حدیث نمبر: 504
«إذا خرجت روح العبد المؤمن تلقاها ملكان يصعدان بها - فذكر من ريح طيبها - ويقول أهل السماء: روح طيبة جاءت من قبل الأرض صلى الله عليك وعلى جسد كنت تعمرينه فينطلق به إلى ربه ثم يقول: انطلقوا به إلى آخر الأجل، وإن الكافر إذا خرجت روحه - فذكر من نتنها - ويقول أهل السماء: روح خبيثة جاءت من قبل الأرض فيقال: انطلقوا به إلى آخر الأجل»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب مومن بندے کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اس کا استقبال کرتے ہیں اور اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں (راوی نے اس کی پاکیزہ خوشبو کا تذکرہ کیا)، اور آسمان والے فرشتے کہتے ہیں کہ ایک پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے، اللہ کی رحمت ہو تجھ پر اور اس جسم پر جسے تو آباد رکھتی تھی، پھر اسے اس کے رب کی طرف لے جایا جاتا ہے تو حکم ہوتا ہے کہ اسے اس کی آخری قیام گاہ تک لے جاؤ۔ اور جب کافر کی روح نکلتی ہے (راوی نے اس کی بدبو کا تذکرہ کیا) تو آسمان والے کہتے ہیں کہ ایک خبیث (ناپاک) روح زمین کی طرف سے آئی ہے، پس کہا جاتا ہے کہ اسے اس کی آخری قیام گاہ تک لے جاؤ۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 504
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٤٥٨ وم ٨/١٦٢.