«إذا جلس بين شعبها الأربع ومس الختان الختان فقد وجب الغسل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص عورت کی چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھ جائے اور ختنہ ختنے سے مس ہو جائے (شرمگاہیں آپس میں مل جائیں) تو یقیناً غسل واجب ہو جاتا ہے۔“
”جب کوئی شخص عورت کی چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھ جائے اور ختنہ ختنے سے مس ہو جائے (شرمگاہیں آپس میں مل جائیں) تو یقیناً غسل واجب ہو جاتا ہے۔“
«إذا جمرتم الميت فأوتروا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میت کو (خوشبو کی) دھونی دو تو طاق عدد میں دو۔“
”جب تم میت کو (خوشبو کی) دھونی دو تو طاق عدد میں دو۔“
«إذا جمع الله الأولين والآخرين ليوم لا ريب فيه نادى مناد: من كان أشرك في عمل عمله لله أحدا فليطلب ثوابه من عنده فإن الله أغنى الشركاء عن الشرك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ اگلوں اور پچھلوں کو اس (قیامت کے) دن جمع فرمائے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو ایک پکارنے والا پکارے گا: جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جو اللہ کے لیے تھا مگر اس میں کسی اور کو بھی شریک ٹھہرایا، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا ثواب بھی اسی (شریک) سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام شراکت داروں کی نسبت شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہے۔“
”جب اللہ تعالیٰ اگلوں اور پچھلوں کو اس (قیامت کے) دن جمع فرمائے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو ایک پکارنے والا پکارے گا: جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جو اللہ کے لیے تھا مگر اس میں کسی اور کو بھی شریک ٹھہرایا، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا ثواب بھی اسی (شریک) سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام شراکت داروں کی نسبت شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہے۔“
«إذا جمع الله الأولين والآخرين يوم القيامة يرفع لكل غادر لواء فقيل: هذه غدرة فلان ابن فلان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو جمع فرمائے گا تو ہر عہد شکن (دھوکہ باز) کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کی غداری اور عہد شکنی کی نشانی ہے۔“
”جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو جمع فرمائے گا تو ہر عہد شکن (دھوکہ باز) کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کی غداری اور عہد شکنی کی نشانی ہے۔“
«إذا حاك في نفسك شيء فدعه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی بات تمہارے دل میں کھٹکے (یعنی شک پیدا کرے) تو اسے چھوڑ دو۔“
”جب کوئی بات تمہارے دل میں کھٹکے (یعنی شک پیدا کرے) تو اسے چھوڑ دو۔“
"إذا حج الصبي فهي له حجة حتى يعقل فإذا عقل عليه حجة أخرى وإذا حج الأعرابي فهي له حجة فإذا هاجر فعليه حجة
أخرى"
أخرى"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی نابالغ بچہ حج کرتا ہے تو یہ اس کے لیے (نفلی) حج شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ باشعور (بالغ) ہو جائے، پس جب وہ بالغ ہو جائے تو اس پر ایک اور (فرض) حج لازم ہے۔ اور جب کوئی دیہاتی حج کرتا ہے تو یہ اس کے لیے حج ہے، پھر جب وہ ہجرت کر لے تو اس پر ایک اور حج لازم ہے۔“
”جب کوئی نابالغ بچہ حج کرتا ہے تو یہ اس کے لیے (نفلی) حج شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ باشعور (بالغ) ہو جائے، پس جب وہ بالغ ہو جائے تو اس پر ایک اور (فرض) حج لازم ہے۔ اور جب کوئی دیہاتی حج کرتا ہے تو یہ اس کے لیے حج ہے، پھر جب وہ ہجرت کر لے تو اس پر ایک اور حج لازم ہے۔“
«إذا حدث الرجل بحديث ثم التفت فهي أمانة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص کوئی بات کہے اور پھر (یہ دیکھنے کے لیے کہ کوئی سن تو نہیں رہا) ادھر ادھر دیکھے، تو وہ بات (سننے والے کے پاس) امانت ہوتی ہے۔“
”جب کوئی شخص کوئی بات کہے اور پھر (یہ دیکھنے کے لیے کہ کوئی سن تو نہیں رہا) ادھر ادھر دیکھے، تو وہ بات (سننے والے کے پاس) امانت ہوتی ہے۔“
«إذا حضر أحدكم الأمر يخشى فواته فليصل هذه الصلاة - يعني الجمع بين الصلاتين -»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو کوئی ایسا اہم کام درپیش ہو جس کے فوت ہو جانے کا اسے اندیشہ ہو، تو وہ اس طرح نماز پڑھ لے، یعنی دو نمازوں کو (ایک ساتھ) جمع کر کے پڑھ لے۔“
”جب تم میں سے کسی کو کوئی ایسا اہم کام درپیش ہو جس کے فوت ہو جانے کا اسے اندیشہ ہو، تو وہ اس طرح نماز پڑھ لے، یعنی دو نمازوں کو (ایک ساتھ) جمع کر کے پڑھ لے۔“
«إذا حضر أحدكم الصلاة في مسجده فليجعل لبيته نصيبا من صلاته فإن الله جاعل في بيته من صلاته خيرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنی (فرض) نماز مسجد میں ادا کر لے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی (نفل و سنت) نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لیے بھی مقرر کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی برکت سے اس کے گھر میں بھلائی پیدا فرمانے والا ہے۔“
”جب تم میں سے کوئی اپنی (فرض) نماز مسجد میں ادا کر لے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی (نفل و سنت) نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لیے بھی مقرر کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی برکت سے اس کے گھر میں بھلائی پیدا فرمانے والا ہے۔“
«إذا حضر العلماء ربهم يوم القيامة كان معاذ بن جبل بين أيديهم بقذفة حجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب قیامت کے دن علماء اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے تو معاذ بن جبل ان (تمام علماء) سے ایک پتھر پھینکنے کی مسافت کے برابر آگے ہوں گے۔“
”جب قیامت کے دن علماء اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے تو معاذ بن جبل ان (تمام علماء) سے ایک پتھر پھینکنے کی مسافت کے برابر آگے ہوں گے۔“
"إذا حضر المؤمن أتته ملائكة الرحمة بحريرة بيضاء فيقولون: اخرجي راضية مرضيا عنك إلى روح وريحان ورب غير غضبان فيخرج كأطيب ريح المسك حتى إنه ليناوله بعضهم بعضا حتى يأتوا به باب السماء فيقولون: ما أطيب هذا الريح التي جاءتكم من الأرض! فيأتون به أرواح المؤمنين فلهم أشد فرحا به من أحدكم بغائبه يقدم عليه فيسألونه: ماذا فعل فلان؟ ماذا فعل فلان؟ فيقولون: دعوه فإنه كان في غم الدنيا فإذا قال: أما أتاكم؟ قالوا: ذهب به إلى أمه الهاوية،
وإن الكافر إذا حضر أتته ملائكة العذاب بمسح فيقولون: اخرجي ساخطة مسخوطا عليك إلى عذاب الله فيخرج كأنتن ريح جيفة حتى يأتوا بها باب الأرض فيقولون: ما أنتن هذه الريح؟ حتى يأتوا بها أرواح الكفار"
وإن الكافر إذا حضر أتته ملائكة العذاب بمسح فيقولون: اخرجي ساخطة مسخوطا عليك إلى عذاب الله فيخرج كأنتن ريح جيفة حتى يأتوا بها باب الأرض فيقولون: ما أنتن هذه الريح؟ حتى يأتوا بها أرواح الكفار"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب مومن کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو رحمت کے فرشتے ایک سفید ریشمی کپڑا لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں: اے روح! نکل آ درآں حالیکہ تو اللہ سے راضی ہے اور اللہ تجھ سے راضی ہے، راحت و خوشبو اور ایسے رب کی طرف جو تجھ پر ہرگز غضبناک نہیں ہے۔ پس وہ روح کستوری کی بہترین خوشبو کی طرح نکلتی ہے یہاں تک کہ فرشتے اسے ایک دوسرے کے ہاتھوں سے لیتے ہیں اور اسے آسمان کے دروازے تک لے آتے ہیں تو وہاں موجود فرشتے کہتے ہیں: یہ کتنی پاکیزہ خوشبو ہے جو زمین سے تمہارے پاس آئی ہے! پھر وہ فرشتے اسے دیگر مومنوں کی روحوں کے پاس لے جاتے ہیں، تو وہ اس کی آمد پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جتنا تم میں سے کوئی شخص اپنے بچھڑے ہوئے عزیز کے واپس لوٹ آنے پر خوش ہوتا ہے۔ پھر وہ (پہلے سے موجود روحیں) اس سے پوچھتی ہیں: فلاں نے کیا کیا؟ فلاں کا کیا حال ہے؟ تو فرشتے کہتے ہیں: ابھی اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ دنیا کے غم اور تکالیف میں مبتلا تھا۔ پھر جب وہ آنے والی روح ان سے کہتی ہے کہ فلاں شخص (جو دنیا سے وفات پا چکا تھا) کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اسے تو اس کے ٹھکانے ’ہاویہ‘ (جہنم) کی طرف پہنچا دیا گیا ہے۔ اور جب کافر کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو عذاب کے فرشتے ایک ٹاٹ (کھردرا کپڑا) لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں: نکل آ اس حال میں کہ تو اللہ سے ناراض ہے اور تجھ پر غضب نازل کیا گیا ہے، اللہ کے عذاب کی طرف۔ پس وہ روح ایک مردار کی بدترین بدبو کی طرح نکلتی ہے یہاں تک کہ فرشتے اسے زمین کے دروازے تک لے آتے ہیں اور پہرے دار کہتے ہیں: یہ کیسی ناگوار بدبو ہے؟ یہاں تک کہ وہ اسے کافروں کی روحوں کے پاس لے جاتے ہیں۔“
”جب مومن کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو رحمت کے فرشتے ایک سفید ریشمی کپڑا لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں: اے روح! نکل آ درآں حالیکہ تو اللہ سے راضی ہے اور اللہ تجھ سے راضی ہے، راحت و خوشبو اور ایسے رب کی طرف جو تجھ پر ہرگز غضبناک نہیں ہے۔ پس وہ روح کستوری کی بہترین خوشبو کی طرح نکلتی ہے یہاں تک کہ فرشتے اسے ایک دوسرے کے ہاتھوں سے لیتے ہیں اور اسے آسمان کے دروازے تک لے آتے ہیں تو وہاں موجود فرشتے کہتے ہیں: یہ کتنی پاکیزہ خوشبو ہے جو زمین سے تمہارے پاس آئی ہے! پھر وہ فرشتے اسے دیگر مومنوں کی روحوں کے پاس لے جاتے ہیں، تو وہ اس کی آمد پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جتنا تم میں سے کوئی شخص اپنے بچھڑے ہوئے عزیز کے واپس لوٹ آنے پر خوش ہوتا ہے۔ پھر وہ (پہلے سے موجود روحیں) اس سے پوچھتی ہیں: فلاں نے کیا کیا؟ فلاں کا کیا حال ہے؟ تو فرشتے کہتے ہیں: ابھی اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ دنیا کے غم اور تکالیف میں مبتلا تھا۔ پھر جب وہ آنے والی روح ان سے کہتی ہے کہ فلاں شخص (جو دنیا سے وفات پا چکا تھا) کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اسے تو اس کے ٹھکانے ’ہاویہ‘ (جہنم) کی طرف پہنچا دیا گیا ہے۔ اور جب کافر کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو عذاب کے فرشتے ایک ٹاٹ (کھردرا کپڑا) لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں: نکل آ اس حال میں کہ تو اللہ سے ناراض ہے اور تجھ پر غضب نازل کیا گیا ہے، اللہ کے عذاب کی طرف۔ پس وہ روح ایک مردار کی بدترین بدبو کی طرح نکلتی ہے یہاں تک کہ فرشتے اسے زمین کے دروازے تک لے آتے ہیں اور پہرے دار کہتے ہیں: یہ کیسی ناگوار بدبو ہے؟ یہاں تک کہ وہ اسے کافروں کی روحوں کے پاس لے جاتے ہیں۔“
«إذا حضرتم الميت فقولوا خيرا فإن الملائكة يؤمنون على ما تقولون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میت کے پاس حاضر ہو تو بھلائی کی بات (دعائے خیر) کہو، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“
”جب تم میت کے پاس حاضر ہو تو بھلائی کی بات (دعائے خیر) کہو، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“
«إذا حضرتم موتاكم فأغمضوا البصر فإن البصر يتبع الروح وقولوا خيرا فإن الملائكة تؤمن على ما يقول أهل البيت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم اپنے مرنے والوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو، کیونکہ آنکھیں (نکلنے والی) روح کا پیچھا کرتی ہیں، اور بھلائی کی بات کہو کیونکہ گھر والے جو کچھ کہتے ہیں فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“
”جب تم اپنے مرنے والوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو، کیونکہ آنکھیں (نکلنے والی) روح کا پیچھا کرتی ہیں، اور بھلائی کی بات کہو کیونکہ گھر والے جو کچھ کہتے ہیں فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“
«إذا حكم الحاكم فاجتهد فأصاب فله أجران وإذا حكم فاجتهد فأخطأ فله أجر واحد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی حاکم (یا قاضی) فیصلہ کرتے وقت اجتہاد کرے اور درست نتیجے پر پہنچے، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے، اور اگر وہ فیصلہ کرتے وقت اجتہاد کرے اور اس سے چوک (غلطی) ہو جائے، تو اس کے لیے (اجتہاد کا) ایک اجر ہے۔“
”جب کوئی حاکم (یا قاضی) فیصلہ کرتے وقت اجتہاد کرے اور درست نتیجے پر پہنچے، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے، اور اگر وہ فیصلہ کرتے وقت اجتہاد کرے اور اس سے چوک (غلطی) ہو جائے، تو اس کے لیے (اجتہاد کا) ایک اجر ہے۔“
«إذا حكمتم فاعدلوا وإذا قتلتم فأحسنوا فإن الله محسن يحب المحسنين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم فیصلہ کرو تو عدل و انصاف سے کام لو، اور جب (قصاص یا ذبیحہ وغیرہ میں) جان لو تو احسن طریقے سے یہ کام انجام دو، بیشک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والا ہے اور احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔“
”جب تم فیصلہ کرو تو عدل و انصاف سے کام لو، اور جب (قصاص یا ذبیحہ وغیرہ میں) جان لو تو احسن طریقے سے یہ کام انجام دو، بیشک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والا ہے اور احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔“
«إذا حلف أحدكم فلا يقل ما شاء الله وشئت ولكن ليقل ما شاء الله ثم شئت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی قسم کھائے (یا کوئی بات وثوق سے کہے) تو یوں نہ کہے کہ جو اللہ نے چاہا اور آپ نے چاہا، بلکہ اسے یوں کہنا چاہیے کہ جو اللہ نے چاہا، پھر جو آپ نے چاہا۔“
”جب تم میں سے کوئی قسم کھائے (یا کوئی بات وثوق سے کہے) تو یوں نہ کہے کہ جو اللہ نے چاہا اور آپ نے چاہا، بلکہ اسے یوں کہنا چاہیے کہ جو اللہ نے چاہا، پھر جو آپ نے چاہا۔“
«إذا حلم أحدكم فلا يحدث الناس بتلعب الشيطان في المنام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی برا خواب دیکھے تو وہ لوگوں کے سامنے نیند میں شیطان کے اس کھیل کا تذکرہ نہ کرے۔“
”جب تم میں سے کوئی برا خواب دیکھے تو وہ لوگوں کے سامنے نیند میں شیطان کے اس کھیل کا تذکرہ نہ کرے۔“
«إذا حم أحدكم فليسن عليه الماء البارد ثلاث ليال من السحر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو بخار ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ تین راتوں تک سحری کے وقت اپنے اوپر ٹھنڈا پانی بہائے۔“
”جب تم میں سے کسی کو بخار ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ تین راتوں تک سحری کے وقت اپنے اوپر ٹھنڈا پانی بہائے۔“
«إذا ختنت فلا تنهكي فإن ذلك أحظى للمرأة وأحب إلى البعل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم (عورتوں کا) ختنہ کرو تو (چمڑے کو) زیادہ نہ کاٹو، کیونکہ یہ (طریقہ) عورت کے لیے زیادہ حظ (لطف) کا باعث ہے اور شوہر کو بھی زیادہ پسند ہے۔“
”جب تم (عورتوں کا) ختنہ کرو تو (چمڑے کو) زیادہ نہ کاٹو، کیونکہ یہ (طریقہ) عورت کے لیے زیادہ حظ (لطف) کا باعث ہے اور شوہر کو بھی زیادہ پسند ہے۔“
«إذا خرج الرجل من بيته فقال: بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله فيقال له: حسبك قد هديت وكفيت ووقيت فيتنحى له الشيطان فيقول له شيطان آخر: كيف لك برجل قد هدي وكفي ووقي؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے: «بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (اللہ کے نام کے ساتھ، میں نے اللہ پر توکل کیا، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکیاں کرنے کی قوت اللہ ہی کی توفیق سے ہے)، تو اس سے کہا جاتا ہے کہ تیرے لیے یہی کافی ہے، تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری کفایت کر دی گئی اور تجھے (ہر شر سے) بچا لیا گیا، پس شیطان اس سے دور ہٹ جاتا ہے اور ایک شیطان دوسرے شیطان سے کہتا ہے کہ تو اس شخص پر کیسے قابو پا سکتا ہے جسے ہدایت مل گئی، جس کی کفایت کر دی گئی اور جسے محفوظ کر دیا گیا ہو؟“
”جب کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے: «بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (اللہ کے نام کے ساتھ، میں نے اللہ پر توکل کیا، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکیاں کرنے کی قوت اللہ ہی کی توفیق سے ہے)، تو اس سے کہا جاتا ہے کہ تیرے لیے یہی کافی ہے، تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری کفایت کر دی گئی اور تجھے (ہر شر سے) بچا لیا گیا، پس شیطان اس سے دور ہٹ جاتا ہے اور ایک شیطان دوسرے شیطان سے کہتا ہے کہ تو اس شخص پر کیسے قابو پا سکتا ہے جسے ہدایت مل گئی، جس کی کفایت کر دی گئی اور جسے محفوظ کر دیا گیا ہو؟“
«إذا خرج ثلاثة في سفر فليؤمروا أحدهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تین آدمی کسی سفر پر نکلیں تو انہیں چاہیے کہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر (قائد) مقرر کر لیں۔“
”جب تین آدمی کسی سفر پر نکلیں تو انہیں چاہیے کہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر (قائد) مقرر کر لیں۔“
«إذا خرجت إحداكن إلى المسجد فلا تقربن طيبا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی عورت مسجد کی طرف نکلے تو وہ ہرگز خوشبو کے قریب نہ جائے (یعنی خوشبو لگا کر نہ نکلے)۔“
”جب تم میں سے کوئی عورت مسجد کی طرف نکلے تو وہ ہرگز خوشبو کے قریب نہ جائے (یعنی خوشبو لگا کر نہ نکلے)۔“
«إذا خرجت اللعنة من في صاحبها نظرت فإن وجدت مسلكا في الذي وجهت إليه وإلا عادت إلى الذي خرجت منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کسی شخص کے منہ سے لعنت نکلتی ہے تو وہ (جس پر لعنت کی گئی ہو، اس کی طرف) دیکھتی ہے، پس اگر اسے اس شخص تک پہنچنے کا راستہ مل جائے (یعنی وہ اس کا حق دار ہو) تو ٹھیک، ورنہ وہ اسی شخص کی طرف لوٹ آتی ہے جس کے منہ سے نکلی تھی۔“
”جب کسی شخص کے منہ سے لعنت نکلتی ہے تو وہ (جس پر لعنت کی گئی ہو، اس کی طرف) دیکھتی ہے، پس اگر اسے اس شخص تک پہنچنے کا راستہ مل جائے (یعنی وہ اس کا حق دار ہو) تو ٹھیک، ورنہ وہ اسی شخص کی طرف لوٹ آتی ہے جس کے منہ سے نکلی تھی۔“
«إذا خرجت المرأة إلى المسجد فلتغتسل من الطيب كما تغتسل من الجنابة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی عورت (خوشبو لگا کر) مسجد کی طرف نکلنے لگے، تو اسے چاہیے کہ وہ اس خوشبو (کے اثر کو زائل کرنے) کے لیے اسی طرح غسل کرے جیسے وہ جنابت (ناپاکی) سے غسل کرتی ہے۔“
”جب کوئی عورت (خوشبو لگا کر) مسجد کی طرف نکلنے لگے، تو اسے چاہیے کہ وہ اس خوشبو (کے اثر کو زائل کرنے) کے لیے اسی طرح غسل کرے جیسے وہ جنابت (ناپاکی) سے غسل کرتی ہے۔“
«إذا خرجت روح العبد المؤمن تلقاها ملكان يصعدان بها - فذكر من ريح طيبها - ويقول أهل السماء: روح طيبة جاءت من قبل الأرض صلى الله عليك وعلى جسد كنت تعمرينه فينطلق به إلى ربه ثم يقول: انطلقوا به إلى آخر الأجل، وإن الكافر إذا خرجت روحه - فذكر من نتنها - ويقول أهل السماء: روح خبيثة جاءت من قبل الأرض فيقال: انطلقوا به إلى آخر الأجل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب مومن بندے کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اس کا استقبال کرتے ہیں اور اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں (راوی نے اس کی پاکیزہ خوشبو کا تذکرہ کیا)، اور آسمان والے فرشتے کہتے ہیں کہ ایک پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے، اللہ کی رحمت ہو تجھ پر اور اس جسم پر جسے تو آباد رکھتی تھی، پھر اسے اس کے رب کی طرف لے جایا جاتا ہے تو حکم ہوتا ہے کہ اسے اس کی آخری قیام گاہ تک لے جاؤ۔ اور جب کافر کی روح نکلتی ہے (راوی نے اس کی بدبو کا تذکرہ کیا) تو آسمان والے کہتے ہیں کہ ایک خبیث (ناپاک) روح زمین کی طرف سے آئی ہے، پس کہا جاتا ہے کہ اسے اس کی آخری قیام گاہ تک لے جاؤ۔“
”جب مومن بندے کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اس کا استقبال کرتے ہیں اور اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں (راوی نے اس کی پاکیزہ خوشبو کا تذکرہ کیا)، اور آسمان والے فرشتے کہتے ہیں کہ ایک پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے، اللہ کی رحمت ہو تجھ پر اور اس جسم پر جسے تو آباد رکھتی تھی، پھر اسے اس کے رب کی طرف لے جایا جاتا ہے تو حکم ہوتا ہے کہ اسے اس کی آخری قیام گاہ تک لے جاؤ۔ اور جب کافر کی روح نکلتی ہے (راوی نے اس کی بدبو کا تذکرہ کیا) تو آسمان والے کہتے ہیں کہ ایک خبیث (ناپاک) روح زمین کی طرف سے آئی ہے، پس کہا جاتا ہے کہ اسے اس کی آخری قیام گاہ تک لے جاؤ۔“
«إذا خرجت من منزلك فصل ركعتين تمنعانك مخرج السوء, وإذا دخلت إلى منزلك فصل ركعتين تمنعانك مدخل السوء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم اپنے گھر سے نکلنے لگو تو دو رکعت نماز پڑھ لیا کرو، یہ تمہیں بری راہ پر نکلنے سے محفوظ رکھیں گی، اور جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو دو رکعت نماز پڑھ لیا کرو، یہ تمہیں برے مقام پر داخل ہونے سے بچائیں گی۔“
”جب تم اپنے گھر سے نکلنے لگو تو دو رکعت نماز پڑھ لیا کرو، یہ تمہیں بری راہ پر نکلنے سے محفوظ رکھیں گی، اور جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو دو رکعت نماز پڑھ لیا کرو، یہ تمہیں برے مقام پر داخل ہونے سے بچائیں گی۔“
«إذا خطب أحدكم المرأة فإن استطاع أن ينظر منها إلى ما يدعوه إلى نكاحها فليفعل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجے، تو اگر اس کے لیے ممکن ہو کہ وہ اس (عورت) کی کوئی ایسی خوبی (یا جھلک) دیکھ لے جو اسے اس سے نکاح کرنے پر آمادہ کرے، تو وہ ایسا ضرور کر لے۔“
”جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجے، تو اگر اس کے لیے ممکن ہو کہ وہ اس (عورت) کی کوئی ایسی خوبی (یا جھلک) دیکھ لے جو اسے اس سے نکاح کرنے پر آمادہ کرے، تو وہ ایسا ضرور کر لے۔“
«إذا خطب أحدكم المرأة فلا جناح عليه أن ينظر إليها إذا كان إنما ينظر إليها لخطبته وإن كانت لا تعلم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو اس پر اسے دیکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے بشرطیکہ وہ اسے محض نکاح کے ارادے ہی سے دیکھ رہا ہو، خواہ اس عورت کو (اس کے دیکھنے کا) علم نہ بھی ہو۔“
”جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو اس پر اسے دیکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے بشرطیکہ وہ اسے محض نکاح کے ارادے ہی سے دیکھ رہا ہو، خواہ اس عورت کو (اس کے دیکھنے کا) علم نہ بھی ہو۔“
«إذا خفضت فأشمي ولا تنهكي فإنه أحسن للوجه وأرضى للزوج»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم (عورتوں کا) ختنہ کرو تو تھوڑا سا کاٹو اور جڑ سے نہ کاٹو (یعنی مبالغہ نہ کرو)، کیونکہ یہ چہرے کی رونق کے لیے زیادہ بہتر ہے اور شوہر کو زیادہ پسند آنے والا ہے۔“
”جب تم (عورتوں کا) ختنہ کرو تو تھوڑا سا کاٹو اور جڑ سے نہ کاٹو (یعنی مبالغہ نہ کرو)، کیونکہ یہ چہرے کی رونق کے لیے زیادہ بہتر ہے اور شوہر کو زیادہ پسند آنے والا ہے۔“
"إذا خفضت فأشمي ولا تنهكي فإنه أسرى
للوجه وأحظى عند الزوج"
للوجه وأحظى عند الزوج"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم (عورتوں کا) ختنہ کرو تو معمولی سا حصہ کاٹو اور جڑ سے ختم نہ کرو، کیونکہ یہ عمل چہرے کی رونق بڑھانے والا اور شوہر کے نزدیک زیادہ کشش (لطف) کا باعث ہے۔“
”جب تم (عورتوں کا) ختنہ کرو تو معمولی سا حصہ کاٹو اور جڑ سے ختم نہ کرو، کیونکہ یہ عمل چہرے کی رونق بڑھانے والا اور شوہر کے نزدیک زیادہ کشش (لطف) کا باعث ہے۔“
«إذا خلص المؤمنون من النار حبسوا بقنطرة بين الجنة والنار فيتقاصون مظالم كانت بينهم في الدنيا حتى إذا نقوا وهذبوا أذن لهم بدخول الجنة فوالذي نفس محمد بيده لأحدهم بمسكنه في الجنة أدل منه بمسكنه كان في الدنيا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب مومن جہنم (کے پل) سے پار ہو جائیں گے تو انہیں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، پس وہ دنیا میں ایک دوسرے پر کی گئی زیادتیوں کا بدلہ (قصاص) لیں گے، یہاں تک کہ جب وہ بالکل پاک صاف کر دیے جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے گی۔ پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! ان میں سے ہر ایک شخص جنت میں اپنے گھر کے راستے کو اس سے بھی زیادہ بہتر جانتا ہو گا جتنا وہ دنیا میں اپنے گھر کا راستہ جانتا تھا۔“
”جب مومن جہنم (کے پل) سے پار ہو جائیں گے تو انہیں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، پس وہ دنیا میں ایک دوسرے پر کی گئی زیادتیوں کا بدلہ (قصاص) لیں گے، یہاں تک کہ جب وہ بالکل پاک صاف کر دیے جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے گی۔ پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! ان میں سے ہر ایک شخص جنت میں اپنے گھر کے راستے کو اس سے بھی زیادہ بہتر جانتا ہو گا جتنا وہ دنیا میں اپنے گھر کا راستہ جانتا تھا۔“
«إذا دبغ الإهاب فقد طهر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب چمڑے کو دباغت دے دی جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔“
”جب چمڑے کو دباغت دے دی جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔“
«إذا دبغ جلد الميتة فحسبه فلينتفع به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب مردار کے چمڑے کو دباغت دے دی جائے تو اس کے لیے یہی کافی ہے، پس اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔“
”جب مردار کے چمڑے کو دباغت دے دی جائے تو اس کے لیے یہی کافی ہے، پس اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔“
«إذا دخل أحدكم المسجد فلا يجلس حتى يصلي ركعتين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک دو رکعتیں (تحیۃ المسجد) نہ پڑھ لے۔“
”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک دو رکعتیں (تحیۃ المسجد) نہ پڑھ لے۔“
«إذا دخل أحدكم المسجد فليسلم على النبي وليقل: اللهم افتح لي أبواب رحمتك وإذا خرج فليسلم على النبي وليقل: اللهم اعصمني من الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ نبی (ﷺ) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے)، اور جب باہر نکلے تو نبی (ﷺ) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ» (اے اللہ! مجھے شیطان سے محفوظ رکھ)۔“
”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ نبی (ﷺ) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے)، اور جب باہر نکلے تو نبی (ﷺ) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ» (اے اللہ! مجھے شیطان سے محفوظ رکھ)۔“
«إذا دخل أحدكم المسجد فليسلم على النبي وليقل: اللهم افتح لي أبواب رحمتك وإذا خرج فليسلم على النبي وليقل: اللهم إني أسألك من فضلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی (ﷺ) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» اور جب باہر نکلے تو نبی (ﷺ) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ»۔“
”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی (ﷺ) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» اور جب باہر نکلے تو نبی (ﷺ) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ»۔“
«إذا دخل أحدكم المسجد فليصل على النبي صلى الله عليه وسلم وليقل: اللهم افتح لي أبواب رحمتك وإذا خرج فليسلم على النبي وليقل: اللهم إني أسألك من فضلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی (ﷺ) پر درود بھیجے اور یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» اور جب باہر نکلے تو نبی (ﷺ) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ»۔“
”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی (ﷺ) پر درود بھیجے اور یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» اور جب باہر نکلے تو نبی (ﷺ) پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ»۔“
«إذا دخل أحدكم إلى القوم فأوسع له فليجلس فإنما هي كرامة من الله أكرمه بها أخوه المسلم فإن لم يوسع له فلينظر أوسعها مكانا فليجلس فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کے پاس جائے اور اس کے لیے جگہ کشادہ کی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ وہاں بیٹھ جائے، کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے ایک عزت ہے جس سے اس کے مسلمان بھائی نے اسے نوازا ہے، اور اگر اس کے لیے جگہ نہ بنائی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ سب سے کشادہ جگہ تلاش کرے اور وہاں بیٹھ جائے۔“
”جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کے پاس جائے اور اس کے لیے جگہ کشادہ کی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ وہاں بیٹھ جائے، کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے ایک عزت ہے جس سے اس کے مسلمان بھائی نے اسے نوازا ہے، اور اگر اس کے لیے جگہ نہ بنائی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ سب سے کشادہ جگہ تلاش کرے اور وہاں بیٹھ جائے۔“
«إذا دخل أحدكم على أخيه المسلم فأطعمه من طعامه فليأكل ولا يسأل عنه وإن سقاه من شرابه فليشرب ولا يسأل عنه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کے ہاں جائے اور وہ اسے اپنے کھانے میں سے کچھ کھلائے تو اسے کھا لینا چاہیے اور اس (کی ماہیت یا حلال ہونے) کے بارے میں سوال نہیں کرنا چاہیے، اور اگر وہ اسے اپنا کوئی مشروب پلائے تو اسے پی لینا چاہیے اور اس کے بارے میں سوال نہیں کرنا چاہیے۔“
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کے ہاں جائے اور وہ اسے اپنے کھانے میں سے کچھ کھلائے تو اسے کھا لینا چاہیے اور اس (کی ماہیت یا حلال ہونے) کے بارے میں سوال نہیں کرنا چاہیے، اور اگر وہ اسے اپنا کوئی مشروب پلائے تو اسے پی لینا چاہیے اور اس کے بارے میں سوال نہیں کرنا چاہیے۔“
«إذا دخل الرجل بيته فذكر اسم الله تعالى حين يدخل وحين يطعم قال الشيطان: لا مبيت لكم ولا عشاء هاهنا وإن دخل فلم يذكر اسم الله عند دخوله قال الشيطان: أدركتم المبيت وإن لم يذكر اسم الله عند مطعمه قال: أدركتم المبيت والعشاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو شیطان (اپنے ساتھیوں سے) کہتا ہے کہ تمہارے لیے یہاں نہ رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ رات کا کھانا۔ اور جب وہ داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی، اور اگر وہ کھانا کھاتے وقت بھی اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے رات گزارنے کی جگہ اور رات کا کھانا دونوں پا لیے۔“
”جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو شیطان (اپنے ساتھیوں سے) کہتا ہے کہ تمہارے لیے یہاں نہ رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ رات کا کھانا۔ اور جب وہ داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی، اور اگر وہ کھانا کھاتے وقت بھی اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے رات گزارنے کی جگہ اور رات کا کھانا دونوں پا لیے۔“
…