حدیث نمبر: 3668
«سيكون في أمتي اختلاف وفرقة قوم يحسنون القيل ويسيئون الفعل يقرءون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية لا يرجعون حتى يرتد على فوقه هم شرار الخلق والخليقة طوبى لمن قتلهم وقتلوه يدعون إلى كتاب الله وليسوا منه في شيء من قاتلهم كان أولى بالله منهم سيماهم التحليق»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں اختلاف اور تفرقہ پیدا ہو گا، ایسے لوگ ہوں گے جو خوب صورت بات کریں گے لیکن عمل برا کریں گے، وہ قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ (دین میں) واپس نہیں آئیں گے یہاں تک کہ تیر اپنے پر کی طرف واپس لوٹ آئے، وہ مخلوق میں سب سے بدترین ہوں گے، خوشخبری ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے اور جسے وہ قتل کریں، وہ اللہ کی کتاب کی طرف بلائیں گے لیکن ان کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو گا، جو ان سے لڑے وہ ان سے زیادہ اللہ کے قریب ہو گا، ان کی علامت سر منڈوانا ہو گی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3668
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن أبي سعيد وأنس معا [حم د هـ ك] عن أوس وحده. المشكاة ٣٥٤٣.