صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"إذا حضر المؤمن أتته ملائكة الرحمة بحريرة بيضاء فيقولون: اخرجي راضية مرضيا عنك إلى روح وريحان ورب غير غضبان فيخرج كأطيب ريح المسك حتى إنه ليناوله بعضهم بعضا حتى يأتوا به باب السماء فيقولون: ما أطيب هذا الريح التي جاءتكم من الأرض! فيأتون به أرواح المؤمنين فلهم أشد فرحا به من أحدكم بغائبه يقدم عليه فيسألونه: ماذا فعل فلان؟ ماذا فعل فلان؟ فيقولون: دعوه فإنه كان في غم الدنيا فإذا قال: أما أتاكم؟ قالوا: ذهب به إلى أمه الهاوية،
وإن الكافر إذا حضر أتته ملائكة العذاب بمسح فيقولون: اخرجي ساخطة مسخوطا عليك إلى عذاب الله فيخرج كأنتن ريح جيفة حتى يأتوا بها باب الأرض فيقولون: ما أنتن هذه الريح؟ حتى يأتوا بها أرواح الكفار"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب مومن کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو رحمت کے فرشتے ایک سفید ریشمی کپڑا لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں: اے روح! نکل آ درآں حالیکہ تو اللہ سے راضی ہے اور اللہ تجھ سے راضی ہے، راحت و خوشبو اور ایسے رب کی طرف جو تجھ پر ہرگز غضبناک نہیں ہے۔ پس وہ روح کستوری کی بہترین خوشبو کی طرح نکلتی ہے یہاں تک کہ فرشتے اسے ایک دوسرے کے ہاتھوں سے لیتے ہیں اور اسے آسمان کے دروازے تک لے آتے ہیں تو وہاں موجود فرشتے کہتے ہیں: یہ کتنی پاکیزہ خوشبو ہے جو زمین سے تمہارے پاس آئی ہے! پھر وہ فرشتے اسے دیگر مومنوں کی روحوں کے پاس لے جاتے ہیں، تو وہ اس کی آمد پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جتنا تم میں سے کوئی شخص اپنے بچھڑے ہوئے عزیز کے واپس لوٹ آنے پر خوش ہوتا ہے۔ پھر وہ (پہلے سے موجود روحیں) اس سے پوچھتی ہیں: فلاں نے کیا کیا؟ فلاں کا کیا حال ہے؟ تو فرشتے کہتے ہیں: ابھی اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ دنیا کے غم اور تکالیف میں مبتلا تھا۔ پھر جب وہ آنے والی روح ان سے کہتی ہے کہ فلاں شخص (جو دنیا سے وفات پا چکا تھا) کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اسے تو اس کے ٹھکانے ’ہاویہ‘ (جہنم) کی طرف پہنچا دیا گیا ہے۔ اور جب کافر کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو عذاب کے فرشتے ایک ٹاٹ (کھردرا کپڑا) لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں: نکل آ اس حال میں کہ تو اللہ سے ناراض ہے اور تجھ پر غضب نازل کیا گیا ہے، اللہ کے عذاب کی طرف۔ پس وہ روح ایک مردار کی بدترین بدبو کی طرح نکلتی ہے یہاں تک کہ فرشتے اسے زمین کے دروازے تک لے آتے ہیں اور پہرے دار کہتے ہیں: یہ کیسی ناگوار بدبو ہے؟ یہاں تک کہ وہ اسے کافروں کی روحوں کے پاس لے جاتے ہیں۔“