کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف واؤ سے شروع ہونے والی احادیث
«والشاة إن رحمتها يرحمك الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اور بکری، اگر تم اس پر رحم کرو گے تو اللہ تم پر رحم کرے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7055
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن قرة بن إياس ومعقل بن يسار. الروض النضير ٨٣٨، الصحيحة ٢٦.
«والذي نفس محمد بيده إن على الأرض من مؤمن إلا وأنا أولى الناس به فأيكم ما ترك دينا أو ضياعا فأنا مولاه وأيكم ما ترك مالا فإلى العصبة من كان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! زمین پر کوئی مومن ایسا نہیں مگر میں لوگوں میں سب سے زیادہ اس کا حقدار ہوں، پس تم میں سے جو کوئی قرض یا بے سہارا اہلِ خانہ چھوڑ جائے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں، اور تم میں سے جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے عصبہ (رشتہ داروں) کو ملے گا، وہ جو بھی ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7056
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. أحكام الجنائز ص ٨٦: حم.
«والذي نفس محمد بيده إني لأرجوأن تكونوا نصف أهل الجنة وذلك أن الجنة لا يدخلها إلا نفس مسلمة وما أنتم في أهل الشرك إلا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الأسود أو كالشعرة السوداء في جلد الثور الأحمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا آدھا حصہ ہو گے، کیونکہ جنت میں صرف مسلمان جان ہی داخل ہوگی، اور تم مشرکوں کے مقابلے میں اس سفید بال کی طرح ہو جو کالے بیل کی کھال میں ہو، یا اس کالے بال کی طرح جو سرخ بیل کی کھال میں ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7057
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن مسعود.
«والذي نفس محمد بيده لغفار وأسلم ومزينة وجهينة ومن كان من مزينة خير عند الله يوم القيامة من أسد وطيئ وغطفان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! غفار، اسلم، مزینہ اور جہینہ، اور جو بھی مزینہ سے ہو، قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اسد، طے اور غطفان سے بہتر ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7058
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. م ٧/١٧٩.
«والذي نفس محمد بيده لمناديل سعد بن معاذ في الجنة أحسن من هذا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! سعد بن معاذ کے جنت میں کپڑے اس سے بھی زیادہ عمدہ ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7059
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أنس [حم ق ت ن] عن البراء.
«والذي نفس محمد بيده ليأتين على أحدكم يوم ولأن يراني ثم لأن يراني أحب إليه من أهله وماله معهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم میں سے کسی پر ایسا دن ضرور آئے گا کہ اس کے لیے مجھے دیکھنا، پھر مجھے دیکھنا، اس کے اہل و مال سمیت سب سے زیادہ محبوب ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7060
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي هريرة. حم ٢/٣١٣، مختصر مسلم ١٦٠٣.
«والذي نفس محمد بيده ما أصبح عند آل محمد صاع حب ولا صاع تمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! آلِ محمد کے پاس صبح کے وقت نہ ایک صاع اناج تھا اور نہ ایک صاع کھجور۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7061
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أنس. الصحيحة ٢٤٠٤: حم، خ، ت.
«والذي نفس محمد بيده ما من عبد يؤمن ثم يسدد إلا سلك به في الجنة وأرجوأن لا يدخلها أحد حتى تبوءوا أنتم ومن صلح من ذرياتكم مساكن في الجنة ولقد وعدني ربي أن يدخل الجنة من أمتي سبعين ألفا بغير حساب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جو بندہ ایمان لائے پھر سیدھا چلے تو اسے جنت میں داخل کیا جائے گا، اور مجھے امید ہے کہ اس میں کوئی داخل نہیں ہوگا جب تک تم اور تمہاری نیک اولاد جنت میں گھر نہ بسا لیں، اور میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7062
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن رفاعة الجهني. الصحيحة ٢٤٠٥: الطيالسي، حم، ابن خزيمة، حب.
«والذي نفس محمد بيده لا يسمع بي أحد من هذه الأمة لا يهودي ولا نصراني ثم يموت ولم يؤمن بالذي أرسلت به إلا كان من أصحاب النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اس امت کا جو بھی شخص میرے بارے میں سنے، خواہ یہودی ہو یا نصرانی، پھر اس رسالت پر ایمان لائے بغیر مر جائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے، تو وہ جہنمیوں میں سے ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7063
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢٠، الصحيحة ١٥٧: ابن منده.
«والذي نفسي بيده إن السقط ليجر أمه بسرره إلى الجنة إذا احتسبته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ساقط شدہ بچہ اپنی ماں کو اپنی ناف کی ڈوری سے کھینچ کر جنت میں لے جائے گا، بشرطیکہ اس نے اس کی موت پر اجر کی نیت رکھی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7064
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن معاذ. الترغيب ٣/٩٢: حم.
«والذي نفسي بيده إن الشملة التي أصابها يوم خيبر من المغانم لم تصبها المقاسم لتشتعل عليه نارا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ چادر جو اس نے خیبر کے دن مالِ غنیمت میں سے لی تھی اور جس تک تقسیم نہیں پہنچی تھی، اب اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7065
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ن] عن أبي هريرة.
"والذي نفسي بيده لآنيته - يعني الحوض - أكثر من عدد نجوم السماء وكواكبها في الليلة المظلمة المصحية آنية الجنة من شرب منها ليس يظمأ آخر ما عليه يشخب فيه ميزابان من الجنة من شرب منه لم يظمأ عرضه مثل طوله ما بين عمان إلى أيلة ماؤه أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس حوض کے برتن آسمان کے تاریک اور صاف رات کے ستاروں اور سیاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، اس کے برتن جنت کے برتن ہیں، جو اس سے پی لے وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ اس میں جنت کی دو نالیاں بہتی ہیں، جو اس سے پی لے وہ پیاسا نہیں ہوگا، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی جیسی ہے، عمان سے ایلہ تک، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7066
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن أبي ذر. مختصر مسلم ١٥٥٣.
«والذي نفسي بيده لأذودن رجالا عن حوضي كما تذاد الغريبة من الإبل عن الحوض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں کچھ لوگوں کو اپنے حوض سے اسی طرح دور بھگا دوں گا جیسے اجنبی اونٹنی کو حوض سے دور بھگایا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7067
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. السنة ٧٦٩: حم، م. ابن أبي عاصم.
«والذي نفسي بيده لأقضين بينكما بكتاب الله الوليدة والغنم رد عليك وعلى ابنك جلد مائة وتغريب عام وعلى امرأة هذا الرجم واغد يا أنيس على امرأة هذا فإن اعترفت فارجمها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا: لونڈی اور بکریاں تجھے واپس کر دی جائیں، اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، اور اس آدمی کی بیوی پر رجم ہے۔ اے انیس! تم اس آدمی کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ اعتراف کر لے تو اسے سنگسار کر دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7068
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن أبي هريرة وزيد بن خالد الجهني. الإرواء ١٤٦٤.
«والذي نفسي بيده لأن يأخذ أحدكم حبله فيحتطب على ظهره خير له من أن يأتي رجلا فيسأله أعطاه أو منعه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کسی کا اپنی رسی لے کر اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لادنا اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی کے پاس جائے اور اس سے مانگے، خواہ وہ اسے دے یا نہ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7069
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك خ ن] عن أبي هريرة.
«والذي نفسي بيده لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر أو ليوشكن الله أن يبعث عليكم عقابا من عنده ثم لتدعنه فلا يستجيب لكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تم پر اپنی طرف سے عذاب بھیج دے، پھر تم اس سے دعا کرو گے تو وہ تمہاری دعا قبول نہیں کرے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7070
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت] عن حذيفة. المشكاة ٥١٤٠.
«والذي نفسي بيده لتسألن عن هذا النعيم يوم القيامة أخرجكم من بيوتكم الجوع ثم لم ترجعوا حتى أصابكم هذا النعيم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم سے قیامت کے دن اس نعمت کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا، بھوک نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا تھا، پھر تم اس وقت تک واپس نہیں لوٹے جب تک تمہیں یہ نعمت نہیں مل گئی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7071
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٣٠٦.
" والذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب فيحطب ثم آمر بالصلاة ليؤذن لها ثم آمر رجلا فيؤم الناس ثم أخالف إلى رجال فأحرق عليهم بيوتهم والذي نفسي بيده لويعلم أحدهم أنه يجد عرقا سمينا أو مرماتين حسنتين لشهد العشاء"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا تھا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کا حکم دوں کہ اس کے لیے اذان دی جائے، پھر کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرائے، پھر میں خود ان لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کے گھروں کو ان پر جلا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ان میں سے کسی کو یہ معلوم ہو کہ اسے موٹی ہڈی یا دو عمدہ کھر ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7072
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك خ ن] عن أبي هريرة.
«والذي نفسي بيده لوكنتم تكونون في بيوتكم على الحالة التي تكونون عليها عندي لصافحتكم الملائكة ولأظلتكم بأجنحتها ولكن يا حنظلة! ساعة وساعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم اپنے گھروں میں بھی اسی حالت پر رہا کرو جس حالت پر تم میرے پاس ہوتے ہو تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں اور اپنے پروں سے تم پر سایہ کریں، لیکن اے حنظلہ! کچھ وقت عبادت کا ہوتا ہے اور کچھ وقت دنیاوی معاملات کا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7073
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت هـ] عن حنظلة الأسدي. الصحيحة ١٩٤٨.
«والذي نفسي بيده لولم تذنبوا لذهب الله بكم ولجاء بقوم يذنبون فيستغفرون الله فيغفر لهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تمہیں لے جاتا اور ایسے لوگ لے آتا جو گناہ کرتے پھر اللہ سے بخشش مانگتے تو وہ انہیں بخش دیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7074
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٩٢٢، الصحيحة ١٩٥٠.
«والذي نفسي بيده لولا أن رجالا من المؤمنين لا تطيب أنفسهم أن يتخلفوا عني ولا أجد ما أحملهم عليه ما تخلفت عن سرية تغزوفي سبيل الله والذي نفسي بيده لوددت أني أقتل في سبيل الله ثم أحيا ثم أقتل ثم أحيا ثم أقتل ثم أحيا ثم أقتل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ایسا نہ ہوتا کہ کچھ مومن مردوں کا دل نہیں مانتا کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں اور میرے پاس ان کے لیے سواری بھی نہ ہو تو میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی بھی لشکر سے پیچھے نہ رہتا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7075
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن أبي هريرة.
«والذي نفسي بيده ليأتين على الناس زمان لا يدري القاتل في أي شيء قتل ولا يدري المقتول في أي شيء قتل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ قاتل کو معلوم نہیں ہوگا کہ اس نے کس چیز کی خاطر قتل کیا، اور مقتول کو معلوم نہیں ہوگا کہ وہ کس چیز کی خاطر قتل ہوا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7076
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢٠١٠.
«والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما مقسطا وإماما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد وحتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب ابنِ مریم تم میں ایک منصف حاکم اور عادل امام بن کر نازل ہوں گے، وہ صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور مال اس قدر بڑھ جائے گا کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا، یہاں تک کہ ایک سجدہ دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7077
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٤٥٧.
«والذي نفسي بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجا أو معتمرا أو ليثنينهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابنِ مریم فج روحاء کے مقام سے حج یا عمرہ کا احرام باندھیں گے، یا دونوں کو اکٹھا کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7078
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٦٦٣، الصحيحة ٢٤٥٧.
«والذي نفسي بيده ما أنزل في التوراة ولا في الإنجيل ولا في الزبور ولا في الفرقان مثلها - يعني أم القرآن - وإنها لسبع من المثاني والقرآن العظيم الذي أعطيته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! نہ تورات میں، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ قرآن میں اس (ام القرآن یعنی سورۃ الفاتحہ) جیسی کوئی چیز نازل کی گئی، اور یہ سات دہرائی جانے والی آیات اور وہ عظیم قرآن ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7079
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح أبي داود ١٣١٠، المشكاة ٢١٤٢، الترغيب ٢/٢١٦: حب، ك.
«والذي نفسي بيده ما من رجل يدعوامرأته إلى فراشه فتأبى عليه إلا كان الذي في السماء ساخطا عليها حتى يرضى عنها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی آدمی ایسا نہیں جو اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کر دے، مگر جو آسمان میں ہے وہ اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اس سے راضی ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7080
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.
«والذي نفسي بيده لا تدخلون الجنة حتى تؤمنوا ولا تؤمنوا حتى تحابوا أولا أدلكم على شيء إذا فعلتموه تحاببتم؟ أفشوا السلام بينكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور تم ایمان نہیں لاؤ گے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7081
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ت هـ] عن أبي هريرة. الإرواء ٧٧٧.
«والذي نفسي بيده لا تذهب الدنيا حتى يمر الرجل على القبر فيتمرغ عليه ويقول: يا ليتني كنت مكان صاحب هذا القبر وليس به الدين إلا البلاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی قبر کے پاس سے گزرے گا اور اس پر لوٹ پوٹ ہو کر کہے گا: کاش میں اس قبر والے کی جگہ ہوتا، حالانکہ اسے دین نے نہیں بلکہ صرف مصیبت نے یہ کہنے پر مجبور کیا ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7082
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢٠٠٨.
"والذي نفسي بيده لا تقوم الساعة حتى تكلم السباع الإنس وحتى يكلم الرجل عذبة سوطه وشراك نعله ويخبره فخذه بما يحدث أهله بعده "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ درندے انسانوں سے بات کریں، اور آدمی کے کوڑے کا سرا اور اس کے جوتے کا تسمہ اس سے بات کرے، اور اس کی ران اسے بتائے کہ اس کے بعد اس کے گھر والوں نے کیا نیا کام کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7083
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت حب ك] عن أبي سعيد. الصحيحة ١٢٢.
«والذي نفسي بيده لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوگا جب تک میں اسے اس کے والد اور اس کی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7084
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن] عن أبي هريرة.
«والذي نفسي بيده لا يؤمن عبد حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه من الخير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوگا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی بھلائی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7085
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن أنس. الصحيحة ٧٣: أبو عوانة.
«والذي نفسي بيده لا يؤمن عبد حتى يحب لجاره ما يحب لنفسه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوگا جب تک وہ اپنے پڑوسی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7086
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أنس. مختصر مسلم ٢٤، الصحيحة ٧٣: الطيالسي، حم، خ، ن، ت، الدارمي، هـ.
« [*» ... يا أيها الناس من آذى عمي فقد آذاني فإنما عم الرجل صنو أبيه]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”۔۔۔ اے لوگو! جس نے میرے چچا کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی، کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ ہی کی طرح ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7087
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ك] عن عبد المطلب بن ربيعة [ك] عن العباس" . المشكاة ٦١٤٧.
«والذي نفسي بيده لا يكلم أحد في سبيل الله والله أعلم بمن يكلم في سبيله إلا جاء يوم القيامة وجرحه يشخب اللون لون الدم والريح ريح المسك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو بھی اللہ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے - اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہوا - وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم بہہ رہا ہوگا، رنگ خون کا ہوگا اور خوشبو مشک کی ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7088
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة.
«والله إنك لخير أرض الله وأحب أرض الله إلي ولولا أني أخرجت منك ما خرجت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی قسم! تو اللہ کی زمینوں میں سب سے بہتر ہے اور مجھے اللہ کی سب زمینوں سے زیادہ محبوب ہے، اور اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7089
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت هـ حب ك] عن عبد الله بن عدي بن الحمراء. المشكاة ٢٧٢٥.
«والله إني لأرجوأن أكون أخشاكم لله وأعلمكم بما أتقي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس بات کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہوں کہ کن چیزوں سے بچنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7090
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د] عن عائشة. مختصر مسلم ٥٨٦.
«والله إني لأستغفر الله وأتوب إليه في اليوم أكثر من سبعين مرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی قسم! میں دن میں ستر سے بھی زیادہ مرتبہ «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» (میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں) کہتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7091
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة.
«والله إني لأسمع بكاء الصبي وأنا في الصلاة فأخفف مخافة أن تفتن أمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی قسم! میں نماز کی حالت میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز مختصر کر دیتا ہوں، اس خوف سے کہ کہیں اس کی ماں پریشان نہ ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7092
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أنس. خ: أذان.
«والله لأن يلج أحدكم بيمينه في أهله آثم له عند الله من أن يعطي كفارته التي افترض الله عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی قسم! تم میں سے کسی کا اپنی قسم پر اَڑے رہنا اور اپنے گھر والوں سے اس کی وجہ سے الجھے رہنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہے کہ وہ وہ کفارہ ادا کر دے جو اللہ نے اس پر فرض کیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7093
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٠٢٠، الإرواء ٢٠٨٤.
«والله لأن يهدى بهداك واحد خير لك من حمر النعم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی قسم! تیرے ذریعے ایک آدمی کا ہدایت پا جانا تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الواو / حدیث: 7094
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن سهل بن سعد. فقه السيرة ٣٧١: ق١.