کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف سین سے شروع ہونے والی احادیث
«سيكون في آخر الزمان خسف وقذف ومسخ إذا ظهرت المعازف والقينات واستحلت الخمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آخری زمانے میں زمین میں دھنسایا جانا، پتھروں کی بارش اور صورتوں کا مسخ ہونا واقع ہو گا، جب ساز و آلاتِ موسیقی اور گانے والیاں عام ہو جائیں گی اور شراب کو حلال سمجھ لیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3665
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن سهل بن سعد. الروض النضير ١٠٠٤: طس، طب – أبي سعيد. ت - عمران بن حصين.
«سيكون في آخر الزمان شرطة يغدون في غضب الله ويروحون في سخط الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آخری زمانے میں ایسے پولیس اہلکار (سرکاری کارندے) ہوں گے جو صبح اللہ کے غضب میں نکلیں گے اور شام اللہ کی ناراضی میں لوٹیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3666
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. الصحيحة ١٨٩٣: حم، ابن الأعرابي، ك.
«سيكون في آخر الزمان ناس من أمتي يحدثونكم بما لم تسمعوا به أنتم ولا آباؤكم فإياكم وإياهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آخری زمانے میں میری امت میں سے ایسے لوگ ہوں گے جو تمہیں ایسی باتیں سنائیں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء نے، پس ان سے بچ کر رہنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3667
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.
«سيكون في أمتي اختلاف وفرقة قوم يحسنون القيل ويسيئون الفعل يقرءون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية لا يرجعون حتى يرتد على فوقه هم شرار الخلق والخليقة طوبى لمن قتلهم وقتلوه يدعون إلى كتاب الله وليسوا منه في شيء من قاتلهم كان أولى بالله منهم سيماهم التحليق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں اختلاف اور تفرقہ پیدا ہو گا، ایسے لوگ ہوں گے جو خوب صورت بات کریں گے لیکن عمل برا کریں گے، وہ قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ (دین میں) واپس نہیں آئیں گے یہاں تک کہ تیر اپنے پر کی طرف واپس لوٹ آئے، وہ مخلوق میں سب سے بدترین ہوں گے، خوشخبری ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے اور جسے وہ قتل کریں، وہ اللہ کی کتاب کی طرف بلائیں گے لیکن ان کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو گا، جو ان سے لڑے وہ ان سے زیادہ اللہ کے قریب ہو گا، ان کی علامت سر منڈوانا ہو گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3668
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن أبي سعيد وأنس معا [حم د هـ ك] عن أوس وحده. المشكاة ٣٥٤٣.
«سيكون في أمتي أقوام يكذبون بالقدر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3669
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك] عن ابن عمر. المشكاة ١٠٦.
«سيكون قوم يأكلون بألسنتهم كما تأكل البقر من الأرض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عنقریب ایسے لوگ ہوں گے جو اپنی زبانوں سے (چاپلوسی کر کے) کھائیں گے جیسے گائے زمین سے چرتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3670
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن سعد. الصحيحة ٤١٩.
«سيكون قوم يعتدون في الدعاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عنقریب ایسے لوگ ہوں گے جو دعا میں حد سے تجاوز کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3671
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د] عن سعد. صحيح أبي داود ١٣٣.
«سيلي أموركم من بعدي رجال يعرفونكم ما تنكرون وينكرون عليكم ما تعرفون فمن أدرك ذلك منكم فلا طاعة لمن عصى الله عز وجل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے بعد تمہارے معاملات ایسے لوگ سنبھالیں گے جو تمہیں وہ چیزیں اچھی کر کے دکھائیں گے جنہیں تم برا سمجھتے ہو، اور وہ چیزیں بری کر کے دکھائیں گے جنہیں تم اچھا سمجھتے ہو، پس تم میں سے جو یہ زمانہ پائے تو جو اللہ عزوجل کی نافرمانی کرے اس کی کوئی اطاعت نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3672
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب ك] عن عبادة بن الصامت. الصحيحة ٥٩٢.
«سيوقد المسلمون من قسي يأجوج ومأجوج ونشابهم وأترستهم سبع سنين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسلمان یاجوج و ماجوج کی کمانوں، تیروں اور ڈھالوں سے سات سال تک آگ جلائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3673
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن النواس. الصحيحة ١٩٤٠: م، ت.
«سيد الاستغفار أن تقول: اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء لك بنعمتك علي وأبوء لك بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت من قالها من النهار موقنا بها فمات من يومه قبل أن يمسي فهو من أهل الجنة ومن قالها من الليل وهو موقن بها فمات قبل أن يصبح فهو من أهل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے افضل استغفار یہ ہے کہ تم کہو: اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں، اور میں حسبِ استطاعت تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں اپنے کیے کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری اس نعمت کا اعتراف کرتا ہوں جو تو نے مجھ پر کی، اور میں اپنے گناہ کا بھی اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا۔ جو شخص اسے دن میں پورے یقین کے ساتھ کہے اور اسی دن شام سے پہلے مر جائے تو وہ جنتی ہے، اور جو اسے رات میں پورے یقین کے ساتھ کہے اور صبح سے پہلے مر جائے تو وہ جنتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3674
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن] عن شداد بن أوس. الصحيحة ١٧٤٧: ك.
«سيد الشهداء حمزة بن عبد المطلب ورجل قام إلى إمام جائر فأمره ونهاه فقتله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شہداء کے سردار حمزہ بن عبد المطلب ہیں، اور وہ آدمی جو کسی ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہو کر اسے نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، پس وہ (حکمران) اسے قتل کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3675
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك الضياء] عن جابر. الصحيحة ٣٧٤.
«سيد الشهداء عند الله يوم القيامة حمزة بن عبد المطلب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن اللہ کے ہاں شہداء کے سردار حمزہ بن عبد المطلب ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3676
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك] عن جابر [طب] عن علي. الصحيحة ٣٧٤.
«سيد ريحان أهل الجنة الحناء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت والوں کی خوشبودار بوٹیوں میں سب سے افضل مہندی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3677
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب خط] عن ابن عمرو. الصحيحة ١٤٢٠: أبو الشيخ:
«سيدات نساء أهل الجنة أربع: مريم وفاطمة وخديجة وآسية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت والی عورتوں کی سردار چار ہیں: مریم، فاطمہ، خدیجہ اور آسیہ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3678
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن عائشة. الصحيحة ١٤٢٤. فصل في المحلى بـ [ال] من هذا الحرف.
«السائمة جبار والجب جبار والمعدن جبار وفي الركاز الخمس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چرنے والا جانور (جو نقصان پہنچائے اس کا تاوان) معاف ہے، کنواں (میں گر کر نقصان ہو تو وہ) معاف ہے، کان (میں حادثہ ہو تو وہ) معاف ہے، اور دفینے میں پانچواں حصہ (زکاۃ کے طور پر) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3679
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن جابر. رسالة الركاز ص٧.
«الساعي على الأرملة والمسكين كالمجاهد في سبيل الله أو القائم الليل الصائم النهار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیوہ اور مسکین کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یا رات کو قیام کرنے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3680
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن هـ] عن أبي هريرة. المشكاة ٤٩٥١ نحوه، مختصر مسلم ١٧٦٧.
«السبع المثاني فاتحة الكتاب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سبع مثانی سورۃ فاتحہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3681
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي. صحيح أبي داود ١٣١٠: حم، د، ت، الطحاوي – أبي هريرة.
«السجدة التي في {ص} سجدها داود توبة ونحن نسجدها شكرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سورۃ ص کا سجدہ داؤد علیہ السلام نے توبہ کے طور پر کیا تھا اور ہم اسے شکرانے کے طور پر کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3682
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب خط] عن ابن عباس. المشكاة ١٠٣٨: ن، قط.
«السحور أكله بركة فلا تدعوه ولو أن يجرع أحدكم جرعة من ماء فإن الله وملائكته يصلون على المتسحرين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سحری کھانا برکت ہے، اسے مت چھوڑو، چاہے تم میں سے کوئی صرف پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لے، کیونکہ اللہ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن أبي سعيد. صحيح الترغيب ١٠٦٢.
«السراويل لمن لا يجد الإزار والخف لمن لا يجد النعلين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جسے تہبند نہ ملے وہ پاجامہ پہن لے، اور جسے جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3684
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ابن عباس. مختصر مسلم ٦٧٩.
«السعيد من سعد في بطن أمه والشقي من شقي في بطن أمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خوش بخت وہ ہے جس کی خوش بختی ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی گئی ہو، اور بدبخت وہ ہے جس کی بدبختی ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی گئی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3685
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طص] عن أبي هريرة. الروض النضير ١٠٩٨، السنة ١٨٨: البزار، الرافقي، اللالكائي.
«السفر قطعة من العذاب يمنع أحدكم طعامه وشرابه ونومه فإذا قضى أحدكم نهمته من وجهه فليعجل الرجوع إلى أهله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، یہ تم میں سے کسی کے کھانے، پینے اور سونے میں رکاوٹ بنتا ہے، پس جب تم میں سے کوئی اپنی ضرورت پوری کر لے تو اسے چاہیے کہ جلد اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ آئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3686
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق هـ] عن أبي هريرة. الروض النضير ٧٧٤، مختصرمسلم ١١١٧.
«السفل أرفق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نچلا حصہ زیادہ آسان (سہولت والا) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3687
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي أيوب.؟.
«السكينة عباد الله السكينة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اطمینان سے چلو، اے اللہ کے بندو! اطمینان سے چلو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3688
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [أبو عوانة] عن جابر. حم ٣/١٣٥٥.
«السكينة في أهل الشاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سکون و اطمینان بکریوں والوں میں پایا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3689
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن أبي هريرة. فيض القدير.
«السلف في حبل الحبلة ربا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اونٹنی کے پیٹ کے بچے کی پیدائش (کی مدت) تک ادھار (کا سودا کرنا) سود ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3690
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن ابن عباس. أحاديث الموسوعة: الضياء.
«السل شهادة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تپ دق (سل کی بیماری میں مرنا) شہادت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3691
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [أبو الشيخ] عن عبادة بن الصامت. أحكام الجنائز ص ٤٠: طس – سلمان. حم – راشد بن حبيش.
«السمت الحسن والتؤدة والاقتصاد جزء من أربعة وعشرين جزءا من النبوة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اچھی وضع قطع، سنجیدگی اور میانہ روی نبوت کے چوبیس اجزاء میں سے ایک جزء ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3692
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن عبد الله بن سرجس. الروض النضير ٣٨٤، الترغيب ٣/٦.
"السمع والطاعة حق على المرء المسلم فيما أحب أو كره ما لم يؤمر بمعصية فإذا أمر بمعصية فلا سمع عليه ولا طاعة "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سننا اور اطاعت کرنا مسلمان آدمی پر واجب ہے، خواہ وہ اسے پسند ہو یا ناپسند، جب تک اسے نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، پس اگر اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ اطاعت کرنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3693
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق عق] عن ابن عمر.
«السنور من أهل البيت وإنه من الطوافين أو الطوافات عليكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلی اہلِ خانہ میں سے ہے، اور وہ تمہارے ارد گرد پھرنے والے (پاک) جانوروں میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3694
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي قتادة. صحيح أبي داود ٦٧.
«السواك مطهرة للفم مرضاة للرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسواک منہ کے لیے پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3695
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي بكر [الشافعي حم ن حب ك هق] عن عائشة [هـ] عن أبي أمامة. المشكاة ٣٨١، الإرواء ٦٦: عد – أبي بكر. الدارمي، ابن خزيمة – عائشة. تخ، طس – ابن عباس.
«السواك يطيب الفم ويرضي الرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسواک منہ کو خوشبودار بناتی ہے اور رب کو راضی کرتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3696
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الإرواء ٦٦: تخ.
«السلام اسم من أسماء الله وضعه الله في الأرض فأفشوه بينكم فإن الرجل المسلم إذا مر بقوم فسلم عليهم فردوا عليه كان له عليهم فضل درجة بتذكيره إياهم السلام فإن لم يردوا عليه رد عليه من هو خير منهم وأطيب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اللہ نے زمین میں رکھا ہے، پس اسے آپس میں پھیلاؤ، کیونکہ جب مسلمان آدمی کسی قوم کے پاس سے گزرے اور انہیں سلام کرے، اور وہ اس کا جواب دیں، تو اسے سلام یاد دلانے کی وجہ سے ان پر فضیلت حاصل ہو جاتی ہے، اور اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو اس سے بہتر اور پاکیزہ (فرشتہ) اس کا جواب دے دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3697
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار هب] عن ابن مسعود. الصحيحة ١٨٩٤: طب.
" السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون وددت أنا قد رأينا إخواننا قالوا: أولسنا إخوانك؟ قال: بل أنتم أصحابي وإخواننا الذين لم يأتوا بعد قالوا: كيف تعرف من لم يأت بعد من أمتك؟ قال: أرأيت لو أن رجلا له خيل غر محجلة بين ظهري خيل دهم بهم ألا يعرف خيله قالوا: بلى قال: فإنهم يأتون يوم القيامة غرا محجلين من الوضوء وأنا فرطهم على الحوض ألا ليذادن رجال عن حوضي كما يذاد البعير الضال أناديهم: ألا هلم ألا هلم فيقال: إنهم قد بدلوا بعدك فأقول: سحقا فسحقا فسحقا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”السلام علیکم اے مومنوں کے گھر والو! اور ہم انشاء اللہ تم سے آ ملنے والے ہیں، میری خواہش ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ چکے ہوتے۔ صحابہ نے پوچھا: کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم میرے ساتھی ہو، اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ صحابہ نے پوچھا: آپ اپنی امت میں سے ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جو ابھی نہیں آئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی آدمی کے سفید پیشانی اور سفید ٹانگوں والے گھوڑے کالے گھوڑوں کے ریوڑ میں ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: تو وہ (میری امت) قیامت کے دن وضو کے اثر سے چمکتے چہروں، ہاتھوں اور پیروں کے ساتھ آئیں گے، اور میں حوض پر ان سے پہلے پہنچا ہوں گا۔ خبردار! کچھ لوگوں کو میرے حوض سے اس طرح دور بھگایا جائے گا جیسے بھٹکے ہوئے اونٹ کو بھگایا جاتا ہے، میں انہیں پکاروں گا: ادھر آؤ! ادھر آؤ! تو کہا جائے گا: انہوں نے آپ کے بعد (دین کو) بدل ڈالا تھا۔ تو میں کہوں گا: دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ!“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3698
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك الشافعي حم م ن هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٢٩، الإرواء ٧٧٦.
«السلام قبل السؤال فمن بدأكم بالسؤال قبل السلام فلا تجيبوه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سلام کرنا بات کرنے سے پہلے ہے، پس جو تم سے سلام کرنے سے پہلے بات چیت شروع کر دے تو اسے جواب نہ دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3699
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن النجار] عن ابن عمر. الصحيحة ٨١٦: عد، ابن السني، حل.
«السيد الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سید (حقیقی آقا) تو اللہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن عبد الله بن الشخير. إصلاح المساجد ١٠٣: ابن السني، الضياء.