، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کو عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ تھامے ہوئے پاؤں گا، مجھے معلوم نہیں کہ وہ ان بے ہوش ہونے والوں میں شامل تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے یا انہیں ان کی پہلی بے ہوشی کے بدلے مستثنیٰ کر دیا گیا؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7257
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي سعيد. شرح الطحاوية ١٢٨و ٥٥٣/١، مختصر العلو ٦١.
«لا تخيروني على موسى فإن الناس يصعقون يوم القيامة فأصعق معهم فأكون أول من يفيق فإذا موسى باطش بجانب العرش فلا أدري أكان فيمن صعق فأفاق قبلي أو كان ممن استثنى الله؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح مت دو، کیونکہ قیامت کے دن لوگ بے ہوش ہو جائیں گے اور میں بھی ان کے ساتھ بے ہوش ہو جاؤں گا اور سب سے پہلے ہوش میں آنے والا ہوں گا، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کو عرش کا کنارہ تھامے ہوئے پاؤں گا، مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بے ہوش ہونے والوں میں سے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے یا وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے مستثنیٰ کر دیا تھا؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7258
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د هـ] عن أبي هريرة. شرح الطحاوية ١٢٦.
«لا تخيفوا أنفسكم بالدين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرض کے ذریعے اپنے آپ کو خوفزدہ مت کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7259
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هق] عن عقبة بن عامر. الصحيحة ٢٤٢٠: حم، خد، ع، طب.
«لا تدخل الملائكة بيتا فيه تماثيل أو تصاوير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مجسمے یا تصویریں ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7260
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٣٦٤.
«لا تدخل الملائكة بيتا فيه صورة إلا رقم في ثوب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر ہو، سوائے اس کے کہ وہ کپڑے میں بنی ہوئی (کڑھی ہوئی) ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7261
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن أبي طلحة. غاية المرام ١١٨و ١٣٥.
«لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا تصویر ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7262
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن هـ] عن أبي طلحة. غاية المرام ١١٨و ١٣٥.
«لا تدخلوا على هؤلاء المعذبين إلا أن تكونوا باكين فإن لم تكونوا باكين فلا تدخلوا عليهم لا يصيبكم ما أصابهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ان عذاب زدہ لوگوں کے کھنڈرات میں روتے ہوئے کے سوا داخل مت ہو، اور اگر تم روتے ہوئے نہیں ہو تو ان کے پاس مت جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بھی وہی مصیبت پہنچے جو انہیں پہنچی تھی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7263
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن ابن عمر. فقه السيرة ٤٤١، الصحيحة ١٩.
«لا تدع تمثالا إلا طمسته ولا قبرا مشرفا إلا سويته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی مجسمہ ایسا نہ چھوڑو مگر اسے مٹا دو، اور کوئی ابھری ہوئی قبر ایسی نہ چھوڑو مگر اسے برابر کر دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7264
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن علي. مختصر مسلم ٤٨٨، أحكام الجنائز ٢٠٧: الطيالسي، حم، د، ت، طص، ك، هق.
«لا تدعوا بالموت ولا تتمنوه فمن كان داعيا لا بد فليقل: اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”موت کو مت پکارو اور نہ ہی اس کی تمنا کرو، لیکن اگر کوئی پکارنا ہی چاہے تو یوں کہے: اے اللہ! جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو مجھے زندہ رکھ، اور جب موت میرے لیے بہتر ہو تو مجھے وفات دے دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7265
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أنس. أحكام الجنائز ٤: ق، هق١.
«لا تدعوا على أنفسكم إلا بخير فإن الملائكة يؤمنون على ما تقولون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے آپ کے حق میں بھلائی کے سوا بددعا مت کرو، کیونکہ فرشتے تمہاری بات پر آمین کہتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7266
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د] عن أم سلمة. أحكام الجنائز ١٢: هق.
«لا تدعوا على أنفسكم ولا تدعوا على أولادكم ولا تدعوا على خدمكم ولا تدعوا على أموالكم لا توافقوا من الله ساعة يسأل فيها عطاء فيستجاب لكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے آپ پر، اپنی اولاد پر، اپنے نوکروں پر اور اپنے مال پر بددعا مت کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری بددعا اللہ کی طرف سے قبولیت کی اس گھڑی سے موافقت کر جائے جس میں کوئی چیز مانگی جائے اور تمہارے حق میں قبول کر لی جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7267
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن جابر. مختصر مسلم ١٥٣٧، حب ٢٤١١.
«لا تدفنوا موتاكم بالليل إلا أن تضطروا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے مُردوں کو رات کے وقت مت دفناؤ سوائے اس کے کہ تمہیں مجبوری پیش آ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7268
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن جابر. أحكام الجنائز ٥٨: حم، م، د، ابن الجارود.
«لا تديموا النظر إلى المجذومين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوڑھ کے مریضوں کو مسلسل مت دیکھتے رہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7269
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن ابن عباس. الصحيحة ١٠٦٤: تخ، ابن أبي شيبة، الضياء.
«لا تذبحن ذات در»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دودھ والے جانور کو ذبح مت کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7270
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٦٣١: ك. حم في [الزهد] - أبي سلمة.
«لا تذكروا هلكاكم إلا بخير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے مُردوں کا ذکر بھلائی کے ساتھ ہی کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7271
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن عائشة. الروض النضير ١/٤٣٧.
«لا تذهب الدنيا حتى تصير للكع بن لكع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک کہ یہ سب سے کمینے شخص، کمینے کے بیٹے کے پاس نہ چلی جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7272
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي هريرة. المشكاة ٥٣٦٥.
«لا تذهب الأيام والليالي حتى تشرب طائفة من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دن رات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک میری امت کا ایک گروہ شراب نہ پی لے، وہ اسے اس کے اصل نام کے علاوہ کسی اور نام سے پکاریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7273
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ١] عن أبي أمامة. الصحيحة ٩١: حل.
«لا تذهب الأيام والليالي حتى يملك رجل يقال له الجهجاه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دن رات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک ایک آدمی، جسے جہجاہ کہا جائے گا، بادشاہت نہ کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7274
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢٠١٩.
«لا تذهب الدنيا ولا تنقضي حتى يملك رجل من أهل بيتي يواطئ اسمه اسمي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دنیا اس وقت تک ختم اور فنا نہیں ہو گی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی بادشاہت نہ کرے جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7275
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت] عن ابن مسعود. تخريج الفضائل ص ١٦، المشكاة ٥٤٥٢: حب، ك.
«لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے بعد کافر مت بن جانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7276
تخریج حدیث [الصحيح] [حم ق ن هـ] عن جرير [حم خ د ن هـ] عن ابن عمر [خ ن] عن أبي بكرة [خ ت] عن ابن عباس. الروض النضير ٧٩٧، إيمان أبي عبيد ٧٥، نقد الكتاني ص ٤٠.
«لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض ولا يؤخذ الرجل بجريرة أبيه ولا بجريرة أخيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے بعد کافر مت بن جانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگے، اور کسی آدمی کو اس کے باپ کے جرم میں اور نہ ہی اس کے بھائی کے جرم میں پکڑا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7277
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن عمر. الصحيحة ١٩٧٤.
«لا ترسلوا فواشيكم وصبيانكم إذا غابت الشمس حتى تذهب فحمة العشاء فإن الشياطين تبعث إذا غابت الشمس حتى تذهب فحمة العشاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب سورج غروب ہو جائے تو اپنے مویشیوں اور بچوں کو اس وقت تک باہر مت چھوڑو جب تک عشاء کی تاریکی ختم نہ ہو جائے، کیونکہ شیاطین سورج غروب ہونے سے لے کر عشاء کی تاریکی ختم ہونے تک کھلے چھوڑے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7278
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د] عن جابر. إرواء الغليل ٣٩.
«لا ترغبوا عن آبائكم فمن رغب عن أبيه فهو كفر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے آباء سے (نسبت میں) روگردانی مت کرو، جو شخص اپنے باپ سے روگردانی کرے وہ کفر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7279
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة.
«لا ترفعوا أبصاركم إلى السماء في الصلاة أن تلتمع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف مت اٹھاؤ، کہیں وہ اچک نہ لی جائیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7280
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ طب] عن ابن عمر. صحيح الترغيب ٥٤٩.
«لا ترقبوا أموالكم فمن أرقب شيئا فهو لمن أرقبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے مال کو رقبیٰ مت بناؤ، جس نے کوئی چیز رقبیٰ کے طور پر دی تو وہ اسی کی ہو جائے گی جسے دی گئی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7281
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن عباس. الإرواء ١٦٠٩.
«لا ترقبوا ولا تعمروا فمن أعمر شيئا أو أرقبه فهو للوارث إذا مات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”رقبیٰ اور عمریٰ مت کرو، جس نے کوئی چیز عمریٰ یا رقبیٰ کے طور پر دی تو وہ مرنے کے بعد اس کے وارث کی ہو جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام ألف / حدیث: 7282
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن حب] عن جابر. الإرواء ١٦٠٩.