«فاطمة بضعة مني فمن أغضبها أغضبني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہیں، پس جس نے انہیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔“
”فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہیں، پس جس نے انہیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔“
«فاطمة بضعة مني يقبضني ما يقبضها ويبسطني ما يبسطها وإن الأنساب تنقطع يوم القيامة غير نسبي وسببي وصهري»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہیں، مجھے وہی چیز ناگوار لگتی ہے جو انہیں ناگوار لگے، اور مجھے وہی چیز خوش کرتی ہے جو انہیں خوش کرے، اور بے شک قیامت کے دن تمام نسب منقطع ہو جائیں گے سوائے میرے نسب، میرے سبب اور میری سسرالی رشتہ داری کے۔“
”فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہیں، مجھے وہی چیز ناگوار لگتی ہے جو انہیں ناگوار لگے، اور مجھے وہی چیز خوش کرتی ہے جو انہیں خوش کرے، اور بے شک قیامت کے دن تمام نسب منقطع ہو جائیں گے سوائے میرے نسب، میرے سبب اور میری سسرالی رشتہ داری کے۔“
«فاطمة سيدة نساء أهل الجنة إلا مريم بنت عمران»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں، سوائے مریم بنت عمران کے۔“
”فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں، سوائے مریم بنت عمران کے۔“
«فتح الله بابا للتوبة من المغرب عرضه مسيرة سبعين عاما لا يغلق حتى تطلع الشمس من نحوه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ نے مغرب کی طرف توبہ کے لیے ایک دروازہ کھولا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، وہ اس وقت تک بند نہیں ہو گا جب تک سورج اسی طرف سے طلوع نہ ہو۔“
”اللہ نے مغرب کی طرف توبہ کے لیے ایک دروازہ کھولا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، وہ اس وقت تک بند نہیں ہو گا جب تک سورج اسی طرف سے طلوع نہ ہو۔“
«فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج مثل هذه - وعقد بيده تسعين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اتنا حصہ کھل گیا ہے - اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے نوے کا عدد بنایا۔“
”آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اتنا حصہ کھل گیا ہے - اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے نوے کا عدد بنایا۔“
"فتر الوحي عني فترة فبينا أنا أمشي سمعت صوتا من السماء فرفعت بصري قبل السماء فإذا أنا بالملك الذي أتاني في غار حراء على سرير بين السماء والأرض فجبنت منه فرقا حتى هويت إلى الأرض فأتيت خديجة فقلت: دثروني دثروني فدثرت فجاء جبريل فقال: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُمْ فَأَنْذِرْ، وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ، وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ، وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھ سے وحی کچھ عرصے کے لیے رک گئی، پھر ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، تو میں نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی، تو میں نے اسی فرشتے کو دیکھا جو غارِ حرا میں میرے پاس آیا تھا، وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک تخت پر تھا، تو میں اس سے خوفزدہ ہو گیا یہاں تک کہ زمین پر گر پڑا۔ پھر میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے چادر اڑھاؤ، مجھے چادر اڑھاؤ۔ تو انہوں نے مجھے چادر اڑھا دی، پھر جبریل آئے اور کہا: ”اے چادر اوڑھنے والے! اٹھو اور ڈراؤ، اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اور اپنے کپڑے پاک رکھو، اور گندگی سے دور رہو۔““
”مجھ سے وحی کچھ عرصے کے لیے رک گئی، پھر ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، تو میں نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی، تو میں نے اسی فرشتے کو دیکھا جو غارِ حرا میں میرے پاس آیا تھا، وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک تخت پر تھا، تو میں اس سے خوفزدہ ہو گیا یہاں تک کہ زمین پر گر پڑا۔ پھر میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے چادر اڑھاؤ، مجھے چادر اڑھاؤ۔ تو انہوں نے مجھے چادر اڑھا دی، پھر جبریل آئے اور کہا: ”اے چادر اوڑھنے والے! اٹھو اور ڈراؤ، اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اور اپنے کپڑے پاک رکھو، اور گندگی سے دور رہو۔““
«فتنة الأحلاس هرب وحرب ثم فتنة السراء دخنها من تحت قدم رجل من أهل بيتي يزعم أنه مني وليس مني وإنما أوليائي المتقون ثم يصطلح الناس على رجل كورك على ضلع ثم فتنة الدهيماء لا تدع أحدا من هذه الأمة إلا لطمته لطمة فإذا قيل: انقضت تمادت يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا حتى يصير الناس إلى فسطاطين فسطاط إيمان لا نفاق فيه وفسطاط نفاق لا إيمان فيه فإذا كان ذاكم فانتطروا الدجال من يومه أو غده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فتنۂ احلاس بھاگ دوڑ اور لڑائی ہے، پھر فتنۂ سراء ہے جس کا دھواں میرے اہلِ بیت میں سے ایک آدمی کے قدم کے نیچے سے اٹھے گا، وہ سمجھے گا کہ وہ مجھ سے ہے حالانکہ وہ مجھ سے نہیں، میرے دوست تو صرف متقی لوگ ہیں۔ پھر لوگ ایک ایسے آدمی پر صلح کر لیں گے جیسے پسلی پر کولہا۔ پھر فتنۂ دہیماء ہے، جو اس امت میں سے کسی کو نہیں چھوڑے گا مگر اسے ایک تھپڑ ضرور مارے گا۔ جب کہا جائے گا کہ یہ ختم ہو گیا تو یہ اور طول پکڑ لے گا۔ اس میں آدمی صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو جائے گا، یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں تقسیم ہو جائیں گے: ایک ایمان کا خیمہ جس میں کوئی نفاق نہ ہو گا، اور ایک نفاق کا خیمہ جس میں کوئی ایمان نہ ہو گا۔ پس جب ایسا ہو جائے تو دجال کا اسی دن یا اگلے دن انتظار کرو۔“
”فتنۂ احلاس بھاگ دوڑ اور لڑائی ہے، پھر فتنۂ سراء ہے جس کا دھواں میرے اہلِ بیت میں سے ایک آدمی کے قدم کے نیچے سے اٹھے گا، وہ سمجھے گا کہ وہ مجھ سے ہے حالانکہ وہ مجھ سے نہیں، میرے دوست تو صرف متقی لوگ ہیں۔ پھر لوگ ایک ایسے آدمی پر صلح کر لیں گے جیسے پسلی پر کولہا۔ پھر فتنۂ دہیماء ہے، جو اس امت میں سے کسی کو نہیں چھوڑے گا مگر اسے ایک تھپڑ ضرور مارے گا۔ جب کہا جائے گا کہ یہ ختم ہو گیا تو یہ اور طول پکڑ لے گا۔ اس میں آدمی صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو جائے گا، یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں تقسیم ہو جائیں گے: ایک ایمان کا خیمہ جس میں کوئی نفاق نہ ہو گا، اور ایک نفاق کا خیمہ جس میں کوئی ایمان نہ ہو گا۔ پس جب ایسا ہو جائے تو دجال کا اسی دن یا اگلے دن انتظار کرو۔“
«فتنة الرجل في أهله وماله ونفسه وولده وجاره يكفرها الصيام والصلاة والصدقة والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کا اپنے گھر والوں، اپنے مال، اپنی جان، اپنی اولاد اور اپنے پڑوسی کے بارے میں فتنہ روزے، نماز، صدقے، نیکی کے حکم دینے اور برائی سے روکنے سے مٹ جاتا ہے۔“
”آدمی کا اپنے گھر والوں، اپنے مال، اپنی جان، اپنی اولاد اور اپنے پڑوسی کے بارے میں فتنہ روزے، نماز، صدقے، نیکی کے حکم دینے اور برائی سے روکنے سے مٹ جاتا ہے۔“
«فجرت أربعة أنهار من الجنة: الفرات والنيل وسيحان وجيحان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت سے چار نہریں بہتی ہیں: فرات، نیل، سیحان اور جیحان۔“
”جنت سے چار نہریں بہتی ہیں: فرات، نیل، سیحان اور جیحان۔“
«فخذ المرء المسلم من عورته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسلمان آدمی کی ران اس کے ستر میں سے ہے۔“
”مسلمان آدمی کی ران اس کے ستر میں سے ہے۔“
«فراش للرجل وفراش لامرأته والثالث للضيف والرابع للشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک بستر آدمی کے لیے ہے، ایک بستر اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے، اور چوتھا شیطان کے لیے ہے۔“
”ایک بستر آدمی کے لیے ہے، ایک بستر اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے، اور چوتھا شیطان کے لیے ہے۔“
"فرج سقف بيتي وأنا بمكة فنزل جبريل ففرج صدري ثم غسله بماء زمزم ثم جاء بطست من ذهب ممتلئ حكمة وإيمانا فأفرغها في صدري ثم أطبقه. ثم أخذ بيدي فعرج بي إلى السماء الدنيا فلما جئنا السماء الدنيا قال جبريل لخازن السماء الدنيا: افتح قال من هذا؟ قال: هذا جبريل قال هل معك أحد؟ قال: نعم معي محمد قال: فأرسل إليه؟ قال نعم فافتح. فلما علونا السماء الدنيا فإذا رجل عن يمينه أسودة وعن يساره أسودة فإذا نظر قبل يمينه ضحك وإذا نظر قبل شماله بكى فقال: مرحبا بالنبي الصالح والابن الصالح قلت: يا جبريل من هذا؟ قال: هذا آدم وهذه الأسودة عن يمينه وعن شماله نسم بنيه فأهل اليمين أهل الجنة والأسودة التي عن شماله أهل النار فإذا نظر قبل يمينه ضحك وإذا نظر قبل شماله بكى. ثم عرج بي جبريل حتى أتى السماء الثانية فقال لخازنها: افتح فقال له خازنها مثل ما قال خازن السماء الدنيا ففتح فلما مررت بإدريس قال: مرحبا بالنبي الصالح والأخ الصالح فقلت: من هذا؟ قال: هذا إدريس ثم مررت بموسى فقال: مرحبا بالنبي الصالح والأخ الصالح فقلت: من هذا؟ قال: هذا موسى ثم مررت بعيسى فقال: مرحبا بالنبي الصالح والأخ الصالح قلت: من هذا؟ قال: هذا عيسى بن مريم ثم مررت بإبراهيم فقال: مرحبا بالنبي الصالح والابن الصالح قلت: من هذا؟ قال: هذا إبراهيم. ثم عرج بي حتى ظهرت بمستوى أسمع فيه صريف الأقلام ففرض الله عز وجل على أمتي خمسين صلاة فرجعت بذلك حتى مررت على موسى فقال موسى: ماذا فرض ربك على أمتك؟ قلت: فرض عليهم خمسين صلاة قال لي موسى: فراجع ربك فإن أمتك لا تطيق ذلك فرجعت ربي فوضع شطرها فرجعت إلى موسى فأخبرته فقال: راجع ربك فإن أمتك لا تطيق ذلك فراجعت ربي فقال: هن خمس وهن خمسون لا يبدل القول لدي فرجعت إلى موسى فقال: راجع ربك قلت: قد استحييت من ربي. ثم انطلق بي حتى انتهى إلى سدرة المنتهى ونبقها مثل قلال هجر وورقها كآذان الفيلة تكاد الورقة تغطي هذه الأمة فغشيها ألوان لا أدري ما هي؟ ثم أدخلت الجنة فإذا فيها جنابذ اللؤلؤ وإذا ترابها المسك "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے گھر کی چھت کھول دی گئی جبکہ میں مکہ میں تھا، تو جبریل اترے، میرا سینہ چاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا، پھر وہ حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا سونے کا ایک طشت لائے اور اسے میرے سینے میں انڈیل دیا، پھر اسے بند کر دیا۔ پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمانِ دنیا کی طرف لے چلے۔ جب ہم آسمانِ دنیا پر پہنچے تو جبریل نے آسمانِ دنیا کے داروغے سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ جبریل ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جبریل نے کہا: ہاں، میرے ساتھ محمد ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جبریل نے کہا: ہاں، تو دروازہ کھول دو۔ پس جب ہم آسمانِ دنیا پر چڑھے تو ایک آدمی دکھائی دیا جس کے دائیں طرف کچھ سائے تھے اور بائیں طرف کچھ سائے تھے، جب وہ اپنی دائیں طرف دیکھتا تو ہنستا، اور جب اپنی بائیں طرف دیکھتا تو روتا۔ اس نے کہا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ آدم ہیں، اور یہ سائے جو ان کے دائیں اور بائیں ہیں، ان کی اولاد کی روحیں ہیں۔ دائیں طرف والے جنتی ہیں، اور بائیں طرف کے سائے جہنمی ہیں، پس جب وہ دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں، اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو روتے ہیں۔ پھر جبریل مجھے لے کر چڑھے یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے، تو انہوں نے اس کے داروغے سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس کے داروغے نے بھی وہی کہا جو آسمانِ دنیا کے داروغے نے کہا تھا، تو اس نے دروازہ کھول دیا۔ پھر جب میں ادریس کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ ادریس ہیں۔ پھر میں موسیٰ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ موسیٰ ہیں۔ پھر میں عیسیٰ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ عیسیٰ بن مریم ہیں۔ پھر میں ابراہیم کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ ابراہیم ہیں۔ پھر مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایک ایسی بلندی پر پہنچا جہاں مجھے قلموں کی چرچراہٹ سنائی دی۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو میں یہ لے کر واپس آیا یہاں تک کہ موسیٰ کے پاس سے گزرا۔ موسیٰ نے پوچھا: تمہارے رب نے تمہاری امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے کہا: ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ موسیٰ نے مجھ سے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جاؤ، کیونکہ تمہاری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ تو میں اپنے رب کے پاس واپس گیا تو اس نے ان کا آدھا حصہ کم کر دیا۔ پھر میں موسیٰ کے پاس واپس آیا اور انہیں بتایا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جاؤ، کیونکہ تمہاری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی۔ تو میں پھر اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے فرمایا: یہ پانچ ہیں اور اجر میں پچاس ہیں، میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی۔ تو میں موسیٰ کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جاؤ۔ میں نے کہا: اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ پھر مجھے لے جایا گیا یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے تھے، اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے تھے، ایک پتہ اس امت کو ڈھانپنے کے قریب تھا۔ اسے ایسے رنگ ڈھانپے ہوئے تھے کہ مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھے۔ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو اس میں موتیوں کے گنبد تھے اور اس کی مٹی مشک تھی۔“
”میرے گھر کی چھت کھول دی گئی جبکہ میں مکہ میں تھا، تو جبریل اترے، میرا سینہ چاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا، پھر وہ حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا سونے کا ایک طشت لائے اور اسے میرے سینے میں انڈیل دیا، پھر اسے بند کر دیا۔ پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمانِ دنیا کی طرف لے چلے۔ جب ہم آسمانِ دنیا پر پہنچے تو جبریل نے آسمانِ دنیا کے داروغے سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ جبریل ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جبریل نے کہا: ہاں، میرے ساتھ محمد ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جبریل نے کہا: ہاں، تو دروازہ کھول دو۔ پس جب ہم آسمانِ دنیا پر چڑھے تو ایک آدمی دکھائی دیا جس کے دائیں طرف کچھ سائے تھے اور بائیں طرف کچھ سائے تھے، جب وہ اپنی دائیں طرف دیکھتا تو ہنستا، اور جب اپنی بائیں طرف دیکھتا تو روتا۔ اس نے کہا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ آدم ہیں، اور یہ سائے جو ان کے دائیں اور بائیں ہیں، ان کی اولاد کی روحیں ہیں۔ دائیں طرف والے جنتی ہیں، اور بائیں طرف کے سائے جہنمی ہیں، پس جب وہ دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں، اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو روتے ہیں۔ پھر جبریل مجھے لے کر چڑھے یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے، تو انہوں نے اس کے داروغے سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس کے داروغے نے بھی وہی کہا جو آسمانِ دنیا کے داروغے نے کہا تھا، تو اس نے دروازہ کھول دیا۔ پھر جب میں ادریس کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ ادریس ہیں۔ پھر میں موسیٰ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ موسیٰ ہیں۔ پھر میں عیسیٰ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ عیسیٰ بن مریم ہیں۔ پھر میں ابراہیم کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: یہ ابراہیم ہیں۔ پھر مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایک ایسی بلندی پر پہنچا جہاں مجھے قلموں کی چرچراہٹ سنائی دی۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو میں یہ لے کر واپس آیا یہاں تک کہ موسیٰ کے پاس سے گزرا۔ موسیٰ نے پوچھا: تمہارے رب نے تمہاری امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے کہا: ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ موسیٰ نے مجھ سے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جاؤ، کیونکہ تمہاری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ تو میں اپنے رب کے پاس واپس گیا تو اس نے ان کا آدھا حصہ کم کر دیا۔ پھر میں موسیٰ کے پاس واپس آیا اور انہیں بتایا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جاؤ، کیونکہ تمہاری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی۔ تو میں پھر اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے فرمایا: یہ پانچ ہیں اور اجر میں پچاس ہیں، میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی۔ تو میں موسیٰ کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جاؤ۔ میں نے کہا: اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ پھر مجھے لے جایا گیا یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے تھے، اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے تھے، ایک پتہ اس امت کو ڈھانپنے کے قریب تھا۔ اسے ایسے رنگ ڈھانپے ہوئے تھے کہ مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھے۔ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو اس میں موتیوں کے گنبد تھے اور اس کی مٹی مشک تھی۔“
«فرغ إلى ابن آدم من أربع: الخلق والخلق والرزق والأجل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن آدم کے بارے میں چار چیزوں کا فیصلہ ہو چکا ہے: تخلیق، اخلاق، رزق اور موت کا وقت۔“
”ابن آدم کے بارے میں چار چیزوں کا فیصلہ ہو چکا ہے: تخلیق، اخلاق، رزق اور موت کا وقت۔“
«فرغ الله عز وجل إلى كل عبد من خمس: من أجله ورزقه وأثره ومضجعه وشقي أو سعيد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ عزوجل ہر بندے کے بارے میں پانچ چیزوں کا فیصلہ کر چکا ہے: اس کی موت کا وقت، اس کا رزق، اس کے نقشِ قدم، اس کی آرام گاہ اور یہ کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت۔“
”اللہ عزوجل ہر بندے کے بارے میں پانچ چیزوں کا فیصلہ کر چکا ہے: اس کی موت کا وقت، اس کا رزق، اس کے نقشِ قدم، اس کی آرام گاہ اور یہ کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت۔“
«فرغ الله إلى كل عبد من خمس: من عمله وأجله ورزقه وأثره ومضجعه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ ہر بندے کے بارے میں پانچ چیزوں کا فیصلہ کر چکا ہے: اس کا عمل، اس کی موت کا وقت، اس کا رزق، اس کے نقشِ قدم اور اس کی آرام گاہ۔“
”اللہ ہر بندے کے بارے میں پانچ چیزوں کا فیصلہ کر چکا ہے: اس کا عمل، اس کی موت کا وقت، اس کا رزق، اس کے نقشِ قدم اور اس کی آرام گاہ۔“
«فرغ الله من أربع: من الخلق والخلق والرزق والأجل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ چار چیزوں کا فیصلہ کر چکا ہے: تخلیق، اخلاق، رزق اور موت کا وقت۔“
”اللہ چار چیزوں کا فیصلہ کر چکا ہے: تخلیق، اخلاق، رزق اور موت کا وقت۔“
" فرغ الله من المقادير وأمور الدنيا قبل أن يخلق السموات والأرض بخمسين ألف سنة "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے تقدیروں اور دنیا کے معاملات کا فیصلہ کر دیا تھا۔“
”اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے تقدیروں اور دنیا کے معاملات کا فیصلہ کر دیا تھا۔“
«فسطاط المسلمين يوم الملحمة الكبرى بأرض يقال لها: الغوطة فيها مدينة يقال لها دمشق خير منازل المسلمين يومئذ»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بڑی جنگ کے دن مسلمانوں کا مرکزی خیمہ اس زمین میں ہو گا جسے غوطہ کہا جاتا ہے، اس میں ایک شہر ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے، وہ اس دن مسلمانوں کی بہترین قیام گاہ ہو گی۔“
”بڑی جنگ کے دن مسلمانوں کا مرکزی خیمہ اس زمین میں ہو گا جسے غوطہ کہا جاتا ہے، اس میں ایک شہر ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے، وہ اس دن مسلمانوں کی بہترین قیام گاہ ہو گی۔“
«فصل ما بين الحلال والحرام ضرب الدف والصوت في النكاح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حلال اور حرام کے درمیان فرق نکاح میں دف بجانا اور آواز کرنا ہے۔“
”حلال اور حرام کے درمیان فرق نکاح میں دف بجانا اور آواز کرنا ہے۔“
«فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہمارے روزے اور اہلِ کتاب کے روزے کے درمیان فرق سحری کا کھانا ہے۔“
”ہمارے روزے اور اہلِ کتاب کے روزے کے درمیان فرق سحری کا کھانا ہے۔“
«فضل الله قريشا بسبع خصال: فضلهم بأنهم عبدوا الله عشر سنين لا يعبد الله إلا قريش وفضلهم بأنهم نصرهم يوم الفيل وهم مشركون وفضلهم بأنه نزلت فيهم سورة من القرآن لم يدخل فيها أحد من العالمين وهي {لِإِيلافِ قُرَيْشٍ} وفضلهم بأن فيهم النبوة والخلافة والحجابة والسقاية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ نے قریش کو سات خصلتوں سے فضیلت دی: انہیں یہ فضیلت دی کہ انہوں نے دس سال اللہ کی عبادت کی جبکہ اس وقت اللہ کی عبادت صرف قریش ہی کرتے تھے، اور یہ فضیلت دی کہ اس نے فیل کے دن ان کی مدد کی حالانکہ وہ مشرک تھے، اور یہ فضیلت دی کہ ان کے بارے میں قرآن کی ایک سورت نازل ہوئی جس میں دنیا جہان کا کوئی اور شامل نہیں، اور وہ ”لایلاف قریش“ ہے، اور یہ فضیلت دی کہ ان میں نبوت، خلافت، حجابت اور سقایت ہے۔“
”اللہ نے قریش کو سات خصلتوں سے فضیلت دی: انہیں یہ فضیلت دی کہ انہوں نے دس سال اللہ کی عبادت کی جبکہ اس وقت اللہ کی عبادت صرف قریش ہی کرتے تھے، اور یہ فضیلت دی کہ اس نے فیل کے دن ان کی مدد کی حالانکہ وہ مشرک تھے، اور یہ فضیلت دی کہ ان کے بارے میں قرآن کی ایک سورت نازل ہوئی جس میں دنیا جہان کا کوئی اور شامل نہیں، اور وہ ”لایلاف قریش“ ہے، اور یہ فضیلت دی کہ ان میں نبوت، خلافت، حجابت اور سقایت ہے۔“
" فضل الله قريشا بسبع خصال لم يعطها أحد قبلهم ولا يعطاها أحد بعدهم: فضل الله قريشا أني منهم وأن النبوة فيهم وأن الحجابة فيهم وأن السقاية فيهم ونصرهم على الفيل وعبدوا الله عشر سنين لا يعبده غيرهم وأنزل الله فيهم سورة من القرآن لم يذكر فيها أحد غيرهم {لِإِيلافِ قُرَيْشٍ}
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ نے قریش کو سات خصلتوں سے فضیلت دی جو نہ ان سے پہلے کسی کو دی گئیں اور نہ ان کے بعد کسی کو دی جائیں گی: اللہ نے قریش کو یہ فضیلت دی کہ میں انہی میں سے ہوں، اور نبوت ان میں ہے، اور حجابت ان میں ہے، اور سقایت ان میں ہے، اور فیل والوں کے مقابلے میں ان کی مدد کی، اور انہوں نے دس سال اللہ کی عبادت کی جبکہ ان کے سوا کوئی اور اس کی عبادت نہیں کرتا تھا، اور اللہ نے ان کے بارے میں قرآن کی ایک سورت نازل کی جس میں ان کے سوا کسی اور کا ذکر نہیں، ”لایلاف قریش“۔“
”اللہ نے قریش کو سات خصلتوں سے فضیلت دی جو نہ ان سے پہلے کسی کو دی گئیں اور نہ ان کے بعد کسی کو دی جائیں گی: اللہ نے قریش کو یہ فضیلت دی کہ میں انہی میں سے ہوں، اور نبوت ان میں ہے، اور حجابت ان میں ہے، اور سقایت ان میں ہے، اور فیل والوں کے مقابلے میں ان کی مدد کی، اور انہوں نے دس سال اللہ کی عبادت کی جبکہ ان کے سوا کوئی اور اس کی عبادت نہیں کرتا تھا، اور اللہ نے ان کے بارے میں قرآن کی ایک سورت نازل کی جس میں ان کے سوا کسی اور کا ذکر نہیں، ”لایلاف قریش“۔“
«فضل عائشة على النساء كفضل الثريد على [سائر] الطعام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسے باقی کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔“
”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسے باقی کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔“
«فضل الصلاة في المسجد الحرام على غيره مائة ألف صلاة وفي مسجدي ألف صلاة.... ... »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسجد حرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت باقی مسجدوں پر ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے، اور میری مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت ہزار نمازوں کے برابر ہے۔“
”مسجد حرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت باقی مسجدوں پر ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے، اور میری مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت ہزار نمازوں کے برابر ہے۔“
«فضل العالم على العابد كفضل القمر ليلة البدر على سائر الكواكب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی باقی ستاروں پر فضیلت ہے۔“
”عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی باقی ستاروں پر فضیلت ہے۔“
«فضل العالم على العابد كفضلي على أدناكم إن الله عز وجل وملائكته وأهل السموات والأرض حتى النملة في جحرها وحتى الحوت ليصلون على معلم الناس الخير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری تم میں سب سے کم درجے والے پر فضیلت ہے۔ بے شک اللہ عزوجل، اس کے فرشتے، اور آسمانوں اور زمین والے، یہاں تک کہ چیونٹی اپنے بل میں اور مچھلی بھی، لوگوں کو بھلائی سکھانے والے پر درود بھیجتے ہیں۔“
”عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری تم میں سب سے کم درجے والے پر فضیلت ہے۔ بے شک اللہ عزوجل، اس کے فرشتے، اور آسمانوں اور زمین والے، یہاں تک کہ چیونٹی اپنے بل میں اور مچھلی بھی، لوگوں کو بھلائی سکھانے والے پر درود بھیجتے ہیں۔“
«فضل العلم أحب إلي من فضل العبادة وخير دينكم الورع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”علم کی فضیلت مجھے عبادت کی فضیلت سے زیادہ محبوب ہے، اور تمہارے دین میں سب سے بہتر پرہیزگاری ہے۔“
”علم کی فضیلت مجھے عبادت کی فضیلت سے زیادہ محبوب ہے، اور تمہارے دین میں سب سے بہتر پرہیزگاری ہے۔“
«فضل صلاة الجماعة على صلاة الرجل وحده خمس وعشرون درجة.... ... »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جماعت کی نماز کی اکیلے آدمی کی نماز پر فضیلت پچیس درجے ہے۔“
”جماعت کی نماز کی اکیلے آدمی کی نماز پر فضیلت پچیس درجے ہے۔“
«فضل صلاة الجميع على صلاة الواحد خمس وعشرون درجة وتجتمع ملائكة الليل وملائكة النهار في صلاة الفجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جماعت کی نماز کی اکیلے کی نماز پر فضیلت پچیس درجے ہے، اور فجر کی نماز میں رات اور دن کے فرشتے اکٹھے ہوتے ہیں۔“
”جماعت کی نماز کی اکیلے کی نماز پر فضیلت پچیس درجے ہے، اور فجر کی نماز میں رات اور دن کے فرشتے اکٹھے ہوتے ہیں۔“
«فضل صلاة الرجل في بيته على صلاته حيث يراه الناس كفضل المكتوبة على النافلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کی اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی، اس کی وہاں نماز پڑھنے پر فضیلت جہاں لوگ اسے دیکھیں، ایسی ہے جیسے فرض کی نفل پر فضیلت ہے۔“
”آدمی کی اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی، اس کی وہاں نماز پڑھنے پر فضیلت جہاں لوگ اسے دیکھیں، ایسی ہے جیسے فرض کی نفل پر فضیلت ہے۔“
«فضل عائشة على النساء كفضل..... الثريد على سائر الطعام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسے باقی کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔“
”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسے باقی کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔“
«فضلت بأربع: جعلت أنا وأمتي في الصلاة كما تصف الملائكة وجعل الصعيد لي وضوءا وجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا وأحلت لي الغنائم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے چار چیزوں سے فضیلت دی گئی: مجھے اور میری امت کو نماز میں اس طرح صف بنانے والا بنایا گیا جیسے فرشتے صف بناتے ہیں، اور مٹی کو میرے لیے وضو کا ذریعہ بنایا گیا، اور زمین کو میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکیزگی کا ذریعہ بنایا گیا، اور میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا۔“
”مجھے چار چیزوں سے فضیلت دی گئی: مجھے اور میری امت کو نماز میں اس طرح صف بنانے والا بنایا گیا جیسے فرشتے صف بناتے ہیں، اور مٹی کو میرے لیے وضو کا ذریعہ بنایا گیا، اور زمین کو میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکیزگی کا ذریعہ بنایا گیا، اور میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا۔“
«فضلت بأربع: جعلت لي الأرض مسجدا وطهورا فأيما رجل من أمتي أتى الصلاة فلم يجد ما يصلي عليه وجد الأرض مسجدا وطهورا وأرسلت إلى الناس كافة ونصرت بالرعب من مسيرة شهرين يسير بين يدي وأحلت لي الغنائم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے چار چیزوں سے فضیلت دی گئی: زمین کو میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکیزگی کا ذریعہ بنایا گیا، تو میری امت میں سے جو بھی نماز کے لیے آئے اور اسے بچھانے کے لیے کچھ نہ ملے تو وہ زمین کو ہی سجدہ گاہ اور پاکیزگی کا ذریعہ پائے گا، اور مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا، اور دو مہینے کی مسافت کے برابر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی جو میرے آگے آگے چلتا ہے، اور میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا۔“
”مجھے چار چیزوں سے فضیلت دی گئی: زمین کو میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکیزگی کا ذریعہ بنایا گیا، تو میری امت میں سے جو بھی نماز کے لیے آئے اور اسے بچھانے کے لیے کچھ نہ ملے تو وہ زمین کو ہی سجدہ گاہ اور پاکیزگی کا ذریعہ پائے گا، اور مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا، اور دو مہینے کی مسافت کے برابر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی جو میرے آگے آگے چلتا ہے، اور میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا۔“
«فضلت على الأنبياء بخمس: بعثت إلى الناس كافة وادخرت شفاعتي لأمتي ونصرت بالرعب شهرا أمامي وشهرا خلفي وجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا وأحلت لي الغنائم ولم تحل لأحد قبلي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے انبیاء پر پانچ چیزوں سے فضیلت دی گئی: مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا، اپنی شفاعت میں نے اپنی امت کے لیے محفوظ رکھی، ایک مہینے کی مسافت میرے آگے اور ایک مہینے کی مسافت میرے پیچھے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، زمین کو میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکیزگی کا ذریعہ بنایا گیا، اور میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کیا گیا۔“
”مجھے انبیاء پر پانچ چیزوں سے فضیلت دی گئی: مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا، اپنی شفاعت میں نے اپنی امت کے لیے محفوظ رکھی، ایک مہینے کی مسافت میرے آگے اور ایک مہینے کی مسافت میرے پیچھے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، زمین کو میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکیزگی کا ذریعہ بنایا گیا، اور میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کیا گیا۔“
«فضلت على الأنبياء بست: أعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب وأحلت لي الغنائم وجعلت لي الأرض طهورا ومسجدا وأرسلت إلى الخلق كافة وختم بي النبيون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے انبیاء پر چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی: مجھے جامع کلمات دیے گئے، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا، زمین کو میرے لیے پاکیزگی کا ذریعہ اور سجدہ گاہ بنایا گیا، مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا، اور مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔“
”مجھے انبیاء پر چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی: مجھے جامع کلمات دیے گئے، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا، زمین کو میرے لیے پاکیزگی کا ذریعہ اور سجدہ گاہ بنایا گیا، مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا، اور مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔“
«فضلنا على الناس بثلاث: جعلت صفوفنا كصفوف الملائكة وجعلت لنا الأرض كلها مسجدا وجعلت تربتها لنا طهورا إذا لم نجد الماء وأعطيت هذه الآيات من آخر سورة البقرة من كنز تحت العرش لم يعطها نبي قبلي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہمیں لوگوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی: ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں جیسا بنایا گیا، پوری زمین کو ہمارے لیے سجدہ گاہ بنایا گیا، اس کی مٹی کو ہمارے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنایا گیا جب ہمیں پانی نہ ملے، اور مجھے سورۃ البقرہ کے آخر کی یہ آیات عرش کے نیچے کے خزانے میں سے دی گئیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔“
”ہمیں لوگوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی: ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں جیسا بنایا گیا، پوری زمین کو ہمارے لیے سجدہ گاہ بنایا گیا، اس کی مٹی کو ہمارے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنایا گیا جب ہمیں پانی نہ ملے، اور مجھے سورۃ البقرہ کے آخر کی یہ آیات عرش کے نیچے کے خزانے میں سے دی گئیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔“
«فطركم يوم تفطرون وأضحاكم يوم تضحون وعرفة يوم تعرفون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہاری عید الفطر اس دن ہے جس دن تم روزہ افطار کرو، تمہاری عید الاضحی اس دن ہے جس دن تم قربانی کرو، اور عرفہ اس دن ہے جس دن تم عرفہ میں ٹھہرو۔“
”تمہاری عید الفطر اس دن ہے جس دن تم روزہ افطار کرو، تمہاری عید الاضحی اس دن ہے جس دن تم قربانی کرو، اور عرفہ اس دن ہے جس دن تم عرفہ میں ٹھہرو۔“
«فطركم يوم تفطرون وأضحاكم يوم تضحون وكل عرفة موقف وكل منى منحر وكل فجاج مكة منحر وكل جمع موقف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہاری عید الفطر اس دن ہے جس دن تم روزہ افطار کرو، تمہاری عید الاضحی اس دن ہے جس دن تم قربانی کرو، اور عرفہ کا پورا میدان ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور منیٰ کا پورا میدان قربانی کی جگہ ہے، اور مکہ کی تمام گلیاں قربانی کی جگہ ہیں، اور مزدلفہ کا پورا میدان ٹھہرنے کی جگہ ہے۔“
”تمہاری عید الفطر اس دن ہے جس دن تم روزہ افطار کرو، تمہاری عید الاضحی اس دن ہے جس دن تم قربانی کرو، اور عرفہ کا پورا میدان ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور منیٰ کا پورا میدان قربانی کی جگہ ہے، اور مکہ کی تمام گلیاں قربانی کی جگہ ہیں، اور مزدلفہ کا پورا میدان ٹھہرنے کی جگہ ہے۔“
«فعل المعروف يقي مصارع السوء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نیکی کرنا بری موت سے بچاتا ہے۔“
”نیکی کرنا بری موت سے بچاتا ہے۔“
«فقدت أمة من بني إسرائيل لا يدرى ما فعلت وإني لا أراها إلا الفأر ألا ترونها إذا وضع لها ألبان الإبل لم تشرب وإذا وضع لها ألبان الشاء شربت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بنی اسرائیل کی ایک قوم گم ہو گئی، معلوم نہیں اس کا کیا ہوا، اور میرا خیال ہے کہ وہ چوہا ہی ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب اس کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تو وہ نہیں پیتی، اور جب بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی لیتی ہے؟“
”بنی اسرائیل کی ایک قوم گم ہو گئی، معلوم نہیں اس کا کیا ہوا، اور میرا خیال ہے کہ وہ چوہا ہی ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب اس کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تو وہ نہیں پیتی، اور جب بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی لیتی ہے؟“
…