کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف قاف سے شروع ہونے والی احادیث
«قلب شاكر ولسان ذاكر وزوجة صالحة تعينك على أمر دنياك ودينك خير ما اكتنز الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شکر گزار دل، ذکر کرنے والی زبان اور نیک بیوی جو تمہارے دین و دنیا کے معاملے میں تمہاری مدد کرے، یہ وہ بہترین خزانہ ہے جو لوگ جمع کر سکتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4409
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الروض النضير ١٧٩، الترغيب ٣/٦٨: ت، ابن ماجه - ثوبان. عب - علي.
«قليل ما أسكر كثيره حرام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4410
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب] عن جابر الإرواء ٢٣٧٥.
«قمت على باب الجنة فإذا عامة من دخلها المساكين وإذا أصحاب الجد محبوسون إلا أصحاب النار فقد أمر بهم إلى النار وقمت على باب النار فإذا عامة من يدخلها النساء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت مسکین (غریب) لوگ تھے، اور مال دار لوگ روکے ہوئے تھے سوائے جہنمیوں کے کہ انہیں تو جہنم کی طرف بھیجنے کا حکم ہو چکا تھا۔ اور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت عورتیں تھیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4411
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث حم ٥/٢٠٥، ٢٠٩، خ: نكاح ورفاق، م: ذكر.
«قوائم منبري رواتب في الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے منبر کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4412
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن حب] عن أم سلمة [طب ك] عن أبي واقد الصحيحة ٢٠٥٠ك ابن سعد، حل - أم سلمة.
«قوام أمتي بشرارها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کی بقا اس کے بدترین لوگوں کی وجہ سے (بھی) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4413
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن ميمون بن سفيان. الروض النضير ٧٨٦.
«قولوا: اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد النبي الأمي كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد والسلام كما قد علمتم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کہو: اے اللہ! محمد ﷺ، نبیِ امی، اور آلِ محمد پر رحمت نازل فرما جیسے تو نے آلِ ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، اور محمد ﷺ، نبیِ امی، پر برکت نازل فرما جیسے تو نے جہانوں میں آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کیا گیا اور بزرگی والا ہے۔ اور سلام تو ویسے ہی ہے جیسے تم جانتے ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4414
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ٣] عن أبي مسعود الأنصاري. مختصر مسلم ٣٠٩، صحيح أبي داود ٩٠١.
«قولوا: اللهم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وآل محمد كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کہو: اے اللہ! محمد ﷺ پر، جو تیرے بندے اور رسول ہیں، رحمت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، اور محمد ﷺ اور آلِ محمد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمائی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4415
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن هـ] عن أبي سعيد فضل الصلاة ٦٦و٦٧: إسماعيل القاضي، هق.
«قولوا: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کہو: اے اللہ! محمد ﷺ اور آلِ محمد پر رحمت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کیا گیا اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد ﷺ اور آلِ محمد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کیا گیا اور بزرگی والا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4416
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن هـ] عن كعب بن عجرة صحيح أبي داود ٨٩٦ - ٨٩٩ الإرواء ٣٢٠.
«قولوا: اللهم صل على محمد وعلى أزواجه وذريته كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وعلى أزواجه وذريته كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کہو: اے اللہ! محمد ﷺ اور ان کی ازواج اور ان کی اولاد پر رحمت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، اور محمد ﷺ اور ان کی ازواج اور ان کی اولاد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کیا گیا اور بزرگی والا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4417
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح أبي داود ٩٠٠، فضل الصلاة ٧٠: الموطأ، إسماعيل القاضي.
«قولوا بعض قولكم ولا يستحوذنكم الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی بات میں اعتدال رکھو (حد سے نہ بڑھو) اور شیطان کو تم پر غالب نہ آنے دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4418
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن والد مطرف. المشكاة ٥٩٠١: خد، الضياء في المختارة.
«قولوا خيرا تغنموا واسكتوا عن شر تسلموا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اچھی بات کہو تاکہ (اجر) پاؤ اور بری بات سے خاموش رہو تاکہ محفوظ رہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4419
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [القضاعي] عن عبادة بن الصامت الصحيحة ٤١٢.
«قولوا: ما شاء الله ثم شئت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یوں کہو: جو اللہ چاہے پھر تو چاہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4420
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن مسعود. الصحيحة ١٣٦: حم، ن، الطحاوي، ك هق - قتيلة بنت صيفى.
«قولي: السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين ويرحم الله المستقدمين منا والمستأخرين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کہو: اے ان گھروں (قبروں) والے مومنو اور مسلمانو! تم پر سلام ہو، اللہ ہم میں سے آگے جانے والوں اور پیچھے رہنے والوں پر رحم فرمائے، اور بے شک ہم بھی، اللہ نے چاہا تو، تم سے آ ملنے والے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4421
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن عائشة. مختصر مسلم ٤٩٧، أحكام الجنائز ص ١٨١ - ١٨٣: حم.
«قولي: اللهم اغفر لي وله واعقبني منه عقبى حسنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کہو: اے اللہ! مجھے اور اسے بخش دے اور اس کے بعد مجھے اچھا بدلہ عطا فرما۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4422
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ٤] عن أم سلمة م ٣/ ٣٨: حم ٦/ ٢١٩.
«قولى: اللهم إنك عفوتحب العفوفاعف عني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کہو: اے اللہ! بے شک تو معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4423
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ ك] عن عائشة المشكاة ٢٠٩١.
«قولي: اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن فالق الحب والنوى أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کہو: اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب، عرشِ عظیم کے رب، ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! تورات، انجیل اور قرآن نازل کرنے والے، دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر اگانے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے۔ تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کچھ نہیں، اور تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کچھ نہیں، اور تو ہی ظاہر ہے، تجھ سے بلند کچھ نہیں، اور تو ہی باطن ہے، تجھ سے قریب تر کچھ نہیں۔ میرا قرض ادا فرما دے اور مجھے فقر سے بے نیاز کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4424
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ حب] عن أبي هريرة. الكلم الطيب رقم التعليق ٢٥: حم، م، د، ابن خزيمة، ك.
«قولي: لبيك اللهم لبيك ومحلي من الأرض حيث تحبسني فإن لك على ربك ما استثنيت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کہو: حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں، اور زمین میں میرا (احرام کھولنے کا) مقام وہی ہو گا جہاں تو مجھے روک دے، پس اگر تو نے شرط لگا لی ہے تو تیرے رب کے ذمے وہی ہے جو تو نے استثنا کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4425
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن عباس [حم] عن ضباعة. الإرواء ١٠١٠ك الدارمي، حل، ابن خزيمة - ضباعة.
«قوموا إلى جنة عرضها السموات والأرض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اٹھو اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4426
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أنس فقه السيرة ٢٤٣.
«قوموا إلى سيدكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے سردار کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4427
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي سعيد الصحيحة ٦٧: حم، ق، ع، حل.
«قوموا فإن للموت فزعا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کھڑے ہو جاؤ، کیونکہ موت میں گھبراہٹ (کی کیفیت) ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4428
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٠١٧: ابن مخلد. ك. - أبي هريرة وأبي سعيد. حم، م، د، ن - جابر.
«قيام ساعة في الصف للقتال في سبيل الله خير من قيام ستين سنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے صف میں ایک گھڑی کھڑا رہنا ساٹھ سال کھڑے رہنے (کی عبادت) سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4429
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عد ابن عساكر] عن أبي هريرة. الصحيحة ٩٠٢: حم، ت، ك. حم - أبي أمامة. الدارمي، ك، هق - عمران بن حصين.
«قيل لبني إسرائيل {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّداً، وَقُولُوا حِطَّةٌ} فبدلوا فدخلوا يزحفون على أستاههم وقالوا: حبة في شعيرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بنی اسرائیل سے کہا گیا: ”دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ اور کہو: حطّہ (ہمارے گناہ معاف فرما)“ تو انہوں نے (حکم کو) بدل دیا اور اپنے سرینوں کے بل رینگتے ہوئے داخل ہوئے اور کہا: دانہ جو کے اندر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4430
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢١٢٣.
«قيلوا فإن الشياطين لا تقيل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیلولہ (دوپہر کو تھوڑی دیر آرام) کیا کرو، کیونکہ شیاطین قیلولہ نہیں کرتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4431
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طس أبي نعيم في الطب] عن أنس. الصحيحة ١٦٤٧.
«قيد وتوكل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(اونٹ کو) باندھو اور پھر اللہ پر بھروسا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4432
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هب] عن عمروبن أمية الضمري. تخريج مشكلة الفقر ٢٢
«قيدها وتوكل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسے باندھو اور پھر اللہ پر بھروسا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4433
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [خط في رواة مالك ابن عساكر] عن ابن عمر تخريج مشكلة الفقر ٢٢.
«قيدوا العلم بالكتاب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”علم کو لکھ کر محفوظ کر لیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4434
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الحكيم سمويه] عن أنس [طب ك] عن ابن عمرو. الصحيحة ٢٠٢٦: لوين، أبو نعيم، خط، ابن عبد البر - أنس. الرامهرمزي، الخطيب، ابن عساكر - ابن عمرو. فصل في المحلى بـ [ال] من هذا الحرف.
«القائم بعدي في الجنة والذي يقوم بعده في الجنة والثالث والرابع في الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے بعد (خلافت پر) قائم ہونے والا جنت میں ہے، اور جو اس کے بعد قائم ہو گا وہ بھی جنت میں ہے، اور تیسرا اور چوتھا بھی جنت میں ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4435
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن ابن مسعود. الضعيفة ٢٣١٩.
«القاتل لا يرث»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قاتل (مقتول کی میراث سے) وارث نہیں بنتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4436
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ] عن أبي هريرة. الإرواء ١٦٧١، ١٦٧٢.
«القاعد على الصلاة كالقانت ويكتب من المصلين من حين يخرج من بيته حتى يرجع إلى بيته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نماز (کے انتظار میں) بیٹھا رہنے والا اطاعت گزار کی طرح ہے، اور آدمی جب سے اپنے گھر سے نکلتا ہے یہاں تک کہ اپنے گھر لوٹتا ہے، اسے نمازیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4437
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب] عن عقبة بن عامر. صحيح الترغيب ٢٩٧، و٤٥٤.
«القتل في سبيل الله شهادة والطاعون شهادة والبطن شهادة والغرق شهادة والنفساء شهادة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے، طاعون (سے مرنا) شہادت ہے، پیٹ کی بیماری (سے مرنا) شہادت ہے، ڈوب کر مرنا شہادت ہے اور نفاس کی حالت میں مرنا شہادت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4438
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم الضياء] عن عبادة بن الصامت. أحكام الجنائز ص ٣٩.
«القتل في سبيل الله شهادة والطاعون شهادة والغرق شهادة والبطن شهادة والحرق شهادة والسل والنفساء يجرها ولدها بسررها إلى الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے، طاعون (سے مرنا) شہادت ہے، ڈوب کر مرنا شہادت ہے، پیٹ کی بیماری (سے مرنا) شہادت ہے، جل کر مرنا شہادت ہے، اور تپِ دق (سے مرنا شہادت ہے)، اور نفاس کی حالت میں مرنے والی کو اس کا بچہ اپنی نال سے کھینچ کر جنت میں لے جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4439
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن راشد بن حبيش. أحكام الجنائز ٣٩: الدارمي، الطيالسي.
«القتل في سبيل الله يكفر كل خطيئة إلا الدين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی راہ میں قتل ہونا ہر گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے سوائے قرض کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4440
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عمرو [ت] عن أنس.
«القتيل في سبيل الله شهيد والمبطون شهيد والمطعون شهيد والغريق شهيد والنفساء شهيدة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی راہ میں مارا جانے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے اور نفاس کی حالت میں مرنے والی عورت شہیدہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4441
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عبد الله بن بسر. أحكام الجنائز ٣٩.
«القدرية مجوس هذه الأمة إن مرضوا فلا تعودوهم وإن ماتوا فلا تشهدوهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قدریہ (تقدیر کا انکار کرنے والے) اس امت کے مجوسی ہیں، اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4442
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث شرح الطحاوية ٢٨٤، ٨٠٩ الروض ١٩٧، المشكاة ١٠٧، السنة ٣٢٨، ٣٢٩.
«القرآن شافع مشفع وماحل مصدق من جعله أمامه قاده إلى الجنة ومن جعله خلفه ساقه إلى النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن سفارش کرنے والا ہے اور اس کی سفارش قبول کی جائے گی، اور جھگڑا کرنے والا ہے اور اس کی بات سچ مانی جائے گی۔ جو اسے اپنا پیش رو بنائے، وہ اسے جنت کی طرف لے جائے گا، اور جو اسے اپنے پیچھے ڈال دے، وہ اسے جہنم کی طرف دھکیل دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4443
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الصحيحة ٢٠١٩: عد، حل، ابن مسعود.
«القرآن يقرأ على سبعة أحرف فلا تماروا في القرآن فإن مراء في القرآن كفر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن سات حروف (قراءتوں) پر پڑھا جا سکتا ہے، پس قرآن کے بارے میں جھگڑا نہ کرو، کیونکہ قرآن کے بارے میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4444
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي جهيم. الروض النضير ١١٢٤.
«القصاص ثلاثة: أمير أو مأمور أو مختال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قصہ کہنے والے (واعظ) تین طرح کے ہیں: حکمران کی طرف سے مقرر کردہ، کسی کے حکم سے کہنے والا، یا خود پسندی کرنے والا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4445
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عوف بن مالك وكعب بن عياض. الصحيحة ٩: ابن وهب، حم، تخ، الروياني، ابن عساكر - عوف. تخ - كعب.
«القضاة ثلاثة اثنان في النار وواحد في الجنة: رجل علم الحق فقضى به فهو في الجنة ورجل قضى للناس على جهل فهو في النار ورجل عرف الحق فجار في الحكم فهو في النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قاضی تین طرح کے ہیں، ان میں سے دو جہنم میں اور ایک جنت میں ہے: ایک وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا تو وہ جنت میں ہے، دوسرا وہ شخص جس نے لوگوں کے درمیان بغیر علم کے فیصلہ کیا تو وہ جہنم میں ہے، اور تیسرا وہ شخص جس نے حق کو پہچانا مگر فیصلے میں ظلم کیا تو وہ جہنم میں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4446
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [٤ ك] عن بريدة. الإرواء ٢٦١٣: طب، هق. ع، طب - ابن عمر.
«القضاة ثلاثة: قاضيان في النار وقاض في الجنة قاض قضى بالهوى فهو في النار وقاض قضى بغير علم فهو في النار وقاض قضى بالحق فهو في الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قاضی تین طرح کے ہیں: دو جہنم میں اور ایک جنت میں۔ جس قاضی نے خواہش کے مطابق فیصلہ کیا وہ جہنم میں ہے، اور جس نے بغیر علم کے فیصلہ کیا وہ جہنم میں ہے، اور جس نے حق کے مطابق فیصلہ کیا وہ جنت میں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف القاف / حدیث: 4447
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عمر. الإرواء ٢٦١٣: ع.