کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف میم سے شروع ہونے والی احادیث
«من تبع جنازة مسلم أيمانا واحتسابا وكان معها حتى يصلي عليها ويفرغ من دفنها فإنه يرجع من الأجر بقيراطين كل قيراط مثل أحد ومن صلى عليها ثم رجع قبل أن تدفن فإنه يرجع بقيراط من الأجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص ایمان اور طلبِ اجر کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ چلے اور اس کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اس پر نماز پڑھی جائے اور دفن سے فارغ ہو جائے تو وہ دو قیراط اجر لے کر لوٹتا ہے، ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے، اور جو اس پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے واپس چلا جائے تو وہ ایک قیراط اجر لے کر لوٹتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6138
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن أبي هريرة. أحكام الجنائز ٦٨.
«من تحلم كاذبا كلف يوم القيامة أن يعقد بين شعيرتين ولن يعقد بينهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص جھوٹا خواب گھڑے تو قیامت کے دن اسے دو جو کے دانوں کے درمیان گرہ لگانے کا مکلف کیا جائے گا، حالانکہ وہ کبھی ان کے درمیان گرہ نہیں لگا سکے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6139
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ] عن ابن عباس. حم ١/٢١٦, ٢٤٦, ٣٥٩، خ: تعبير.
" من ترك الجمعة ثلاث مرات متواليات: من غير ضرورة طبع الله على قلبه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص بلا ضرورت لگاتار تین جمعے چھوڑ دے، اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6140
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح الترغيب ٧٣٠، صحيح أبي داود ٩٦٥.
«من ترك الحيات مخافة طلبهن فليس منا ما سالمناهن منذ حاربناهن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص سانپوں کو ان کے تعاقب کے خوف سے چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں، جب سے ہم نے ان سے جنگ کی ہے ہم نے ان سے کبھی صلح نہیں کی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6141
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن ابن عباس [د] عن أبي هريرة. المشكاة ٤١٣٨.
«من ترك الرمي بعد ما علمه رغبة عنه فإنها نعمة كفرها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے بے رغبتی کی وجہ سے اسے چھوڑ دے تو یہ ایک نعمت ہے جس کی اس نے ناشکری کی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6142
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الترغيب ٢/١٧٢، الروض النضير: حم، د، ن، الدارمي، ابن خزيمة، ك هق، الطيالسي - عقبة. البزار، طص، طس - أبي هريرة.
«من ترك ثلاث جمع تهأونا بها طبع الله على قلبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص سستی کی وجہ سے تین جمعے چھوڑ دے، اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6143
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [٤ حم ك] عن أبي الجعد. المشكاة ١٣٧١: صحيح الترغيب ٧٢٩: ابن خزيمة.
«من ترك ثلاث جمعات من غير عذر كتب من المنافقين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص بغیر عذر کے تین جمعے چھوڑ دے وہ منافقین میں لکھا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6144
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أسامة بن زيد. صحيح الترغيب ٧٣١.
«من ترك اللباس تواضعا لله وهو يقدر عليه دعاه الله يوم القيامة على رءوس الخلائق حتى يخيره من أي حلل الإيمان شاء يلبسها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتے ہوئے اچھا لباس چھوڑ دے حالانکہ وہ اس کی استطاعت رکھتا ہو تو اللہ قیامت کے دن اسے تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ وہ ایمان کے جوڑوں میں سے جو چاہے پہن لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6145
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت ك] عن معاذ بن أنس. الصحيحة ٧١٨.
«من ترك صلاة العصر حبط عمله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے اس کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6146
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن] عن بريدة. إيمان ابن أبي شيبة ٤٨, ٤٩، الإرواء ٢٥٥.
«من ترك مالا فلورثته ومن ترك كلا فإلى الله ورسوله وأنا وارث من لا وارث له أعقل عنه وأرثه والخال وارث من لا وارث له يعقل عنه ويرثه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو بوجھ چھوڑے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہے، اور میں اس شخص کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہ ہو، میں اس کی طرف سے دیت ادا کرتا ہوں اور اس کا وارث بنتا ہوں، اور ماموں اس شخص کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کی طرف سے دیت ادا کرتا ہے اور اس کا وارث بنتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6147
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم هـ] عن أبي كريمة. الإرواء ١٦٩٨.
«من تزوج فقد استكمل نصف الإيمان فليتق الله في النصف الباقي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص شادی کر لے اس نے اپنا آدھا ایمان مکمل کر لیا، پس اسے چاہیے کہ باقی آدھے میں اللہ سے ڈرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6148
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طس] عن أنس. الصحيحة ٦٢٥.
«من تشبه بقوم فهو منهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6149
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ابن عمر [طس] عن حذيفة. الإرواء ١٢٦٩، حجاب المرأة المسلمة ص ١٠٤.
«من تصبح كل يوم بسبع تمرات عجوة لم يضره في ذلك اليوم سم ولا سحر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص روزانہ صبح سات عجوہ کھجوریں کھائے تو اس دن اسے نہ زہر نقصان پہنچائے گا اور نہ جادو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6150
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د] عن سعد.
«من تصدق بشيء من جسده أعطي بقدر ما تصدق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنے جسم کے کسی حصے سے صدقہ کرے تو اسے اسی قدر اجر دیا جاتا ہے جتنا اس نے صدقہ کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6151
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عبادة. الصحيحة ٢٢٧٣: حم١.
«من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب ولا يقبل الله إلا الطيب فإن الله يتقبلها بيمينه ثم يربيها لصاحبها كما يربي أحدكم فلوه حتى تكون مثل الجبل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے - اور اللہ صرف پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتا ہے - تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے، پھر اسے اس کے مالک کے لیے اس طرح بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کو پالتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6152
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. الإرواء ٨٨٦، تخريج مشكلة الفقر ١١٦.
«من تطبب ولم يعلم منه طب فهو ضامن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص طب کا علم نہ رکھتے ہوئے علاج کرے تو وہ نقصان کا ذمہ دار ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6153
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د ن هـ ك] عن ابن عمرو. الأحاديث الصحيحة ٦٣٥.
«من تطهر في بيته ثم أتى مسجد قباء فصلى فيه كان له كأجر عمرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنے گھر میں طہارت حاصل کرے، پھر مسجدِ قباء آ کر اس میں نماز پڑھے تو اسے عمرہ کے برابر اجر ملتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6154
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف. الترغيب ٢/١٣٨: حم، ن، ك.
"من تطهر في بيته ثم مشى إلى بيت من بيوت الله ليقضي فريضة من فرائض الله كانت خطواته إحداهما تحط خطيئة والأخرى ترفع درجة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنے گھر میں طہارت حاصل کرے، پھر اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر کی طرف چلے تاکہ اللہ کا کوئی فرض ادا کرے تو اس کے قدموں میں سے ایک قدم گناہ مٹاتا ہے اور دوسرا درجہ بلند کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6155
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢٤٣.
«من تعار من الليل فقال حين يستيقظ: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت بيده الخير وهو على كل شيء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله ثم قال: اللهم اغفر لي أو دعا استجيب له فإن قام فتوضأ ثم صلى قبلت صلاته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص رات کو بیدار ہو اور جاگتے ہی یہ کہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، پاک ہے اللہ، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور کوئی طاقت اور قوت نہیں مگر اللہ کی توفیق سے)، پھر کہے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» (اے اللہ! مجھے بخش دے)، یا کوئی اور دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، پھر اگر وہ اٹھ کر وضو کرے اور نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول کی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6156
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ د ت هـ] عن عبادة بن الصامت. المشكاة ١٢١٣.
«من تعظم في نفسه واختال في مشيته لقي الله وهو عليه غضبان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور تکبر سے چلے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6157
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد] عن ابن عمر. الصحيحة ٥٤٣.
«من تعلم العلم ليباهي به العلماء أو يماري به السفهاء أو يصرف به وجوه الناس إليه أدخله الله جهنم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص علم اس لیے حاصل کرے کہ اس کے ذریعے علماء کے سامنے فخر کرے، یا جاہلوں سے بحث و تکرار کرے، یا لوگوں کے چہرے اپنی طرف پھیرے تو اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6158
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. اقتضاء العلم ١٠٢.
«من تعلم علما مما يبتغى به وجه الله لا يتعلمه إلا ليصيب به عوضا من الدنيا لم يجد عرف الجنة يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص ایسا علم سیکھے جس سے اللہ کی رضا حاصل کی جاتی ہے، مگر وہ اسے صرف دنیا کا کوئی فائدہ حاصل کرنے کے لیے سیکھے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6159
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ ك] عن أبي هريرة. اقتضاء العلم ١٠٢.
«من تفل تجاه القبلة جاء يوم القيامة تفله بين عينيه ومن أكل من هذه البقلة الخبيثة فلا يقربن مسجدنا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص قبلہ رخ ہو کر تھوکے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا تھوک اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ہوگا، اور جو شخص اس بدبودار ترکاری میں سے کچھ کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6160
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د حب] عن حذيفة. صحيح الترغيب ٢٨٢و٣٣٧، الصحيحة ٢٢٢، ٢٢٣.
«من تقول علي ما لم أقل فليتبوأ مقعده من النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6161
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. المشكاة ٩٥٤٠: حم - أبي هريرة. هـ - أبي قتادة. طب - أسامة.
«من تواضع لله رفعه الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرے، اللہ اسے بلند فرما دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6162
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٣٢٨: حم، م١.
«من توضأ فأحسن الوضوء ثم راح فوجد الناس قد صلوا أعطاه الله مثل أجر من صلاها وحضرها لا ينقص ذلك من أجرهم شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر جائے اور دیکھے کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اللہ اسے اتنا ہی اجر دیتا ہے جتنا نماز پڑھنے اور اس میں حاضر ہونے والے کو ملتا ہے، اور اس سے ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6163
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن ك] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٥٧٣.
«من توضأ فأحسن الوضوء، ... فقال: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمد عبده ورسوله فتحت له أبواب الجنة يدخل من أيها شاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے… پھر کہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں)، تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6164
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ ك] عن عمر. صحيح الترغيب ٢١٩.
«من توضأ فأحسن الوضوء ثم صلى ركعتين لا يسهو فيهما غفر الله له ما تقدم من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعتیں اس طرح پڑھے کہ ان میں کوئی غفلت نہ ہو تو اللہ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6165
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د ك] عن زيد بن خالد الجهني. صحيح أبي داود ٨٤١.
«من توضأ فأحسن الوضوء ثم صلى ركعتين يقبل عليهما بقلبه ووجهه وجبت له الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعتیں پڑھے جن میں وہ اپنے دل اور چہرے سے پوری توجہ سے متوجہ ہو تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6166
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن عقبة بن عامر. صحيح أبي داود ٨٤١.
«من توضأ فأحسن الوضوء ثم قال: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين فتحت له ثمانية أبواب الجنة يدخل من أيها شاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر کہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ» (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ! مجھے کثرت سے توبہ کرنے والوں میں سے بنا اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والوں میں سے بنا)، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6167
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن عمر. صحيح الترغيب ٢١٩، الإرواء ٩٦.
"من توضأ فأحسن الوضوء، ... فقال: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله فتحت له أبواب الجنة من أيها شاء دخل"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے… پھر کہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں)، تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس سے چاہے داخل ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6168
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن أنس. الضعيفة ٤٥٧٨: الدولابي.
«من توضأ فأحسن الوضوء خرجت خطاياه من جسده حتى تخرج من تحت أظفاره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے تو اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں، حتیٰ کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6169
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن عثمان. صحيح الترغيب ١٧٧.
«من توضأ فقال بعد فراغه من وضوئه: سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك كتب في رق ثم جعل في طابع فلم يكسر إلى يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص وضو کرے، پھر وضو سے فارغ ہو کر یہ کہے: اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں، تو یہ ایک کاغذ پر لکھ کر مہر لگا دی جاتی ہے، جو قیامت کے دن تک نہیں توڑی جاتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6170
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن ك] عن أبي سعيد. صحيح الترغيب ٢٢٠، الصحيحة ٢٣٣٣: ابن السني، هل، ابن بشران - عائشة.
«من توضأ فليستنثر ومن استجمر فليوتر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص وضو کرے تو وہ ناک جھاڑ لے، اور جو ڈھیلوں سے استنجا کرے تو وہ طاق تعداد میں کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6171
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن أبي هريرة [م] عن أبي سعيد. المشكاة ٣٤١.
«من توضأ كما أمر وصلى كما أمر غفر له ما قدم من عمل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اسی طرح وضو کرے جیسے اسے حکم دیا گیا ہے اور اسی طرح نماز پڑھے جیسے اسے حکم دیا گیا ہے تو اس کے پچھلے اعمال معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6172
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ن هـ حب] عن أبي أيوب وعقبة بن عامر. صحيح الترغيب ١٩١.
«من توضأ للصلاة فأسبغ الوضوء ثم مشى إلى الصلاة المكتوبة فصلاها مع الناس غفر الله له ذنوبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص نماز کے لیے وضو کرے اور اسے مکمل کرے، پھر فرض نماز کی طرف چلے اور لوگوں کے ساتھ اسے پڑھے تو اللہ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6173
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن عثمان. مختصر مسلم ١٣٢.
«من توضأ مثل هذا الوضوء ثم أتى المسجد فركع ركعتين ثم جلس غفر له ما تقدم من ذنبه ولا تغتروا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اس طرح کا وضو کرے، پھر مسجد آ کر دو رکعتیں پڑھے اور پھر بیٹھ جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، مگر اس پر دھوکے میں نہ رہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6174
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ هـ] عن عثمان.
«من توضأ مثل وضوئي هذا ثم قام فصلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه بشيء غفر له ما تقدم من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑا ہو کر دو رکعتیں اس طرح پڑھے کہ ان میں اس کا دھیان کسی اور طرف نہ جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6175
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن عثمان. صحيح أبي داود ٩٤.
«من توضأ نحووضوئي هذا ثم صلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفر له ما تقدم من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے، پھر دو رکعتیں اس طرح پڑھے کہ ان میں اس کا دھیان کسی اور طرف نہ جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6176
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن عثمان. مختصر مسلم ١٣٠.
«من توضأ هكذا ثم خرج إلى المسجد لا ينهزه إلا الصلاة غفر له ما خلا من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اس طرح وضو کرے، پھر مسجد کی طرف نکلے اور اسے صرف نماز ہی لے کر جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6177
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عثمان.