حدیث نمبر: 3698
" السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون وددت أنا قد رأينا إخواننا قالوا: أولسنا إخوانك؟ قال: بل أنتم أصحابي وإخواننا الذين لم يأتوا بعد قالوا: كيف تعرف من لم يأت بعد من أمتك؟ قال: أرأيت لو أن رجلا له خيل غر محجلة بين ظهري خيل دهم بهم ألا يعرف خيله قالوا: بلى قال: فإنهم يأتون يوم القيامة غرا محجلين من الوضوء وأنا فرطهم على الحوض ألا ليذادن رجال عن حوضي كما يذاد البعير الضال أناديهم: ألا هلم ألا هلم فيقال: إنهم قد بدلوا بعدك فأقول: سحقا فسحقا فسحقا"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”السلام علیکم اے مومنوں کے گھر والو! اور ہم انشاء اللہ تم سے آ ملنے والے ہیں، میری خواہش ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ چکے ہوتے۔ صحابہ نے پوچھا: کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم میرے ساتھی ہو، اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ صحابہ نے پوچھا: آپ اپنی امت میں سے ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جو ابھی نہیں آئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی آدمی کے سفید پیشانی اور سفید ٹانگوں والے گھوڑے کالے گھوڑوں کے ریوڑ میں ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: تو وہ (میری امت) قیامت کے دن وضو کے اثر سے چمکتے چہروں، ہاتھوں اور پیروں کے ساتھ آئیں گے، اور میں حوض پر ان سے پہلے پہنچا ہوں گا۔ خبردار! کچھ لوگوں کو میرے حوض سے اس طرح دور بھگایا جائے گا جیسے بھٹکے ہوئے اونٹ کو بھگایا جاتا ہے، میں انہیں پکاروں گا: ادھر آؤ! ادھر آؤ! تو کہا جائے گا: انہوں نے آپ کے بعد (دین کو) بدل ڈالا تھا۔ تو میں کہوں گا: دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ!“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3698
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك الشافعي حم م ن هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٢٩، الإرواء ٧٧٦.