کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف سین سے شروع ہونے والی احادیث
«ستكون معادن يحضرها شرار الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عنقریب ایسی کانیں ہوں گی جن پر بدترین لوگ جمع ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3625
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن رجل من بني سليم. الصحيحة ١٨٨٥: ع - أبي هريرة، طس، طص خط – ابن عمر.
«سجدتا السهو في الصلاة تجزئان من كل زيادة ونقصان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نماز میں سجدہ سہو کے دو سجدے ہر قسم کی کمی بیشی (کی تلافی) کے لیے کافی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3626
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ع عد هق] عن عائشة. الصحيحة ١٨٨٤.
«سددوا وقاربوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میانہ روی اختیار کرو اور (کمال کے) قریب رہنے کی کوشش کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3627
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عمرو. الإرواء ٤١٢، الصحيحة ١١٥.
«سددوا وقاربوا وأبشروا واعلموا أنه لن يدخل أحدكم الجنة عمله ولا أنا إلا أن يتغمدني الله بمغفرة ورحمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میانہ روی اختیار کرو اور (کمال کے) قریب رہنے کی کوشش کرو، اور خوش ہو جاؤ، اور جان لو کہ تم میں سے کسی کو بھی اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا، اور نہ مجھے، سوائے اس کے کہ اللہ اپنی مغفرت اور رحمت سے مجھے ڈھانپ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3628
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن عائشة. مختصر مسلم ١٩٢٧.
«سعادة لابن آدم ثلاث وشقاوة لابن آدم ثلاث فمن سعادة ابن آدم: الزوجة الصالحة والمركب الصالح والمسكن الواسع وقوة لابن آدم ثلاث: المسكن السوء والمرأة السوء والمركب السوء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن آدم کی خوش بختی تین چیزوں میں ہے اور اس کی بدبختی بھی تین چیزوں میں ہے: ابن آدم کی خوش بختی میں سے ہے: نیک بیوی، اچھی سواری اور کشادہ گھر۔ اور ابن آدم کی بدبختی تین چیزوں میں ہے: برا گھر، بری بیوی اور بری سواری۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3629
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [الطيالسي] عن سعد. الصحيحة ١٨٠٣.
«سكاتها إقرارها» - يعني البكر -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس (کنواری لڑکی) کی خاموشی اس کا اقرار ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3630
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن عائشة. قلت١.
«سل الله العفو والعافية في الدنيا والآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت مانگو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3631
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [تخ ك] عن عبد الله بن جعفر. المشكاة ٢٤٩٠، الصحيحة ١٥٢٣.
«سلوا الله العفو والعافية فإن أحدا لم يعط بعد اليقين خيرا من العافية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ سے معافی اور عافیت مانگو، کیونکہ یقین (ایمان) کے بعد کسی کو عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3632
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن أبي بكر. المشكاة ٢٤٨٩، الإرواء ٩١٧.
«سلوا الله أن يستر عوراتكم ويؤمن روعاتكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہاری خامیوں کو چھپائے اور تمہارے خوف کو امن میں بدل دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3633
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [الخرائطي في مكارم الأخلاق] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٨٩٠: طب – أنس.
«سلوا الله ببطون أكفكم ولا تسألوه بظهورها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ سے (دعا مانگتے وقت) اپنی ہتھیلیوں کے اندرونی رخ سے مانگو، ان کی پشت سے مت مانگو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3634
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي بكرة. الصحيحة ٥٩٥: أبو نعيم –أبي بكرة. ابن أبي شيبة - ابن محيريز.
«سلوا الله علما نافعا وتعوذوا بالله من علم لا ينفع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ سے نفع بخش علم مانگو اور نفع نہ دینے والے علم سے اللہ کی پناہ مانگو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3635
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ حب] عن جابر. الصحيحة ١٥١١.
«سلوا الله لي الوسيلة أعلى درجة في الجنة لا ينالها إلا رجل واحد وأرجو أن أكون أنا هو»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ سے میرے لیے وسیلہ مانگو، جو جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے، جسے صرف ایک آدمی حاصل کرے گا، اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3636
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. المشكاة ٥٧٦٧.
«سلوا الله لي الوسيلة فإنه لا يسألها لي عبد في الدنيا إلا كنت له شهيدا أو شفيعا يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ سے میرے لیے وسیلہ مانگو، کیونکہ دنیا میں جو بھی بندہ میرے لیے یہ دعا مانگے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی بنوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3637
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ش طس] عن ابن عباس. صحيح الترغيب ٢٥٢، فضل الصلاة ٤٨.
" سمعتم بمدينة جانب منها في البر وجانب في البحر؟ لا تقوم الساعة حتى يغزوها سبعون ألفا من بني إسحاق فإذا جاءوها نزلوا فلم يقاتلوا بسلاح ولم يرموا بسهم قالوا: لا إله إلا الله والله أكبر فيسقط أحد جانبيها الذي في البحر ثم يقول الثانية: لا إله إلا الله والله أكبر فيسقط جانبها الآخر ثم يقول الثالثة: لا إله إلا الله والله أكبر فيفرج لهم فيدخلونها فيغنمون فبينما هم يقتسمون المغانم إذ جاءهم الصريخ فقال: إن الدجال قد خرج فيتركون كل شيء ويرجعون"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم نے ایک ایسے شہر کے بارے میں سنا ہے جس کا ایک حصہ خشکی پر اور ایک حصہ سمندر میں ہے؟ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک بنی اسحاق میں سے ستر ہزار لوگ اس پر حملہ نہ کر دیں، جب وہ وہاں پہنچیں گے تو پڑاؤ ڈالیں گے، نہ کسی ہتھیار سے لڑیں گے اور نہ کوئی تیر چلائیں گے، بلکہ کہیں گے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے)، تو اس کا ایک حصہ، جو سمندر میں ہے، گر جائے گا، پھر دوسری بار کہیں گے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ»، تو اس کا دوسرا حصہ بھی گر جائے گا، پھر تیسری بار کہیں گے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ»، تو ان کے لیے راستہ کھل جائے گا اور وہ اس میں داخل ہو کر مالِ غنیمت حاصل کریں گے، پھر جب وہ غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے تو اچانک ایک پکارنے والا آ کر کہے گا: دجال نکل آیا ہے! تو وہ سب کچھ چھوڑ کر واپس لوٹ جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3638
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢٠١٤.
«سم ابنك عبد الرحمن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے بیٹے کا نام عبد الرحمن رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3639
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جابر. مختصر مسلم ١٣٩٩.
«سموا الله عليه وكلوه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس پر اللہ کا نام لو اور اسے کھا لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3640
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ هـ] عن عائشة.
«سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت (ابو القاسم) اختیار نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3641
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. شاهده الذي بعده.
«سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي فإني إنما بعثت قاسما أقسم بينكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت اختیار نہ کرو، کیونکہ مجھے تو صرف تقسیم کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو تمہارے درمیان (چیزیں) تقسیم کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3642
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن جابر.
«سورة تبارك هي المانعة من عذاب القبر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سورۃ تبارک (الملک) عذاب قبر سے بچانے والی سورت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3643
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن مردويه] عن ابن مسعود. الصحيحة ١١٤٠: أبو الشيخ، ك، حل.
«سورة من القرآن ما هي إلا ثلاثون آية خاصمت عن صاحبها حتى أدخلته الجنة وهي تبارك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن کی ایک سورت جو صرف تیس آیات پر مشتمل ہے، اس نے اپنے پڑھنے والے کی طرف سے (اللہ سے) جھگڑا کیا یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل کرا دیا، اور وہ سورۃ تبارک ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3644
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طس الضياء] عن أنس. الروض النضير ٦٤، صحيح أبي داود ١٢٦٥: الضياء في المختارة.
[سووا القبور على وجه الأرض إذا دفنتم الموتى]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم مردوں کو دفن کرو تو قبروں کو زمین کے برابر (ہموار) رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3645
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن فضالة بن عبيد. أحكام الجنائز ص ٢٠٨: حم، م، د، ن، ابن أبي شيبة، هق.
«سووا صفوفكم أو ليخالفن الله بين وجوهكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی صفیں سیدھی کرو، ورنہ اللہ تمہارے چہروں (دلوں) میں اختلاف ڈال دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3646
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن النعمان بن بشير. صحيح أبي داود ٦٦٩: الطيالسي، حم، ق، ٤أبو عوانة، هق١.
«سووا صفوفكم فإن تسوية الصفوف من إقامة الصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی صفیں سیدھی کرو، کیونکہ صفوں کو سیدھا کرنا نماز کے قیام کا حصہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3647
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د هـ] عن أنس. صحيح أبي داود ٦٧٤: الطيالسي، الدارمي، عم، أبو عوانة.
«سووا صفوفكم لا تختلف قلوبكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی صفیں سیدھی کرو، تاکہ تمہارے دلوں میں اختلاف نہ آئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3648
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الدارمي] عن البراء. صحيح أبي داود ٦٧٠: الطيالسي، حم، د، ن، ابن خزيمة، حب، ك، هق.
«سلامة الرجل في الفتنة أن يلزم بيته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فتنے کے دور میں آدمی کی سلامتی اسی میں ہے کہ وہ اپنے گھر میں ٹھہرا رہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3649
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [فر، أبو الحسن بن المفضل المقدسي في الأربعين المسلسلة] عن أبي موسى. فيض القدير.
«سيأتي على الناس سنوات خداعات يصدق فيها الكاذب ويكذب فيها الصادق ويؤتمن فيها الخائن ويخون فيها الأمين وينطق فيها الرويبضة قيل: وما الرويبضة؟ قال: الرجل التافه يتكلم في أمر العامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں پر ایسے دھوکے بھرے سال آئیں گے جن میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خیانت کرنے والے کو امانت دار سمجھا جائے گا اور امانت دار کو خائن، اور ان میں رویبضہ بولے گا۔ پوچھا گیا: رویبضہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ حقیر و بے وقعت آدمی جو عوام کے معاملات میں بولے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3650
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٨٨٨: الخرائطي. حم – أنس.
«سيأتيكم أقوام يطلبون العلم فإذا رأيتموهم فقولوا لهم: مرحبا بوصية رسول الله وأفتوهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے پاس ایسے لوگ آئیں گے جو علم حاصل کرنے کے خواہاں ہوں گے، جب تم انہیں دیکھو تو ان سے کہو: رسول اللہ ﷺ کی وصیت کے مطابق خوش آمدید، اور انہیں (دین کی) رہنمائی دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3651
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن أبي سعيد. الصحيحة ٢٨٠.
«سيحان وجيحان والفرات والنيل كل من أنهار الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سیحان، جیحان، فرات اور نیل، یہ سب جنت کی نہروں میں سے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3652
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٩٦٨، الصحيحة ١١٠: حم، خط.
«سيخرج أقوام من أمتي يشربون القرآن كشربهم اللبن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے نکلیں گے جو قرآن کو اس طرح پی جائیں گے (پڑھیں گے) جیسے وہ دودھ پیتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3653
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن عقبة بن عامر. الصحيحة ١٨٨٧: الفريابي، الروياني.
"سيخرج في آخر الزمان قوم أحداث الأسنان سفهاء الأحلام يقولون من خير قول البرية يقرءون القرآن لا يجاوز حناجرهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية فإذا لقيتموهم فاقتلوهم فإن في قتلهم أجرا لمن قتلهم عند الله يوم القيامة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آخری زمانے میں ایسے لوگ نکلیں گے جو عمر میں کم اور عقل میں کم ہوں گے، وہ مخلوق کی بہترین بات کہیں گے، وہ قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، پس جب تم انہیں پاؤ تو انہیں قتل کر دو، کیونکہ ان کے قتل کرنے میں قتل کرنے والے کے لیے قیامت کے دن اللہ کے ہاں اجر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3654
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن علي. الإرواء ٢٤٧٠.
«سيروا هذا جمدان سبق المفردون الذاكرون الله كثيرا والذاكرات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چلتے رہو، یہ جمدان (پہاڑ) ہے، آگے نکل گئے وہ منفرد لوگ جو کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3655
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي هريرة. المشكاة ٢٢٦٢، مختصر مسلم ١٨٩١.
«سيشدد هذا الدين برجال ليس لهم عند الله خلاق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس دین کو ایسے لوگ بھی تقویت پہنچائیں گے جن کا اللہ کے ہاں کوئی حصہ نہ ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3656
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [المحاملي في أماليه] عن أنس. الصحيحة ١٦٤٩: حل، الضياء.
«سيصدقون ويجاهدون إذا أسلموا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب وہ مسلمان ہو جائیں گے تو صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3657
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن جابر١. الصحيحة ١٨٨٩: حم.
«سيصيب أمتي داء الأمم: الأشر والبطر والتكاثر والتشاحن في الدنيا والتباغض والتحاسد حتى يكون البغي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کو اسی بیماری میں مبتلا ہونا پڑے گا جو (پہلی) امتوں کو لاحق ہوئی: اِترانا، بدمستی، دنیا میں کثرتِ مال کی دوڑ، آپس میں چپقلش، بغض اور حسد، یہاں تک کہ بغاوت و زیادتی پیدا ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3658
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٦٨٠.
«سيصير الأمر إلى أن تكونوا جنودا مجندة جند بالشام وجند باليمن وجند بالعراق عليك بالشام فإنها خيرة الله من أرضه يجتبي إليها خيرته من عباده فإن أبيتم فعليكم يمنكم واسقوا من غدركم فإن الله قد توكل لي بالشام وأهله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”معاملہ اس مقام تک پہنچے گا کہ تم منظم لشکر بن جاؤ گے: ایک لشکر شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں، تم شام کو لازم پکڑنا کیونکہ وہ اللہ کی چنی ہوئی سرزمین ہے، جس کی طرف وہ اپنے چنیدہ بندوں کو کھینچ لاتا ہے، اور اگر تم اس سے انکار کرو تو اپنے یمن کو لازم پکڑ لینا اور اپنے تالابوں سے پانی پلاتے رہنا، کیونکہ اللہ نے میرے لیے شام اور اس کے باشندوں کی ذمہ داری خود لے رکھی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3659
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن عبد الله بن حوالة. فضائل الشام رقم ٢: الطحاوي: ك، الربعي.
«سيقرأ القرآن رجال لا يجاوز حناجرهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3660
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع] عن أنس. الصحيحة ١٨٩٥: حم، ق - علي وأبي سعيد الخدري، م - أبي ذر، ورافع بن عمرو١، حم - أنس، ع – ابن عباس.
«سيكون أمراء تعرفون وتنكرون فمن نابذهم نجا ومن اعتزلهم سلم ومن خالطهم هلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عنقریب ایسے حکمران ہوں گے کہ تم (ان کے کچھ کاموں کو) اچھا اور (کچھ کو) برا جانو گے، پس جس نے ان سے کھلی مخالفت کی وہ نجات پا گیا، جس نے ان سے کنارہ کشی کی وہ محفوظ رہا، اور جو ان کے ساتھ گھل مل گیا وہ ہلاک ہو گیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3661
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ش طب] عن ابن عباس. مسلم ٦/٢٣ - أم سلمة.
«سيكون بعدي من أمتي قوم يقرءون القرآن لا يجاوز حلاقيمهم يخرجون من الدين كما يخرج السهم من الرمية ثم لا يعودون فيه هم شر الخلق والخليقة سيماهم التحليق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے بعد میری امت میں سے ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، پھر وہ اس میں واپس نہیں آئیں گے، وہ مخلوق میں سب سے بدترین ہوں گے، ان کی علامت سر منڈوانا ہو گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3662
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ] عن أبي ذر ورافع بن عمرو الغفاري.
«سيكون رجال من أمتي يأكلون ألوان الطعام ويشربون ألوان الشراب ويلبسون ألوان الثياب ويتشدقون في الكلام فأولئك شرار أمتي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو طرح طرح کے کھانے کھائیں گے، طرح طرح کے مشروب پییں گے، طرح طرح کے کپڑے پہنیں گے اور بات کرنے میں بناوٹ اور تکلف سے کام لیں گے، یہی لوگ میری امت کے بدترین لوگ ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3663
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب حل] عن أبي أمامة. الصحيحة ١٨٩١: تمام. ابن المبارك – عروة بن رويم مرسلا.
«سيكون عليكم أمراء يؤخرون الصلاة عن مواقيتها ويحدثون البدع قال ابن مسعود: فكيف أصنع؟ قال: تسألني يا ابن أم عبد كيف تصنع؟ لا طاعة لمن عصى الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو نماز کو اس کے اوقات سے مؤخر کریں گے اور بدعتیں ایجاد کریں گے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو میں کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابن ام عبد! تم مجھ سے پوچھتے ہو کہ کیا کرو؟ جو اللہ کی نافرمانی کرے اس کی کوئی اطاعت نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف السين / حدیث: 3664
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ هق] عن ابن مسعود. الصحيحة ٥٩٠: حم، طب.